مولاناسعیداحمد اکبرآبادی کا اسلوبِ نگارش

حقانی القاسمی
مولانا سعید احمد اکبر آبادی (8 نومبر1908- 24 مئی 1985) کا نثری اسلوب علامہ شبلی نعمانی اور داغ دہلوی کے اسالیب کا مرکب یا امتزاج ہے، مولانا نے مشہور تصنیفی ادارہ ندوۃ المصنّفین کے مقتدر ماہوار رسالہ ’برہان‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ:”میرا اسلوب بنیادی طور پر سب سے زیادہ منت کش احسان شبلی اور داغ کا ہے، جنھیں میں نے بڑی افراط سے پڑھا اور ذہنی سرور حاصل کیا ہے“۔
ان کے قول کی روشنی میں دیکھا جائے،تو شبلی کے اسلوب میں جو وضاحت، سادگی، سلاست اور جمالیاتی طرز ہے اور داغ کی زبان میں جو سلاست، صفائی، رنگینی، شوخی، چلبلاہٹ، چٹخارہ اور پیچیدہ ترکیبوں سے گریز ہے، وہ خوش بیانی اور زبان کا جو حسن ہے، وہی عناصر کم و بیش مولانا اکبرآبادی کے ہاں ہیں۔ مولانا سعیداحمد اکبرآبادی نے ایک طرف جہاں شبلی کی علمی زبان سے اپنا رشتہ جوڑا ہے، وہیں داغ دہلوی کی شستہ و شائستہ عوامی زبان سے بھی ان کا تعلق ہے، ان دونوں کے اسلوبی خصائص کے ساتھ، تباین بھی ہے جو ہر ادیب کی زبان و اسلوب کا لازمہ ہوتا ہے۔
مولانا سعید احمد اکبرآبادی ایم اے فاضل دیوبند کے اسلوب میں شبلی جیسے جمالیاتی نثر نگار اور داغ جیسے البیلے اور طرح دار شاعر کے اسلوبی خصائص کے کتنے عناصر ہیں،ان کا تجزیہ بہت دشوار ہے، یہاں ایک سوال بڑا اہم ہے کہ مولانا کے لسانی اسلوب کی تشکیل میں کون سے عوامل کارفرما رہے ہیں؟ان کے عہد اور ماحول کا ان پر کتنا اثر پڑا ہے اور ثانوی زبانوں نے ان کے اسلوب کی تشکیل میں کتنا اہم کردار ادا کیا ہے۔جہاں تک ان کے عہد اور ماحول کا تعلق ہے تو مولانا سعید اکبرآبادی کے بقول”ان کی تعمیرو تشکیل کے دو مراحل ہیں، ایک مرحلے میں ان کا مکمل ماحول شعری تھا اور دوسرے میں علمی اور دینی“۔ جہاں تک ان کے عہد کا تعلق ہے، تو جس زمانے میں ان کی پرورش و پرداخت ہوئی، وہ اردو نثر کا ارتقائی عہد تھا اور ان کا تعلق جس معاشرت سے تھا، وہاں اسلامی اور انگریزی دونوں طرح کی تعلیم رائج تھی۔ مولانا سعید اکبرآبادی نے بھی دینی اور عصری تعلیم سے کسب فیض کیا تھا۔ پہلے انھوں نے مدرسہ امدادیہ مراد آباد اور پھر دارالعلوم دیوبند میں علامہ انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی جیسے مشاہیر سے تعلیم حاصل کی تھی۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے مولوی، منشی، ادیب، فاضل کے امتحانات دیے۔ دہلی یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا۔ اس کے بعد انگریزی ادب میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ انھیں تعلیم اور تدریس کے دوران دونوں دھاراؤں سے جڑنے کے مواقع ملے۔ سینٹ اسٹیفن کالج دہلی میں اردووعربی کے پروفیسر رہے۔ مدرسہ عالیہ کلکتہ کے پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ میک گل یونیورسٹی کناڈا میں وزیٹنگ پروفیسر رہے۔ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے شعبہئ سنی دینیات کے صدر اور تھیالوجی فیکلٹی کے ڈین بھی رہے۔ اس طرح مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا دینی عصری دونوں حلقو ں سے گہرا رشتہ تھا اور اسی وجہ سے ان کے اندر نظریاتی کشادگی اور وسعت بھی تھی اور کئی زبانوں اور ادبیات کا گہرا مطالعہ بھی تھا۔ وہ کثیر اللسان (Polyglot) فرد تھے، اس لیے ان کے یہاں کثیر لسانی اسالیب کا اثر نظر آتا ہے۔
ان کی تحریروں میں علمائے مدارس دینیہ کی طرح یبوست اور خشکی نہیں، بلکہ شگفتگی اور برجستگی ہے، جمالیاتی کشش،صفائی، سادگی اور سلاست ہے،خطیبانہ رنگ و آہنگ بھی ہے، کہیں کہیں شان و شکوہ اور بلند آہنگی بھی۔
