Home تجزیہ مذہب کی بنیاد پر انتخابی سیاست کا حشر- مسعودجاوید

مذہب کی بنیاد پر انتخابی سیاست کا حشر- مسعودجاوید

by قندیل

 

بہار میں مجلس کے چار ارکان اسمبلی نے راشٹریہ جنتا دل کا دامن تھاما ! ۔ ایک خبر ۔
اس میں حیرت کی کیا بات ہے ؟ آئے دن ایم پی ایم ایل اے اپنی سہولت ، مفاد یا ڈر کی وجہ سے ایسا کرتے رہتے ہیں ۔

حیرت کی بات تو ہے اور وہ اس لئے کہ آندھرا/ تلنگانہ کے بعد مہاراشٹر میں نسبتاً کامیابی کے بعد بہار میں مجلس کی کامیابی کا سہرا سیمانچل کی غریب مگر سیاسی طور پر باشعور عوام کے سر باندھا گیا تھا۔ عوام/ ووٹرز کتنے باشعور ہیں اس سے قطع نظر ان کے امیدوار کتنے وفادار ہیں اس کا ثبوت انہوں نے آج دے دیا۔ کاش دل بدل سے پہلے ریفرنڈم کا کوئی میکانزم ہوتا !

عام سیاسی پارٹیوں کے ارکان اسمبلی کی دل بدلی پر بہت حیرت نہیں ہوتی ہے اس لئے کہ اب یہ عام روش بن گئی ہے لیکن مجلس کے ارکان اسمبلی کے ایسا کرنے سے عام لوگوں بالخصوص مسلمانوں کا حیران و ششدر رہ جانا ‘ شاک لگنا’ فطری ہے اس لئے کہ "مسلمانوں” نے "اتحاد المسلمین” کو یعنی مذہب کے نام پر ووٹ کیا تھا۔
اس دل بدلی سے یہ ثابت ہوا کہ مذہب کے نام پر نہیں نظریہ کی بنیاد پر وفاداری پکی ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پارٹی کا نام ، نظریہ، آئیڈیالوجی اور ہندوستان جیسے کثیر المذاہب سیکولر ملک میں ” شمولی ” فکر و عمل، inclusive لائحہ عمل ہی کارگر ہے۔ اگر سیاست میں مذہب کی بنیاد مضبوط ہوتی تو اس کمیونٹی کے ووٹرز، امیدوار اور بالآخر ارکان اسمبلی کبھی پارٹی چھوڑ کر نہیں جاتے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اویسی صاحب ہوں یا دیگر مسلم لیڈر بالخصوص انتخابی سیاست کے قائدین پارٹی لیڈرز یہ مسلمانوں کو جذبات کے غلام سمجھتے ہیں اسی لئے ووٹرز کے ساتھ taken for granted جیسا معاملہ کرتے ہیں ۔

آسام میں بدر الدین اجمل صاحب کی پارٹی یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نہ نام سے اور نہ کام سے خالص مسلم پارٹی ہے اور نہ وہ ایسا دعویٰ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جہاں اس پارٹی اور پارٹی لیڈر کی جڑیں ہیں وہاں پارٹی لیڈرز اور ورکرز نہ صرف الیکشن کے دنوں میں بلکہ ہر شب و روز متحرک رہتے ہیں اور عوام سے جڑے ہوتے ہیں ۔ اسی تناظر میں اویسی صاحب سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ کی پارٹی کی جڑیں جب آندھرا اور اب تلنگانہ میں ہیں تو وہاں سے ایک رکن پارلیمنٹ اور چند ارکان اسمبلی ہی کیوں ؟

