مولانا شاہین جمالیؔ:علم و ادب کے ایک درخشاں دور کا اختتام-مولانا نسیم اخترشاہ قیصر

متوسط قد، مضبوط ہاتھ پاؤں، بڑی بڑی مگر ہمیشہ رکوع میں جھکی آنکھیں، نورِ باطن سے چمکتی کشادہ پیشانی، چہرہ باوقار اور پرسکون، جوانی میں خوبصورت اور دلکش نقوش، بڑھاپے میں طمانیت اور راحت کے آثار، چال نہ تیز نہ سست، بیٹھنے اٹھنے میں آداب کا خیال، تنہائی میں ایک ذاکر اور با صفا انسان، مجلس میں بلند مرتبہ عالم، قلم ہاتھ میں ہو تو حروف و الفاظ ترتیب کے ساتھ ملتجی نگاہیں ان پر ٹکائے ہوئے، ہر ایک ان کی توجہ کا طالب اور نظر کرم کا درخواست گزار، لحاظ و مروت ان کی فطرت، وضع داری و شرافت ان کی سرشت، زمانۂ طالب علمی سے اچھی عادتوں کے مالک، علم کے جویا، مطالعہ کے رسیا، نیکی اور خیر سے ان کی شخصی تعمیر ہوئی جو زندگی کے آخری لمحات تک ان کے اختصاص کا سبب بنی۔
جس درس گاہ سے ان کی طالب علمی کا آغاز ہوا وہاں سے اس درس گاہ تک جہاں وہ شیخ الحدیث کے منصب اور منزل تک پہنچے، نیک نامی اور کردار کی بلندی ان کی ذات کا حصہ بنی وہ مدرسہ اسلامیہ اصغریہ دیوبند میں رہے یا مدرسہ محمودیہ سروٹ، مظفرنگر میں یا آخری پڑاو کی صورت میں مدرسہ امداد الاسلام، صدربازار میرٹھ میں شیخ الحدیث اور مہتمم قرار پائے ہر ادارہ میں ان کی پرشکوہ اور پروقار شخصیت کا طلسم باقی رہا، ان کے قلم اور زبان کی ساحری نے ادوار اور زمانوں کا احاطہ کیا، پندرہ روزہ ’’دیوبند ٹائمز‘‘ دیوبند ان کی قلمی فلک پیمائیوں اور صداقتوں اور ادبی مہمات کا شاہد بنا، میں نے کم از کم پچیس سال ’’دیوبند ٹائمز‘‘ میں ان کے بلند افکار، ندرتِ خیال، قوتِ بیان اور حسنِ ادا کی جلوہ فرمائیاں دیکھیں، اخبار کا اداریہ ان کے قلم کا مرہونِ منت ہوتا۔ موقع کی مناسبت سے صفحۂ اول بھی تحریر کرتے۔
والد مرحوم مولانا سید محمد ازہر شاہ قیصر کا ’’دیوبند ٹائمز‘‘ میں مستقل کالم ’’سیاسی حاشئے‘‘برسہا برس جاری رہا، کبھی اخبار کا پہلا صفحہ بھی ان کے شاہکار قلم سے مزین ہوتا۔ 1973ء کے سال میرا نام بھی ’’دیوبند ٹائمز‘‘ کے مضمون نگاروں میں شامل ہوگیا تو مولانا شاہین جمالی سے اور قربت ہوگئی، وہ شریف النفس، کریم الطبع، انتہائی رکھ رکھاؤ کے آدمی تھے۔ میں نے لگ بھگ دو سال والد مرحوم سے اپنے مضامین پر اصلاح لی اور ان ہی کے حکم پر مولانا شاہین جمالی سے رابطہ میں رہا۔ چھ ماہ کے قریب انہوں نے میرے مضامین کی نوک پلک درست کی۔ والد مرحوم کے ساتھ انہوں نے بھی اس راہ کی نزاکتوں اور اس میدان کے اسرار و رموز سے واقف کرایا۔ میں بلاتامل یہاں یہ بات لکھتا ہوں کہ مولانا شاہین جمالی کو مبدأ فیاض نے قلم کی تاثیر، بیان کے سحر اور تدریس کے کمال سے بدرجۂ اتم نوازا تھا۔ تینوں میدان ان کے اپنے میدان تھے اور ان تینوں عالم میں ان کی چابک دستی اور سربلندی کے حسین اور دل فریب مناظر دنیا نے دیکھے۔
