مولوی محمد اسماعیل میرٹھی:اولیات و امتیازات

حقانی القاسمی

مولوی محمد اسماعیل میرٹھی (12نومبر 1844- 1 نومبر 1917) کے امتیازات اور اولیات پر گفتگو سے قبل چند اہم نکات اور جہات پر توجہ ضروری ہے۔
پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمد کے بعد ہی اردو شاعری اور نثر کی صورت اور شکل تبدیل ہوئی۔ لائٹنر (Leitner) اور کرنل ہالرائڈ (Col. Holroyd) کی کوششوں سے اردو شاعری کو نئی سمت ملی اور اردو شاعری کا ماڈرنائزیشن ہوا۔ تو فورٹ ولیم کالج کلکتہ کے جان گلکرسٹ کی وجہ سے اردو نثر کو نیا رخ ملا۔ اور پھر دلی کالج کے مسٹر بوترو (Felix Boutras)، اسپرنگر (Dr. Sprenger)اور ٹیلر (Francis Taylor) نے سائنسی علوم و فنون کے ترجمہ کے ذریعہ اردو زبان کو ترقی یافتہ صورت عطا کی جس کا اعتراف مولوی عبدالحق نے یوں کیا ہے کہ ’’ہم اپنی زبان کو اس وقت جو ترقی یافتہ صورت میں دیکھتے ہیں تو اس پر بلا واسطہ اور بالواسطہ دہلی کالج کی تحریک کا کچھ اثر ہے۔‘‘
اسی کالج کے اساتذہ اور فیض یافتگاں نے بقول خواجہ احمد فاروقی ’’جدید نثر کے ایوان کو رفعت عطا کی‘‘ ان میں ماسٹر رام چند قابل ذکر ہیں جو مشہور ریاضی داں تھے اور جن کی تحریروں نے اردو نثر کو ایک انقلابی رخ عطا کیا، اردو نثر کے مزاج کو تبدیل کیا۔ اسے منطقیت اور معروضیت سے روشناس کرایا۔
اردو ادب پر انگریزوں کا بہت بڑا احسان ہے کہ انہو ںنے اردو ادب کا رشتہ زندگی کی موضوعیت، معروضیت اور ارتقائیت سے جوڑا اور ادب کے افادی تصور کو عام کیا۔ انجمن پنجاب کا ارتکاز مطالب مفیدہ پر تھا۔ اس طرح اردو ادب کا کینوس وسیع ہوا اور اردو ادب میں نئے خیالات اور تصورات شامل ہوتے گئے۔ پیروی مغربی سے ادب میں ا مکانات کے نئے دروازے کھلتے گئے۔ خواجہ الطاف حسین حالی کی مقدمہ شعرو شاعری جیسی معرکۃ الآرا کتاب بھی اسی پیروی مغربی کا بہترین ثمرہ ہے۔
مغربی خیالات سے ہی اردو کے ادبی تمول میں اضافہ ہوا ہے، اس کا اعتراف کھلے دل سے کیا جانا چاہیے۔ اور انگریزوں کی نیت پر شک کے بجائے اس کے مثبت نتائج پر غور کرنا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اردو اصناف ادب کو جتنی وسعتیں ملی ہیں، بیشتر مغربی ادب کی دین ہیں۔
کرنل ہالرائیڈ ناظم سرشتہ تعلیمات پنجاب کے ایما پر مولوی محمد حسین آزاد نے نظم جدید کی ترویج نہ کی ہوتی یا ڈائرکٹر سرشتہ تعلیم مسٹر کیمسن کے حکم پر مسٹر ٹی جے کین انسپکٹر مدارس سرکل میرٹھ نے مومن خاں مومن اور مولانا امام بخش صہبائی کے شاگرد غلام محمد مولا بخش قلق میرٹھی سے انگریزی کی اخلاقی نظموں کے منظوم ترجمے نہ کرائے ہوتے اور انگریزی شاعری کے اردو منظوم ترجموں کا پہلا مجموعہ جواہر منظوم (گورنمنٹ پریس الہ آباد، 1867) مولوی اسماعیل میرٹھی کی نظر سے نہ گزرا ہوتا تو کیا نظمیہ شاعری میں مولوی اسماعیل کا وہ مقام ہوتا جو آج انھیں حاصل ہے؟
مولوی محمد اسماعیل میرٹھی غزل کے روایتی مضامین میں ہی الجھ کر رہ جاتے اور کچھ اس طرح کے ہی شعر کہتے رہتے ؎
رقیب سر بھی پٹکتے تو میں نہ ہلتا کاش
ملا نہ بخت مجھے تیرے سنگ در کا سا
کسی کی برق تبسم جو دل میں کوند گئی
تو چشم تر کا ہوا حال ابرتر کا سا
