مولانا ولی رحمانی کی رحلت اور ان کی جانشینی کی بحثیں- نایاب حسن

 

امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ و جھارکھنڈ کے ساتویں امیر،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بوڈ کے جنرل سکریٹری،خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشیں اور جامعہ رحمانی مونگیر کے سربراہ مولانا محمد ولی رحمانی کے انتقال سے بلا شبہ کئی معنوں میں ہندوستانی مسلمانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔ ان کی شخصیت کی کئی سمتیں تھیں اور ہر سمت میں ان کا ایکٹوزم غیر معمولی نوعیت کا تھا۔ خاندانی وجاہت کے ساتھ علمی سربرآوردگی،فکری صلابت،جرأتِ اظہار اور خلوت و جلوت میں اپنی بات بلا کسی خوف کے کہہ سکنے کی غیر معمولی ہمت جیسے اوصاف موجودہ دور میں مولانا سے مخصوص سمجھے جاتے تھے اور وقتاً فوقتاً ان کا نمونہ بھی ان کے قول و عمل کے ذریعے سامنے آتا رہتا تھا۔ وہ ایک عالم تھے اور وسیع المطالعہ عالم،ایک سیاست داں تھے اور سیاسی پیچ و خم سے مکمل طورپر آگاہ،مسندِ ارشاد کی سجادہ نشینی پشتینی تھی اور مشرقی و شمالی بہار کے اطراف و اکناف سمیت ہندوستان کے دیگر علاقوں میں بھی ان کے مریدوں کا بڑا حلقہ آباد ہے،مونگیر میں ایک تعلیمی ادارہ جامعہ رحمانی کے نام سے ان کے دادا نے 1927میں قائم کیا تھا،جسے ظاہری و معنوی ترقیات سے ہم کنار کرنے میں پہلے مولانا منت اللہ رحمانی اور پھر مولانا ولی رحمانی کا غیر معمولی رول رہا۔ زندگی میں انھیں بڑی مقبولیتیں نصیب ہوئیں اور کامرانی و سرخروئی کی کئی منزلیں انھوں نے سر کیں،مسلمانوں کی نمایندگی کے کئی اسٹیج کی وہ رونق رہے اور اپنی حد تک نمایندگی کا حق بھی ادا کرنے کی کوشش کی،ان کے زیادہ تر اقدامات ،اقوال و اعمال سراہے گئے،جبکہ کچھ پر جا و بے جا تنقیدیں بھی ہوتی رہیں،وہ ایک ملی و قومی رہنما تھے،سو ہر شخص انھیں اپنی نظر سے دیکھتا اور اپنے طے کردہ معیار پر انھیں پرکھنا چاہتا تھا اور وہ تھے کہ ماحول کی تمام تر موافق و نا موافق آب و ہوا کو انگیز کرتے ہوئے اوپر ہی اٹھتے رہے،یہاں تک کہ بورڈ ،امارتِ شرعیہ ،مونگیر کی خانقاہ و جامعہ سمیت ہندی مسلمانوں کے ان گنت اداروں کی ڈور راست یا بالواسطہ ان کے ہاتھوں میں آگئی،وہ ان اداروں کے نفسِ ناطقہ بن گئے،ان کے تمام تر فیصلوں ،منصوبوں میں مؤثر ترین عامل کی حیثیت اختیار کرلی؛بلکہ یہ ادارے ان کی چشم و ابرو کے اشاروں کے رہین ہوگئے۔ عصری تعلیم اور مقابلہ جاتی امتحانات میں کمزور معاشی پس منظر رکھنے والے طلبہ کی کوچنگ کے لیے رحمانی 30 قائم کیا،جس کی کامیابی کی شرح شروع سے ہی قابلِ تحسین رہی۔

 

ہماری بد قسمتی ہے کہ اپنی خوے کم آمیزی کی وجہ سے ہم نے انھیں جب بھی دیکھا،دور سے دیکھا اور دور ہی سے سنا،البتہ ان کی متعدد تحریریں پڑھیں،ان کے شاگردوں اور معتقدوں سے ان کے اوصاف و محاسن سنے اور ان کے ناقدین بزعمِ خویش ان کے زلّات پر انگلی رکھتے رہے ۔ وہ چوں کہ کم ازکم مسلمانوں کی حد تک Public Figureکی حیثیت حاصل کر چکے تھے،سو ان کی تحریکوں اور مختلف قومی و ملی پلیٹ فارموں سے کیے جانے والے ان کے اقدامات سے بھی واقفیت ہوتی رہتی۔ بہرحال مولانا اپنی تمام تر ماجرا پرور سرگرمیوں سمیت بظاہر غیر متوقع ،مگر فی الحقیقت وقتِ مقررہ پر اس دنیا سے چل بسے۔ ان کے معتقدین و متعلقین اور مسلمانان ہند کا ایک بڑا طبقہ جو ان سے ذہنی و فکری ہم آہنگی رکھتا اور انھیں ایک اہم اور صاحبِ بصیرت ملی قائد سمجھتا تھا،وہ ان کے اس طرح چلے جانے سے شدید صدمے میں ہے،گزشتہ تین چار دنوں سے مسلسل علما،مسلمان اور اردو صحافتی حلقوں میں مولانا ولی رحمانی کے سانحۂ ارتحال پر اظہار رنج و غم کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف شعبہ ہاے حیات سے تعلق رکھنے والے بڑے چھوٹے افراد اپنی اپنی کیفیاتِ دل کا اظہار کررہے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک مولانا کی تمام تر خدمات کو شرفِ قبول عطا کرے اور ان کی لغزشوں سے درگذرفرماکر رحمت و مغفرت کا معاملہ فرمائے۔ آمین

