مزدوروں کی بے بسی اور سرکار کی بے حسی  – محمد نوشاد عالم ندوی

(سینئرسب ایڈیٹر روزنامہ انقلاب دہلی)

لاک ڈاؤن کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ ملک کی معاشی حالت خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ پہلے راہل گاندھی کی مزدوروں سے ملاقات کو لے کر ہنگامہ ہوااور اب بسوں کو لے کر ایک نیا تنازع شروع ہوچکا ہے۔ کانگریس نے بسوں کا انتظام تو کردیا، لیکن حکمراں جماعت اس میں خامیاں تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ یعنی بسوں کے فٹ اور ان فٹ، انشورینس اور نہ جانے کیا کیا خامیاں نظر آنے لگیں،لیکن ان مزدوروں کی اموات اور بے بسی پرکوئی رحم نہیں آرہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ راہل گاندھی نے جب مزدوروں سے ملاقات کی تو حکومت کو سیاست نظر آنے لگی، اس میں سیاست کی کیا بات تھی، کیا راہل گاندھی الیکشن کی بات کررہے تھے، کیا وہ یہ کہہ رہے تھے کہ ووٹ اب ہمیں کو دینا، ان کی غلطی صرف یہ تھی کہ وہ ازر اہِ ہمدردی ان غریبوں سے ملے تھے، مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ راہل گاندھی سولیوشن نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ پولیوشن پھیلارہے ہیں۔ پھر بسوں کو لے کر یوگی سرکار کے وزیر اور چیف سکریٹری کا الگ الگ بیان جاری ہونا،اور بسوں کو فٹ اور ان فٹ قرار دیا، اس پر جو ہنگا مہ ہوا وہ ایک تشویش کی بات ہے، یعنی چور کی داڑھی میں تنکا۔

ایک طرف جہاں اس مہلک وبا پر برسراقتدار اور اپوزیشن جماعتوں میں اٹھا پٹک جاری ہے، وہیں دوسری طرف مہاجر مزدوروں کی بے بسی اور پریشانیاں ہنوز بڑھتی جارہی ہیں۔ پہلے اورنگ آباد میں پھر اوریا میں مزدوروں کی اموات سے سرکار کی نیت سے پردہ اٹھتا جارہا ہے۔ ستم بالائے ستم اورنگ آباد کے معاملے میں سپریم کورٹ نے جو کہا ہے وہ چونکانے والا ہے، ’’ اگر یہ غریب اور نقل مکانی کرنے والے مزدور ریل کی پٹری پر سو جائیں توہم انہیں کیسے روک سکتے ہیں،‘‘ اور ہاں اگرانسانیت کو بالائے طاق رکھ کر اس دلیل کو صحیح مان بھی لیں تو اوریا کے مزدوروں کی موت پر کیا کہیں گے، یہ لوگ ریل کی پٹری پر نہیں سورہے تھے، یہ فریدآباد سے گورکھپور آرہے تھے۔ ہاں ، ان کی صرف اتنی غلطی تھی کہ وہ کچھ کھانے پینے کے لیے رکے تھے۔ اگر اپنی بھوک و پیاس بجھانا غلطی ہے تو!

اورہاں سرکار نے جو کہاوہ اور چونکانے والی بات ہے، وہ کہتی ہے کہ ہم نے مزدوروں کے لیے انتظام کیا ہے، لیکن وہ رک نہیں رہے ہیں، لیکن جب ان پیدل جارہے اور بھوک سے تلملاتے مزدوروں کو راستے میں کوئی پوچھتا ہے کہ وہ کیوں جان جوکھم میں ڈال کر سفر کررہے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا کریں، کھانے کو راشن نہیں، اور رہنے کو مکان نہیں ہے اور پھر سرکار نے بھی جو بس یا ٹرین چلائی ہے، وہ بھی ہم سے کرایہ وصول رہی ہے، ہمارے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے، ہم کیا کریں، اسی لیے ہم نے خاردار راستے کو اختیار کیا ہے۔ کون سچ ہے اور کون جھوٹ اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیتے ہیں۔ایک طرف سرکار یہ کہہ رہی ہےکہ ان مزدوروں کو صبر سے کام لینا چاہیے اور دوسری طرف یہ بھی کہہ رہی ہے کہ اب سڑک پر کوئی مزدور نہیں چل رہے ہیں۔ اس قدر غلط بیانی، یعنی الٹا چورکوتوال کو ڈانٹے۔ سرکار کو شاید یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ ان مزدوروں  نے یہ قدم تب اٹھایا جب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔ جب زندگی اور موت کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا۔