وہی رقیب، وہی واعظ، وہی ساقی وہی ناصح ان کی شاعری میں بھی ہوتا۔ مگر ’جواہر منظوم‘ نے ان کے ذہن کا رخ بدل دیا اور غزلیہ شاعری سے رشتہ توڑ کر دیار نظم میں آگئے، جہاں غزل کی بہ نسبت زیادہ وسعت تھی۔ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کے صاحبزادے اسلم سیفی نے لکھا ہے کہ:
مولانا فرمایا کرتے تھے کہ اس ترجمہ کو دیکھ کر استعجاب ہوا کہ شاعر ایسا کلام بھی لکھتے ہیں۔ ایک طرف دور ازکار حیرت انگیز مبالغہ جو غزل اور قصیدے کی جان سمجھا جاتا تھا ادھر اس ترجمہ کا مطالعہ ایک امر اتفاقی تھا جس نے مولانا کی طبیعت کا رخ بالکل بدل دیا۔‘‘
طبیعت کی اسی تبدیلی کا اثر تھا کہ ’جریدہ عبرت‘ میں سخنوران زماں پر طنز کرتے ہوئے وہ قصیدہ کہا جو پیراڈائم شفٹ کی ایک بہترین مثال ہے کہ اس میں علمائ، مشائخ، شعراء پر طنز ہے۔ اس میں سرسید اور غالب کی فکر کا پرتو ہے۔ وہ کہتے ہیں ؎
سوائے عشق نہیں سوجھتا انھیں مضموں
سو وہ بھی محض خیالی گھڑت کا اک طومار
نہ لکھتے ہیں کبھی نیرنگ حکمت و قدرت
نہ واقعات کے وہ کھینچتے ہیں نقش و نگار
مبالغہ ہے تو بے ہودہ عقل سے خارج
ہے استعارہ تو بے لطف اور دور ازکار
کیا ہے نام زٹل قافیہ کا اپنے سخن
وہ کنکری ہے جسے کہتے ہیں دُر شہوار
جو ان کے دیکھئے دیواں تو بوٗر کے لڈو
غلیظ و گندہ سراسر نتیجہ افکار
وہی ہے شاعر غرا جو بے تکی ہانکے
یہی ہے شعر کا اس دور میں معیار
نہ جس سے طبع کو تفریح ہو نہ دل کو خوشی
غزل ہے یا کوئی ہذیان ہے بوقت بخار
انگریزی نظموں نے مولوی اسماعیل میرٹھی کے ذہن اور دل کی دنیا ہی بدل دی، اتنا گہرا اثر ہوا کہ انھوں نے خود چھ انگریزی نظموں کے منظوم ترجمے کیے جو ان کی 45 نظموں کے مجموعہ ’ریزہ جواہر‘ میں شامل ہیں۔ کیڑا، ایک قانع مفلس، موت کی گھڑی، فادر ولیم، حب وطن، انسان کی خام خیالی۔ یہ انگریزی کی 6 سبق آموز اخلاقی نظموں کے ترجمے ہیں جس کی تحریک انگریزی نظموں کے مزاج اور موضوع سے ملی۔ اس طرح نظم جدید سے جڑنے کا سہرا انگریزی شاعری کے سر ہے۔ اس کی روشنی میں مولوی اسماعیل میرٹھی نے اردو کی نظمیہ شاعری کو کیا نئے امکانات عطا کیے اور ان کے امتیازات کیا ہیں اس پر گفتگو بعد میں ہوگی۔
پہلے ایک اور اہم نکتہ پر توجہ ضروری ہے جس سے مولوی اسماعیل کی شخصیت اور فکر کی تفہیم میں مدد مل سکتی ہے۔ اور وہ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کے آبا و اجداد مغل حکمراں ظہیرالدین محمد بابر کے ہمراہ ہندوستان آئے تھے۔ یہاں انھیں منصب اور جاگیریں بھی دی گئی تھیں۔ مغل حکمرانوں سے ان کے خاندان کی گہری وابستگی رہی ہے۔ قصبہ لاوڑ میرٹھ کی جاگیر بھی مغلوں کی عطا کردہ تھی، ان کے خاندان پر مغلوں کے بڑے احسانات ہیں اور مولوی اسماعیل میرٹھی 1857کی پہلی جنگ آزادی جسے غدر کا نام دیا جاتا ہے سے تقریباً 13سال قبل 12نومبر 1844کو پیدا ہوئے، اور انھوں نے اپنی معصوم آنکھوں سے غدر کا منظر بھی دیکھا اور اس میرٹھ میں دیکھا جس نے سب سے پہلے انگریزوں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ مغلوں کے احسانات کا تقاضا یہ تھا کہ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی انگریزوں سے نفرت کرتے، ان کے قائم کردہ عصری اسکولوں سے اجتناب برتتے اور سرکاری ملازمت سے باز رہتے مگر انہو ںنے ایسا نہیں کیا۔ انھوں نے سررشتہ تعلیم میرٹھ میں کلرک کی ملازمت کی اور پھرسرکاری اسکولوں میں ہی مدرسی اور معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ سینٹرل نارمل اسکول آگرہ سے پنشن حاصل کرکے میرٹھ میں مقیم ہوگئے۔
