موجودہ وقت میں مدارس کا نصاب تعلیم اور علما کا دائرۂ کار کیا ہونا چاہیے؟- یعقوب مرتضی

(طالب علم شعبۂ قانون علیگڑھ مسلم یونیورسٹی)

موجودہ دور میں لفظ ”دینی مدارس” پڑھ کر یا سن کر لوگوں کے ذہن میں کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ مدارس کیسے ہوتے ہیں؟ وہاں کس طرح کا نصاب پڑھایا جاتا ہے؟ پڑھنے اور پڑھانے والے لوگ کون اور کیسے ہوتے ہیں؟ وہاں سے فارغ ہونے والے طلبہ قوم و ملت کے لیے کس طرح کی خدمات انجام دیتے ہیں یا دینے کی اہلیت رکھتے ہیں؟ جن کا جواب انھیں یہ ملتاہے کہ مدارس وہ ادارے ہیں جہاں دینی تعلیم دی جاتی ہے، جن کی پہچان خود ان کے ناموں سے ہو تی ہے۔ جن کا نصاب تعلیم بھی مخصوص مسلک و مشرب کے موافق رکھا جاتاہے اور پھر وہاں پڑھنے والے طلبہ کی ذہن سازی بھی اسی کے مطابق کی جاتی ہے جس کا اثر ان کے ظاہری حلیہ بشرہ پر بخوبی ہوتا ہے۔ ان اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ کی اکثریت کسی مدرسے میں تدریس یا کسی مسجد میں اذان و امامت کے فرائض انجام دیتی ہے۔
یہ جو عام تصور پایا جاتا ہے وہ مدارس کے موجودہ دائرۂ کار اور وہاں کے فارغین کی خدمات کی بنیاد پر ہے ورنہ اس تاریخی حقیقت کا کوئی بھی منکر نہیں ہوسکتا کہ پہلے یہ مدارس ایسے ہوا کرتے تھے جن کا دائرہ صرف قرآن و حدیث اور فقہ تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ جہاں ایک ہی چھت کے نیچے ہر علم کی اچھی اور معیاری تعلیم دی جاتی تھی،جہاں سوچنے سمجھنے کا دائرہ وسیع سے وسیع تر کیا جاتا تھا، جہاں حق کی آواز بلند کرنے اور باطل سے پنجہ آزمائی کی ہمت پیدا کی جاتی تھی جس کے نتیجے میں ایسے مفسرین، محدثین، فقہا، ادبا، سائنس داں، اطبا، مؤرخین، وکلا اور ان جیسے ہزاروں ایسے افراد پیدا ہوے جنہوں نے ہر شعبے میں نمایا ںکارنامے انجام دیے اور مختلف علوم و فنون کے بانی بھی کہلائے،لیکن مرور زمانہ کے ساتھ اور وقت کی ضرورت اور حالات کے چیلنجز کے مطابق مدرسے کے نصاب میں ترمیم نہیں کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب مدارس سے ایسے افراد نہیں نکل رہے ہیں جس طرح ماضی میں تیار ہوتے تھے۔
آج مدارس دینیہ کا جو نصاب تعلیم ہے اس میں زمانے کے اعتبار سے ترمیم نہایت ہی ضروری ہے کیوں کہ موجودہ نصاب تعلیم منزل من السماء نہیں ہے جس میں حذف و اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس نصاب کو علماے کرام نے اپنے زمانے کی ضروریات کے اعتبار سے مرتب کیا تھا لیکن حذف و اضافے کا یہ کام ہر زمانے میں کیا جانا چاہیے تھا۔ اگر آج مدرسے کے ذمے داران نصاب تعلیم میں ترمیم کے عمل کو عبث سمجھتے ہیںاور فرسودہ نصاب کی پابندی کو لازم سمجھتے ہیں تو ان کی یہ سوچ غیرمعقول، غیر فطری اور طلبہ کے مستقبل کے لیے تباہ کن ہے۔
ذمے داران کو ترمیمِ نصاب کے سلسلے میں اپنی منجمد سوچ کو بدلنا چاہیے کیوں کہ آج قدیم منطق و فلسفہ کا دور نہیں ہے، آج کمپیوٹر کا دور ہے، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے ،آج دنیا اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور خبریں اتنی تیزی سے پھیلتی ہیںکہ اتنی تیزی سے ہمارا اور آپ کا ذہن سوچ بھی نہیں سکتا۔ لہذا وقت کی ضرورت اور زمانے کے چیلنجزکو محسوس کرتے ہوئے نصاب تعلیم میں بھارت کی تاریخ، جغرافیہ، معاشیات، سماجیات وغیرہ جیسے اہم سبجیکٹس کو شامل کرنا چاہیے۔ کچھ ایسے مدارس ہیں جن میں سماجی علوم کے دو چار مضامین برائے نام شامل نصاب ہیں، جن سے طلبہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ان مضامین کی معیاری تعلیم دینی چاہیے تب جاکر طلبہ کو غیر معمولی فائدہ ہوگا اور یہ مدارس پھر سے عظمت رفتہ کے حامل بن جائیں گے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ آج کے انسانی معاشرہ میں علما کا تعارف کیا ہے؟ آج کے معاشرہ میںعلما کو اسلام کا ترجمان سمجھاجاتا ہے اور وہ خود بھی اپنے آپ کو انبیا علیہم السلام کا وارث کہہ کر اپنے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آج کے ماحول میں ان کی سرگرمیوں کا دائرہ کیا ہے اور کہاں تک پھیلا ہوا ہے؟ صرف درس و تدریس اور اذان و امامت کے فرائض انجام دینا ہی انکا دائرۂ کار ہے؟ ایا مسجد و مدرسہ، اپنی قوم اور علاقے ہی ان کی سرگرمیوں کا دائرہ ہیں؟ کیا مدرسے کا قیام صرف اس لیے عمل میں آیا تھا کہ وہاں سے کتابیں پڑھانے والے مدرسوں، اذان و اقامت کا فریضہ انجام دینے والے مؤذنوں اور نمازوں کی امامت کا فریضہ انجام دینے والے اماموں کوفارغ کیا جائے؟ کیا یہ دین خانقاہوں، مساجد اور مدارس تک محدود ہونے کے لیے آیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے ،علما کا حقیقی دائرۂ کار کافی وسیع ہے اور مرورِ زمانہ کے ساتھ وہ کافی سکڑ کر رہ گیا ہے، ورنہ ہمارے سامنے اسلاف کی مثالیں موجود ہیں، جنہوں نے سلطنتیں قائم کیں، عہدے حاصل کیے، بطور گورنر اپنے فرائض بھی انجام دیے، اور ساتھ ہی ساتھ فرائض و سنن کی بھی ادائیگی کی۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابو موسی اشعری، حضرت معاذ بن جبل، حضرت سلمان فارسی، عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ و تابعین کی زندگیاں مثالی نمونہ ہیں۔
اگر علما انبیا کے سچے وارثین ہیں تو ان کی سرگرمیوں کا حقیقی دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس عملی دائرہ کو رسول اللہﷺنے صفا پہاڑی پر مکہ والوں کو جمع کر کے اپنے نبوی سفر کے آغاز کی خبر دیتے ہوے ’’ایہا الناس‘‘ کے خطاب سے واضح کر دیا تھا۔ اس خطاب کے سامعین گرچہ تھوڑے لوگ تھے لیکن اصلاً یہ خطاب کسی قوم، علاقہ یا طبقہ سے نہیں تھا بلکہ نسل انسانی سے تھا۔
بانی ندوۃ العلما سید محمد علی مونگیریؒ فرمایا ’’بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جماعت علماکی دنیا کے حالات وواقعات سے بھی با خبر ہو، اس کو معلوم ہو کہ اصول سلطنت کیا ہیں؟ واقفیت و اطلاع،انتظام وتدبراور مصلحت اندیشی میں حضرت عمر، حضرت علیؓ، حضرت عمروبن العاص، خالد بن ولید، معاذبن جبل، ابو عبیدۃ بن الجراح رضی اللہ عنھم کے نقشِ قدم پر ہو‘‘۔لیکن بدقسمتی سے اس وقت علما کے ایک بہت بڑے طبقے کی صلاحیت فروعی مسائل میں لگ رہی ہے۔ ایسے علما کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہی وہ مسائل ہیں جنھوں نے مسلمانوں کے درمیان آپسی اختلافات کو جنم دیا ہے اور امت محمدیہ کے شیرازے کو بکھیر رکھا ہے۔ آپسی افتراق اور ایک دوسرے پر کفر کا فتویٰ لگانے کا یہ وقت بالکل متحمل نہیں ہے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے علما سے خطاب کرتے ہوے فرمایا’’میں آپ کو صاف کہتا ہوں کہ ہندوستان، پاکستان میں بہت کام ہوچکا ہے، کتب حدیث کی شرحیں لکھی جاچکی ہیں، مسلک حنفی، مسلک شافعی، اہل حدیث و غیرھم کو حدیث کے مطابق ثابت کیا جاچکا ہے اور ایک دوسرے کی تکفیر بھی بہت کر لی گئی ہے، اس کے لیے اب نئی بڑی کوشش کی ضرورت نہیں ہے، اب جو میدان سامنے ہے وہ چیلنج سے بھرپور، جو مسائل درپیش ہیں، ان کے لیے نئی تعلیم، ہمت و حوصلہ اور پختہ عزائم کی ضرورت ہے‘‘۔
