میڈیکل ڈاکٹروں کی ادبی خدمات- حقانی القاسمی

(دوسری قسط)

Cell No. +91-9891726444

E-mail: haqqanialqasmi@gmail.com

شاعری کے حوالے سے ایک اور اہم نام ڈاکٹر سید مظہر عباس رضوی کا ہے، جن کا شمار اردو کے ممتاز مزاحیہ شاعروں میں ہوتاہے۔ وہ ایک ماہراور مشہور چائیلڈ اسپیشلیسٹ ہیں جنھوں نے راولپنڈی میڈیکل کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی اور کالج آف فیزیشین سے ایم بی بی ایس کیا۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے Nutritionمیں ایم ایس سی کیا۔ وہ ڈپارٹمنٹ آف Paediatricsکے سربراہ بھی رہے ہیں۔ہوئے ڈاکٹری میں رسوا، دوا بیچتے ہیں، گڑبڑ گھوٹالہ، اسپتالی شاعری ان کی مزاحیہ شاعری کے مجموعے ہیں اور انھوں نے ڈاکٹری کے متعلقات کو اپنی شاعری کا جزو بنایا ہے۔ یعنی ان کی پوری شاعری اسپتال، ڈاکٹر اور نرسوں کی حرکات و سکنات سے وجود پذیر ہوتی ہے۔ ان کے حوالے سے خالد عرفان نے لکھا ہے کہ "ڈاکٹر صاحب اپنے اطراف نظر آنے والی معاشرتی بیماریوں کا تجزیہ کرکے اپنے مخصوص الفاظ کی سرجری اور انجکشن سے ان کا علاج کرکے شفایاب کرنے میں سرگرم عمل ہیں۔” ان کی مزاحیہ شاعری کا نمونہ ملاحظہ فرمایئے    ؎

دیکھئے ماہر ہمارے ‘ہسپتالی لیب’ کے

آپ دیں "Urine”وہ دیں گے نتیجہ خون کا

مسٹر آدم تھے پریشاں کیسے یہ ممکن ہوا

ٹیسٹ ان کو جب ملا اک حاملہ خاتون کا

 

خبر اس کو نہ ہو چپکے سے اس پہ وارہوجائے

مزا ہو جب مسیحا بھی کبھی بیمار ہو جائے

پتہ اس کو چلے کہ ٹیس جب اٹھتی ہے سینے میں

گزرتی کس طرح ہے درد کو ہنس ہنس کے پینے میں

 

ڈاکٹر صاحب یہ بولے فکر کی کیا بات ہے

مائنر سی سرجری ہے یوں نہ دل مضطر کریں

وہ یہ بولے رینک کی توہین فوجی جرم ہے

میں ہوں میجر ا?پ میری سرجری میجر کریں

کہا میں نے وزیر با خبر سے

یہ اینیز تھیزیا لوکل دیا ہے

وہ بولے ہے دوا باہر کی مہنگی

یہ تم نے ڈاکٹر اچھا کیا ہے

 

ہمیں تو راس ہے یہ پھیکی چائے

بنا چینی جو پینی ہو ہمیں کیا

ذیابطیس کا یہ تو فائدہ ہے

اگر مہنگی ہے چینی ہو! ہمیں کیا

 

فشار خون کرے انتشارِ قلب و دماغ

جو دل کی تیز ہو دھڑکن تو کیا کیا جائے

اگرچہ دیکھ کے داڑھی بلائے نرس ہمیں

مگر ہو دِل کی جو پھسلن تو کیا کیا جائے

ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے انھیں مزاحیہ شاعری کا ایم بی بی ایس ایڈیشن قرار دیا ہے۔ ان کی شاعری میں مزاحیہ شاعری کے مکمل وائرس ہیں۔

صباحت عاصم واسطی صرف نامور ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ شہرت یافتہ ادیب و شاعر بھی ہیں۔ کرن کرن اندھیرا، آگ کی صلیب، "ترا احسان غزل ہے” جیسے ان کے شعری مجموعے ہیں۔ ان کے والد پروفیسر صلاح الدین شوکت واسطی بھی معروف شاعر و ادیب ہیں۔ عاصم واسطی کی شاعری کا انداز الگ اور ان کے موضوعات معاشرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک حساس ذہن اور دل رکھنے والے شاعرنے اپنے اطراف میں جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا ہے اسے شاعری کے پیکر میں ڈھالا ہے۔ ان کی شاعری میں وہ گھٹن اور بے چینی ہے جو سماج کی وجہ سے ان کے یہاں پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے ہر رنگ کے شعر کہے ہیں اور اپنے احساس کو ایک نیا زاویہ دیا ہے۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :

سوؤں بھی تو رہتا کوئی بیدار ہے مجھ میں

اک خوف زدہ شخص گرفتار ہے مجھ میں

وہ خود ملنے نہیں آیا تو اس کے گھر گیا میں

حدیں معلوم تھیں مگر تجاوز کر گیا میں

ایک اور خوبصورت شعر ملاحظہ کیجیے       ؎

تمہارے حسن کا ہوتا ہے جب بھی تذکرہ جاناں

مثالیں جھومتی ہیں استعارے رقص کرتے ہیں

عاصم واسطی کے اور عمدہ اشعار بھی دیکھیں      ؎

تباہ تو نہیں کرتا تمام نیند مری

مجھے یہ درد جگاتا ہے صرف سونے تک

میں کیا بتاؤں کہ بیتے ہیں کیاکڑے موسم

شدید کرب سے گزرا ہوں سنگ ہونے تک

صبیحہ صبا نے ان کی شاعری کے حوالے سے بڑی اہم بات لکھی ہے کہ "عاصم واسطی کے موضوعات زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ زندگی جو امتحان ہے زندگی جو انسان کی پہچان ہے، ایک حساس دل سامنے نظر آنے والے مناظر کو اپنے انداز میں دیکھنے کا عادی ہوتاہے۔ عاصم واسطی کو اپنے فن پر اعتماد ہے اور اپنے نئے پن پہ ناز، وہ کہتے ہیں :

تب یقیں آئے گا خود اپنے نئے پن کا مجھے

جب مرے وقت کا ناقد مجھے رد کر دیگا

اقبال احمدپیر زادہ بھی شعر وادب سے جڑے ہوئے ہیں۔آبائی وطن سہارنپور ہندوستان ہے۔ انھوں نے پاکستان میں لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ "تراشیدہ حرف” ان کا شعری مجموعہ ہے۔ بہت عمدہ شعر کہتے ہیں۔ ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا رنگِ سخن جداگانہ ہے :

تم بادشاہِ وقت تھے کٹوا دیئے تھے ہاتھ

اب قصر گر رہا ہے تو معمار کیا کرے

زمانہ کیسے کرے گا مجھے نظر انداز

گلی گلی مرے دشمن ،گلی گلی مرے دوست

امیرِ وقت مجھے مدح خوانی مت سکھلا

ہمیں خبر ہے یہ کب اور کہاں ضروری ہے

اڑ رہی ہے کئی دن سے درو دیوار پہ خاک

اے ہوا ترے رویے ترے کردار پہ خاک

لیفٹیننٹ جنرل ڈاکٹر محمود الحسن گجرانوالہ بھی ایم بی بی ایس ڈگری یافتہ ہیں۔ فوج سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ ان کے شعری مجموعے آتش ِنو بہار، سرورِ جاوداں، درد و درماں شائع ہوچکے ہیں۔ عساکر پاکستان اور شعری ادب کے حوالے سے جب بھی گفتگو ہوتی ہے ،تو ان کا ذکر ضرور شامل رہتاہے۔ ان کی شاعری کے بارے میں سید ضمیر جعفری نے لکھا ہے کہ "مجھے کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان کے اس مایہ ناز سرجن کے نشتر کی طرح اس کے شعر کی نشتریت بھی تاثیر و تسخیر کی نئی نئی نصرتوں سے ہمکنار نظر آتی ہے۔ ان کے یہاں شاید ہی کوئی شعر ایسا ہو جس میں جذبے ،تجربے یا خیال کا کوئی ستارہ پوری دلکشی اور توانائی سے روشن نہ ہو اور جس پر دھیان کے ساتھ ساتھ جان بھی رقص نہ کر اْٹھے۔ان کے فکر و فن میں اتنی صلاحیت و قوت ہے کہ ان کا شعر محض ہونٹ ہلانے سے نہیں پڑھا جا سکتا ،اظہار کی سلاست وصفائی ان کے اسلوب کا خاص جوہر ہے۔”

ڈاکٹر اعجاز حسن خان بھی ایک اچھے شاعر ہیں۔ انھوں نے خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی شاعری کا شوق تھا۔ نعتیہ شاعری میں ان کا ایک الگ مقام ہے۔ "لا نبی بعدی” ان کی نعتیہ شاعری کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے عقیدت و محبت کا اظہار اپنی شاعری کے ذریعے کیا ہے۔ان کی نعتوں میں ایک عجب والہانہ پن ہے۔ ان کی شاعری کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو :

اعجاز مدینے کا اعجاز مدینے میں

ملتے ہیں فقیروں کو اعجاز مدینے میں

یہ سرورِ عالم کا دربارِ رسالت ہے

آہستہ رکھی ہم نے آواز مدینے میں

ان کی نعت کا ایک مجموعہ انگریزی میں بھی Mercy to mankindکے نام سے شائع ہوچکا ہے۔

ڈاکٹر اشرف الحق بھی شاعر ہیں جنھوں نے ایڈنبرا سے ڈاکٹری کی سند لی۔عریاں ان کا تخلص تھا اور "کلیات عریاں” کے عنوان سے ان کا مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔شان الحق حقی نے اپنی خود نوشت ’افسانہ در افسانہ‘ میں ان کے حوالے سے بہت اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:

"ڈاکٹر اشرف الحق حیدر آباد دکن میں "افواج باقاعدہ سرکارِ عالی” کے چیف میڈیکل افسر تھے۔ قلعہ گولکنڈہ میں ان کے دو بنگلے تھے جن میں ان کی دو بیگمات رہتی تھیں۔ ایک میم سے شادی انھوں نے بھی کی تھی، مگر یہ قصہ وہیں چکا آئے تھے۔ ساتھ لے کر نہیں آئے۔ چھوٹی بیگم کے بنگلے کے وسیع احاطے میں بہت سے بندر بڑے بڑے پنجروں میں پلے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر صاحب دورانِ ملازمت میں ایک بار پھر ولایت گئے تھے اور جرمنی کے مشہور ڈاکٹر فار انوف (Voronov)سے اعادۂ شباب و درازی عمر کے لیے بندروں کے غدودِ تولیدی انسانوں میں آپریشن کے ذریعے لگانے (ٹرانسپلانٹ کرنے) کا طریقہ سیکھ کر آئے تھے۔ اس پر انھوں نے بہت سا لٹریچر بھی شائع کیا۔ پنشن کے بعد ایک کلینک اور آپریشن تھیٹر قائم کیا۔ کچھ بوڑھوں کو جوان بنانے کے لیے آپریشن بھی کیے۔ مگر ایک تو لوگ آپریشن سے گھبراتے تھے۔ طلا، معجون، کشتوں ہی پر اکتفا کرنا چاہتے تھے۔ دوسرے وہ غدود بدلنے کا طریقہ کچھ زیادہ مؤثر بھی ثابت نہ ہوا۔”

ان کی شاعری کے حوالے سے شان الحق حقی لکھتے ہیں :

"ڈاکٹر اشرف الحق ایک خاص رنگ کی شاعری بھی فرماتے تھے۔ ان کا نام رفیع احمد خاں کے ساتھ ہی ساتھ لیا جاتا تھا۔ عریاں تخلص اختیار کیا تھا۔ کلیاتِ عریاں چھپ کر آگئی تو سوال یہ تھا کہ اس کا کیا کیا جائے۔ نہ اشتہار دیا جاسکتا تھا نہ اسٹال پر رکھی جاسکتی تھی، نہ کتابوں کی فہرست میں درج ہوسکتی تھی۔ وہ روز گولکنڈہ سے شہر آتے تھے۔ حیدر آباد کی بارونق عابد روڈ پر عین تھانے کی سیڑھیوں کے نیچے ان کی کارکھڑی رہتی اور اْس میں کلیات کے نسخے پیک کیے ہوئے رکھے رہتے۔ اب آپ سے مڈبھیڑ ہوئی۔ علیک سلیک گپ شپ کے بعد آپ نے رخصت چاہی کہ اجازت دیجیے یا مقامی محاورے میں "حاضر ہوتا ہوں”۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا معاف کیجیے، آپ کی جیب میں دو روپے تو نہیں ہوں گے؟آپ نے کہا جی ڈاکٹر صاحب ہیں۔ یہ لیجیے کیا کچھ اور چاہیے؟ اْنھوں نے کہا جی نہیں بس دو روپے۔ اور لیجیے یہ آپ کے ہاتھ فروخت کر رہا ہوں۔ کیا ہے ڈاکٹر صاحب ،کیا ہے یہ؟ گھر جا کر دیکھیے گا!