 

مولانا کا کردار چوں کہ مذکورہ اداروں کے لیے مرکزِ ثقل جیسا تھا،سو ان کی وفات کے فوراً بعد جبکہ ان کی قبر کی مٹی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی، ان کی جانشینی کے تعلق سے بھانت بھانت کی خبریں اور قیاسات و پیش بینیوں کا طویل اور بورنگ سلسلہ شروع ہوچکا ہے،جو کئی معنوں میں نہایت ہی تشویش ناک ہے اور خصوصاً نئی نسل کے خالی الذہن نوجوانوں کے لیے بڑا عجیب و غریب اور مذہبی اداروں اور شخصیات کے تئیں پہلے سے موجود تہہ بہ تہہ بدگمانیوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ مولانا ولی رحمانی جن اداروں کے اہم عہدوں پر فائز تھے ان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور امارت شرعیہ بہار خاص طورپر قابلِ ذکر ہیں ،جامعہ رحمانی مونگیر کی سربراہی اور خانقاہ رحمانی مونگیر کی سجادہ نشینی کا مسئلہ تو تقریبا حل ہے،مگر بورڈ کے جنرل سکریٹری اور امارت کے امیر کے عہدے پر بحث و نقاش خصوصاً سوشل میڈیا میں بڑی سنجیدگی اور زور و شور سے جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ بورڈ میں جنرل سکریٹری کے انتخاب اور امارت شرعیہ کا امیرمنتخب کیے جانے کا ایک اصولی و دستوری ضابطہ ہوگا اور دونوں ادارے اسی کے مطابق ان عہدوں کو پر کرنے کا فیصلہ کریں گے،مگر ’سوشلستان‘ کے مفکرین کی معرکہ آرائیوں سے ایسا لگتا ہے کہ فیس بک پوسٹوں اور واٹس ایپ گروپوں کے مباحثوں کے ذریعے ہی نئے امیر شریعت اور نئے جنرل سکریٹری کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ اس سلسلے میں بعض تحریریں ایسی سامنے آرہی ہیں،جن سے واضح طورپر محسوس ہوتا ہے کہ کسی شخصیت کے لیے باقاعدہ لابنگ کی جارہی ہے اور اس مہم میں خود وہ شخصیت بھی شامل ہے۔ مسلم سیاسی تاریخ میں مسندِ اقتدار تک پہنچنے کے لیے کی جانے والی توڑ جوڑ کی ایک دلچسپ،مگر افسوسناک روایت رہی ہے،جو شومیِ قسمت سے مسلمانوں کے مذہبی ادارے میں بھی عرصہ پہلے منتقل ہوئی اور پھر مذہبی تعلیمی اداروں،ملی تنظیموں پر قبضہ و تسلط ،اجارہ داری و سلب و نہب کے ایسے ایسے واقعات رونما ہوئے کہ انھیں پڑھ اور سن کر ناطقہ سر بہ گریباں اور خامہ انگشت بہ دنداں رہ جاتا ہے۔ دنیا کے دیگر خطوں میں کہاں جائیں،خود اپنے ملکِ عزیز کے مذہبی و ملی اداروں کی پچھلی ستر اسی سالہ تاریخ پر ہر قسم کے تعصبات سے کنارہ کش ہوکر بالکل غیر جانبداری کے ساتھ ایک چھچھلتی نگاہ ڈالیں ،تو اکھاڑ پچھاڑ،جوتم پیزار،دھڑپکڑ ، مارا ماری؛بلکہ بعض دفعہ گولی باری اور رہزنی و قزاقی کے ایسے مناظر سامنے آئیں گے کہ پناہ بخدا!

 

پس میرے خیال میں مولانا کے انتقال کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں خصوصا نوجوانوں کو نری جذباتیت کی رو میں بہنے اور ظاہری قداستوں سے مبہوت ہوکر جانے اَن جانے میں کسی کا آلۂ کار بننے سے بچنا چاہیے،کہ ثواب اور مذہبی فریضہ سمجھ کر کیا جانے والا یہ عمل قطعی لا یعنی؛بلکہ حال یا مستقبل میں وبالِ جان بن سکتا ہے۔ پسند و نا پسند کے اظہار میں ہر شخص آزاد ہے، مگر اس کی صحت پر اصرار کرنا اور دوسروں کو اسے ماننے پر مجبور کرنا عملِ محمود نہیں ہےـ دوسرے یہ کہ امارت شرعیہ اور پرسنل لا بورڈ کے ذمے داران اور ان کی ہیئتِ حاکمہ کے ارکان کو چاہیے کہ نہایت دانش مندی،حکمت و دانائی اور مسلمانوں کے مجموعی مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے امارت کے نئے امیر اور بورڈ کے نئے جنرل سکریٹری کا انتخاب کریں،کہ اس گئے گزرے دور میں بھی تمام مسلمان نہ سہی،مسلمانوں کا ایک بڑا اور معتدبہ طبقہ ان اداروں پر کچھ نہ کچھ اعتماد کرتا ہے،اپنے خاص ملی مسائل میں ان کی طرف نظرِ امید سے دیکھتا ہے اور بڑی حد تک انھیں عزیز رکھتا ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*