مولانا وحید الدین خان: ایک عبقری، داعی ومفکر۔ عبد المتین منیری

ایک سال سے زائد عرصہ بیت رہا ہے، کرونا نے ایسا قہر ڈھایا ہے کہ کندھوں میں اب میتوں کو اٹھانے کی سکت باقی نہیں رہی ، جسم نڈھال ہوگئے، اور آنکھیں ہیں کہ خشک ہونے کا نام نہیں لیتیں، ہرروز کچھ قیمتی روحیں قفص عنصری سے پرواز کرنے کی خبریں آتی ہیں، اس قہر کے دوران ابھی مولانا وحید الدین خان صاحب کی اس دنیا سے داغ جدائی کی خبر آئی ہے، مولانا نے ایک صدی کے قریب عمر اس دنیائے فانی میں گزاری۔ مولانا کا شمار ان معدودے چند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے عمر عزیز کی قدر کی، اس کے لمحے لمحے کا حساب رکھا، اور اسے ضائع نہیں ہونے دیا، وہ ایک مفکر، امن کے علمبردار اور داعی تھے، ان کی زندگی مطالعہ اور تدبر سے تعبیر تھی۔
مولانا کی رحلت پر مضامین اور تاثرات کا سلسلہ جاری ہے، جن میں جہاں انکی تعریف میں قلابے ملائے جارہیں ہیں، تو کہیں ان کی فکر کی کجیوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ تو کہیں اذکروا محاسن موتاکم کا درس دیا جارہا ہے۔
ایک شخص جس کی فکر اس کی وفات کے بعد بھی قوم کے ایک طبقہ پر مثبت یا منفی اثر ڈالتی ہے، اسے خاص نہیں سمجھا جاسکتا، نہ ہی اس کے حالات زندگی سے واقفیت کو محدود نہیں رکھا جاسکتا، انہیں من وعن پیش کرنا ایک مورخ کا فرض بن جاتا ہے۔ ان حالات کو مثبت اور منفی میں تقسیم کرنے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ جیسا وہ ہے ویسا ہی پیش کیا جائے۔ان شخصیات کی زندگی سے سبق اور رہنمائی اسی صورت میں بہتر طور پر مل سکتی ہے۔مولانا کی زندگی ایک فکر اور دعوت سے تعبیر تھی، ان سے اتفاق بھی کیا گیا، اور اختلاف بھی ، لیکن خارجی اثرات سے بلند ہوکر ان کے افکار وخیالات کا انصاف پر مبنی غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنا ، جس معاشرے میں ہم لوگ بستے ہیں اس میں ناممکن نہیں تو مشکل ضرور نظر آتا ہے۔
ایک طویل عرصہ سے اس ناچیز کو مولانا کی تحریریں پڑھنے کا موقع نہیں ملا ہے، لیکن اتنا یاد ہے کہ مولانا کی فکری اور دعوتی زندگی کا آغاز جماعت اسلامی سے ہوا تھا، آپ نے عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کی، پھر جماعت کے حلقہ سے اختلاف کرکے نکل گئے، اور ((تعبیر کی غلطی)) کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ،جس کے بعد آپ کو روایتی دینی حلقے میں قبول عام حاصل ہوا، اس دور میں مجلس تحقیقات ونشریات سے آپ کی کتاب (( علم جدید کا چیلنج)) منظر عام پر آئی ، مولانا عامر عثمانی جیسے نقاد اہل قلم نے اس پر شاندار تبصرے کئے، اور آپ اپنے وقت کے چوٹی کے مسلم مفکرین کی صف میں شامل ہوگئے۔ یہاں سے آپ ہفت روزہ الجمعیت سے وابستہ ہوئے، اس کو سجانے سنوارنے کے لئے آپ نے بڑی تگ ودو کی، اور اسے مقبولیت کے بام عروج تک پہنچایا ، کہا جاتا ہے کہ ادارہ کی بجائے ان کی ذاتی مقبولیت اس پرچے کے بند کرنے کا سبب بنی۔