ان سب حادثات سے تو یہی اندازہ لگ رہا ہے کہ سرکاری تنتر نہ صرف چرمرانے لگا ہے بلکہ اس کی جڑیں اکھڑنے بھی لگی ہیں۔ مزدوروں کی بے کسی اور لاچاری کو دیکھ کر انسانیت دم توڑنے لگی ہے۔ ہر چہار جانب ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔ ہزاروں ہزار کلو میٹر پیدل چلنے والے مزدور ،اپنے کندھوں پر سامان کی گٹھری لیے اور مائیں اپنے اپنے بچوں کو گود میں لیے بغیر کسی تھکن اور پیروں کے چھالے کی پرواہ کیے چلی جارہی ہیں۔ نہ جانے کن کن مشکل اور خاردار راستوں سے یہ لاچار اور غریب مزدور اپنے اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ انہیں اس وقت نہ تو دو وقت کی روٹی میسر ہے اور نہ ہی سرکار کی جانب سے دیگر راحتیں۔ مختلف ویڈیوز میں ریل کی پٹریوں اور جگہ جگہ مختلف سڑکوں، چوراہوں اور شاہراہوں پر سر عام پولیس ان مزدوروں سے وصولی بھی کرتی نظر آرہی ہے۔ ان سب کے باوجود حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سرکار ’’چھہ سال بے مثال‘‘ کے جشن میں مست ہے۔ اس بے حسی کو ہم کیا نام دیں،یعنی کس طرح  سرکار ملک کے غریبوں کا مذاق اڑا رہی ہے، ان کے جذبات سے کھلواڑ کررہی ہے۔ اس کو شاید یہ نہیں معلوم:

خون مزدور کا ملتا جو نہ تعمیروں میں

نہ حویلی، نہ محل اور نہ کوئی گھر ہوتا

ان نازک حالات میں جب راہل گاندھی نے مزدوروں سے ملاقات کی تو سرکار آگ بگولا ہوگئی۔ یعنی جوکام سرکار نہیں کررہی ہے، وہ دوسرا کیوں کرے۔ اگر سرکار مزدوروں کے لیے بے حس ہے تو دوسرا بھی اسی بے حسی کا ثبوت دے۔

نرملا سیتارمن نے جو بیان دیا ہے وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ایک باوقار عہدے کے خلاف بھی ہے۔ وہ سونیا گاندھی پر سیاست کرنے کا الزام لگارہی ہیں۔ حالانکہ وہ خود ایک عورت ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز ایک ماں، بیٹی اور بہن بھی ہیں۔ اس کے باوجود عورت کی نرم مزاجی اور نرم دلی کو تار تار کر کے راہل گاندھی کے اس قدم پر آگ بگولا ہوگئیں۔ اگر وہ اس قدم کی ستائش نہیں کرسکتی تھیں تو کم از کم خاموش رہتیں، لیکن یہ کہاں ممکن ہے، کیونکہ وہ موجودہ حکومت کی وزیر جو ٹھہریں۔ وزیرخزانہ کے بیان پر کانگریس نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ۔ مزدوروں کی بے بسی کو ڈرامہ بازی کہنے والی سرکار کو ایک بار نہیں ہزارہا بار سوچنا چاہئے کہ آخر وہ ان مزدوروں کو کیوں سزا دے رہی ہے۔ کیایہ مزدور ملک کے شہری نہیں ہیں، ملک کے معماروں کے ساتھ یہ سوتیلا برتاؤ کیوں؟ برسراقتدار پارٹی شاید یہ بھول گئی کہ اگر سونیا گاندھی ان مزدوروں کو لے جانے کی بات نہیں کرتیں تو اقتدار کے نشے میں دھت یہ سرکار بیدار بھی نہیں ہوتی۔ قابل وزیر نرملا جی کے بیان پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ:

