مولاناشاہین جمالیؒ نے علم وقلم کافیض پوری دنیا میں پہنچایا: مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

مونگیر: حضرت مولانامفتی محفوظ الرحمن شاہین جمالی چترویدی ممتاز خطیب اورمحدث تھے۔ درس وتدریس کے ساتھ تقریرکے ذریعہ بھی آپ نے پورے ملک میں دین کی خدمت انجام دی۔آپ کی تقریربے حدمقبول تھی۔اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے اور درجات بلند کرے۔آمین۔ ان خیالات کا اظہار مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیرنے مفتی محفوظ الرحمن شاہین جمالیؒ کے سانحہ ارتحال پر کیا۔ مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے آپ کے وصال کو علمی دنیا کا بڑا نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ آپ نے میرٹھ میں مدرسہ امداد الاسلام کی بنیاد نہیں رکھی، بلکہ اسے عالم گیر شہرت دی، اس کی چوطرفہ ترقی کی، مدرسہ کوعالمی معیار کا ادارہ بنایا اور وہاں تاحیات خدمت حدیث کا اہم فریضہ ادا کرتے رہے۔آپ کے علم میں بڑی گہرائی تھی۔آپ کا انتقال آپ کے شاگردوں، مستفیدین اور معتقدین کے لیے بڑا سانحہ ہے۔مفتی شاہین جمالیؒ خطیب کے ساتھ شاندار ادیب بھی تھے۔تقابل ادیان کے ماہر تھے، سنسکرت زبان میں مہارت حاصل تھی ۔اپنی اس صلاحیت سے آپ نے بڑی تبلیغی خدمت انجام دیں۔انھوں نے اپنے علم کا فیض صرف طلبہ وعوام نہیں بلکہ برادران وطن تک پہونچایا۔سجادہ نشیں نے کہاہے کہ آپ خانقاہ رحمانی، جد امجد اور والد بزرگوار امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانیؒ کے قدرداں تھے۔دادا محترم امیر شریعت مولانا منت اللہ رحمانی کے انتقال پر آپ نے والد بزرگوار کو تعزیتی خط لکھا تھا۔امیر شریعت سابع ؒکے انتقال پر امارت شرعیہ میں تعزیت بھی کی۔حضرت مولانا شاہین جمالیؒ کے وصال پرخانقاہ رحمانی میں مغفرت اور بلندی درجات کے لیے خصوصی دعاء کی گئی۔