یہی زمانہ تھا کہ آپ کے ہونہار فرزند ڈاکٹر ظفر الاسلام خان لیبیا میں تعلیم پارہے تھے،ان کی عربی زبان وبیان پر دسترس مضبوط ہوگئی تھی، آپ نے اس کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا، پھر اس پر چوٹی کے مصری مفکر ڈاکٹر عبد الصبور شاہین نے نظر ثانی کی، زبان وبیان میں عجمیت کے اثر کو ختم کرکے اسے اہل زبان کے انداز میں سلیس اور رواں کیا، اور اپنے دیباچہ کے ساتھ ( الاسلام یتحدی) کے نام سے یہ کتاب ۱۹۷۰ کی دہائی کے اواخر میں مصر سے شائع ہوئی، اور ایک عجمی مصنف کی کتاب کو دوبارہ عالم عرب میں وہی مقبولیت ملی جو کبھی المصطلحات الاربعۃ، ماذاخسر العالم کے نصیب میں آئی تھی،پھر مولانا کی کتابیں عربی زبان میں ترجمہ ہوکر مقبول ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ آپ کی اردو تفسیر تذکیر القرآن کا ترجمہ بھی شائع ہوا، جیسا کہ آپ کی وفات پر استاد محمد خیر یوسف نے لکھا ہے کہ آپ کی کتابوں کا عرب دنیا کو انتظار رہا۔
۱۹۷۰ء کی دہائی کے نصف اول میں معمر قذافی کی شخصیت بڑی مسحور کن بن کر ابھررہی تھی، اس وقت ہمارے بعض مرکزی اداروں کے ترجمان جرائد میں بھی آپ کو خلیفہ ہارون رشید کے نمونے کے طور پر پیش کیا جارہا تھا،قذافی کا جب یہ سحر ماند پڑ رہا تھا تو آپ کی کتاب الاخضر منظر عام پر آئی تھی، پہلے مولانا کی سرستی میں اس کتاب کے اردو ترجمہ کی ہندوستان میں اشاعت وتقسیم کے پمفلٹ نظر آئے۔ اور چند ہی دنوں میں آب وتاب سے ماہنامہ الرسالۃ، قاسم جان گلی کے اسی کمرے سے نکلنے لگا، جہاں سے کبھی ہفت روزہ الجمعیت نکلا کرتا تھا۔
اس وقت ہمارے مولانا شہباز اصلاحی صاحب ،جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے مہتمم تھے، اور یہ ناچیز آپ کے زیر اہتمام تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا، مولانا کو چھیڑنے میں ہمیں بڑا مزہ آتا تھا، کیونکہ مولانا کی نظر وہاں سے شروع ہوتی تھی، جہاں پر ہماری ختم ہوتی تھی۔ ہم نے مولانا کے سامنے خان صاحب کی کتاب علم جدید کا چیلنج پر ماہنامہ تجلی کا تبصرہ دکھایا، تو مولانا پھڑک اٹھے، کہنے لگے اس کتاب کی بنیاد ہی غلط ہے، اس کتاب میں وحدت ادیان کی بو آتی ہے۔ کتاب کے آغاز میں علامہ عنایت اللہ مشرقی اور کیمبریج کے ایک عیسائی پروفیسر کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے، اور اسے ہائی لائٹ کیا جارہا ہے، اس سے اسلام کی نہیں بلکہ مطلق مذہب کی دعوت کی حقانیت ثابت ہوتی ہے، اسلام کی طرف دعوت اور مذہب کی طرف دعوت دو علحدہ چیزیں ہیں۔ مولانا ہی نے الرسالۃ کا پہلا شمارہ لاکر دکھا یا، اور اس کی ایک عبارت کو دکھا کر پوچھا کہ آخر یہ وحدت ادیان کی دعوت نہیں تو کیا ہے؟۔ یہ ضروری نہیں کہ مولانا شہباز مرحوم نے جو نتیجہ اخذ کیا ہو وہ سو فیصد درست ہو، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہنڈیا کے چاول میں نمک کم یا زیادہ ہونے کا پتہ ایک ہی دانہ چکھ کرلگ جاتا ہے۔
