آہ! حضرت مولانا محمد سیف الدین رشادیؒ-مفتی سیدابراہیم حسامی قاسمیؔ

استاذ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد و ناظم مدرسہ تعلیم القرآن بورابنڈہ حیدرآباد
9396227821

نہ جانے یہ کیسا وقت آن پڑا کہ ہر طرف سے علماء کی رخصتی کی خبریں سماعتوں سے ٹکرا کر پورے وجود کو نڈھال کئے جارہی ہیں، جن شخصیات کے بارے میں نہ سوچا ،نہ حاشیۂ خیال سیجن کا تصورگزرااور نہ ہی جن کی شدید بیماری کی کوئی اطلاع؛ مگر اچانک ان کے وصال کی خبر ایک صاعقہ بن کرذہن و دماغ کوماؤف سی کرجاتی ہے، حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ جب سنا کہ روح گلستاں، علم وعمل کے نیر تاباں، راہ حق کے بے بدل راہنما، قائد سرفروشاں، قدوۂ عالماں، محبوب طالباں، دکھے دلوں کے درماں، علم کے آسماں، عمل میں میرکارواں،جن کا عزم ہردم جواں، جو خدا سے کرتے تھے خوب آہ وفغاں، حق کی شمع فروزاں، باطل پر کوہ گراں، عوام کے نازاں، خواص میں فرحاں، مداح نبی ٔ آخرالزماں، اساتذۂ سبیل میں نمایاں، امت کے لیے ہر لمحہ پریشاں، تربیت و معرفت میں پیر مغاں،جن کی پیاری ومیٹھی زباں، زباں پر ہردم قال اللہ والرسول رَواں، جن کے بیانات پر بن جاتا تھا ایک سماں، جن کو سننے کے لیے لوگ چلے آتے تھے کشاں کشاں،جن کے نام سے باطل کہہ اٹھتا تھا الاماں الاماں،علماء کے نگراں، شفقت میں گویا رحمت باراں، جن کی پیشانی ہمیشہ خنداں،سب پر مہرباں،علوم نبوت کے بحر بیکراں،جرأت کانشاں ، چھوٹوں پرسائباں اور جن کایہی نام زباں زد تھا ہر عام وخاصاں،ہمارے حضرتِ سیف داں(مولانا سیف الدین صاحب رشادیؒ) 13؍مئی؍2021ء کواس دار الفناء سے دار البقاء کی طرف کوچ فرماگئے۔ اناللہ واناالیہ راجعون۔
پیدائش
حضرت مولانا سیف الدین صاحب ؒ کی پیدائش 22؍جولائی ؍1952ء کوجس گھرانہ میں ہوئی وہ انتہائی دیندار،صفات حسنہ سے متصف اورنہایت پرہیزگار گھرانہ تھا۔ آپ کے والدگرامی شیخ عبدالقادرصاحب اصحاب دعوت میں ایک اہم مقام رکھتے تھے اور دعوت و تبلیغ کی عالی محنت سے وابستہ اور بڑے حضرت علامہ ابوالسعودؒ کے فداکاروں میں تھے۔
ابتدائی تعلیم اور فراغت
آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ داؤدیہ ایروڈ تامل ناڈو میں ہوئی اور وہیں آپ نے حفظ قرآن مجیدکی تکمیل کی، بعدازاں آپ نے شہر گلستاں بنگلور کی منفرد اور مثالی دینی درس گاہ دارالعلوم سبیل الرشاد کا رخ کرتے ہوئے فارسی کی جماعت میں داخلہ لیا اور جبال العلم اساتذہ کے چشم فیض تلے سبیلکے چشمۂ صافی سے خوب سیراب ہوئے، علامہ ابوالسعودؒ اور ان کے عالی وقار جانشین امیر شریعت کرناٹک علامہ اشرف علی باقویؒ کے علوم کے امین ہوکر 1971ء میں سند فراغت حاصل کی ، اس کے بعد1972ء میں علم وعمل کے حسین سنگم ، خوابوں کی حسین تعبیرگاہ ام لمدارس دارالعلوم دیوبند میںجماعت فضیلت میں داخل ہوئے، وہاں کچھ ہی مہینوں میں امتیازی طالب علم کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی اور اساتذہ کے مقبول نظر ہوئے ۔