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

ہزاروں کلو میٹر پیدل چلنے والا مزدور ، پیروں میں چھالے لیے ،بھوکا پیاسا، پیٹھ پر سامان اٹھائے اور پیٹ پر بچہ باندھے چلنے والے مزدور اگر ڈرامہ باز لگتے ہیں، توسرکار کی بے حسی پر خون کے آنسو نہیں تو اور کیا بہایا جاسکتا ہے۔ اب تک تقریبا ۱۳۵؍ مزدوروں کی جان جاچکی ہے تو کیا یہ بات آپ کو ڈرامہ بازی لگتی ہے ؟ ملک کے محنت کشوں ، مزدوروں کی بے عزتی مت کیجئے ورنہ یہ ملک آپ کو معاف نہیں کرے گا ۔کانگریس نے یہ بھی کہا کہ ملک کے مزدورں اور محنت کشوں کا درد بانٹنا اگر گناہ ہے تو ہم یہ گناہ بار بار کریں گے۔ سرکار کو مزدوروں کی سچائی بتانے والا گناہ ہم بار بار کریں گے ۔ ہندوستان کے شہری ہونے کے ناطے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نرملا جی نے جو راہل گاندھی کا مذاق اڑایا ہے، وہ ان کا مذاق نہیں بلکہ ملک کے مزدوروں اور عوام کا مذاق ہے۔ اور ہاں، اس نازک وقت میں سیاست کون کررہا ہے، یہ تو ملک کے عوام اورآنے والا وقت ہی بتائے گا۔ گزشتہ ۷۰؍ دنوں سے در در کی ٹھوکریں کھانے والے مزدوروں کو سرکار قرض دے رہی ہے مدد نہیں۔ سرکار کو غریبوں کو قرض دیناتو آتا ہے، لیکن مدد کرنانہیں آتا، یاپھر وہ مدد کرنا ہی نہیں چاہتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ بسوں کے انتظام کو لے کر یوگی سرکارتذبذ ب میں ہے، کبھی ان کے وزیرکہتے ہیں کہ ہمیں بسوں کی ضرورت نہیں ہے، پھرچیف سکریٹری کافرمان جاری ہوتا ہے، آپ کے بسوں کی اپیل کو منظور کرلیا گیا ہے۔ یہی نہیں ، ایک طرف چیف سکریٹری کا فرمان جاری ہوتا ہے کہ بسوں کو غازی آباد اور نوئیڈا بارڈر پر بھیج دیا جائے، پھر جب بسوں کو ان مقامات پر پہنچادیاجاتا ہے تب حکومت کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ان بسوں کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ کیا ہے؟ سیاست کون کر رہا ہے؟ زندگی کو آسان کرنے کے لیے بسوں کا انتظام کیا جارہا ہےنہ کہ ان مزدوروں کی زندگی کو اور مشکل میں ڈالنے کے لیے۔ ہم یہی کہیں گے کہ اس نازک وقت میں ہم سب کو سیاست سے اوپر اٹھ کر غریبوں کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔

کیاکوئی سرکار سے یہ سوال کرے گا کہ لاکھوں لوگ راشن سے کیوں محروم ہیں؟ کیوں ان مزدوروں  کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے؟ ۸؍کروڑ مزدروں کو صرف ۶؍کلواناج ہی کیوں؟ کیا امیروں اور غریبوں کی بھوک الگ الگ ہوتی ہے؟کتنے کروڑ لوگ پھسل کر خط افلاس کے نیچے پہنچ گئے، یہ کوئی نہیں بتارہا ہے۔ آپ اندازہ لگائیے، سوا بارہ کروڑ لوگوں کا روزگار گیا ہے ، فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں۔آخر مائیکرو، اسمال اور میڈیم کارخانوں میں کام کرنے والے مزدورں کی تنخواہ کیوں نہیں دی جا رہی ہے؟ ملک میں کل ساڑھے چودہ کروڑ مہاجر مزدور ہیں ، ان میں سے اب بھی ساڑھے آٹھ کروڑ مزدور گھر سے دور ہیں ۔ ان کو مشکلات کا سامنا ہے تو پھر ان کی مدد کیوں نہیں کی جا رہی ہے ؟ پیوش گوئل تو یہ علی الاعلان بتارہے ہیں کہ ہم نے لاکھوں مزدوروں کو گھر تک پہنچادیا، لیکن وہ یہ نہیں بتارہے ہیں کہ اب بھی لاکھوں مزدور پیدل چل کر گھر جانے پر مجبور ہیں۔ یعنی ہم اگر یہ کہیں کہ سرکار بالکل بے بس نظر آرہی ہے، یا پھر اس کو ان کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے تو بجا ہوگا۔

ان مزدوروں کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ وقت سے پہلے سرکار کو خواب خرگوش سے بیدار ہونا چاہئے اور وہ ان غریب مزدوروں کے مسائل کو حل کرنے یا پھر ان کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار کرنے پر غور کرنا چاہئے۔ خدا را، مصیبت کی اس گھڑی میں قرض سے کام نہیں چلے گا ، اس وقت ان کو مدد کی ضرورت ہے، اس لیے ان کی مدد کے لیے کوئی قدم اٹھائیے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)