کچھ عرصہ بعد اللہ تعالی نے ہمارے ذریعہ معاش کا بندوبست ملک سے باہر رکھا۔ اس دوران جہاد افغانستان کا غلغلہ بلند ہوا۔ اس وقت یہ بات عام طور پر سنائی دینے لگی کہ مولانا نے مسلم امہ کی رائے عامہ کے برخلاف اس کی مخالفت کی ہے۔یہ مولانا کا مزاج تھا کہ کسی بات کو انہوں نے درست سمجھا تو پھر انہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ کون اس سے راضی ہوتا ہے، اور کون ناراض۔ اس دوران ہماری نظر سے بھی ایک منظر گذرا، چونکہ اس کا ذکر کہیں نہیں ہوا ہے ، اور مولانا نے بھی اپنی کتاب میں اسے حذف کردیا ہے،تو ایک تاریخی امانت کے طور پر اسے بیان کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
غالبا یہ ۱۹۸۶ء کی بات ہے، شارجہ کے شیخ عبد اللہ علی المحمود رحمۃ اللہ علیہ کے مکان میں جسے کتب خانے میں تبدیل کیا گیا تھا، اور یہاں پر سالانہ علمی شخصیات کو بلا کر محاضرات کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا، اس مکتبہ کا افتتاح حضرت مولانا علی میاں رحمۃ اللہ علیہ کے دست مبارک سے ہوا تھا، اور اس موقعہ پر حاکم الشارقہ صاحب السمو شیخ سلطان بن محمد القاسمی حفظہ اللہ اور حاکم عجمان صاحب السمو شیخ حمید بن راشد النعیمی حفظہ اللہ بھی شریک ہوئے تھے، تیسرے سال اس میں لکچر کے لئے مولانا وحید الدین خان صاحب کا قرعہ فال نکلا، مولانا کی رفاقت میں اس وقت مولانا ہاشم القاسمی صاحب مدیر الفیصل حیدرآباد بھی تشریف لائے تھے، جو اس وقت بہت جوان اور متحرک تھے، مولانا ہاشم صاحب سے ہماری اس وقت سے واقفیت تھی، جب آپ دارالعلوم حیدرآباد میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے، اور۱۹۸۱ء میں مولانا حمید الدین عاقل حسامی ؒ کے ساتھ تشریف لائے تھے،اس وقت ہمیں حسامی صاحب کے پروگرام ترتیب دینے کا شرف حاصل ہوا تھا، خان صاحب کا نام سن کر بڑا جم غفیر لکچر ہال میں جمع ہوا تھا، آپ نے عربی میں لکھا ہوا محاضرہ پیش کیا ، پڑھنے کے انداز سے محسوس ہوا کہ آپ کو عربی زبان پر اتنی قدرت نہیں ہے، اور شاید عربی میں یہ محاضرہ مولانا ہاشم صاحب نے اردو سے عربی میں تیار کرکے دیا تھا، محاضرہ پیش کرنے کا انداز بہت پھیکا تھا،جس کے بعد سوال وجواب کی نشست تھی،جس میں پہلے کاغذ پر پھر زبانی سوالات کی بوچھار شروع ہوئی، ہم نہ پہلے نہ بعد میں کبھی کسی علمی شخصیت کی ایسی کھلی اڑتے ہم نے نہیں دیکھی،اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ خان صاحب کو عربی بولنے کی عادت نہیں تھی، ماور سامعین سبھی عرب اور پڑھے لکھے لوگ تھے،وہ مافی الضمیر صحیح طور پر ادا نہیں کرسکے، ایک لفظ میں جواب دیتے، ایک نے دریافت کیا کہ آپ کی دعوت فکری ہے یا عملی، تو جواب دیا فکری،
