مولانا وحید الدین خان نے کیا کیا؟ ـ مالک اشتر

دلی کی بستی نظام الدین کے بارے میں کسی نے کہا تھا کہ یہ علاقہ نرالی شان والا ہے۔ ایک طرف حضرت محبوب الہی کا آستانہ ہے تو ان کے پائنتی امیر خسرو آرام کر رہے ہیں۔ چند گز کے فاصلے پر غالب کی مرقد ہے اور اس سے چند سو میٹر دور رحیم کا مدفن ہے۔ ایسا لگتا ہے، کچھ گز زمین کے دائرے میں کئی عہد پیوند خاک ہوں۔ کہنے والے کی بات سولہ آنے سچ ہے البتہ اس علاقے کی ایک فضیلت اور بھی ہے۔ اسی محلے سے لگ کر وہ کالونی واقع ہے جہاں ہمارے عہد کا ایک عظیم اسکالر مرتے دم تک علم کا چراغ روشن کئے رہا۔ مولانا وحید الدین خان نے عمر بھی یہیں گذاری اور جب دنیا سے رخصت ہوئے تو اسی علاقے کے پنج پیران قبرستان میں سپرد لحد کیے گئے۔
اس گنہ گار کو مولانا وحید الدین خان سے ملاقات کی سعادت کئی بار نصیب ہوئی۔ دیکھ کر تعجب ہوتا تھا کہ بڑھاپے کے باوجود وہ کتنے فعال اور متحرک ہیں۔ جب کبھی انہیں انٹرویو کیا مخصوص گھن گرج والی آواز کے ساتھ علم کا دریا بہتا پایا۔ نہیں معلوم کہ اب جبکہ مولانا دنیا سے اٹھ گئے تو مجھ جیسے لوگ سوالوں سے خشک حلق لے کر کس چوکھٹ پر جایا کریں گے جہاں سے جوابوں کا پانی مل سکے۔
مولانا وحید الدین خان ہمارے عہد کی کتنی مقبول شخصیت تھے یہ بات اور زیادہ تب کھلی جب ان کی وفات کی خبر آئی۔ کہاں کا مسلک اور کیسا مذہب؟ اس رات سوشل میڈیا پر سب ان کے غم میں نوحہ گر نظر آئے۔ البتہ کچھ لوگوں نے دبے لفظوں میں مولانا کی ‘نظریاتی گمراہیوں’ کو یاد دلانا شروع کر دیا۔ دن نکلتے نکلتے وہ جماعت بھی فیس بک کی گلیوں میں نکل آئی جس کی دانست میں مولانا کا بخشا جانا مشکل تھا۔ میں مولانا کی مغفرت کے ساتھ ان دوستوں کی ہدایت کی دعا بھی کرتا رہا۔
مولانا سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو شائد یہ سوال کچوک رہا ہو کہ مرنے والے میں آخر ایسا کیا تھا جو ایک عالم اداس نظر آ رہا ہے۔ مولانا و علامہ تو اور بھی ہیں، کتابیں تو دوسروں نے بھی کم نہیں لکھیں، شاگرد و مرید تو بہت سے علما کے ہوتے ہیں، پھر مولانا وحید الدین میں کیا خاص تھا؟۔ آئیے ان سوالوں سے جوجھ رہے بھائیوں کی مشکل آسان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے عہد میں مذہبی گھرانوں میں آنکھ کھولنے والے اکثر لوگوں کو ان کا ماحول مذہب سے خود بخود قریب کر دیتا ہے۔ گھر میں جو مکتب فکر رائج چلا آ رہا ہے اس کی بنیادی باتیں پرورش کے دوران ہی منتقل کر دی جاتی ہیں۔ آگے چل کر ان میں سے بہت سے لوگ اپنے ذوق کے مطابق مذہب کو کم یا زیادہ گہرائی سے سمجھ کر اس پر راسخ بھی ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن جھنجھٹ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان میں سے کچھ لوگوں کو ہر لحظہ بدلتی اس دنیا کے تقاضوں اور اقدار کے ساتھ اپنے مذہبی نظریات کو ہم آہنگ کرنے میں دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ ان لوگوں کی کشمکش یہ ہوتی ہے کہ نہ تو وہ اس مذہب کو چھوڑنا چاہتے ہیں جس کی سچائی کو ان کا دل بچپن سے قبول کر چکا ہے اور نہ ہی وہ اس دنیا سے کنارہ کر سکتے ہیں جس میں انہیں بہرحال Involve ہونا ہے۔
لوگوں کی زندگیوں میں جب یہ منزل آتی ہے تو وہ ایک فکری تذبذب کے عذاب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ کوئی ایک راستہ پکڑ لیتے ہیں۔ کچھ دنیا پر لاحول پڑھ کر خالص مذہب کے ہوجاتے ہیں تو کچھ مذہب کو سلام کرکے دنیا سے بغل گیر ہو رہتے ہیں۔ جو ان دونوں میں سے کسی کا بھی حوصلہ نہیں کر پاتے وہ باری باری سے دونوں طرف نظر ڈالتے ہیں اور پھر ہلکان ہوئے جاتے ہیں۔
