معروف اسلامی اسکالر اور سیکڑوں کتابوں کے مصنف مولانا وحید الدین خان نہیں رہے

نئی دہلی:( قندیل ڈیسک) معروف اسلامی اسکالر پدم بھوشن مولانا وحیدالدین خاں نہیں رہے ۔ ان کا انتقال آج راجدھانی دہلی کے اپولو ہسپتال میں کورونا کی وجہ سے ہوا۔ مولانا کئی ہفتوں سے علیل تھے ۔ مولانا کی ولادت یکم جنوری 1925ء کو اعظم گڑھ، اتر پردیش میں ہوئی تھی ۔ وہ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسلام اور اس کی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں گذاری ، اپنی کچھ منفرد رایوں کی وجہ سے وہ متنازع شخصیت کے طور پر بھی جانے جاتے رہے۔ وہ اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیرمین، ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر تھے۔ انھوں نے 1967ء  سے 1974ء تک الجمعیۃ ویکلی(دہلی) کی ادارت بھی کی۔ مولانا کو ان کی خدمات کے عوض درجن بھر سے زیادہ اعزازات ملےـ امسال حکومت ہند نے ان کی علمی و سماجی خدمات کے اعتراف میں انھیں پدم وبھوشن ایوارڈ سے نوازا تھا، جو بھارت رتن کے بعد دوسرا بڑا شہری اعزاز ہے اور آرٹ، تعلیم، ادب، سائنس وغیرہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو دیا جاتا ہےـ مئی 1989میں مولانا کو ان کی کتاب پیغمبر انقلاب پر حکومت پاکستان نے بین الاقوامی انعام سے نوازا تھاـ مولانا وحید الدین خان کا شمار ہمارے عہد کے ان ممتاز علما میں ہوتا تھا۔ جنھوں نے دین کی تعبیر و تشریح کے باب میں اہم علمی کام کیا ہےـ تصنیف و تالیف کے میدان میں ان کے نمایاں کارنامے ہیں ـ اصلاح ذات اور فکر آخرت کے حوالے سے انھوں نے جدید اسلوب میں اپنی نوعیت کا اہم لٹریچر تیار کیاـ ان کی سادہ و سہل الفہم تحریروں میں مکالمہ بین المذاہب اور امن کا بہت ذکر ملتا ہے اور ان میں وعظ و تذکیر کا پہلو بھی نمایاں طور پر موجود ہوتا ہےـ ان کی فکر میں خدا پرستی کی بنیاد پر تذکیر و نصیحت، صبر، تحمل و بردباری اور اخلاقی قدروں پر سب سے زیادہ زور ہوتاہےـ عصری اسلوب میں دین اسلام کی تشریح و توضیح ان کا سب سے نمایاں کارنامہ ہے اور انھوں نے اسی اسلوب میں دسیوں اسلامی و سماجی موضوعات پر سیکڑوں کتابیں لکھیں ـ ان کی کتابوں اور مضامین کے مختلف زبانوں میں ترجمے بھی شائع ہوئےـ ان کی وفات سے ہندوستان ہی نہیں، عالمگیر سطح پر علم و فکر اور دانش و بینش کے حلقے کو زبردست نقصان پہنچا ہےـ چند سال قبل نوجوں قلم کار شاہ عمران حسن نے مولانا کے افکار و خیالات اور تحریروں کی روشنی میں "اوراقِ حیات "کے نام سے ان کی ایک ضخیم سوانح مرتب کی تھی ـ معروف ہندوستانی اسکالر ڈاکٹر ظفرالاسلام خان مولانا وحیدالدین خان کے صاحبزادے ہیں، ان کے علاوہ بھی ان کے پسماندگان میں ایک بیٹا ( ثانی اثنین خان) اور ایک بیٹی (فریدہ خانم) ہیں ـ