مولانا وحید الدین خان:اسلامی علمی و فکری روایات کا سنگ میل ـ سید سعادت اللہ حسینی

(امیر جماعت اسلامی ہند)

مولانا وحید الدین خانؒ کی رحلت سے بہت صدمہ پہنچا۔ مولانا بلاشبہ ان مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے ہمارے زمانے پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ ملک میں مخلتف مذہبی فرقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ان کے درمیان مکالمہ و تبادلہ خیال کی فضا پیدا کرنے میں مولانا کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اسلام کو جدید اسلوب میں اور محکم سائنسی و منطقی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کے لئے مولانا مرحوم کی کوششیں بھی ان شاء اللہ ان کے لئے صدقہ جاریہ بنیں گی۔علم جدید کا چیلنج، مذہب اور جدید چیلنج، عظمت قرآن، اسلام دور جدید کا خالق، پیغمر انقلاب وغیرہ جیسی معرکتہ الآرا تصانیف نے، مولانا کو برصغیرکی اسلامی علمی روایات کا ایک اہم سنگ میل بنا دیا ہے۔

مولانا اردو نثر کے ایک بالکل منفرد اور بڑے پر کشش اسلوب کے بانی ہیں۔ انتہائی سادہ زبان میں بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی مضامین کو بیان کرنے کا جو اسلوب مولانا نے ایجاد کیا وہ بلاشبہ ان کا غیر معمولی کمال تھا اور اس نے کئی نسلوں کے اسلوب تحریر پر اثر ڈالا ہے۔انگریزی اور مختلف علاقائی زبانوں میں پر کشش لٹریچر کی تیاری بھی ان کا عظیم کارنامہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں لمبی عمر عطا کی اور اس لمبی عمر کا پورا حصہ جس خوبی سے انہوں نے بڑے کاموں کے لئے استعمال کیا اور جتنا بڑا علمی ورثہ چھوڑگئے ہیں، اس پہلو سے بھی وہ ہماری حالیہ تاریخ میں منفرد ہیں۔

دین کی تعبیر اور ہندوستان میں ملت اسلامیہ کے رویوں اور طریقہ کار پر مولانا مرحوم کے مخصوص خیالات تھے۔ ان خیالات سے بہت سے اہل علم نے بجا طور پر اختلاف بھی کیا ہے۔ لیکن ان کی وجہ سےمولانا کے علمی کارناموں اور ان کی عظیم خدمات کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ وہ جدید علم کلام کے اساطین میں سے ایک ہیں۔اور ان شاء اللہ ان کے علمی کاموں سے اسلام کے خادمین فیض یاب ہوتے رہیں گے اور عام انسانیت بھی ان کی تصانیف کے واسطے سے اسلام سے متعارف ہوتی رہے گی۔

مولانا سے ذاتی طور پر میں نے بھی بہت استفادہ کیا ہے۔ بچپن ہی سے ان کی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ پڑھتا رہا ہوں۔ طالب علمی کے زمانے میں ایس آئی او کے متعدد کیمپوں میں ان سے استفادہ ہوتا رہا۔ ان کے دولت کدے پر بہت سی یادگار ملاقاتیں رہیں۔ مولانا کی شفقت و محبت، فکری اختلاف کے باوجود خرد نوازی اور ہماری حقیر کاوشوں کی قدردانی، اور فیض رسانی کے لئے ہر دم تیار رہنے کی خوبی سے میں ہمیشہ بے حد متاثر ہوا۔

اللہ تعالیٰ مرحوم مولانا وحید الدین خان صاحبؒ کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے۔ ان کی کوتاہیوں، فروگذاشتوں اور غلطیوں کو معاف فرمائے۔ ان کی کاوشوں کا اجر عظیم انہیں عطا فرمائے۔ اور ان کی رحلت سے اسلامی کاوشوں کے علمی محاذ پر جو بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے پر فرمائے۔
ہم ان کے فرزندان ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، ڈاکٹر ثانی اثنین خان اور دیگر اقارب کے غم میں شریک ہیں۔ اور ان کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں۔