شاید سرسید کی طرح مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے یہ محسوس کیا ہوگا کہ مزاحمت سے مشکلیں بڑھتی ہیں اور مفاہمت سے راہیں کھلتی ہیں۔ اسی لیے انہو ںنے دقیانوسی سماج کے دو اینٹی ہیرو غالب اور سرسید کی طرح انگریزی حکومت کو باعث خیرو برکت جانا۔ یہاں مولوی اسماعیل میرٹھی اور سرسید احمد کی مخلوط وفاداری Mixed Loyaltyپر گفتگو ہو سکتی ہے کہ سرسید کا خانوادہ بھی مغلیہ دربار سے وابستہ رہا ہے اور سرسید کو مغلیہ دربار سے عارف جنگ اور جوادالدولہ کے خطابات بھی ملے تھے اور انگریزوں نے بھی انھیں کئی خطابات دیے۔ آخروفاداری کی اس تبدیلی کے اسباب کیا ہیں؟
میرے خیال میں ہندوستانی سیاست پر برطانوی اقتدار کے منفی اثرات ضرور پڑے ہوں گے مگر تعلیم اور تخلیق پر اس کے مثبت اور صحت مند اثرات بھی سامنے آئے، اسی وجہ سے سرسید اور مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے دوراندیشی اور حکمت عملی کے تحت انگریزوں کے تئیں اپنا رخ بدلا اور انگریزی اقتدار کی حمایت کی۔ مولوی محمد اسماعیل میرٹھی ایک رباعی میں کہتے ہیں ؎
لاکھوں چیزیں بنا کر بھیجے انگریز
سب کرتے ہیں دندان ہوس اس پر تیز
چڑتے ہیں مگر علوم انگریز سے
گڑ کھاتے ہیں اور گلگلوں سے پرہیز
انھوں نے انگریزی اقتدار کی مدح میں قصیدے بھی لکھے ہیں۔ ان کا ایک قصیدہ تہنیت سالگرہ حضور ملکہ معظمہ فیض ہند دام اقبالہا ہے۔’تہنیت جشن جوبلی حضور ملکہ معظمہ وکٹوریہ قیصر ہند‘ کے عنوان سے بھی ایک قصیدہ ہے جس میں انھوں نے برطانوی حکومت کی بہت تعریف کی ہے، اقدامات علم و امن کی ستائش کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں ؎
عہد دولت سے ترے پائی دلوں نے تسکیں
سکہ زر کی طرح چل گیا تیرا قرطاس
ہیں ہنر تیرے زمانے کے بغایت روشن
روغن و موم کی جا جلنے لگی برق اور گیاس
تار کے سامنے یکساں ہے نہ کچھ دیر نہ جلد
ریل کے آگے برابر ہے نہ کچھ دور نہ پاس
گائوں در گائوں ہوئیں علم کی نہریں جاری
اوکھ سے پینے لگے جن کو لگی زور کی پیاس
فیض تعلیم سے عالم ہوئے جاہل ہندی
کوئی عالم کوئی منشی تو کوئی حرف شناس
دم بدم ابر ترقی ہوا گوہر افشاں
کوئی ایف اے کوئی بی اے کوئی ایم اے پاس
دور شاہی نے ترے ان کو بنایا انساں
جن میں کھانے کا سلیقہ تھا نہ تمییزِ لباس
جشن جوبلی کا ہوا غلغلہ برپا گھر گھر
خیر سے تخت نشینی کو ہوئے سال پچاس
تیری دولت کی دعا یوں ہے دلوں سے جاری
جیسے گنگوتری کے چشمے سے گنگا کا نکاس
ایک اور قصیدہ نوید مقدم شاہی کے عنوان سے ہے جس میں انھوں نے جارج پنجم کی ہندوستان آمد کو بہار بوستاں سے تعبیر کیا ہے اور ترقی ملک کے لیے حکومت برطانیہ کے اقدامات کی ستائش کی ہے ؎
علم و دانش کے لیے دریا رواں
ریگ زاروں کو بنایا لالہ زار
عرض و طول ملک میں پھیلا دیے