آج کے مسائل کل کے مسائل سے زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہیں، آج کے چیلنجز ماضی کے چیلنجز سے بہت مختلف ہیں۔ ظلم و زیادتی کا دائرہ روز بروز بڑھتاجارہا ہے، مظلوموں، خاص کر اقلیتوں کے ساتھ ناانصافی رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ کھلے عام انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ فرقہ وارانہ رنجش کی آگ کو بھڑکانے والے سیاسی بیانات سے بڑھایا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں وقتاً فوقتاً فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ حکومت کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کئی بار دیش دروہی کا بے بنیاد الزام بھی لگا دیا جاتا ہے۔ اسلام دشمنی کی آگ پھیلتی ہی جا رہی ہے۔ مدارس کے خلاف کھلے عام الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں۔ علماکے ظاہری حلیہ بشرہ اور لباس پر بھی سوالیہ نشان اٹھتے رہتے ہیں اور انہیں ملک کے امن و امان کے لیے خطرہ بتا یا جاتا ہے۔ ابھی حال ہی میں کرونا وائرس کے معاملے میں تبلیغی جماعت اور ڈارھی کرتا والے مسلمانوں کے خلاف کس طرح جھوٹے الزامات تراشے گئے اور انہیں کرونا جہادی وغیرہ بتایا گیا وہ ہمارے سامنے ہے۔
لیکن ان تمام مسائل اور چیلنجز کا حل مسجد اور مدرسہ میں بیٹھ کر نہیں ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں میدان عمل میں آنا ہوگا، اعلیٰ تعلیم اور جدید علوم سے آراستہ ہوکرا پنے حقوق کی قانونی لڑائی لڑنی ہونی ہوگی تب ہم اپنا کھویا ہوا تشخص و وقار اور سماج میں اپنا کھویا ہوا مقام و مرتبہ دوبارہ بحال کرسکتے اور اپنے سماجی، سیاسی، معاشی، اور علمی مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔
وقت اس بات کا داعی ہے کہ علما اپنے آپ کو احساس کمتری اور دنیا کےتئیں اپنے ذہن و فکر کے تنگ دائرے سے نکلیں اورخاص کر قانون کی تعلیم حاصل کریں۔جو اس وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ شعبۂ قانون ایک ایسا میدان ہے جہاں علماایک اہم کردار نبھا سکتے ہیں، جہاں وہ لوگوں کو اسلامی تعلیمات صحیح اور سہل انداز میں بتا سکتے ہیں، جہاں وہ اسلام کے تئیں لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے غلط تصورات کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ لوگوں کے ذہن میں اسلامی احکامات کے سلسلے میں پیدا ہونے والے اشکالات یا شبہات کی وضاحت کر سکتے ہیں۔ اسلام کی جامعیت، عدل و انصاف اور مساوات جیسی غیر معمولی صفات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ ان کے قومی اور عالمی فوائد کو ابھی اجاگر کر سکتے ہیں۔
خاص بات یہ کہ مسلم لا شعبۂ قانون کے نصاب کا لازمی حصہ ہے۔ جس میں قرآن و حدیث،شیعہ و سنی مکاتب فکر، شادی، مہر ، نان و نفقہ، طلاق ، خلعہ، وراثت،اور ان جیسے دیگر اہم مضامین شامل نصاب ہیںاور علما قرآن و حدیث اور اسلامی احکامات کو براہِ راست اسی زبان میں پڑھتے ہیں جس زبان میںوہ اصلاً ہیں یعنی عربی زبان میں،تو یہ یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن و حدیث میں استعمال شدہ الفاظ کی گہرائی، تاریخی پس منظر، اسلامی احکام کی جامعیت، فروعی مسائل میں وقت کے مطابق حذف و اضافے کی گنجائش،اور ان جیسی دیگر بنیادی چیزوں کو وہ ان لوگوں کے مقابلے میں اچھی طرح جانتے ہیں جو دوسری زبانوں میں ان کے ترجمے کے ذریعے پڑھتے ہیں۔