مولانا محفوظ الرحمن شاہین جمالی جہاں اعلیٰ پائے کے قلم کار، مصنف اور شاعر تھے وہیں خطابت کی دنیا میں بھی ان کا نام جلسوں کی کامیابی کی ضمانت بنا۔ ان کی تقریر انفرادیت کے رنگ لئے ہوئے تھی، نطق و گویائی کی فطری اور بے مثال صلاحیتوں نے ان کو مقبولیت و شہرت بخشی اور عوام و خواص کے درمیان ہمیشہ انہیں پہلی پسند بنائے رکھا۔ چالیس سال سے زائد انہوں نے بیان و گفتار کے چراغ روشن کیے، ایسے چراغ جو صبح دم تک ہی روشن نہیں رہتے بلکہ ان کی روشنی بے شمار راتوں کو اجالوں میں تبدیل کرتی ہے۔
ان کے تکلم کا عالم ہی دگر تھا، بولتے تو موتی رولتے کی ترکیب پرانی ہوئی، منہ سے پھول جھڑنے کی تشبیہ بھی ہزار بار پڑھی جاچکی، خطابت ان کے گھر کی باندی تھی، یہ تعبیر بھی مزہ کھوچکی، ان کا معاملہ تو یہ تھا:
ہائے اس صاحبِ مسند کے تکلم کی ادا
سرخ پھولوں سے لدی شاخ جھکی ہو جیسے
فضائیں گنگنائیں، درخت جھومیں، شاخیں رقص کریں، سامعین سحر زدہ، صف کی صف ساکت اور خاموش، کوئی آواز نہیں، صرف شاہین جمالی کی آواز، وہ سب کی نگاہوں کا مرکز اور ہر فرد ان کی اداؤں کا قتیل اور ہر شخص ان کی علمی شخصیت پر فریفتہ۔ جن لوگوں کو دیکھ کر زندگی کے قیمتی ہونے کا احساس جاگتا یا بامقصد زندگی کے آثار نمایاں ہوتے، ان میں مولانا شاہین جمالی کا نام بھی قلب و روح اور ذہن و دماغ کی تسکین کا سامان بنا، ان پر تہذیب اور شرافت کا اتنا غلبہ تھا کہ طویل یا مختصر گفتگو کرتے تو نگاہیں نیچی ہی رہتیں، کبھی دیکھتے بھی تو آنکھیں محجوب سی رہتیں، معاملات اتنے صاف کہ آبشار کا پانی بھی شاید اتنا شفاف نہ ہو، میرا ماننا ہے کہ آدمی کے علم سے زیادہ اس کا پختہ کردار اور اس کے پاکیزہ معاملات اس کو عظمت عطا کرتے ہیں اور توقیر سے نوازتے ہیں۔ ظاہر ہے علم بغیر عمل کے وبالِ دوش اور وبالِ جاں ہے۔
دیوبند سے لے کر میرٹھ تک کے طویل قیام میں انہوں نے علمائے دیوبند کی ناموری اور آفاقی شہرتوں کو اپنے لیے اثاثۂ حیات بنائے رکھا، جذب و کیف کی کتنی مزلوں سے وہ گزرے اور صلاح و تقویٰ کی کتنی راہوں سے ان کا گزر ہوا، وہ ان کی زندگی سے عیاں اور ان کے عمل سے ظاہر تھا، میں نے ان کی زندگی کا ہر دور اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہر مرحلۂ زندگی کا میں شاہد رہا، کہیں جھول نہیں، کہیں انگلی رکھنے کی گنجائش نہیں، اجلی، روشن ،مصفیٰ زندگی، لائقِ ذکر اور قابلِ رشک، انہیں یقینا کسی بڑے ادارہ سے وابستہ ہونا چاہیے تھا اور ان کا کمال اس کا متقاضی بھی تھا مگر اللہ کے فیصلے ہر صورت میں اٹل اور ان کا نفاذ ہر حال میں یقینی۔