مثل شریان و عصب ریل اور تار
کیا زراعت کیا تجارت کیا ہنر
سب پھلے پھولے نکالے برگ و بار
ایک اور مخمس ’خدا قیصرۃالہند کو لسامت رکھے‘ کے عنوان سے ہے:
عیش و طرب کے ہیں یہاں چہچہے
کون بھلا جبر کسی کا سہے
کیوں نہ تہہِ دل سے رعایا کہے
جب تک اس اقلیم میں گنگا ہے
قیصرۃالہند سلامت رہے

ہند کا اس عہد میں بدلا مزاج
عدل نے اس دور میں پایا رواج
جملہ مفاسد کا ہوا ہے علاج
سب کی تمنا ہے کہ باتخت و تاج
قیصرۃ الہند سلامت رہے
بس کہ رعایا پے ہے وہ مہرباں
کرتی رعایا ہے نثار اس پہ جاں
شرق سے تا غرب کراں تا کراں
ملک اس آہنگ میں ہے نغمہ خواں
قیصرۃ الہند سلامت رہے
قوم کی عمومی روش اور موروثی روایت سے یہی انحراف ان کی نظمیہ شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔ مولوی اسماعیل میرٹھی ایک روایت شکن اور انحرافی ذہن کے حامل تھے، اور اسی انحراف نے انھیں اردو شاعری میں انفراد، امتیاز اور اعتبار عطا کیا۔
مولوی اسماعیل میرٹھی نے قصیدے لکھے تو اس کے روایتی عناصر ترکیبی سے انحراف کیا، تشبیہ کے عنصر کو بھی مکمل طور پر خارج کر دیا، اسی طرح غزل میں بھی مطلع اور مقطع کا التزام نہ رکھا جب کہ وہ قادر الکلام شاعر تھے، مطلع اور مقطع ان کے لیے بڑی بات نہ تھی کہ اپنے برادر نسبتی شیخ قمرالدین رسالدار کو مشاعرہ میں پڑھنے کے لیے جو غزلیں دیتے تھے اس میں قمر تخلص کا التزام ہوتا تھا۔
مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے مختلف شعری اصناف کی مروجہ اور مقررہ ہیئتوں سے بھی انحراف کیا ہے۔ رباعیات اور قطعات میں بھی ہیئتوں کی پابندی نہیں کی۔ مردف، چہار قوافی اور سہ قوافی رباعیاں لکھیں۔ جدید نظم میں آزاد اور حالی کی طرح صرف مثنوی اور مسدس نہیں بلکہ مثلث، مربع، مخمس، مثمن اور ترجیع بند جیسی ہیئتوں کا استعمال کیا۔ انہو ںنے جدید نظم میں بہت سے ہیئتی تجربے کیے ہیں۔ نظم معری بھی انہی کی ایجاد و اختراع ہے جو انگریزی میں بلینک ورس اور اردو میں نظم غیر مقفی، نظم بے قافیہ کے نام سے معروف ہے۔ جس میں انگریزی کے برعکس قافیہ تو نہیں ہوتا مگر بحر ہوتی ہے۔ تاروں بھری رات اور چڑیا کے بچے نظم معری کی عمدہ مثال ہیں ؎
ارے چھوٹے چھوٹے تارو
کہ چمک دمک رہے ہو
تمہیں دیکھ کر نہ ہووے
مجھے کس طرح تحیر
کہ تم اونچے آسماں پر
جو ہے کل جہاں سے اعلیٰ
ہوئے روشن اس روش سے
کہ کس نے جڑ دیے ہیں
گہر اور لعل گویا
(تاروں بھری رات)
یہ شاید Twinkle Twinkle Little Star کا ترجمہ ہے۔
جدید نظم کے ذیل میں مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے جو ہیئتی تجربے کیے ہیں، وہ قابل قدر ہیں۔ اس تعلق سے ممتاز ناقد پروفیسر گوپی چند نارنگ کی یہ رائے بہت اہم اور فکر انگیز ہے کہ’’ مولوی اسماعیل میرٹھی کا شمار جدید نظم کے ہیئتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں ہونا چاہیے۔‘‘
مولوی محمد اسماعیل نے ہی ابیات سے متعارف کرایا، عیدیاں اور شب براتیاں جیسے تجربے کیے۔ ان کے ابیات میں ؎
جب کہ دو موذیوں میں ہو کھٹ پٹ
اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ
اور ؎
بد کی محبت میں مت بیٹھو بد کا ہے انجام برا
بد نہ بنے تو بد کہلائے بد اچھا بدنام برا
