ماضی کا احتساب اور مستقبل کا لائحۂ عمل

 

(سورۂ عصر کی تفسیر کی روشنی میں)

عبدالرشید طلحہ نعمانیؔ

 

سورۃ العصر’قرآن مجید کی انتہائی جامع اور مختصرترین سورت ہے،جسے بلا مبالغہ اسرارِ معانی، بلاغتِ لسانی اور اعجازِ قرآنی کا بے نظیر نمونہ کہاجاسکتاہے۔دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت مندی اور بد بختی کے اسباب کا ذکر اس مکی سورت کا بنیادی موضوع ہے۔روایتوں میں آتا ہے کہ مکہ کے مشہور تاجر حضرت ابوبکر بن ابی قحافہ جب دعوت اسلام کے بالکل شروع ہی میں ایمان لے آئے تو ایک معاصر نے ان سے کہا کہ تم معاملات میں تو بڑے ہوشیار تھے؛ لیکن اس باب میں سخت دھوکا کھاگئے، اپنے کو فلاں فلاں ٹھاکروں اور دیوتاؤں کی توجہ، شفقت وسفارش سے محروم کردیا، اور لائق وفائق اسلاف کے طور طریقوں کو چھوڑ دیا۔ اس پر یہ سورت نازل ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ محروم رہ جانے والے حقیقۃ کون ہیں۔حضرت ابی بن کعب ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس سورت کو پڑھا اور آپ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ پر میرے باپ اور ماں فدا ہوں، اس آیت کی کیا تفسیر ہے ؟ آپ نے فرمایا :” والعصر “ سے مراد:دن کا آخری حصہ “ ہے” ان الانسان لفی خسر “ سے مراد : ابوجہل بن ہشام “ہے ” الا الذین امنوا “ سے مراد : ابوبکر صدیق ہے، ” عملوا الصلحت “ سے مراد: عمر بن الخطاب ہے ” وتوا صوا بالحق “ سے مراد: عثمان بن عفان ہے،” وتو اصوابالصبر “ سے مراد : علی بن ابی طالب ہے۔امام ثعلبی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی بعینہ یہی تفسیر نقل کی ہے۔ (الکشف والبیان ج 10 ص 284)

 

اس سورت کی اہمیت کا اندازہ امام طبرانی کی اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے کہ عبداللہ بن حصین ؓ سے مروی ہے:رسول اللہ ﷺ کے صحابۂ اکرام میں سے دو شخص جب بھی آپس میں ملاقات کرتے تو اس وقت تک جدا نہ ہوتے جب تک ایک دوسرے کو مکمل سورہ عصر سنا نہ دیتے اور پھر ایک دوسرے کو سلام کہہ کر رخصت ہو جاتے۔”امام شافعی فرماتے ہیں کہ لوگ اگر اس سورت پر غور کریں تو ہدایت و رہنمائی کےلیے یہی سورت کافی ثابت ہو۔”(تفسیر ابن کثیر)

 

اس سورت کی پہلی آیت "والعصر ” کی تفسیر و توضیح کرتے ہوئے امام رازی علیہ الرحمہ نے تفسیر کبیر میں چار اقوال ذکرفرمائے ہیں اور ہر قول کے تحت اس کی وجہ ترجیح بھی بیان فرمائی ہے۔

 

پہلا قول:عصر سے مراد دھر اور زمانہ ہے ۔

 

دوسرا قول:عصر سے مراد دن کا آخری کنارہ ہے۔

 

تیسرا قول: عصر سے مراد نماز عصر ہے۔

 

چوتھا قول:عصر سے مراد نبی پاکﷺکا عہدِ زریں ہے۔

 