کلیات کا پایہ اس لحاظ سے بہت بلند تھا کہ اس میں بیسیوں اصطلاحی الفاظ تھے۔ یہ سب اردو بورڈ کی لغت کے لیے محفوظ کر لیے گئے تھے۔”

ڈاکٹر قمر الزماں بی سی سی ایل دھنباد میں ڈپٹی چیف میڈیکل آفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا تعلق ایسنہ پور بزرگ دربھنگہ سے ہے۔ مگر اب دھنباد جھارکھنڈ میں مقیم ہیں۔ ان کی تین کتابیں فرسٹ ایڈ، آسان سرجری اور اٹکھیلیاں شائع ہوچکی ہیں۔ ڈاکٹر اقبال حسین نے "سخنورانِ جھارکھنڈ حصہ اول” میں ان کا نمونۂ کلام درج کیا ہے۔ اور وقار قادری کی ایک قیمتی رائے بھی تحریر کی ہے کہ "ان کے غزلیہ اشعار کی اصل خوبی حسنِ تخیل، طرزِ ادا کی جدت اور انوکھا پن ہے۔ ان کی طنزیہ و مزاحیہ تخلیقات میں معاشرے کے مسائل کی جھلک ملتی ہے۔”  "کرکٹ” ان کی مشہور تخلیق ہے جو غزل کے فارم میں ہے۔ ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو :

ہیرے کی چمک ماند ہے اس آنکھ کے آگے

جو آنکھ زماں اشک ندامت سے بھری ہے

مانا کہ وہ مصروف تو دن بھر ہی رہے گا

مل جائے گی فرصت بھی کبھی رات تو ہوگی

اور سب کچھ سراب ہو گویا

اک تری یاد ہی تو ہمدم ہے

ڈاکٹر انتخاب اثر کا تعلق بارہ چٹی، گیا سے ہے۔ انھوں نے بی ایس سی اور ایم بی بی ایس کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ معالجے کے ساتھ ساتھ تخلیق سے مکالمہ بھی جاری ہے۔ علامہ نادم بلخی کے شاگردوں میں ہیں۔ سنجیدہ شعر کہتے ہیں۔ ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو :

کیا بھروسہ ہے عمر رفتہ کا

آدمی ہے کہ خواب میں گم ہے

کس کو پہچانیے یہاں کیسے

چہرہ چہرہ نقاب میں گم ہے

یارب مرے شعور کو ایسا کمال دے

صحرا میں جیسے کوئی سمندر اچھال دے

ان کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر اقبال حسین نے اپنی کتاب "سخنورانِ جھارکھنڈ” میں بڑی اہم بات لکھی ہے کہ "ان کی غزلیں صنائع وبدائع کے بیجا استعمال، ابہام، پیچیدگی اور خواہ مخواہ کی عبارت آرائی سے مبرا ہے۔”

مسلم شہزاد کا تعلق نرکٹیا گنج ،مغربی چمپارن بہار سے ہے۔ انھوں نے بھی ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے۔ میڈیکل پریکٹس سے وابستہ ہیں۔ان کے دو شعری مجموعے "ایک ذرا اور”، "ریزہ ریزہ روشنی”  شائع ہوچکے ہیں۔ اچھے شعر کہتے ہیں مقتدر اور معتبر رسائل میں ان کا کلام شائع ہوتا رہا ہے۔ ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ فرمائیں :

اب کے بارش میں یہ گماں بھی نہ تھا

گھر کیا گھر کا کوئی نشاں بھی نہ تھا

کچھ نہیں ممکن تو جگنو یا ستارہ چاہیے

جاگتی آنکھوں کو روشن استعارہ چاہیے

ہوا چلی تو چراغوں کی لو کترنے لگی

فضا میں ریزہ ریزہ روشنی بکھرنے لگی

انھوں نے گفتنی میں اپنی شاعری کے حوالے سے لکھا ہے:

"ریزہ ریزہ روشنی کی شاعری میری ذاتی فکری اساس پر قائم ہے۔ میں نے گرد وپیش کے ماحول کا تجزیہ کیا ہے۔ اور برا یا بھلا جو بھی محسوس کیا ہے، اپنی شاعری میں برتنے کی کوشش کی ہے۔ خودستائی میرا شیوہ نہیں اور بہت اچھی شاعری کرنے کا میرا دعویٰ بھی نہیں۔ تاہم اتنا ضرور کہوں گا کہ میں ایک معمولی کسان کا بیٹا ہوں اور مٹی سے میرا دیرینہ رشتہ ہے،اس لیے میری شاعری میں مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو ملے گی۔ جو آپ کے ادبی مزاج کی تسکین کا باعث بنے گی۔”

مغربی بنگال کے کاشی پور، کولکاتہ سے تعلق رکھنے والے نظام الدین نظام بھی اردو کے اہم شاعروں میں سے ایک ہیں۔ ایم بی بی ایس ، ایم ڈی ڈگری یافتہ نظام کا وطنی تعلق جونپور سے ہے۔ وہ حرمت الاکرام کے شاگردوں میں سے ہیں۔ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ جن میں نظموں کا مجموعہ "مینارۂ نور” نظموں اور غزلوں اور قطعات کا مجموعہ "برق و شرر”، "احساس و افکار” قابل ذکر ہیں۔ مضطر افتخاری نے اپنی کتاب "مغربی بنگال کا ادبی منظر نامہ” میں ان کے منتخب اشعار درج کیے ہیں،ملاحظہ ہوں:

بڑھا منجدھار میں تو موجِ طوفان نے قدم چومے

لب ساحل سفینہ نذرِ موج باد ہوتاہے

 

میرے عزم بیکراں کو چاہیے وسعت کچھ اور

کیا ہے یہ پنہائی ارض و سما میرے لیے

 

ذرہ ذرہ لے کر ابھرے گا بہاروں کا پیام

کون کہتا ہے چمن نذرِ خزاں ہوجائے گا

 

فرشتوں کو ہوئی اس جرأت رندانہ پر حیرت

بڑھا جب سرحدِ ادراک سے آگے گماں میرا

 

انہی اندھیروں سے پھوٹیں گی نور کی کرنیں

کچھ اور ہوش تو آنے دوشب کے ماروں کو

ڈاکٹر اسلم حبیب کا تعلق پنجاب کی زرخیز سرزمین مالیرکوٹلہ سے ہے۔ وہ 16 جولائی 1950کو پیدا ہوئے۔ انہوں نے دیانند میڈیکل کالج لدھیانہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لی۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا اسی لئے جنرل فیزیشین اور سرجن کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے ادب سے بھی اپنا رشتہ جوڑے رکھا اور معاصر شعری منظرنامے پر اپنی پہچان بھی قائم کی۔ ان کے شعری مجموعوں میں داغ داغ(2009) اپنے گھر تک آپہنچا ہوں(2011) مجھے اک گیت ایسا دے(2014) اہم ہیں۔ ملک کے مقتدر رسالوں میں ان کا کلام اہتمام سے چھپتا رہا ہے۔ ان کی شاعری پر مشاہیر نے بھی اچھے تاثرات پیش کئے ہیں۔ پروفیسر منظور حسن نے لکھا ہے کہ” ڈاکٹر اسلم حبیب اپنے مقدس پیشے کے لحاظ سے مریضوں کا علاج بھی کرتے ہیں اور موذی امراض میں مبتلا بعض لوگوں کا نشتر سے عمل جراحی کرکے انہیں ایک نئی زندگی بھی عطا کرتے ہیں۔ بحیثیت شاعر وہ اپنی بہترین استادانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بے شمار اہل ذوق کی تشفی کے ساتھ ساتھ ان کے شوق کو جلا بھی بخشتے ہیں،لہذا ان دو بیش بہا خوبیوں کے باعث اگر انہیں ڈاکٹر ٹو اِن وَن کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔” (ماہنامہ شاعر ممبئی، مئی2016)

رئیس الدین رئیس نے ان کی شاعری پر بہت اچھی رائے دی ہے:

"اسلم کی شاعری روایت اور جدت کا ایک خوشگوار امتزاج ہے۔ شاعری کے لئے انہوں نے اپنی راہ خود ہی ہموار کی ہے۔ ان کی شاعری کا سفر ذات سے شروع ہو کر کائنات تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ ان کی شاعری داخلی و خارجی عناصر کے امتزاج کی بنیاد پر استوار، متعدل و متوازن رویہ اختیار کرتی ہے۔ اپنی شاعری میں جہاں وہ اپنے قلبی و ارادات اور ذاتی تجربات و مشاہدات کو وسیلۂ اظہار بناتے ہیں وہیں وہ اپنے معاشرے ،ماحول اور اپنے اطراف میں رواں دواں زندگی اور اس کے سلگتے ہوئے مسائل پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ عصری حسیت سے معموران کی شاعری عصرِ نو سے مکالمہ کرتی نظر آتی ہے۔”     (ماہنامہ شاعر ممبئی، مئی2016)

ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:

اشکوں سے بھیگی آنکھ کو جب بھی اٹھاؤ گے

جنت سے ماں کی سر پہ دعا آئے گی ضرور

گر بھی جائیں تو سنبھلنے کا ہنر رکھتے ہیں

ا?ہنی حوصلہ پْرعزم جگر رکھتے ہیں

 

دشتِ آتش میں بھی ہم پھول کھلا لیتے ہیں

شہرِ اغیار میں رہتے ہوئے گھر رکھتے ہیں

کانٹوں کی بات چھوڑیے اے اہلِ گلستاں

گل بھی ہیں جی پہ بار کہاں آگیا ہوں میں

 

