معذور طلبہ کے حق میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ:انہیں مسابقتی امتحانات میں شرکت سے محروم نہیں کیا جاسکتا، لکھنے کا انتظام کرایا جائے

نئی دہلی:معذور طلبہ کے لئے سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلہ لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ جو طلبا کسی بھی طرح سے لکھنے سے قاصر ہیں ، انہیں مسابقتی امتحانات میں شرکت سے نہیں روکا جاسکتا ، بلکہ ان کے لیے لکھنے والے کا انتظام کرنا ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جسمانی طور پر معذور طلبہ جو کسی بھی وجہ سے لکھ نہیں سکتے ہیں ،انہیں یو پی ایس سی سمیت کسی بھی مسابقتی امتحان میں شرکت سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ایسے معاملات میں حکومت کو ایسے تمام طلبہ کے لیے لکھنے والے کا انتظام کرنا ہوگا ۔ اس سلسلے میں عدالت نے مرکز کو تین مہینوں کے اندر ہدایات اور معیار کو ترتیب دینے کا حکم دیاہے تاکہ معذور طلبہ کے حقوق کی حفاظت کے لیے تمام مسابقتی امتحانات میں انہیںمناسب موقع فراہم ہوسکے۔دراصل کچھ دن پہلے جسٹس ڈی وائی چندرچوڈ ، جسٹس اندرا بینرجی اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بینچ یو پی ایس سی نوٹیفکیشن سے ناراض ایک امیدوار کی درخواست پر غور کررہی تھی ، جس میں ڈی او پی ٹی کے ہدایات کے تحت صرف بینچ مارک معذور افراد کے لئے ہی لکھنے والوں کا انتظام کیا گیا ہے۔