اکثر مفسرین کرام نے پہلے قول کو بہ طور خاص ذکر کیا ہے کہ عصر سے مراد زمانہ ہے اور یہاں زمانے کی قسم اس لیے کھائی گئی ہے کہ زمانہ بہت عجیب وغریب چیزوں پر مشتمل ہے۔اس میں خوشی اور غم کا ،صحت اور بیماری کا،خوش حالی اور تنگ دستی کا، ظہور ہوتا ہے،نیزنوعِ انسانی جن جن مراحل سے گذری ہے، جو جو حالات اس کو پیش آتے رہے ہیں،زمانہ ان سب کا گواہ ہے،قومِ نوحؑ،قومِ ہودؑ اور قومِ صالحؑ پر جو عذاب آئے، قومِ لوطؑ اور قومِ شعیبؑ جس انجام سے دوچار ہوئے،آلِ فرعون جس طرح غرق آب ہوئے، ان تمام بڑے بڑے واقعات کا چشم دید گواہ یہ زمانہ ہے۔ اس زمانہ نے قوموں کو اُبھرتے اور گرتے بھی دیکھا ہے اورتمدنوں کو بگڑتے اور بنتے بھی دیکھا ہے۔ پھر یہ زمانہ قصۂ آدم و ابلیس کا چشم دید گواہ ہے اور یہی زمانہ انسان کے آخری انجام کا عینی شاہد ہو گا۔

 

دوسری آیت کی تفسیر میں امام رازی لکھتے ہیں کہ ہر انسان نقصان و خسارے میں ہے اور کوئی بھی اس گھاٹے سے نہیں نکل سکتا؛اس لیے انسان کی تین حالتیں ہیں یا تو وہ مبتلائے معصیت ہوگا،یا مباح کام میں مصروف ہوگا یا طاعت و عبادت میں مشغول ہوگا۔اگر وہ مبتلائے معصیت ہے تو اس کا دینی و دنیوی نقصان ظاہر و باہر ہے،اس کو سمجھانے کی چنداں ضرورت نہیں۔اگر وہ کسی مباح کام میں مشغول ہے تو اس کا اخروی نقصان یہ ہے کہ وہ اس وقت کو طاعت و عبادت میں صرف نہ کرنے پر بہ روز محشر کف افسوس ملے گا جیساکہ متعدد احادیث میں یہ مضمون وارد ہوا ہے۔اور اگر وہ کسی طاعت میں مشغول ہے تب بھی ایک گونہ نقصان کا احتمال ہے وہ یہ کہ اس وقت جس طاعت میں لگا ہوا ہے اس سے بہتر طاعت میں بھی لگ سکتا تھا اور جس قدر خشوع کے ساتھ اس وقت مصروفِ عبادت ہے اس سے زیادہ خشوع کے ساتھ اس میں منہمک ہوسکتا تھا؛لہذا اس پر بھی وہ قیامت کے دن حسرت کرے گا۔الغرض حق تعالی کے فرمان کے مطابق ہر انسان خسارے میں ہے،خواہ وہ کسی کام میں مشغول ہو۔(تفسیر کبیرج 11 ص 280 داراحیاء التراث الربی بیروت 1415 ھ)ترمذی شریف کی روایت ہے ،نبی پاک ﷺنے ا رشاد فرمایا : ہر رات کے بعد جب صبح ہوتی ہے تو انسان اپنے نفس کو بیچتا ہے اور ایسا سامان خریدتا ہے جو یا تو اس کے نفس کو آزاد کردیتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے۔

 

آخری آیت میں وہ صفات مذکور ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان اخروی خسارے سے محفوظ رہ سکتا ہے۔ پہلی صفت ایمان بالغیب ہے؛جس کے تحت اللہ تعالیٰ پر،اس کےفرشتوں پر،اس کی کتابوں پر،اس کے رسولوں پر ،یومِ آخرت پراورتقدیر کے اچھا یا برا ہونے پر ایمان لاناداخل ہے۔ دوسری صفت اعمال صالحہ کی بجاآوری ہے۔ اعمال صالحہ کا لفظ اس قدر وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ خیرو بھلائی کا کوئی کام اس سے باہر نہیں رہتا۔ البتہ اس کی دو اہم شرائط ہیں۔ ایک ایمان بالغیب جس کا ابھی ذکر ہوا؛اس لیے کہ ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کا کوئی تصور ہی نہیں اور دوسری یہ کہ وہ کام شریعت کی ہدایات کے مطابق سرانجام دیا جائے۔

 