زبان زد خاص و عام ہیں۔
اسی طرح ان کے قطعات میں ؎
ملے خشک روٹی جو آزاد ہو کر
وہ ہے خوف و ذلت کے حلوے سے بہتر
ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے اور مقبول عام و خاص ہے۔
مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کے یہاں ہیئت کی سطح پر جہاں تنوع ہے وہیں ان کا موضوعی کینوس بھی کم وسیع نہیںہے۔ زمین و زماں، مکین و مکاں کے بہت سے مسائل ان کی شاعری کا حصہ بنے ہیں۔ تصوف، تعلیم اور ترقی کے موضوعات بھی ان کی شاعری میں ہیں اور ان کے متن کا ایک معتد بہ حصہ ماحولیات پر بھی محیط ہے۔ فرد اور فطرت کے مابین حیاتیاتی رشتے کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔ زمین اور اس کے متعلقات سے ان کی شاعری جڑی ہوئی ہے۔ ان کی بہت سی نظمیں ہیں جن سے ان کے زمینی اور ماحولیاتی شعور کا ادراک کیا جا سکتا ہے نوائے زمستان، جاڑا اور گرمی، مثنوی آب زلال، کوہ ہمالہ وغیرہ ایسی ہی نظمیں ہیں جو ارض مرکوز ہیں ؎
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے
ہر اک ریشے میں ہے اس کی رسائی
غذا ہے جڑ سے کونپل تک چڑھائی
پھلوں کا ہے اسی سے تازہ چہرہ
اسی کے سر پہ ہے پھولوں کا سہرہ
پانی، پہاڑ، ہوا یہ سب زمینی تلازمات ہیں۔ دشت و کہسار، سبزہ و گل یہ سب ماحولیات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان کے متن کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جس کا ماحولیاتی تنقید (Eco criticism)کے تناظر میں مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ماحولیاتی تنقید میں دیہی مناظر اور مظاہر بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اور مولانا کی بہت سی نظمیں دیہی تناظر میں ہیں۔ کاشت کاری، ساون کی جھڑی ایسی ہی نظمیں ہیں۔ اور ان کے اس پہلو کو کلیم الدین احمد جیسے سخت گیر ناقد نے بھی سراہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’جو چیز ان کو ذکر کا مستحق بناتی ہے، وہ ان کی دیہی شاعری ہے۔ ‘‘
مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کا ماحولیات مرکوز شاعری کا مطالعہ Ecological perspective میں کیا جائے تو بہت سی نئی طرفیں سامنے آئیں گی۔ یہ فطرت سے مربوط شاعری ہے۔ جس میں فطرت کے تئیں انسان کے رویے کی عکاسی بھی کی گئی ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ:
انساں بخلاف حکم قدرت
کرتا ہے خیال ترک فطرت
یہ اس وقت کی شاعری ہے جب نہ تو ماحولیات گمبھیر مسئلہ تھا اور نہ ہی تحفظ ماحولیات کی تنظیمیں اور ادارے قائم تھے اور نہ Literature and ecology جیسے مطالعات سامنے آئے تھے۔ Social Ecologyاور Deep ecologyکی بحث بھی نہیں چھڑی تھی۔ اس دور میں بھی اسماعیل میرٹھی کا ماحولیاتی شعور بہت بالیدہ تھا۔ ان کی نثری تحریروں میں بھی ماحولیات سے جڑے ہوئے مضامین ملتے ہیں۔ آج کی ماحولیاتی تنقید کے لیے مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کے تخلیقی متون میں بیش بہا مواد ہے۔ انھو ںنے قدرت کے فطری وسائل و ذرائع کے حوالے سے جو شعر کہے ہیں، آج کے ماحولیاتی بحران کے عہد میں ہمارے لیے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
