مزدوروں کی وطن واپسی کا مسئلہ: بہاری این جی او کی طرف سے پچاس ٹرینوں کےکرایے کی پیش کش

ممبئی: کانگریس صدر سونیا گاندھی کے ذریعے اپنے گھروں کو لوٹنے والے تارکین وطن مزدوروں کے سفرکے لیے ریلوے ٹکٹ کی پیش کش کے چند دنوں بعد بہار کی ایک غیر سرکاری تنظیم نے ممبئی میں پھنسے ہوئے بہاری تارکین وطن اور طلبہ کو لے جانے کے لئے 50 ٹرینوں کے سفراخراجات کی ادائیگی کی پیش کش کی ہے۔
ممبئی میں لاکھوں بہاری مہاجر مزدور اور طلبا حالت زار سے دوچارہیں۔ ایسے میں بہاریوں کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم بہار نونرمان یووا ابھیان نے مرکزی وزیر ریلوے پیوش گوئل کو خط لکھا ہے ، جس میں 50 ٹرینوں کا مطالبہ کیا گیا ہے جو ممبئی میں پھنسے ہوئے بہاری تارکین وطن کو بہار لے جاسکتی ہیں ۔ بہار ابھیان کے آرگنائزر تنویر عالم نے کہا ہے کہ 50 ٹرینوں کے مسافروں کے ٹکٹوں کا خرچہ ان کی این جی او برداشت کرے گی۔
ممبئی سے تعلق رکھنے والے عالم نے بتایا "ہمیں یقین ہے کہ ہم ان 50 ٹرینوں سے سفر کرنے والے تارکین وطن کے ٹکٹوں کی ادائیگی کے متحمل ہوسکتے ہیں۔ وزارت ریلوے کو اس پر غور کرنا چاہئے اور اس مقصد کے لئے 50 ٹرینوں کے چلائے جانے کا حکم دینا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ زیادہ تر تارکین وطن مزدور ہیں جو سلم ایریامیں رہتے ہیں، جہاں سوشل ڈسٹینسنگ برقرار رکھنا مشکل ہے لہذا انھیں ان کے گاؤں بھیج دیا جائے تو بہتر ہوگا۔
عالم نے کہا "سلم ایریا میں ہزاروں افراد ایک ہی بیت الخلا استعمال کرتے ہیں۔ لوگ چھوٹے چھوٹے کمرے میں رہتے ہیں ،اس سے معاشرتی دوری برقرار رکھنے کا بہت کم امکان رہتا ہے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کے پاس پیسہ نہیں بچا ہے جس کی وجہ سے شہر میں ان کارہنا مشکل ہوگیا ہے۔”
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی این جی اوساٹھ ہزار تارکین وطن کاکرایہ کس طرح ادا کرے گی؟ توتنویرعالم نے کہا کہ وہ اس کے لیے فنڈ جمع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم بہاری کاروباری افراد ، صنعت کار اور پروفیشنلز سے رجوع کریں گے اور مطلوبہ رقم حاصل کریں گے۔ پیسہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وزارت ریلوے کو آگے بڑھنا چاہئے اور ریلوے کے حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ 50 ٹرینیں ہمارے لئے دستیاب کروائیں۔”
واضح رہے کہ ہزاروں بہاریوں نے شہر کے مختلف تھانوں میں فارم جمع کروائے ہیں اور بہار کے لیے ٹرین پکڑنےکے انتظار میں ہیں ۔ بیگ کے کارخانے میں کام کرنے والے دربھنگہ کے محمد فرید کہتے ہیں: میں نے گذشتہ ہفتے گھاٹ کوپر پولیس اسٹیشن میں ایک فارم جمع کرایا تھا لیکن ابھی تک مجھے کوئی پیغام نہیں ملا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کب ٹرین میں جانے کی اجازت ہوگی۔ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور رفاہی اداروں یا دوستوں سے قرض لے کر گزارہ کررہاہوں ۔ان کا کہنا تھا کہ اب یہاں ہمارا زندہ رہنا مشکل ہے۔ ایسے ہزاروں مزدور ممبئی اور دیگر شہروں میں پھنسے ہوئے جن کی وطن واپسی کا منظم بندوبست اب تک مرکزی حکومت کی طرف سےنہیں کیاگیا ہے۔