تیسری صفت یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو حق کی تاکید کرتے رہتے ہیں۔ حق کی ضد باطل ہے۔ حق کا لفظ عموماً دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) سچ اور سچائی۔ مبنی برحقیقت اور درست بات یعنی ہر وہ بات یا چیز جو تجربہ اور مشاہدہ کے بعد درست ثابت ہو۔ (2) وہ حق جس کا ادا کرنا انسان پر واجب ہو، خواہ وہ اللہ کا حق ہو یا بندوں کا حق ہو یا خود اس کے اپنے نفس کا حق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ وہ خود ہی راست باز رہنے یا حقوق ادا کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ ایک دوسرے کو حق اختیار کرنے اور حق پر قائم رہنے اور حقوق ادا کرنے کی تاکید بھی کرتے ہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام اجتماعی زندگی کو خاص اہمیت دیتا ہے اور ان لوگوں کے کرنے کا کام یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں باطل یا برائی سر اٹھانے لگتی ہے تو سب اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اور حق کو غالب کرنے اور رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ بالفاظ دیگر تواصوبالحق کا مفہوم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی ہے جس کی اہمیت کتاب و سنت میں بیشمار مقامات پر مذکور ہے۔

 

چوتھی صفت یہ ہے کہ اسلام یا حق کو غالب کرنے یا رکھنے کے راستہ میں جتنی مشکلات حائل ہوتی ہیں یا مصائب سے دو چار ہونا پڑتا ہے تو وہ صرف خود ہی صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتے بلکہ ایک دوسرے کو اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں صبر کا ایک مفہوم احکام شریعت پر ثابت قدمی سے پابند رہنا بھی ہے۔ ایسی باتوں کے لیے بھی وہ ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہتے ہیں۔

 

جس معاشرہ میں اور اس کے افراد میں یہ چاروں صفات پائی جائیں ان کے متعلق یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور آخرت میں وہ خسارہ سے محفوظ رہیں گے۔

 

اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی ؒ لکھتے ہیں کہ عقل مند لوگ سب سے پہلے اپنے ایمان اور اعمال کی فکر کرتے ہیں اور ان سے بالکل غافل نہیں رہتے۔نیز سعادت مند لوگ صرف اپنی فلاح و نجاح اور ایمان و اعمال پر قانع نہیں رہتے؛بل کہ طاعت سے شدت محبت کے سبب دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے ہیں اور اس راہ میں آنے والی مشقتوں کو جھیل جانے اور مصیبتوں کو برداشت کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔

 

خلاصۂ کلام :

 

سورۂ عصر کا اگر گہرائی سے جائزہ لیں تو جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ یہی چاروں امور نیکی پر گامزن رہنے والوں کا شیوہ ہے،اس سورت میں ماضی کے احتساب کی دعوت بھی ہے اور مستقبل کے صلاح وفلاح کی ضمانت بھی ۔شرط یہ ہےکہ خود بھی ان پر عمل پیرا ہو اور دوسروں کوبھی عمل کی دعوت دیتا رہے ۔حضرت مفتی محمد شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں : اس سورت نے مسلمانوں کو ایک بڑی ہدایت یہ دی کہ ان کا صرف اپنے عمل کو قرآن و سنت کے تابع کرلینا جتنا اہم اور ضروری ہے اتنا ہی اہم یہ ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھی ایمان اور عمل صالح کی طرف بلانے کی مقدور بھر کوشش کرے ورنہ صرف اپنا عمل نجات کے لئے کافی نہ ہوگا، خصوصاً اپنے اہل و عیال اور احباب و متعلقین کے اعمال سیئہ سے غفلت برتنا اپنی نجات کا راستہ بند کرنا ہے اگرچہ خود وہ کیسے ہی اعمال صالحہ کا پابند ہو،اسی لئے قرآن و حدیث میں ہر مسلمان پر اپنی اپنی مقدرت کے مطابق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں عام مسلمان بلکہ بہت سے خواص تک غفلت میں مبتلا ہیں، خود عمل کرنے کو کافی سمجھ بیٹھے ہیں، اولاد و عیال کچھ بھی کرتے رہیں اس کی فکر نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس آیت کی ہدایت پر عمل کی توفیق نصیب فرما دیں۔آمین

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*