ان کو حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب نور اللہ مرقدہٗ سے قلبی اور روحانی تعلق تھا، جس شخص نے ان کو تمام عمر اپنا گرویدہ بنائے رکھا وہ حکیم الاسلامؒ کی مقتدر شخصیت تھی، وہ حکیم الاسلام نوراللہ مرقدۂ کے ایسے عاشق اور فدائی تھے جو اپنے محبوب کو پہروں آنکھوں سے نہارتے اور دل میں ان کی عقیدت اور محبت کی روشنی پاتے، انتہائی تعلق اور بے پناہ عقیدتوں کے باوجود انہوں نے حدودِ اعتدال کو پار نہیں کیا، ان کی زبان تنقید سے پاک رہی اور قلم نے ان پردوں کو اٹھانے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی، جن کے پیچھے کرب و الم کے مناظر تھے یا انتشار و اضطراب کی تحریریں یا پھر درد کی تصویریں آویزاں تھیں، اس عنوان سے مولانا کی زبان بھی محتاط رہی اور قلم نے بھی احتیاط کا دامن کو تھامے رکھا۔ دور ابتلا میں ایسے کردار کے لوگ تاریخی کردار کے حامل تو ہوتے ہی ہیںساتھ ہی وہ ایسی تاریخ کے شریک بھی ہوتے ہیں جس کا حصہ بننے کی تمنا ہر دل میں پلتی اور بار بار کروٹ لیتی ہے۔
ان کے گہر بار قلم سے لاتعداد علمی، تحقیقی، ادبی، سیاسی مقالات اور مضامین نکلے، شاہکار کتابیں وجود میں آئیں، گراں قیمت اور گراں بہا تصانیف اہل علم تک پہنچیں، ان بیش قیمت کتابوں میں ’’دیوبند کے چند بزرگ و ہم عصر‘‘ دارالعلوم دیوبند کی تاریخ سیاست (جو اجلاسِ صدسالہ 1980ء میں دفتر صدسالہ سے شائع ہوئی) ’’کیا اسلام پر اعتراض ہے‘‘ غیراسلامی مذاہب کے اسلامی احکام، طلاقِ ثلاثہ، علم و تحقیق کے اجالے میں، مساجد میں عورتوں کی نماز، انقلاب توحید، المسک الذکی علی جامع الترمذی وغیرہ منظر عام پر آئیں اور ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ ان کا مجموعۂ کلام ’’شاہیں کا جہاں اور‘‘ کے نام سے طبع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے وہ عالمانہ اور محققانہ مضامین الگ ہیں جو انہوں نے حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ سابق صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایما پر فقہ اکیڈمی کے لیے لکھے۔ اس موقع پر یہ ذکر بھی مناسب ہوگا کہ انہوں نے جمالیؔ تخلص اپنے استاذ مولانا جمال احمد خستہؔ (شاگر رشید حضرت علامہ کشمیریؒ) کے نام پر اختیار کیا تھا۔
