مظلوم عائشہ کے تعلق سے کچھ باتیں اور… ـ شکیل رشید

آج مظلوم عائشہ کو پھر یاد کرلیتے ہیں۔
عائشہ کا خودکشی نوٹ برآمد ہوا ہے، جو چونکاتا بھی ہے او رلرزاتا بھی ہے۔ کیا انسان اتنا بے رحم بھی ہوسکتا ہے؟ اس سوال پر غور اسی طرح نہیں ہوگا جیسے جہیز کے خاتمے کےلیے ممکنہ حل پر غور نہیں کیاجارہا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ جہیز کے نام پر ستائی گئی عائشہ کی خودکشی کے بعد بیانات توبہت سےآئے ہیں لیکن عملی طو رپر کچھ نہیں کیاگیا ہے۔ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ عملی طو رپر کیاکیا جاسکتا ہے؟ سوال کا ایک جواب تو بالکل سامنے ہے، لوگ جہیز لینا اور دینا بند کردیں۔ جو جہیز دیتا ہے وہ جہیز لیتا بھی ہے کیوں کہ ایک جگہ دی ہوئی چیزیں وہ دوسری جگہ سے پاناچاہتا ہے۔ دوسرا کام یہ کیا جاسکتا ہے کہ جو جہیز کا مطالبہ کرے اس کا سماجی بائیکاٹ کردیاجائے۔ حالانکہ یہ کام آسان نہیں ہے کیوں کہ لین دین میں صرف غریب اور کمزور ہی نہیں امیر اور بااثر ، طاقتور، سماج میں اپنا مقام رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، ان کا سماجی بائیکاٹ آسان نہیں ہوگا۔ اور پھر یہ مسئلے کا کوئی دیر پا حل بھی نہیں ہے۔ پھر بھی کوشش یہی کی جائے کہ جہیز کا مطالبہ کرنے والوں سے دوری بنالی جائے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہماری تنظیموں ، جماعتوں اور بورڈ کے ذمے داران اس تعلق سے سخت رخ اپنائیں گے۔ گزشتہ ہفتہ جب میں نے تنظیموں ، جماعتوں اور بورڈ کی بے عملی کی بات کی تھی تب بہت سے لوگوں کو اچھا نہیں لگا تھا، انہیں یہ لگ رہا تھا کہ یہ چند سطریں لکھنے والا صحافی، علماء پر انگلی اُٹھا رہا ہے۔ جی، انگلی تو اٹھائی لیکن کیا انگلی اٹھانا غلط تھا؟ ایک مثال سے اپنی بات واضح کردوں، شہر کے ایک مالدار نے اپنے کئی بیٹیوں کی ایک ساتھ بڑی دھوم دھام سے شادی کی، مولوی صاحب نکاح پڑھانے کےلیے بذریعہ پلین گاؤں سے بلوائے گئے، اور وہ آئے۔ ویڈیو بنوائی اور ڈھیڑوں دعائیں دیں۔ سوال یہ ہے کہ کیوں انہوں نے شادی کی نمائش کو نظر انداز کردیا، کیوں وہاں پر سجے ہوئے جہیز کو دیکھا اور دیکھ کر بھی نکاح پڑھانے سے باز نہیں آئے؟
وہ عالم دین معروف تھے، اصلاح معاشرہ پر دھواں دھار تقریریں کرتے تھے، اورجہیز کی مخالفت بھی مگر جب عمل کرنے کا وقت آیا تو اپنی ہی کہی بات سے پیچھے ہٹ گئے۔ میں نے حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد مولانا ریحان الدین قاسمی مرحوم کو دیکھا ہے، ایک شادی میں جب ان کے واقف کار ممبئی اور دبئی سے ان کے گاؤں پہنچے تو سخت ناراض ہوئے کہ کیا اسلام یہی سکھاتا ہے کہ دور دراز کا سفر کرکے شادی میں ضرور آیا جائے! حضرت محی السنہ مولانا ابرارالحق ہردوئیؒ نہ ایسی شادیوں میں جاتے اور نہ کھاتے تھے۔ جمعیۃ علماء ہند کے دونوں گروپ اور مسلم پرسنل لا بورڈ اصلاح معاشرہ کا کام کررہا ہے لیکن رسم کی طرح، جیسے کوئی کام تھوپ دیاگیا ہو، اسےکسی طرح پورا کرنا ہے۔ یہ کام ایسا ہے کہ محنت سے لوگوں کو بیدار کرنا ہوگا، لوگوں کو اپنے ساتھ کھڑا کرنا ہوگا، لوگوں کو یقین دلانا ہوگا کہ آسان نکاح اور بغیر جہیز کی شادیوں میں ہی بھلائی ہے۔ اس کام کےلیے علماء کی تربیت کرنا ہوگی۔ ہمارے دارالقضاء یا شرعی عدالتیں بالکل ملکی عدالتوں کی طرح چلتی ہیں، وہاں شادی، طلاق اور خلع ونان ونفقہ کے معاملے عرصے تک پڑے رہتے ہیں، اس کا نتیجہ ظاہرہے خراب ہی نکلتا ہے۔ شرعی عدالتوں کے نظام کو درست کرنا ہوگا اور یہ کام بورڈ بہتر ڈھنگ سے کرسکتا ہے۔ ایک بات مزید ،عائشہ کے شوہر کو سزا دلوانے کےلیے اب تک کیوں کوئی جماعت، تنظیم یا بورڈ سامنے نہیں آیا؟ عارف کو سزا دلواکر ایک مثال قائم کردی جائے تو دوسرے عارف اپنی عائشاؤں کو ستانے یا سسرال والے جہیز کا مطالبہ کرتے ہوئے سوچیں گے، انہیں اندازہ رہے گا کہ مظلوموں کے سا تھ بورڈ یا جماعت یا تنظیم کھڑی ہے۔

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*