کاغذ کی کشتی بھی تیرا کرتی ہے

ذہن میں اک دریا بھی بہتا رہتا ہے

 

آنکھوں میں انتظار کا سورج بھی ڈھل گیا

آجا کہ اب تو آس کے سایے بھی گھٹ گئے

زویا زیدی مشہور ادیبہ اور شاعرہ ساجدہ زیدی کی صاحبزادی ہیں۔ انہو ںنے ماسکو سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ مشہور Rheumatologist ہیں۔ اردو زبان و ادب کا بہت ہی عمدہ ذوق رکھتی ہیں۔ شاعری کے علاوہ فوٹوگرافی اور خطاطی کا بھی شوق ہے۔ ان کی نظمیں اردو اور انگریزی مجلات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ Stone Breaks اور Devadasis Sagaان کی مشہور نظمیں ہیں۔ زویا زیدی نے آج کے حالات کے تناظر میں شاہین باغ کی خواتین کے نام بھی ایک نظم لکھی ہے:

رات کتنی اندھیری کیو ںنہ ہو

صبح ہونا تو پھر بھی لازم ہے

ساگر جتنا بھی گہرا کیوں نہ ہو

تہہ کو پہنچنا تو لازم ہے

اور جو ڈوب کے ابھرتا ہے

اس کا رنگ اور بھی نکھرتا ہے

کون کہتا ہے سفر آسان ہے

راہ میں لاکھ روڑے آتے ہیں

ظلم کے اس اتھاہ سمندر میں

سامنے کتنے بھنور آتے ہیں

لیکن سنسان جنگلوں کے پرے

پھول بن تو لہلہاتے ہیں

ہم وہ ہیں جو تنگ راہوں سے

تھک کے واپس کبھی نہیں لوٹے

ہم دیواروں کو توڑ آتے ہیں

رات کی تیرگی کو چیر کے ہم

نئی صبح کو پھر اگاتے ہیں

تیر کرگہرے سے گہرے دریا

کشتیاں ہم نکال لاتے ہیں

حق و باطل کی جنگ میںاکثر

ہم ہی میدان مار لاتے ہیں

متین نیازی (1913-1193) کا شمار اردو کے معروف شعراء  میں ہوتا ہے۔ انہوں نے لکھنؤ سے ایم بی بی ایس اور بنگلور سے ڈی ٹی او کی ڈگریاں حاصل کیں۔دفاعی میڈیکل سروس اور یوپی کے میڈیکل سروس سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ ٹی بی اسپتال کانپور سے سبکدوش ہوئے۔ تذکرہ شعرائے کانپور کے مولفین سلیم عنایتی اور فاروق جائسی کے مطابق:

"متین نیازی کی شاعری تصوف، عرفان و آگہی، اخوت و محبت اور صلح وآشتی کے پیغام کے ساتھ زبان و بیان کے حسن سے بھی مرصع ہے۔ مرحوم کے دو شعری مجموعے ’فکر متین‘ اور ’حبل المتین‘ شائع ہو چکے ہیں۔”

تذکرے میں ان کا نمونۂ کلام بھی درج کیا گیا ہے۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں:

طواف کرتی تھی سورج کا یہ زمیں کب سے

قدم بشر کے جب آئے تو زندگی آئی

درد سینے میں یکایک جو اٹھا دل کے قریب

زندگی سہم گئی موت کی منزل کے قریب

حیرت کا ہے مقام کہ تہذیب آج بھی

خانہ بدوش و بے سروساماں دکھائی دے

ڈاکٹر کمل شنکر دوبے ہندی اردو دونوں زبانوں کے معیاری شاعر ہیں۔ انہوں نے ناگپور سے ایم بی بی ایس اور آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی سے ایم ایس ایچ کی سند حاصل کی۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، آگرہ میڈیکل کالج اور جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کانپور سے ان کی وابستگی رہی ہے۔ تذکرہ شعرائے کانپور کے مؤلفین سلیم عنایتی اور فاروق جائسی کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق:

"ان کے ہندی گیتوں کا ایک مجموعہ "آستھا کے پھول” اور "تیرا مجھ کو ارپن” شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھگوت گیتا کا انگریزی میں ترجمہ ،پتنجلی یوگ شاستر کا ہندی میں منظوم ترجمہ اور آدی شنکر اچاریہ کی تخلیق "درگ دریشاوویک” کی منظوم تشریح بھی ان کی قوت شعر گوئی اور ادب دوستی کی زندہ مثال ہیں۔”

اردو میں خراج عقیدت کے عنوان سے شعری مجموعہ شائع ہوا ہے۔ تذکرہ شعرائے کانپور کے مولفین کے خیال میں :