اس کے علاوہ اور کئی سوالات تھے جن میں بدتمیزی اور اہانت کا عنصر غالب تھا، انہیں نقل نہ کرنا ہی مناسب ہے، اور خاں صاحب ہاں ہوں، انا علی مذہبکم ، انا علی مذہب الاسلاف کہتے رہ گئے، اس صورت حال کو دیکھ کر منتظمین نے اجلاس روک دیا۔ اس ناچیز کی کمزوری رہی کہ بڑی شخصیات کے سامنے ان کے دریافت کرنے سے پہلے خود سے اپنا تعارف کرنے میں ہمیشہ ہچکچاہٹ رہی، اسی طرح بھاری بھرکم الفاظ میں کوئی ہمارا تعارف کرے تو یہ بھی پسند نہیں آیا، کیونکہ اس طرح مخاطب سے ایک حجاب سا محسوس ہونے لگتاہے، اور اپنائیت نہیں لگتی۔ لیکن ہاشم صاحب زبردستی ہمیں آپ کے کمرے میں لے گئے، اور ہمارا تعارف کر کے کہنے لگے کہ یہ اردو والوں میں آپ کے پروگرام کی دعوت دینے آئے ہیں، مولانا ویسے بھی جلسے کی صورت حال سے بپھرے ہوئے تھے، کہنے لگے کوئی پروگرام ورگرام نہیں ہوگا۔ میں سیدھے واپس ہندوستان واپس جاؤں گا۔یہ مولانا کا ایک انداز تھا، مولانا مجلسی نہیں تھے، وہ صرف لکھنے اور پڑھنے والے انسان تھے ، اسی میں عمر گزاردی۔
فکر میں یکسانیت نہ ہونے کے باوجود علمی وفکری دنیا میں مولانا عبد الماجد دریابادیؒ سے آپ کو مشابہت دی جاسکتی ہے، دونوں ہی انگریزی اور مغربی لٹریچر کو گھونٹ گھونٹ کر پئے ہوئے تھے ، مولانا دریابادی بھی سچ ، اور صدق کے صفحات کامنہ تنہا بھراکرتے تھے، یہی حال خان صاحب کا بھی تھا، پینتالیس سال تک ماہنامہ الرسالہ آپ ہی کے قلم کا مرہون منت رہا۔
برصغیر کا مزاج ہے کہ ہمارے زیادہ تر علماء اور دانشور جماعتوں اور تحریکوں اور مسلکوں کے خول میں بند رہتے ہیں، آزادی سے باہر کی فضاؤں کو دیکھنے کی عادت نہیں ، اگر کوئی کسی تنظیم یا جماعت سے الگ ہوتا ہے، تو ا سے معاف نہیں کیا جاتا، اس کے ساتھ دشمنوں جیسا برتاؤ رکھا جاتا ہے، اس کی اچھی چیز وںکو بھی قبول نہیں کیا جاتا، غیروں کے ساتھ تو محبت اور رواداری کا سلوک ہوتا ہے، لیکن جو اپنے بچھڑ گئے ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک روا نہیں رکھا جاتا، دوسری طرف جب کوئی شخص کسی تنظیم یا جماعت سے نکلتا ہے تو پھر اسے ان میں خامیاں ہی خامیاں اسے نظر آتی ہیں۔ ان پر تاک کر نشانہ لگانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، خان صاحب بھی انسان تھے، ان کا خمیر بھی اسی مٹی سے نکلتا تھا، وہ آخر کیوں اس سے الگ ہوتے۔ ان رویوں سے حلقہ اثر کا متاثر ہونا لازمی بات ہے، اس وجہ سے بھی خان صاحب سے ایک بڑا حلقہ دور رہا ۔ورنہ اللہ نے آپ کو جن صلاحیتوں سے نوازا تھا، اور جتنی محنت آپ نے دین کی تفہیم وتشریح کو آسان اور قابل فہم بنانے کے لئے کی تھی، اس سے امت کے سواد اعظم کومستفید ہونا چاہئے تھے، لیکن یہ سب توفیق الہی پر منحصر ہے۔ مرحوم نے اپنے لئے جو راہ اپنا ئی، یہ افہام وتفہیم کی راہ تھی، لیکن ملت کے مزاج میں موجود بہت سی حد بندیوں نے افہام وتفہیم کے ان کے اسلوب کو موثر ہونے نہیں دیا، ورنہ امن وامان ، افہام وتفہیم کی دعوت ایسی دعوت ہے کہ جس کی آج کے دور میں ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔
مولانا نے دین کی حقانیت ثابت کرنے اور اس کی سربلندی کے لئے جتنا مطالعہ کیا ،دور حاضر میں اس کی مثال نہیں ملتی، ممکن ہے اس راہ میں انہوں نے بہت سی ٹھوکریں بھی کھائی ہوں، لیکن اس میں شک نہیں کہ وہ اپنے مقصد میں مخلص تھے،اس میں بدنیتی نہیں تھی، نہ ان سے منصب اور شہرت کی ہوس کا اظہار ہوتا تھا، ایک سادہ زندگی انہوں نے گذاری ، جس کی ضروریات گنیں چنیں تھیں۔
مولانا کی تحریروں میں جہاد، قادیانیت،حضرت مہدی علیہ السلام، وغیرہ دوسرےکئی ایک مسائل میں جہاں سواد اعظم اہل سنت والجماعت سے الگ جس مسلک کا احساس ہوتا ہے، اس کے سنجیدگی سے غیر جذباتی تجزیہ کی ضرورت ہے، کیونکہ عموما سمجھا یہ جاتا ہے کہ میدان میں جو جماعتیں اور تحریکات کام کررہی ہیں، ان کے طریقہ کار سے انہیں سخت اختلاف تھا، اور یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ وہ جذباتی مسائل میں امت مسلمہ کو مستقل الجھائے رکھنے کو زہر ہلال سمجھتے تھے، ان کی رائے تھی کہ ان مسائل میں الجھ کر امت تعمیری کاموں، اور تعلیم اور تجارت کے میدانوں میں دوسری قوموں سے مسابقت میں بچھڑ رہی ہیں، یہ ایک ایسی بات ہے جسے امت کا ایک بڑا طبقہ محسوس کرتا ہے، لیکن اس بارے میں کچھ بولتے ہوئے خوف محسوس کرتا ہے۔ اس وقت امت کے سامنے مسائل کا ایک انبار کھڑا ہے، ان کی گھمبیرتا کو سوچ کر خوف سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ کورونا نے مدارس دینیہ کی جنہیں ہم دین کے قلعے کہتے نہیں تھکتے تھے کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اور مستقبل میں ان کی بقا ایک سوالیہ نشان بن کر کھڑی ہے، بیس تیس کروڑ کی مسلم آبادی جو دنیا کے بڑے بڑے مسلم ممالک سے بھی زیادہ ہے، اپنے تشخص کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، اور ہر آنے والا دن گزشتہ سے زیادہ تاریک لگ رہا ہے، ایسے میں مولانا کی بہت سی باتیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ خان صاحب نے اپنے تاریخ اور دین کے مطالعہ سے امت کے لئے جو ترجیحات سجھائی تھی، کیوں نہ انہیں بھی تجربہ کی سان پر پرکھا جائے۔ مولانا اب اپنے رب کی طرف لوٹ گئے ہیں، انہوں نے زندگی بھر جو سوچا ،اس کا نچوڑ پیش کردیا ، انہوں نے ان کی پیشی میں کبھی احساس کمتری محسوس نہیں کی، نہ کبھی انہیں اس پر کسی پشیمانی کا احساس ہوا۔ جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی بات میں مخلص تھے، اب ان کا حساب اسی بارگاہ میں ہونا ہے، جہاں سب کو لوٹ کرجانا ہے۔ ماہ رمضان کے مبارک دنوں میں خالق نے انہیں اپنی بارگاہ میں واپس بلا لیا، کیوں نہ ہم بھی ان مبارک ساعتوں میں ان کی مغفرت اور حسنات کی قبولیت کے لئے دست بدعا ہوں۔ اس کی ذات غفور ورحیم ، اور بلند وبالا ہے۔ آمیں۔