در اصل مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے فطرت پر اس لیے زیادہ زور دیا ہے کہ فطرت ہی اخلاقی اقدار اور آداب زندگی کی تشکیل کرتی ہے۔ ان کی شاعری دراصل Poetry of Earthہے جس کے بارے میں کیٹس نے کہا تھا کہ ؎

”The Poetry of earth is never dead”
زلزلوں اور قیامتوں کے باوجود زمین اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے اور وہ شاعری جو زمین سے جڑی ہوتی ہو، وہ ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ زمین کی جمالیاتی قدر کو مولوی محمد اسماعیل میرٹھی نے اپنی شاعری میں بہت ہنرمندی اور فن کاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری سے صدیوں بعد بھی ذہنوں کا رشتہ قائم ہے۔
ہیئت اور موضوع ہی نہیں بلکہ لسان کی سطح پر بھی ان کے ہاں بہت سے نئے تجربے ملتے ہیں۔ لسانی امتزاجیت یا Code Mixing کے علاوہ ان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ لسانی یا لفظی اشرافیت کے قائل نہیں تھے۔ انہو ںنے سرسید احمد خاں کے زیر اثر اشرافیہ ذہن کی لسانی حد بندی سے گریز کیا ہے اور لفظ کے ترسیلی جوہر کو ہی مدنظر رکھا ہے کہ بسا اوقات اشرافی الفاظ جذبہ و احساس کی صحیح طور پر ترسیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے اپنے قصائد اور نظموں میں دیہی الفاظ ، محاوروں اور روز مرہ کا استعمال کیا ہے۔ اور زبان کے باب میں سماج کی سطح اور ساخت کا بھی خیال رکھا ہے۔ اور جس معاشرہ یا طبقہ سے ان کاتخاطب ہے ان کے وضع کردہ لسانی نظام کو ہی ترجیح دی ہے۔ ان کے نزدیک ہر لفظ اپنے معنی کی ترسیل میں خود مکتفی اور آزاد ہے۔ جدید لسانیات کے نقطہ نظر سے بھی مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کی شاعری کا مطالعہ سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اور ہماری سمٹتی سکڑتی فرہنگ میں بہت سے الفاظ کا اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
مولوی محمد اسماعیل کی شاعری میں بڑی وسعتیں اور امکانات ہیں۔ ان کی نظموں کا نیا قاری مختلف تنقیدی طریق کار سے ان کا مطالعہ کر سکتا ہے۔ مارکسی اور مابعد جدید تنقیدی طریق کار سے بھی ان کے شعری متون کی تفہیم ممکن ہے کیوں کہ جہاں انھوں نے اپنی نظموں میں مزدوروں اور کسانوں کا کرب بیان کیا ہے وہیں حاشیائی طبقات کے مسائل اور ثقافتی جڑوں سے وابستگی اور مقامیت کے عناصر بھی ان کی شاعری میں ہیں۔
مولوی محمد اسماعیل میرٹھی صرف شاعر ہی نہیں، اعلیٰ پایہ کے نثر نگار بھی تھے۔ ان کی نثر کا نمونہ، تذکرہ غوثیہ، ہے جو ان کے مرشد غوث علی شاہ پانی پتی کے ارشادات پر محیط ہے۔ اس میں تصوف اور کشف کے مسائل ہیں۔ اس کتاب پر گوکہ سید گل حسن شاہ کا نام درج ہے مگر داخلی شواہد سے اس کی تصدیق ہو چکی ہے کہ یہ مولوی اسماعیل میرٹھی کی تصنیف ہے۔ امیر خسرو کی مثنوی قران السعدین کا مقدمہ بھی ان کی نثر اور گہری تنقیدی بصیرت کا عمدہ نمونہ ہے۔ غیر مطبوعہ تصانیف میں حیات امیر خسرو کا ذکر کیا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب مکمل ہوگئی ہوتی تو خسرو شناسی میں ایک بیش بہا اضافہ ہوتا۔ اس کے مجوزہ خاکہ سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ منشی ذکاء اللہ کی مبادی الانشاء پر ان کا تبصرہ بھی ان کی علمیت اور بہترین نثر کا ثبوت ہے۔