تدریسی خدمات
فراغت کے فوری بعد آپ فرائض تدریس کے لیے اپنے مادر علمی مدرسہ داؤدیہ ایروڈ سے وابستہ ہوکرپوری دلجمعی اور یکسوئی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے،آپ کا انداز تدریس بہت جلد قبولیت کی پرواز حاصل کرگیا اور پورا علاقہ آپ کے فیض علم سے استفادہ کرنے لگا۔ آپ کی تدریسی قابلیت کا خوب چرچا ہونے لگا اور طلبہ کے مابین آپ نے ایک مقبول استاذ کی حیثیت سے اپنی انفرادی شان قائم فرمالی۔
دارالعلوم سبیل الرشاد میں
1979ء میںبڑے حضرت علامہ ابوالسعودؒنے آپ کو مادر علمی دارالعلوم سبیل الرشاد طلب کیا تو آپ فوراً اپنے مربی ومرشد کے حکم وایماء پر سبیل چلے آئے اور وہیں کے ہوکر چل بسے۔ دارالعلوم سبیل الرشادنے جن بنیادوں پرمقبولیت کی معراج حاصل کی، ان میں ایک سے قابل اساتذہ کی فراہمی تھی اور ان میں ایک نام حضرت سیف داں کا بھی ہے۔ ان کی تدریسی قابلیت زباں زدخاص وعام تھی،آپ کے مقبول درس نے طلباء کے رخ کو سبیل کی طرف موڑ دیا۔ سبیل الرشاد آپ کی تمام تر کاوشوں کی جولانگاہ تھی۔ آپ سبیل کو محض ایک ادارہ تصور نہیں کرتے تھے؛ بلکہاسے کارخانۂ علم و عمل اور میکدۂ فکر وفنسمجھتے تھے، جہاں آپ علم کے جام رندان سرمست کو بھر بھرکر پلاتے اور وہ آپ کی پلائی ہوئی شرابِ طہور سے مست ہوکروہ حب الہی اور عشق مصطفوی ﷺ میں ڈوب جاتے۔ سبیل کے طلبہ ہمیشہ آپ پر جاں فدا رہتے ،آپ کے گرد پروانوں کی طرح پُرہجوم رہتے ، آپ کی زبان کے ہر بول کو اپنے لیے حرز جاں بنالیتے، طلبہ آپ سے خوب فیض یاب ہوتے اور آپ بھی جی بھر کر ان کوعطا کرتے ۔ آپ طلبہ میں ایک اچھا مستقبل دیکھنا چاہتے تھے ، ہر طالب علم کو اسی اساس پر پروان چڑھاتے تھے اور ان میں خود اعتمادی وخودداری کی وہ مایہ ڈول دیتے کہ آپ کا تربیت یافتہ جہاں بھی چلاجائے وہ اپنے لیے پائے ثبات خودفراہم کرلیتا ۔اس کے اندر اتنی صلاحیت انڈیل دیتے کہ وہ زمانہ کے نشیب وفراز سے ازخود آگاہ ہوجاتا۔ آپ نے اپنی عمر عزیز کی تمام بہاریں سبیل کے لیے قربان کردیں۔ بہت کم ادارے ایسے ہوتے ہیں جہاں اپنے فضلاء کو بلند مقام سے نوازا جاتا ہے، حضرت مولانا سیف الدین صاحب ان سعادت نصیب لوگوں میں تھے جنہیں اللہ نے ہر قدم پر اعزاز واکرام سے نوازا۔ سبیل میں آپ کی شان دیگر تھی۔آپ کی بات مانی جاتی ، آپ کی رائے کو قبول کی نظر سے دیکھا جاتا ، ویسے آپ انتظامی معاملات میں بہت کم خود کو ملوث فرماتے ؛ مگر جب بھی کوئی رائے پیش فرماتے ، اس پر خوب غور کیا جاتا، بسا اوقات تو بلاتوقف اس پر فیصلہ کردیا جاتا، آپ اصولِ سبیل سے سرمو انحراف نہیں فرماتے۔ نہ انتطامیہ سے الجھتے اور نہ ہی کسی قضیہ نامرضیہ سے اپنا تعلق بناتے۔ آپ صاف گو، صاف بدن، صاف دل، صاف زبان اور صاف نیت کے انسان تھے۔ دورخا پن آپ کی شخصیت کا کبھی حصہ نہیں بن سکا۔ آپ اپنے مادر علمی سبیل الرشاد سے خوب محبت فرماتے اور وہاں کی تنظیم وترقی میں خوب معاونت فرماتے، بالخصوص تعلیمی میدان تو آپ کااوڑھنا بچھونا تھا۔ آپ نے سبیل میں جب تدریس کے لیے پہلا قدم رکھا تو نکلنے کا نام نہیں لیا اوربس آپ کی موت ہی نے آپ کو سبیل سے جدا کیا۔
