مولانا ضیاء الرحمن قاسمی:ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے-ڈاکٹر مولانا محمدعالم قاسمی

مولانا ضیاء الرحمن قاسمی:ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے-ڈاکٹر مولانا محمدعالم قاسمی
جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار
امام وخطیب جامع مسجد دریاپور سبزی باغ ، پٹنہ

اکیسویں صدمولانا ضیاء الرحمن قاسمی:ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے-ڈاکٹر مولانا محمدعالم قاسمی

جنرلی کے آتے ہی دنیا بہت بدل گئی ہے، ہائی ٹیک دور، ڈیجیٹل آلات اورہرکس وناکس تک اسمارٹ فون کی رسائی نے قدیم اقدار وروایا ت کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ پل پل کی نقل وحرکت کو شیئر کرنے کی عادت نے ایسا عموم حاصل کرلیا ہے کہ شہرت وریاکاری اورتصویر کشی کے مسائل اب صر ف زینت کتاب ہیں، خواص خدام کے ذریعہ اور بغیر خدم وحشم والے کسی نہ کسی ذریعے سے اس شوق کو پورا کرلیتے ہیں، تحریری فتویٰ کی رسم بھی صرف ہندی علماء میں باقی ہے۔ اس سے احتراز کرنے والے کو لوگ ترقی یافتہ دنیا سے غافل یا ایک صدی قبل کاانسان باور کرتے ہیں۔ مگر اس چکاچوند دنیا سے الگ تھلک ، شہرت وناموری سے کوسوں دور اپنی دنیا میں مگن ، سادگی منکسرالمزاجی اورنرم مزاجی کے حامل جن چند انفاس قدسیہ کو حال میں دیکھا ان میں سے ایک مولانا ضیاء الرحمن قاسمی ، پتونا ، بسفی مدھوبنی ہیں۔ جو 14 نومبر 2021 کو اس دنیائے فانی سے کوچ کرگئے، آپ کی نماز جنازہ آپ کے منجھلے صاحبزادے ڈاکٹر مولانا محمد رضوان قاسمی نے پڑھائی اوراپنے آبائی گاؤں پتونا کی سرزمین میں آسودۂ خاک ہوگئے_ آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔ آپ کی عمر بوقت رحلت 80 سال سے متجاوز تھی ۔مگر باعتبار سند کم ، اپنی عمر بتانے میں بہت محتاط تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ کہیں کسی کی نظر نہ لگ جائے۔
آپ سیدھے سادے خاکسار منکسرالمزاج انسان تھے۔نیک طبیعت کے نرم دل آدمی تھے، نیک اطوار تھے، پاک باز تھے، وضع دار تھے اورخاندانی شرافت کا نمونہ تھے، صاف دل تھے ، حسد وکینہ سے پاک تھے، گلہ وشکوہ سے محفوظ تھے۔ تواضع میں حد اعتدال سے بھی متجاوز تھے۔ اپنے شاگردوں اور چھوٹوں کی بھی بات بہت غور سے سنتے ، اورجو کہہ دیتا اس پر یقین کرلیتے۔ اسی تواضع میں بے اعتدالی کااثر تھاکہ قدیم فاضل دیوبند ہونے کے باوجود میں نے کبھی کسی بھی موقع پر کوئی وعظ ونصیحت یا تقریر کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ گوشہ نشیں تنہائی پسند تھے۔ عام بھیڑ بھاڑ سے الگ رہتے تھے، مگر کوئی ملنے جاتا توبڑی خندہ پیشانی سے ملتے اور سب کی بات سنتے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے والد گرامی کے ہم عصر تھے، ان سے قربت کے ساتھ مجھے بھی اپنا عزیز سمجھتے اورگھنٹوں بات کرتے، یہاں تک کہ میرے بڑے صاحبزادے سے بھی نہایت ہی بے تکلفی سے گھنٹوں بات کرتے، اسی باعث ہرشخص انہیں اپنا سرپرست سمجھتا اور اپنے دل کی بات کہتا۔ آپ بے ضرر اوربے نفس انسان تھے، کفایت شعاری اور قناعت پسند ی کے خوگر تھے اوراپنے عمل سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتے، اگر کسی نے کوئی کام کہدیا تو چاہے جتنی مشقت ہو اس کے لئے انتھک کوشش کرتے، آپ ایک چلتی پھرتی انجمن تھے۔ اگرکسی نے روک کر کچھ کہنا چاہا تو اس وقت تک ان کی بات سنتے جب تک کہ کہنے والا خود نہ تھک جائے۔ اس میں اپنے کام کو بھی بھول جاتے، غض بصر پر اتنا سختی سے عمل پیرا تھے کہ آپ ہمیشہ خمیدہ گردن ہی چلتے، شرم وحیا حد سے زیادہ تھی۔ دوسروں کی بہت رعایت کرتے، اور ایسی کسر نفسی تھی کہ عام فرد کے لئے آپ کی اہمیت کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔
مولانا موصوف کا آبائی تعلق ضلع مدھوبنی کے مسلم اکثریتی حلقہ بسفی کے پتونا گاؤں کے شمالی محلہ سے ہے۔ جو اب قاسمی محلہ سے مشہور ہے۔ اس گاؤں کے لوگ عمومی طورپر سیدھے شمار ہوتے ہیں اوردینی تعلیم کا ماحول بھی بہت قدیم ہے۔ مولانا کے والد منشی عبداللطیف قدیم پڑھے لکھے تھے۔ مگر باضابطہ سند یافتہ کے طورپر قاری ابراہیم ہوئے، جو بنارس کے مدرسہ سے حافظ وقاری تھے۔ ان کی کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے۔ انہوں نے حافظ مہرحسین کو بنارس پڑھنے کیلئے بھیجاجو بڑی محنت سے بڑے باکمال حافظ قرآن ہوئے۔ محلہ کے ماحول کو بدلنے میں ان کی بڑی محنت ہے۔ ان کی کوئی صلبی اولاد نہیں ہے۔ مگرشاگردوں کا لمبا سلسلہ ہے۔ انہوں نے نئی مسجد تعمیر کی اور اپنے گاؤں میں ہی تعلیم دینا شروع کیا۔ نہایت بافیض ثابت ہوئے ، اور ان کی محنت سے صرف ایک محلہ میں50 حفاظ کرام تیار ہوئے، جن میں سے ایک یہ حقیر راقم الحروف بھی ہے۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور15 فضلائے دیوبند ہوئے۔جس کی بنیاد پر اس محلہ کا نام قاسمی محلہ رکھ دیاگیا۔ فضلائے دیوبندکی پہلی کڑی کے طورپر قاری شعیب قاسمی اور مولانا ضیاء الرحمن قاسمی ہیں۔ ان کے بعد پھر سلسلہ چل پڑا۔
مولانا موصوف کی حتمی تاریخ ولادت تو معلوم نہیں ہوسکی چونکہ کئی مرتبہ پوچھنے کے بعد بھی انہوں نے ٹال دیا اورسند میں بعد میں انہوں نے جاکر اندراج کرایاتھا۔ مگر اتنی بات طے ہے کہ میرے والد گرامی سے دو سال چھوٹے تھے اورمیرے والد کی تاریخ ولادت ان کی ڈائری کے مطابق 1939 ہے۔ اس اعتبار سے مولانا کی تاریخ ولادت 1941 کے قریب ہوتی ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی پھر مدرسہ بشارت العلوم کھرما پتھرا دربھنگہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دیوبند چلے گئے۔ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ کا انتقال 1957 میں ہوگیا۔ ان کے بعد شیخ الحدیث فخرالمحدثین مولانا سید فخرالدین احمد مراد آبادی (1889-1972) ہوئے۔انہیں کے دور میں 1970 کے قریب فراغت ہوئی۔