جب تک انتخابی سیاست کا مفہوم الیکشن جیتنا اور الیکشن کے دنوں میں جاگنا اور متحرک ہونا ہمارے ذہنوں میں راسخ رہے گا زمینی سطح پر کوئی خاص کامیابی نہیں ملے گی۔
پانچ سال دس سال مسلم اکثریتی حلقوں میں کام کر کے اپنی پہچان بنانے والوں کو نظر انداز کر کے ان زمین سے جڑے سیاسی و سماجی کارکنوں کو ٹکٹ نہ دے کر دوسری پارٹیوں کے جیتے ہوئے ہارے ہوئے مقدر آزمائے ہوئے لوگوں کو ان کی پہچان یا خطیر رقم کے عوض ٹکٹ دینے کا انجام کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا بہار میں ابھی ہوا ہے۔
بہار ہو یا اتر پردیش یا کوئی اور ریاست ،مجلس پہلے اپنی زمین بنائے۔ الیکشن مہم میں ہیلی کاپٹر سے اتر کر یا گاڑی سے پہنچ کر بعض حلقہ جات انتخاب میں جلسوں کو مخاطب کرنے کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ اویسی صاحب اپنی مسحور کن تقریروں سے مسلمانوں کے جذبات کو وقتی طور پر گرم سکتے ہیں لیکن لاکھوں کی شرکت ووٹ میں تبدیل ہو اس کی قطعاً کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ اترپردیش کے حالیہ انتخابات اس کا ثبوت ہیں ۔

کیڈر کا مفہوم ہے، نتیجہ کی پرواہ کئے بغیر ، کسی کاز کے لئے مکمل سپردگی۔ اس کا فقدان ماقبل آزادی سے لے کر ٢٠١٤ تک ملک کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس میں بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اویسی صاحب کی طرح راہل گاندھی جی کی تقریروں کو لوگ پسند کرتے ہیں، حقائق اور اعدادوشمار پر ان کی جرأت مندانہ باتوں کو سراہتے بھی ہیں مجمع بھی کافی بڑا ہوتا ہے لیکن یہ سب عوام کے وقتی جذبات اور راہل گاندھی کی سحر انگیزی کی وجہ سے ہوتی ہے‌۔ اسی لئے وہ مجمع ووٹ میں تبدیل نہیں ہوتا ہے۔
بہار میں سیمانچل کا علاقہ پٹنہ کی سیاسی گلیاروں کی ترجیحات میں کبھی نہیں رہا۔ کچھ تو سیاسی یتیمیت، مسلمانوں کی اکثریت کی وجہ سے تو کچھ قدرتی آفات کی وجہ سے اس علاقہ کے لوگوں کی معیشت نسبتاً خراب ہے بالفاظ دیگر غریبی اور بے روزگاری کے مارے ہوئے ہیں۔

مجلس کے ارکان اسمبلی سے لوگوں کی امیدیں بندھی تھیں لیکن علاقے کی تعمیر و ترقی صرف ہر رکن پارلیمنٹ و اسمبلی کے لئے مختص ‘ لوکل ایریا ڈیولپمنٹ فنڈ’ سے ممکن نہیں ہے۔ حالات اتنے خراب انفراسٹرکچر اتنے مخدوش ہیں کہ اسپشل پیکیج کے بغیر درست ہونا ممکن نہیں ہے۔ اسپیشل پیکج اور خصوصی توجہ کے لئے اصولاً تو نہیں مگر عملاً حکمران جماعت کا راست یا بالواسطہ ارکان ہونا معاون ثابت ہوتا ہے۔ لیکن افسوس سیمانچل کے لوگوں کی قسمت اس سے بھی نہیں بدلی۔ اس علاقے سے کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچنے والے حکمراں جماعت کے ممبران نے بھی قابلِ ذکر کوشش نہیں کی ہاں ہر الیکشن کے وقت لمبے چوڑے وعدے ضرور کئے گئے ۔

اب ان ارکان اسمبلی نے جس پارٹی کو جوائن کیا ہے اس پارٹی نے بھی اپنے دور اقتدار میں اس علاقے کے لئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔

قدرتی آفات بالخصوص سیلاب سے تباہی اس علاقے کا سالانہ ” فیسٹیول” ہے اس سے راحت رسانی کی کہانی انگریزی کی اس کہاوت سے بدرجہ اتم واضح ہوتی ہے : "one’s misery is another’s fortune۔”

You may also like

Leave a Comment