وہ دارالعلوم دیوبند کے اس مسعود دور کے گواہ تھے جو دارالعلوم دیوبند کی علمی اور باوقار شخصیتوں کا دور تھا، اس سلسلۃ الذہب کی نامی گرامی اور معزز ہستیاں ان کی آنکھوں میں بسی ہوئی تھیں، جنہوں نے اکابر کی صحبتیں پائی تھیں اوران کی علمی و عملی جلوہ سامانیوں کا مشاہدہ کیا تھا، جن اساتذہ کے سامنے بیٹھ کر انہوں نے علم حاصل کیا اور جن بزرگوں سے تقویٰ و للہیت کی دولت پائی وہ آسمانِ علم و فراست کے آفتاب اور زمین کے وہ باسی تھے جن کے خشوع و خضوع، انابت الی اللہ اور خدا ترسی کی داستانیں رقم کرنے میں ہر صاحبِ قلم نے سبقت کی کوشش کی۔
مولانا کا قلم ان کے کمال کا مظہر، ان کی تحریریں ان کے پاکیزہ باطن کا آئینہ، ان کے مقالات ان کی جلالتِ علم کی شہادت، ان کے افکار حریر و دیبا سے زیادہ نرم ہونے کے ساتھ گہری سوچ ، دور اندیشی اور بصیرت کی ترازو میں ہمیشہ باوزن ثابت ہوئے۔ کتنے موسم بدلے، کتنے دور آئے اور گئے شاہین جمالی کا قلم جمال و بانکپن کے ساتھ کاغذ کے سینے پر وہ خواب سجاتا رہا، جن کی تعبیر کی تلاش قوموں کی زندگی میں صالح انقلاب کی دستک بنتی ہے۔
طنز و مزاح کے قہقہہ زار مگر خارزار میدان میں بھی ان کا سکہ چلا، مولانا عامر عثمانیؒ کا ’’مسجد سے میخانے تک‘‘ طنز و ظرافت کا کامیاب نثری بیانیہ تھا، تومولانا شاہین جمالی کا ’’ریشم کے دھاگے‘‘ دلچسپ اور پسندیدہ منظوم کالم قرار پایا۔ عامر عثمانیؒ نے ’’تجلی‘‘ کے صفحات پر ملاّ ابن العرب مکی کے نام سے تخلیقی جوہر کی داد پائی تو ’’دیوبند ٹائمز‘‘ میں ملا حریری کے نام سے شاہین جمالی کے اعلیٰ تخلیقی عمل کی ستائش ہوئی۔
طنز و مزاح کے ذیل میں قہقہہ زار کے ساتھ خارزار کا لفظ بھی میں نے استعمال کیا ہے۔ خارزار اس لیے لکھا کہ طنز و مزاح نگار کے لیے اس وادی سے گزرنا آسان نہیں ہوتا، اس دشت کی سیاحی عام آدمی کے بس کی بات نہیں، حسِّ لطیف اگر نہ ہو تو مزاح نگاری پھوہڑ پن کے سوا اور کچھ نہیں رہتی، جہاں قلم نے تہذیب کی رِدا چاک کی یا حروف و الفاظ کے انتخاب میں ذرا سی چوک ہوئی مزاح نگاری سطحیت کا شکار ہوجاتی اور لبوں پر مسکراہٹ لانے کے بجائے بسا اوقات تکدر کا اور کبھی خراشِ دل کا سبب بنتی ہے۔
مولانا محفوظ الرحمن شاہین جمالی عمر زندگی کی 72؍منزلیں طے کیں اور ۲؍جون 2021ء کو اس عالم کے مکیں ہوگئے جسے رب کائنات نے ہر زندگی کے لیے مقدر فرمادیا ہے۔ مولانا کے جانے سے سادگی، اخلاص، محبت، علم، کمال، تدریس، قلم، خطابت کے ایوانوں میں پھر ایک بار سناٹے پسر گئے۔ نہیں معلوم یہ سناٹے اور کتنے گہرے ہوں گے، ایسی کتنی اداسیاں اور محرومیاں ہیں جن کا ہمیں سامنا کرنا ہوگا۔ رب دو عالم مولانا مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