مذہبی عبادت گاہوں کوبندکرنے کا معاملہ،عدالت سرکارکے جواب سے مطمئن نہیں

نئی دہلی:مرکزی حکومت نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ میں ایک رپورٹ درج کرائی جس میں کہا گیا ہے کہ کوویڈ۔19 کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر ڈی ڈی ایم اے نے ہر طرح کے اجتماع پرپابندی عائد کرنے کا نوٹیفکیشن تمام مذاہب پرلاگوکیاہے۔ تاہم اس رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ آیا تمام مذہبی مقامات بند ہیں یانہیں۔جسٹس مکتا گپتا نے کہاکہ اسٹیٹس رپورٹ میں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے کہ آیا دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے) کے نوٹیفکیشن کے مطابق قومی دارالحکومت میں تمام مذہبی مقامات کو بند کردیا گیا ہے یا نہیں۔عدالت نے کہاہے کہ آپ نے رپورٹ میں یہ نہیں بتایاہے کہ دوسرے مذہبی مقامات بندہیں ، یا کھلے ہیں۔ ہمیں پتہ چل گیاہے کہ بیشتر مذہبی مقامات(دہلی میں)کھلے ہیں۔ جسٹس گپتا نے یہ بھی کہاہے کہ 13 اپریل کو دی گئی اپنی ہدایت میں یہ واضح طور پر بتایاگیاتھا کہ عدالت جانناچاہتی ہے کہ کیا ڈی ڈی ایم اے کے نوٹیفکیشن کے مطابق تمام مذہبی مقامات کوبندکردیا گیا ہے۔دہلی وقف بورڈ نے نظام الدین مرکز کے کھولنے کی اپیل کرتے ہوئے عدالت میں ایک درخواست دائرکی تھی جس پر عدالت نے مختصر سماعت کے دوران اس رپورٹ کا مشاہدہ کرنے کے بعد یہ تبصرہ کیاہے۔مرکز کی جانب سے ایڈوکیٹ رجت نائر نے کہاہے کہ سالیسیٹرجنرل تشارمہتا نے عدالت سے پوچھے گئے سوال پرہدایات جاری کردی ہیں۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملات کی سماعت کے اختتام پر کیس کی فہرست پرآج سماعت کی جائے۔اس کے بعد عدالت نے کہاہے کہ وہ آج درج مقدمات کی سماعت مکمل ہونے کے بعد کیس کی سماعت کرے گی۔اس سے قبل سالیسیٹر جنرل نے 13 اپریل کو کہا تھا کہ ڈی ڈی ایم اے کے حکم کے پیش نظر رمضان المبارک میں مساجد میں اجتماعی طورپرنماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے جس کے بعد عدالت نے حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کردی۔