مثالی طرز تدریس و تربیت
درس کی حاضری کا تو التزام دیدنی تھا، لاکھ اسفار ، بے شمار تقاضے اور سفر کی حددرجہ کلفتوں کو جھیلنے کے باوصف بھی سبق میں ناغہ ہوجائے یہ بات ممکن نہ تھی ،تمام تر مصروفیات کے باوجود نہ درس کا ناغہ ہوتاتھا اورنہ سبق پر کوئی اثر۔ دوران سبق تمام طلبہ پر مضبوط گرفت رکھتے ، ہر ایک پر اپنی نگاہیں جمائے رکھتے ، کسی کو نہ غافل ہونے دیتے اور نہ ہی بے قابو،کسی کی مجال تھی کہ وہ سبق میں غفلت یا لاپرواہی کامظاہرہ کرسکے۔ وہ کرشماتی انسان تھے، خدا نے ان میں خوب صلاحیت ، قوت، زہد، لیاقت، جمال، ندرت، نزاکت، فطری احساس، شفقت، جرأت، بے باکی، مروت، لحاظ ورعایت، الفت ومحبت،ادب ، وجاہت اور وسعت ظرفی جیسی عظیم صفات کو دیعت فرما رکھا تھا۔ موقع شنانی اور مزاج شناسی میں تو بالکل طاق تھے۔انداز تربیت بالکل نرالا تھا۔ شفقت باپ کی طرح کرتے ، سبیل میں طلبہ کو اپنی اولاد جیسی نظر سے دیکھتے تھے، جس کا کھانا بند ہوجاتا اس کو اپنے کمرے لے جاتے اور شفقت کے ساتھ نصیحت کرتے ہوئے اس کو کھلاتے ، نہ جھڑکتے اور نہ ہی طنزیہ لہجہ اختیار فرماتے اور طالب علم کو اس بات کا احساس ہوجاتا کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے، آئندہ احتیاط کرنا چاہیے۔
منفرد مناظرانہ شان
حضرت مولانا سیف الدین صاحب رشادی بڑے درجہ کے مناظر حق تھے۔ان کی مناظرانہ شان بھی بالکل جداگانہ تھی۔ مخالف کو آپ سے مکمل مناظرہ کرنے کی جرأت نہیں ہوپاتی تھی ،فریق مخالف پر اول مرحلہ ہی میں آپ کی جلالت علم کارعب کیا پڑتا کہ وہ اپنا سارا زعم کھوبیٹھتا، دعویٰ ہی ایسا وزن دار پیش کرتے کہ وہ اسی میں الجھ جاتا اور حواس باختہ ہوجاتا۔ آپ کی نظر میں خلاق عالم نے بلا کی تاثیر رکھی تھی؛ اگر محبت سے اٹھتی تو دل موہ لیتی اور اگر جلال یا غضب کا معمولی ذرہ بھی اس میں شامل ہوجائے تو پھر کیا کہنے ، بڑے سے بڑا بھی اس رعبِ نگاہ کے آگے پسر جاتا اور طبیعت پر بلا کی ہیبت طاری ہوجاتی ۔ آپ پکے مناظر تھے اور مسلک حق کے سچے ترجمان تھے، کئی مناظرے فتح کرگئے ؟ مگر کبھی نہ جشن منانا گوارا کیا اور نہ اس کا احساس دوسروں کو ہونے دیا۔
مسلم خطابی شان