فراغت کے بعد اپنی خدمت کا میدان پٹنہ کو بنایا۔ سبزی باغ کی جامن گلی میں اپنے استاد کے نام پر مدرسہ فخرالعلوم قائم کیا۔ مولانا کاظم قاسمی بھیروا کو یہاں لائے ، پھر مالیات کی فراہمی لوگوں کے تعاون سے خود کرتے اور وہ درس دیتے، کچھ دنوں بعد مولانا کاظم قاسمی مدرسہ حسینہ رانچی چلے گئے اورآپ اپنے گاؤں کے بورڈ کے مدرسہ میں بحال ہوگئے۔ جس سے 2011 میں ریٹائر ہوئے۔ مگر اپنے گاؤں کے مدرسہ سے منسلک ہونے کے باوجود پٹنہ سے رشتہ بدستور باقی رہا، اورسال کا کم ازکم 4 مہینہ پٹنہ میں ضرور گزرتا۔ شعبان، رمضان، شوال کے بعد ذی قعدہ میں واپس جاتے اور پھر گاہے بگاہے بھی آتے رہتے۔ مدرسہ کے مالیات کی فراہمی میں ہمیشہ منہمک رہتے۔پٹنہ کے چپہ چپہ سے واقف تھے اور پورا پٹنہ پیدل ہی روند ڈالتے، پٹنہ جنکشن سے سبزی باغ پیدل گھنٹوں میں پہنچتے، چونکہ درمیان میں بہت سے لوگوں سے ملتے جلتے آتے، آپ کسی چیز کے پابند رہنا نہیں چاہتے، اپنی مرضی سے رہنا ، اپنی مرضی کاکام کرنا، یہاں تک کہ عبادت میں بھی ان سے پابندی نہیں ہوپاتی، پٹنہ میں ان کاقیام جناب شمس الہدیٰ استھانوی مرحوم کے اخبار ’’ہمارا نعرہ‘‘ کے دفتر میں رہتا۔چونکہ وہ دفتر رات بھرکھلارہتا اورانہیں رات میں کسی بھی وقت آنے کی پوری آزادی ہوتی۔
مولانا موصوف کا پہلا نکاح اپنے ماموں کی دختر سے نرائن پور پوپری میں ہوا۔ مگرایک سال بعد ہی وہ راہی بقا ہوگئیں۔ تو دوسرا نکاح 1970 کے قریب کٹھیلا بسفی کے جناب ظہور احمد کی صاحبزادی سے ہوا، جو خوشحال اور بااثرفرد تھے۔ ان سے تین صاحبزادے ہوئے، بڑے مولانا محمدسلمان قاسمی ہیں جو ماشاء اللہ حافظ قرآن اورفاضل دیوبند اورامارت سے مفتی بھی ہیں۔ مگر اپنے والد کی طرح گوشہ نشیں تنہائی پسند ہیں اورشہرت وناموری سے کوسوں دور رہتے ہیں۔ مدرسہ احمدیہ مدھوبنی میں استاد ہیں اورمدرسہ کی چہاردیواری میں اپنے کو محصور کرلیا ہے۔ وہ ہمارے دیرینہ رفیق بھی ہیں۔
دوسرے صاحبزادے ڈاکٹر مولانا محمد رضوان قاسمی ہیں جو ماشاء اللہ حافظ قرآن، فاضل دیوبند اور سند یافتہ حکیم ہیں، بیدار مغز اورہوش مند عالم دین ہیں، ساتھ ہی ملنسار ، خوش اخلاق اور خوش مزاج ہیں۔ علماء نواز ہیں اورسماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ خوشحال ہیں، دربھنگہ میں اپنے ذاتی مکان میں مطب چلاتے ہیں جو اہل علم کا مرکز بناہوا ہے۔ تیسرے صاحبزادے حافظ محمد حسان ہیں جو اپنے گاؤں میں مدرسہ چلاتے ہیں۔ بڑے ہنس مکھ اورملنسار ہیں۔ لوگوں سے بڑی محبت سے ملتے ہیں، اور علماء کے قدردان ہیں۔اس طرح مولانا موصوف کو اللہ تعالیٰ نے صالح اولاد سے نوازا ہے اورسب دنیوی نعمت سے بھی سرفراز ہیں۔ ایک صاحبزادی ہوئی جو کم سنی میں جنت نشیں ہوگئیں۔ اہلیہ محترمہ بحمداللہ باحیات اور بعافیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت وعافیت سے رکھے۔ مولانا کے گھر سے میرا گہرا تعلق ہے اور اپنے گھر کی طرح ہی سمجھتا ہوں۔
مولانا ضیاء الرحمن قاسمی جیسے سادہ لوح سیدھے سادے بے لوث انسان بہت کم ملتے ہیں۔ جو سب کو اپنا سمجھے ، سب کو گلے سے لگائے، اور ہرشخص کی کامیابی پر خوش ہوں۔ ان کے دل میں سب کے لئے جگہ تھی۔ اسی لئے سبھی لوگ انہیں اپنا سرپرست سمجھتے ۔
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشہ کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

حسرت نے لا رکھا تیری بزم خیال میں
گلدستۂ نگاہ سویدا کہیں جسے