مزدوروں کوکورونا سے بچانے کےلیے سینٹرل وسٹا کی تعمیر روکنے کا مطالبہ، سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے جلد سماعت کےلیے کہا

نئی دہلی: نئے پارلیمنٹ ہاؤس اور مرکزی حکومت کی دیگر عمارتوں پر مشتمل مرکزی پارلیمنٹ منصوبے پر روک کے مطالبہ پر سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے جلد سماعت کے لیے کہا ہے۔ دہلی میں بڑھتے ہوئے کورونا معاملات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ان درخواست گزاروں سے اتفاق کیا جو مزدوروںکی حفاظت کا سوال اٹھا رہے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ پہلے ہی اس کی سماعت کررہی ہے۔ اس لیے ہائی کورٹ سے جلد غور کےلیے  کہناہی بہتر ہوگا ۔درخواست گزار آنیا ملہوترا اور سہیل ہاشمی نے دہلی میں کورونا کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر سینٹرل وسٹا کی تعمیر کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کام کے تسلسل سے اس منصوبے میں کام کرنے والے مزدوروں کی صحت کو شدید خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ دونوں درخواست گزاروں کی جانب سے سپریم کورٹ کو بتایا گیا کہ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کی ہے لیکن ہائی کورٹ نے فوری طور پر سماعت نہیں کی اور معاملہ 17 مئی تک ٹال دیا۔اس سال 5 جنوری کو سپریم کورٹ نے سینٹرل وسٹا منصوبے کو منظوری دی تھی۔ اس منصوبے کوغیرقانونی بتانے والی درخواستوں کوخارج کیاتھا۔ درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ جنوری میں آئے فیصلے کی مخالفت نہیں کررہے ہیں۔ صرف کرونا سے مزدوروں کو بچانے کے لئے وہ فی الحال سینٹرل وسٹا کی تعمیر کو روکنے کی اپیل کر رہے ہیں۔جسٹس ونیت سرن اور دنیش مہیشوری کی بنچ کی طرف سے سماعت شروع ہوتے ہی مرکزی حکومت کے مشیرسالیسیٹر جنرل تشار مہتا اس پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ نے سماعت کی تاریخ پہلے ہی طے کردی ہے۔ درخواست گزاروں کو انتظار کرنا چاہئے، انہیں اپنی بات وہاں رکھنی چاہئے۔اس کا جواب دیتے ہوئے درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل سدھارتھ لوتھرا نے کہاکہ ہر دن کی تاخیر کی وجہ سے کارکنان پر کووڈ کا خطرہ بڑھتا جارہا ہے، اسی لیے ہمیں یہاں آنا پڑا۔وکیل نے مزید کہاکہ ہم اس صورتحال میں ہیں جہاں صحت کا نظام تباہ ہوا ہے، لوگ مر رہے ہیں۔ اس پر جسٹس ونیت سرن نے کہا کہ وہ بھی یہ جانتے ہیں لیکن میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔
سدھارتھ لوتھرا نے مزید کہاکہ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے تمام تعمیراتی کاموں کو روکنے کا حکم دیا ہے لیکن سینٹرل وسٹا میں کام جاری ہے، تعمیر ایک لازمی سرگرمی نہیں ہے، اس کو روکا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد بنچ نے کہاکہ آپ کا معاملہ ہائی کورٹ میں ہے۔ آپ کو پریشانی اس بات سے ہے کہ آپ کو تاریخ لمبی دی گئی ہے۔ لوترھرا نے جواب دیاکہ ہائی کورٹ نے ہماری
درخواست پر حکومت سے جواب طلب کئے بغیر 17 مئی کی تاریخ دے دی۔ توقع ہے کہ مئی کے وسط میں کرونا اعلی سطح پر ہوگی۔ صورتحال کچھ ایسی ہے کہ اس وقت ملک میں لاک ڈاؤن پر غور کیا جارہا ہے، آئی پی ایل کو بھی روک دیا گیا ہے۔اس پر بنچ کے رکن جسٹس مہیشوری نے کہاکہ آپ کا معاملہ قابل غور ہے لیکن ہائی کورٹ پہلے ہی سماعت کررہی ہے۔ جسٹس سرن نے آگے کہاکہ ہم صورتحال کو سمجھتے ہیں، تبھی ماسک لگاکر بیٹھے ہیں، ہم ہائی کورٹ سے درخواست کریں گے کہ پیر کو آپ کی درخواست پر سماعت ہو۔