لوگوں کی اس مشکل کو مذہب کے کچھ جانکاروں نے سمجھا اور کوئی حل کھوجنے میں لگ گئے۔ بہت سوچ بچار کرکے ان اصحاب نے مذہبی فکر کی تشکیل نو کرنے کی ٹھانی تاکہ مذہب اور تمدن کے زینے پھلانگتی دنیا کے درمیان حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ یہی وہ سوراخ ہے جس سے مذہب میں تجدد پسندی کی روایت کا چشمہ پھوٹا۔ اس روایت سے نکلے کچھ افکار تو اس انتہا تک چلے گئے کہ ان میں مذہب کی اصولی روح ہی غائب نظر آئی جبکہ کچھ ایسے نظریات سامنے آئے جنہوں نے تذبذب کے جھاڑ جھنکاڑ کو صاف کرکے مذہب اور جدید دنیا کے درمیان ہم آہنگی کی رہ گذر تیار کی۔
مذہب میں تجدد پسندی کی اس روایت کو رائج خطوط پر چلنے والے حلقوں نے نہ صرف مسترد کر دیا بلکہ ان کی گمراہی کا فتوی بھی صادر فرمایا۔ کچھ حلقوں نے تجدد پسندی کے پیچھے مذہب دشمن طاقتوں کا ہاتھ بھی دیکھ لیا۔ ان حلقوں نے اپنے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ بھول کر بھی اس نئی روایت کی طرف نہ جائیں کہ وہاں نقصان ہی نقصان ہے۔ بہت سے لوگ تو اس ہدایت پر سچے دل سے عمل پیرا رہے لیکن ان حلقوں میں ہی کچھ ایسے بھی تھے جو کہتے تو کچھ نہ تھے لیکن ان کے بھی دلوں میں تذبذب کی وہی آگ جل رہی تھی۔ ایسے افراد بھی خاموشی سے نئی روایت کی طرف بڑھ گئے۔
مولانا وحید الدین خان سے لے کر جاوید احمد غامدی تک مذہبی فکر کی تشکیل نو کرنے والے تمام اسکالروں کو آپ جتنا چاہیں برا بھلا کہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ نہ جانے کتنے افراد کو تذبذب کے عذاب سے نکالنے میں ان بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان حضرات کی دینی تعبیرات میں بہت سی غلطیاں ہوں لیکن ان کا یہ کارنامہ بہت بڑا ہے کہ انہوں نے ایک خلقت کو یہ باور کرا دیا کہ دنیا کیسی ہی ترقی کر لے تب بھی مذہب کی معنویت باقی رہتی ہے۔
میرے مشاہدے میں مولانا وحید الدین خان اور جاوید غامدی جیسے افراد کی مذہبی فکر بہت سے لوگوں کے لئے ان ستونوں کی طرح ہیں جنہیں ہٹا دیا جائے تو رائج مذہبی بیانیہ سے متعلق شبہات کی چھت مکینوں کے سروں پر آ پڑے گی۔ اس لئے ان ستونوں کی بناوٹ میں کوتاہیوں کے امکان کے باوجود ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا وحید الدین خان کی مذہبی تعبیرات کی ایک خوبی یہ ہے کہ ان میں مذہب کی اصولی حیثیت بہرحال نمایاں ہے۔ مذہب کی تفہیم کرتے وقت وہ دین کے دائرے میں کھڑے ہوکر استدلال کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ جدید دنیا سے ہم آہنگی کی راہیں بھی ہموار کرتے ہیں اور اس راہ میں ہر سنگ میل پر یہ یاد دہانی بھی لکھتے جاتے ہیں کہ انسان کی حتمی منزل کچھ اور ہے۔
مولانا وحید الدین خان پر معترض افراد دو جگہوں پر کھڑے ہوکر تنقید کرتے ہیں۔ایک طبقہ مولانا کے ان نظریات کو نشانہ بناتا ہے جہاں ان کی آرا رائج مذہبی تصورات کے خلاف ہیں۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جسے مولانا کے سیاسی نظریات سے شکوہ ہے۔ پہلے گروہ کو مولانا کی دینی تعبیرات پر تبصرہ کرتے ہوئے یاد رکھنا چاہئے کہ مذہب کے بنیادی ڈھانچے کو مجروح کئے بغیر اگر اس کی شرح میں مولانا نے کچھ نئے نظریات قائم کئے ہیں تو اسے زیادہ سے زیادہ تعبیر کی غلطی کہا جا سکتا ہے۔ معترضین کے ایمان کے مطابق بھی دلوں کا اصل بھید خدا ہی جانتا ہے سو یہ فیصلہ اس پر چھوڑ دیا جائے کہ ان اجتہادات میں کہاں بدنیتی کارفرما تھی اور کہاں سچی کاوش میں غلطی لگی ہے۔
مولانا کے سیاسی نظریات پر تنقید کا سب کو حق ہے لیکن ان کو بنیاد بنا کر مولانا کی پوری ریاضت کو ٹکے ٹوکری کر دینا انصاف نہیں۔ نظریاتی اختلاف تو بہت جگہوں پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ہی فکری شکم سے نکلی دو تنظیمیں سیکولرزم کے بارے میں دو بالکل مختلف نظریے رکھتی ہیں۔ ہماری طرف والی تنظیم کو سیکولرزم بہت عزیز ہے جبکہ سرحد پار والی کو سیکولرزم سخت نقصاندہ لگتا ہے۔ جس طرح ان نظریاتی اختلافات کو بنیاد بنا کر یہاں یا وہاں والی تنظیم کی گمراہی کا حکم لگانا زیادتی ہے ویسے ہی مولانا کے سیاسی نظریات کو وجہ بتاکر ان کی تمام کارگزاریوں کی تکذیب بھی ایمانداری کے خلاف ہے۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*