ایسے لوگ کلاس میں ان میں سے کسی بھی مضمون پر بحث کے دوران ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر کسی نکتے کی تہہ تک پہنچنے میں کسی بھی طرح کی فکری پیچیدگی یا مختلف آرا کی وجہ سے دشواریاں آرہی ہو تو وہ مدد کر سکتے ہیں۔ مسلم لا میں موڈیفکیشن ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اور اگر ہو سکتی ہے تو کہاں ہو سکتی ہے؟ ان جیسے دیگر سوالات کا جامع حل تلاش کر سکتے ہیں۔
اب ذرا اس پہلو پر نظر ڈالیں کی شعبۂ قانون سے فراغت کے بعد وہ کیا کر سکتے ہیں اور قوم و ملت کے لیے کس طرح کی خدمات انجام دے سکتے ہیں؟ یہ چیز ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ شعبۂ قانون سے فراغت کے بعد دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ جہاں آپ جج بن کر ایک ذمے دار شہری کا فریضہ انجام دے سکتے ہیں، لوگوں کو ان کے حقوق، مظلوموں کو انصاف، قوم کے دبے کچلے لوگوں اور اقلیتوں کیساتھ برابری اور ظالم کو ان کے ظلم کی سزا کا فیصلہ دے سکتے ہیں۔ اس طرح آپ لوگوں کے دل و دماغ میں قانون کی بالادستی، اس کی اہمیت اور آئین پر یقین کو پختہ بنا سکتے ہیں۔
وکالت ایک دوسرا دائرۂ کار ہے جہاں آپ بطور وکیل لوگوں کے لیے قانونی آواز بن سکتے ہیں، مظلوموں، غریبوں، اقلیتوں کے حقوق کی قانونی لڑائی لڑ سکتے ہیں۔ شہریوں کی غیر قانونی قید و بند، ظلم، ناانصافی اورحقوق کے استحصال کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔ بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی تدبیر کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ قانونی مشیراور قانونی نمائندہ بن کر بھی قوم کی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ سماج اور معاشرے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے آپ انہیں قانونی معلومات اور قانونی مشورہ بھی دے سکتے ہیں۔
غرض یہ کہ قانون کی تعلیم کے حصول کے بعد دائرۂ کار بہت وسیع ہے۔ بڑے بڑے لیڈران، جیسے مہاتما گاندھی، ڈاکٹر امبیڈکر، جواہر لال نہرو، محمد علی جناح، بدرالدین طیب جی،سردار پٹیل، سر سید احمد خان، عبد القیوم وغیرہ سب لوگ قانون کےماہر تھے۔ ان کے کارناموں کا کون منکر ہو سکتا ہے؟ انہوں نے عظیم کارنامے انجام دیے۔ ملک، قوم اور اپنی کمیونٹی کی تقدیر بدل ڈالی۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے تن تنہا تاریخ کا دھارا موڑ دیا، دلتوں کے خلاف صدیوں سے چل رہی ظلم و زیادتی، حقوق کی پامالی اور غیر انسانی برتاؤ پر روک تھام لگادی اور انھیں نئی زندگی عطا کردی۔ ان کو قانونی تحفظات فراہم کرادیے جو ہمیشہ دلتوں کی سماجی، معاشی اور علمی مسائل کا حل ہے۔
علما کو اس میدان میں آنا چاہیے اورباشعور عوام کو بھی یہ بات سمجھنا چاہیے کہ طلبۂ مدارس کے ساتھ جو سب سے بڑا مسئلہ ہوتاہے وہ معاشی مسئلہ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ چاہ کر بھی یونیورسٹی کا رخ نہیں کر پاتے ہیں۔ لہذا ضرورت مند طلبہ کو معاشی امداد فراہم کرنے کے لیے تنظیموں، اداروں اور جماعتوں کی سپورٹ ضروری ہے۔اس سمت کچھ ادارےاور ذاتی طور پر بھی کچھ لوگ مالی امداد کر رہے ہیں لیکن یہ کام بڑے پیمانے پر ایک تحریک سمجھ کر کرنے کی ضرورت ہے تب جاکر راہیں ہموار اور آسان ہوں گی اور نتائج بھی اچھے آئیں گے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*