"ڈاکٹر کمل شنکر دوبے کی شاعری کلاسیکل روایات، عصری آگہی، پاکیزہ احساسات اور انسان کی صالح قدروں کا آئینہ ہے۔ ان کی زبان سلیس اور اثر انگیز ہے۔”

تذکرے میں نمونہ کلام کے تحت سات اشعار درج کئے گئے ہیں۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

ہو تم کو مبارک یہ گھنی زلف تمہاری

لہرا کے اسے بام پہ اترانا برا ہے

اب ہوائیں تند خو ہیں اب فضائیں جنگجو

ہر مکیں دہشت زدہ ہے ہر یقیں خانہ بدوش

ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ اردو کی معروف شاعرہ ہیں۔ انہوں نے نشتر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ پھول سے بکھری خوشبو، میں آنکھیں بند رکھتی ہوں، اور شام ٹھہر گئی ان کے مشہور مجموعے ہیں۔ نظمیں اور غزلیں دونوں میں طبع ا?زمائی کرتی ہیں۔ بہت خوبصورت احساسات کی شاعرہ ہیں۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

درد کی لہر میں زندگی بہہ گئی

عمر یوں کٹ گئی ہجر کی شام میں

آخری بار آیا تھا ملنے کوئی

ہجر مجھ کو ملا وصل کی شام میں

میں نے شاہین جیون گزارا ہے یوں

نیند میں بات کی جاگتی چپ رہی

چاہت کے جو بھی زخم ہیں رکھئے سنبھال کر

ان کی ہی بات سے تو مہکتی ہے زندگی

اس کی طلب میں راہ کو تکتی ہے زندگی

آنکھوں میں وقت شام چمکتی ہے زندگی

ڈاکٹر زریں حلیم بھی ایک معروف شاعرہ ہیں۔ انہوں نے کانپور میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ نہایت ہی حساس اور درد مند دل کی مالک ہیں۔ اور بے خوفی و بیباکی کے ساتھ اپنے جذبات و احساسات کا نثر اور شاعری دونوں میں اظہار کرتی ہیں۔ حالات حاضرہ پر ان کی بہت گہری نظر ہے۔ وہ آج کے معاشرتی، سیاسی جبر کو اپنے احساس کا موضوع بناتی ہیں اور ظلم و جبر ،کرب اور استحصال کے موضوعات کو اپنی شاعری کے پیکر میں ڈھالتی ہیں۔ان کا انداز بالکل منفرد ہے، جو باتیں کہتی ہیں صاف اور واضح انداز میں کہتی ہیں، وہ کسی سے خوف نہیں کھاتیں، یہی بے خوفی اور بے باکی ان کی اصل شناخت ہے۔ ڈاکٹری جیسے مصروف ترین پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ نہ صرف قومی و ملکی مسائل پر اظہار خیال کرتی ہیں، بلکہ عالمی مسائل بھی ان کے تخلیقی شعور و شعار میں شامل رہتے ہیں۔ انہوں نے بہت سی نظمیں کہی ہیں جو فیس بک پر موجود ہیں، جن سے ان کی تخلیقی قوت، توانائی اور ذہنی تحرک ، طغیانی اور تابندگی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بہت کم ڈاکٹر ایسے ہوں گے جو عصر حاضر کیمسائل پر اس طرح کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ زریں حلیم واقعتاً ایک ایسی شاعرہ ہیں، جنہوں نے مسیحائی کا ایک الگ طریقہ اختیار کر رکھا ہے، جو ان کی نثر اور شاعری میں نظر آتا ہے۔ ان کی نظم کا ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو:

ہر نظر منتظر ہے

ہم نظر کے لئے

بھیڑ بھی کم نہیں ہے

مگر ہمنوا کوئی نہیں

مفلسی بھی نہیں

مگر امیر دل بھی نہیں

حال کہہ کے کوئی رو لے

وہ شانے نہیں میسر ہیں

اب کہاں کسی کو فرصت ہے

حالانکہ گھروں میں قید ہیں سب کے سب

خیریت تو ہے نا؟ ملنے پر پوچھ لیتے ہیں

ان کی شاعری میں ایک مزاحمتی رنگ ہے، ایک احتجاجی عنصر ہے جو ان کی شاعری کو نئی قوت اور توانائی عطا کرتا ہے۔