حضرت مولانا سیف الدین رشادیؒ تقریری دنیا کے عظیم شنہشاہ تھے، بیان کا خاص ملکہ رکھتے تھے۔ حالات سے خوب واقفیت رکھتے تھے، علم کے بحربیکراں تھے۔ ہرموضوع پر کامل دسترس حاصل ہونے کے سبب کسی بھی موـضوع کوتشنہ نہیں چھوڑتے تھے۔ تقریر کا ایک خاص انداز تھا اور سب کو بھاتا تھا۔جب وہ بولتے تو محسوس ہوتا تھا کہ اب انھیں ہی بولنے کا حق ہے اور جتنے سامعین ہیں سب خاموش؛ بلکہ سناٹا سا چھا جاتا تھا۔ پورے مجمع پر سنجیدگی ومتانت کی چادر تنجاتی تھی۔فضائیں بھی اسی جانب کا رخ کئے جاتی تھیں۔ ان کی زبان سے الفاظ نہیں بلکہ انمول موتی جھڑتے تھے اور تاثیر کا یہ عالم کہ سارا مجمع اسی وقت عمل کے لیے تیار اور جو بات کہہ دی اس پر جانثار، گویا محسوس ہوتا تھا کہ زبان سے اپنی بات کانوں تک نہیں پہونچارہے ہیں ؛ بلکہ سینے چیر کر دلوں کی تختیوں پر رقم کئے جارہے ہیں،یا دل کے کٹورے میں اپنی بات کا جادو انڈیل رہے ہیں۔ جو ایک مرتبہ ان کی گفتگو سن لیتا وہ بار بار متمنی اور مشتاق رہتا ۔
ہرفن میں درجۂ کمال
مولانا تدریس ، تزکیہ اور تقریر تینوں میدانوں کے بیک وقتبرق رفتار شہسوار تھے۔ ان کی جادوبیانی مسلم تھی۔ جب بولتے تو موتی رولتے ، زبان کی مٹھاس اور لہجہ کی نزاکت بڑی قیامت خیزتھی۔ موضوع کا احاطہ کرنے میں مکمل درک رکھتے تھے۔ گفتگو باکمال کرتے او رحق ادا کردیتے، ان کا طرز تکلم بالکل منفرد اور دل آویز تھا۔ وہ عوام میں ہوتے تو بالکل عوامی اور علماء وخواص میں وہعالمانہ وقارکی گفتگو فرماتے کہ سب پر ان کی شخصیت کا کمال ظاہر ہوجاتا۔ مولانا کی خوبی یہ تھی کہ ان کو ہر فن میں درجۂ کمال حاصل تھا، وہ کسی بھی فن اور اس کے اصول سے بیگانہ نہ تھے؛ بلکہ ہر فن کی باریکیوں کا خوب علم رکھتے اور موقع پر اس کو برتتے تھے ۔
حیدرآباد کا ایک تاریخی سفر
حضررت مولانا سیف الدین صاحب رشادیؒ تلنگانہ وآندھرا پردیش کی مؤقر تنظیم مجلس علمیہ کی دعوت پر حیدرآباد تشریف لائے تھے اور علماء و خواص کے مجمع سے خطاب فرمایا تھا ، محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے صرف خطاب ہی نہیںکیا ؛ بلکہ اپنی باتوں اور یادوںکا حسین گلدستہ علماء کو پیش کیا۔ مولانا نے جس انداز سے صحابہؓ کی عظمت اور اسی سے تقلید کی ضرورت کو پیش فرمایا وہ بس انھیں کا حصہ تھا۔ اس خطاب نے سب علماء کے قلوب کواپنی کی جانب مائل کرلئیے اورمولانا ایسی یادگار تقریر فرمائی کہ برسوں گزرگئے ؛ مگر آج بھی اس خطاب کے چرچے علماء میں زندہ ہیں ۔ اگر اس مجمع میں کوئی غیر مقلد ہوتا تو ضرور مقلد ہوجاتا اور مولانا کی گفتگو جو خالص کتاب وسنت کا عطرکشید تھی، اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
رد فرق ضالہ
رد فرق ضالہ پر مولانا کو مہارت تامہ حاصل تھی، بالخصوص غیر مقلدین کے خلاف تو ہمیشہ سربکف رہتے ۔ ان کے نظریات کو اچھا سمجھتے اور خوب سمجھاتے تھے، ان کے دلائل کا مکمل جائزہ لیتے اور اس کی حقیقت لوگوں کو بتلاتے ۔ مسلکی تصلب مولانا میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا؛ مگر تنفر سے پاک تھے۔ ہرایک کا ادب لحاظ خوب کرتے تھے۔ سبیل الرشاد کی روایتوں کے امین تھے۔