اردو کی نصابی کتابوں کی تدوین و تالیف بھی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ اردو زبان کا قاعدہ، اردو کی پہلی دوسری تیسری چوتھی اور پانچویں کتاب اور ترک اردو، سفینہ اردو، کمک اردو جیسے ریڈ ر بہت اہم ہیں کہ ان کی تعریف علمائے ادب نے کی ہے۔ ان کتابوں نے کئی نسلوں کی ذہنی تربیت کی ہے۔ زبان کے فروغ میں ان کتابوں کا کردار بہت نمایاں ہے۔ مولوی اسماعیل میرٹھی نے بچوں کی نفسیات کے پیش نظر ہوئے درسی کتابوں کی تشکیل کی ہے اور وہی موضوعات منتخب کیے ہیں جو بچوں کی دلچسپی کے ہیں۔ اسماعیل میرٹھی کے مرتب کردہ ان ثقافتی بیانیوں سے بچہ بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ انھوں نے بچوں کو ان کتابوں کے ذریعہ تخلیقی کلچر سے جوڑ نے کا کام کیا ہے۔ تاریخی، اخلاقی، زراعتی اور حفظان صحت، سائنس جغرافیہ جیسے اہم موضوعات کو ان کتابوں میں سمیٹا ہے۔
صحیح معنوں میں مولوی اسماعیل میرٹھی معمار اور محسن اردو ہیں جنھوں نے ہر ذہن میں اردو کی شمع روشن کی ہے۔
انھوں نے بچوں کا عمدہ شعری ادب تخلیق کیا ہے۔ کتے، بلی اونٹ، کوا، شیر اور دیگر چرند پرند کے علاوہ دال اور چپاتی، دال کی فریاد، پن چکی جیسی نظمیں لکھی ہیں جو بچوں کے لیے بہت معنی خیز ہیں۔ انھوں نے چرند پرند کے اتنے اوصاف بیان کیے ہیں کہ Biocentric equality کہ کا شبہ ہونے لگتا ہے۔
ان کی سب سے مشہور نظم گائے ہے جو شاید ہر ایک کی زبان پر ہوگی کہ ؎
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
کسی اور چرند پرند کا ذکر کرتے ہوئے مولوی اسماعیل میرٹھی نے شاید ہی رب کا شکر ادا کیا ہے مگر گائے کا ذکر کرتے ہوئے بطور خاص خدا کا شکر ادا کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک گائے کتنی مقدس اور معصوم ہے۔
بچوں کے ادب میں اسماعیل میرٹھی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ان کی شخصیت کے اس رخ کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ وہ صرف بچوں کے ادیب بنا دیئے گئے جب کہ بڑوں کے لیے بھی ان کی خدمات کم اہم نہیں ہیں۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بہت صحیح بات کہی ہے کہ ’’اسماعیل کو صرف بچوں کا شاعر سمجھنا ایسی ادبی اور تاریخی غلطی ہے جس کی اصلاح ہونی چاہیے۔‘‘
مولوی اسماعیل میرٹھی جامع کمالات تھے۔ اور ان کی ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ وہ اردو ادب کا ایک ناقابل فراموش کردار ہیں۔ جب تک اردو زبان و ادب کے چراغ جل رہے ہیں، مولوی محمد اسماعیل میرٹھی کا نام اردو کے افق پر روشن رہے گا۔ لوح مزار پر ان کا نام کندہ رہے یا نہ رہے لوح ذہن پر مولوی اسماعیل میرٹھی کا نام ہمیشہ زندہ اور محفوظ رہے گا۔
اس مضمون کی ترتیب و تشکیل میں ڈاکٹر سیفی پریمی اور ڈاکٹر شاداب علیم کی تحقیقی کتابوں سے استفادہ کیا گیا ہے۔ اسماعیل میرٹھی کے باب میں یہ دونو ںکتابیں بہت اہم ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*