 ڈاکٹرسالک اعظم کا شمار سیمانچل کے اچھے شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے دربھنگہ میڈیکل کالج سے 1968میں ایم بی بی ایس اور رانچی میڈیکل کالج سے میں ڈی وی ڈی ایل کی ڈگری حاصل کی۔ بہار سرکار کے محکمۂ ہیلتھ سروس سے وابستہ رہے اور منسٹری آف ہیلتھ سعودی عرب میں بھی خدمات انجام دیں۔ طنزیہ مزاحیہ شاعری سے ان کی خاص دلچسپی ہے۔ ان کے حوالے سے دین رضا اختر لکھتے ہیں کہ "ارریہ کی معززاور باوقار شخصیتوں میں سے ایک اہم نام ڈاکٹر سالک اعظم کا بھی ہے۔ ڈاکٹر سالک اعظم معروف ماہر امراض جلد ہیں۔ اپنی سنجیدگی، انداز گفتگو، نفاست، متانت اور دلکش شخصیت کے سبب عوام میں،خصوصاً ادبی حلقے میں کافی مقبول ہیں۔ معالج کے معروف ترین پیشہ کے باوجود اردو ادب سے ان کا گہرا رشتہ ہے۔ حالات حاضرہ اور گرد و پیش میں رونما ہونے والے واقعات، جنھیں عام لوگ نظر انداز کر دیتے ہیں، ان پر طنز و مزاح کا نشتر چلانے میں ماہر ہیں۔ ان کی شاعری کا میدان طنز و مزاح ہے۔ یہ بڑے ادب نواز بھی ہیں۔ ارریا سے شائع ہونے والا رسالہ ہو یا کوئی ادبی پروگرام، بڑی فراخ دلی سے معاونت کرتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً اپنے دولت کدے پر ادبی نشستوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ طویل عمری کے باوجود چاق و چوبند اور فعال ہیں۔”

ان کا نمونۂ کلام ملاحظہ ہو:

دے چکے ہیں پہلے ہی ایمان کرسی کے لئے

ایک دن دے دیں گے اپنی جان کرسی کے لئے

 

بیچنے کے واسطے جب کچھ نہیں بیچیں گے کیا

بیچ ڈالا ہم نے گیہوں دھان کرسی کے لئے

 

اب چوری نہ ہو جائے کہیں داد کے لئے

اے شاعرو رکھنا ذرا جوتا سنبھال کے

 

جاتے تھے مسجدوں میں جو، آنے لگے یہاں

ہیں داد دینے والے یہ بندے کمال کے

ڈاکٹر کیپٹن ایس آر جھا بھی سیمانچل کے معروف شاعروں میں سے ایک ہیں۔ امریتا ضلع سہرسہ سے ان کا تعلق ہے۔ انہوں نے پٹنہ میڈیکل کالج سے 1965میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بہت دنوں تک ملٹری سروس سے وابستہ رہے۔ مگدھ میڈیکل کالج گیا سے بھی ان کا تعلق رہا۔ بہار راجیہ سواستھ وبھاگ میں بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

ان کے حوالے سے بہت پہلے میں نے اپنی کتاب "رینو کے شہر میں” لکھا تھا کہ "ڈاکٹر ایس آر جھا معالج پیشہ اور انتہائی صحت مند حساس تخلیقی ذہن رکھتے ہیں۔ انسانی اقدار شکنی اور تہذیبی زوال کے خلاف ان کا مزاحمتی رویہ ان کا تخلیقی انفراد نامہ ہے۔ ان کی کتھائیں انسانی درد، دکھ سے عبارت ہیں۔ ان کی انسانیت پسندی (ہیومنزم) ان کی بیشتر تخلیقات میں انہیں اس انسانی کائنات سے جوڑ دیتی ہے، جہاں درد، دکھ کے آتش فشاں میں جلتے، روتے بلکتے لوگ آتے ہیں۔”

ان کی ایک نظم ملاحظہ ہو:

ستر برسوں کی آزادی

کچھ بدلا نہیں

راجہ بھی ہے غلام بھی ہے

خوب کھانے کی آزادی ہے

بھوکے رہنے کی آزادی ہے

کچھ بھی کر لینے کی آزادی ہے

بے روزگار رہنے کی آزادی ہے

پورا کام کرالینے کی آزادی ہے

دام چرا کر رکھ لینے کی آزادی ہے

دانے دانے پرسے تمہارا نام

مٹا دینے کی آزادی ہے

ذرا رْکو تو سہی

وہ آکر ہوا بدل دیں گے

تمہاری سانس روک دینے کی آزادی ہے

دستک پڑنے لگی ہے

تمہیں بنا معلوم کرائے

وہ بیچ میں چھا جائیں گے

اور کھٹ سے آزادی کی پریبھاشا بدل دیں گے

اور کچھ بدلا نہیں

راجہ بھی ہے، غلام بھی ہے

 

(جاری)