بڑے حضرت اور امیرشریعت سے گہرا لگاؤ
حضرت مولانا سیف الدین صاحب کو بڑے حضرت علامہ ابوالسعود ؒ سے گہرا تعلق اور امیرشریعت ،وقارالعلماء اور عاشق خیرالانبیاء حضرت مولانا اشرف علی باقویؒ سے عشق کی حد تک محبت اور لگاؤ تھا۔ گویا وہ حضرت مولانا اشرف علی باقویؒ کی شخصیت کے فداکار تھے،ان پر وہ اپنی شخصیت کو دیوانہ وار قربان کرتے اور اتنا تعلق کہ ہر وقت ان کی شخصیت کی خوشبو سے اپنے دل کو معطر رکھتے ،بڑی محبت کے ساتھ ان کا اسم گرامی لیتے اور ہمہ تن محب بن جاتے ، اتنی ساری فداکاری کے باوصف حدود اعتدال پر ذرہ برابر بھی نقطہ آنے نہیں دیتے اور نہ ہی محبت میں جرمِ غلو کے مرتکب ہوتے ؛ بلکہ ایسی محبوب محبت کرتے کہ اس سے لوگوں کو انداز محبت سیکھنے کے مواقع میسر آجاتے ۔وہ حضرت امیرشریعت کے اصولوں کے ہرلمحہ پابند رہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بڑے خوداپنے آداب بجالائیں، چھوٹوں کے سروں سے دست شفقت نہ ہٹائیںاور ان کی حوصلہ افزائی وترقی کی فکر کرتے رہیں اور ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی کوئی ناگواری کا معاملہ نہ کریں تو چھوٹے بھی بڑوںکو پلکوں پربٹھانے سے گریزاں نہیں ہوتے ؛ بلکہ فخریہ ان کی قدر کا اظہار کرنے میں سعادت تصور کرتے ہیں، حضرت امیرشریعت ؒاور حضرت مولانا سیف الدین صاحب ؒ کا معاملہ یہی رہا۔
اوصاف حمیدہ کی ایک جھلک
وسعت ظرفی میں آپ ایک عمدہ اسوہ تھے، طلبہ پر آپ کی شفقت کا معاملہ تو آسمان چھوتا تھا۔ آپ میں حلم وبردباری بھی بلا کی تھی۔ کسرنفسی میں آپ ایک مثال تھے۔دوسروں کے معاملات میں الجھنے کی عادت سیئہ کبھی آپ کے مزاج کا حصہ نہ بن سکی۔ فطری شرافت کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھی۔ نگاہیں اتنی نیچی گویا قدرت کی کاریگری محسوس ہوتی۔ آواز کا سوز وگداز دل کو موہ لینے کے لیے کافی تھا۔ گفتارکی لطافت اظہر من البیان تھی۔ للہیت وخداترسی کا آپ اعلی نمونہ تھے۔ فکر مندی ہمیشہ آپ کے چہرے سے ظاہرہوتی تھی۔کشادہ پیشانی سے نورباطن کا ہروقت ظہور ہوتا تھا، آپ کی تنہائیاں ذکر وفکر سے لبریز او رمجلسیں علمی وقار اور شخصی معیار سے پر کیف ہوتی تھیں، شرافت ووضع داری آپ کی فطرت کالازمہ تھی۔کبر ونخوت سے کوسوں دور تھے، اپنی بڑائی کے احساس سے بالکل خالی تھے۔ کسی کی برائی کرنے کو زندگی بھر پسند نہیں کیا، اسلاف کے پاکیزہ روایتوں کے امین اور قاسم بنے رہے، زندگی باکرامت گزاری، اخلاق اتنے بلند کہ نمونہ بن جائیں۔ بالآخر ایسی باکمال و پر جمال شخصیت قضائے الہی سے 13؍مئی؍2021ء مطابق:30؍رمضان المبارک؍1442ھ کو رحمت الہی کے آغوش میں ہمیشہ کے لیے پردہ پوش ہوگئی۔
خدا بال بال مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے، امت کو ان کا بدل عطا فرمائے اور ان کی یادوں کے گلستاں کوسدا آباد رکھے۔