مولانا سعید احمد اکبر آبادی نے جو اسلوب اختیار کیا،وہ علم و ادب کا حسین امتزاج تھا،ان کی زبان علما کی طرح ثقیل یا اثقل نہیں تھی، انھوں نے اپنے اسلوب میں جزالت کو قائم رکھا اور شگفتگی کو بھی۔ اردو کے ممتاز ناقد پروفیسر آل احمد سرور کی بھی رائے ہے کہ ”مولانا سعید احمد اکبرآبادی گہرے علم کے ساتھ ایک شگفتہ اسلوب بھی رکھتے ہیں“ (پیش لفظ، خطباتِ اقبال پر ایک نظر، مصنفہ سعید احمد اکبرآبادی، اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی سری نگر، 1983) ان کا ہر جملہ اپنی قوت کا احساس دلاتا ہوا نظر آتا ہے۔ان کے یہاں دلنشیں پیرایہ ہے اور دل پذیر اظہارو بیان، قاری کو کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا، شبلی کی طرح سعید احمداکبرآبادی کی نثر میں بھی وہی جمالیاتی زیروبم اور کیف و کم ہے۔ان کی نثر میں بھی وہی حرکت و حرارت اور جمالیاتی حس و لطافت ہے جو شبلی کا خاصہ ہے۔ان کی زبان جامد اورمنجمد نہیں اور نہ ہی خشک و بے جان ہے۔ہر لفظ میں ایک قوت مضمر ہے،جس سے صرف لفظوں کو ہی زندگی نہیں ملتی؛ بلکہ خیال و فکر کو بھی روشنی حاصل ہوتی ہے۔مولانا کی تحریروں میں آگہی کی روشنی کے ساتھ اظہار کی توانائی اور تابندگی ہے۔ شبلی کی طرح ان کی ادبی تحریروں میں معروضیت اور قوتِ استدلال بھی ہے۔ حالی کے ایک شعر کے حوالے سے ان کی تفہیم ادب اور قوتِ تعبیر و تشریح کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
”آج کل بعض ادبی رسائل و جرائد میں مولانا حالی کے ایک شعر سے متعلق بڑی دلچسپ بحث چل رہی ہے، شعر یہ ہے ؎
حالی اب آؤ پیرویِ مغربی کریں
بس اقتدائے مصحفی و میر کرچکے
گفتگو اس میں ہے کہ پہلے مصرع میں جو ’پیرویِ مغربی‘ ہے تواس سے مراد کیا ہے؟ ایک گروہ جس میں بعض یونیورسٹیوں کے مشہور اساتذہ ئ اردو اور بعض مشہور ادیب شامل ہیں۔ ان کواس پر اصرار ہے کہ ’پیرویِ مغرب‘ سے مراد مغرب کی پیروی ہے اور اس طرح گویا مولانا حالی اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ اب مشرقی اور ایشیائی شاعری کے طرزِ کہن کو چھوڑ کر مغرب کے طرزِ شاعری کی پیروی کرنی چاہیے لیکن دوسرے گروہ کا خیال یہ ہے کہ ’مغربی‘ فارسی کا ایک مشہور صوفی شاعر ہے جس کا تذکرہ مولانا جامی نے نفحات الانس میں اور محمد عوفی نے لباب الالباب میں کیا ہے۔ مولانا حالی کی مراد یہی شاعر ہے۔“
(نظرات: ماہنامہ ’برہان‘، جولائی 1946)
”اب رہی یہ بات کہ یہ شاعر کون ہے؟ توبعض اربابِ علم و ادب کا خیال ہے کہ یہ شیخ محمد شیریں تبریزی ہے جو اپنا تخلص مغربی کرتا تھا۔ مولانا حالی کے اس سے تاثر کی وجہ یہ ہے کہ مغربی کا کلام زیادہ تر عارفانہ اور صوفیانہ ہوتا ہے اس بنا پر مولانا حالی کی مراد یہ ہے کہ اب عشق مجازی کے بکھیڑوں سے منہ موڑ کر معرفتِ حقیقی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں مغربی کا طرز اختیار کرنا چاہیے۔ بہت ممکن ہے کہ یہ خیال درست اور صحیح ہو لیکن مغربی کے لفظ کو سنتے ہی سب سے پہلے ہمارا جو انتقالِ ذہنی ہو ا وہ ابنِ زیدون کی طرف ہوا۔ ابن زیدون عربی کا مشہور شاعر ہے۔ اندلس کا رہنے والا تھا اور اس کی شہرت زیادہ تر اندلس کے مرثیہ گو شاعر کی حیثیت سے ہی ہے۔ اندلس کو عام طور پر مغربی کہا ہی جاتا ہے۔ مولانا حالی ایسے فاضل سے یہ بعید ہے کہ انھوں نے ابن زیدون کا مرثیہئ اندلس نہ پڑھا ہو اور پڑھ کر اس سے غیرمعمولی طور پر متاثر نہ ہوئے ہوں۔ اس بنا پر عجیب نہیں مولانا حالی کی مراد یہ ہو کہ اب مصحفی و میر کا زمانہ نہیں ہے جس میں گل و بلبل اور خد و کاکل کی حکایتیں ہوتی تھیں بلکہ قوم پر ایک عام ادبار طاری ہے اس لیے ابن زیدون کی طرح قوم کا مرثیہ پڑھنا اور اس کی حالتِ زبوں کا ماتم کرنا چاہیے۔“ (نظرات: ماہنامہ ’برہان‘، جولائی 1946)
مولانا نے استدلال کے ساتھ لکھا ہے کہ پیرویِ مغربی کی ترکیب ترکیب اضافی ہے نہ کہ توصیفی۔ اگر اس سے مراد مغرب کی پیروی لی جائے تو اس صورت میں ترکیب توصیفی ہونی چاہیے۔ اور حالی کو یہ شعر اس طرح لکھنا چاہیے ؎
آؤ نہ حالی اب کریں مغرب کی پیروی
بس اقتدائے مصحفی و میر کرچکے
اور دوسری بات یہ کہ اگر ’مغربی‘ سے مراد طرز مغربی ہے تو مصحفی اور میر سے مراد طرزِ مشرقی لینا ہوگا جب کہ یہاں ایسا ہے نہیں۔ انھوں نے اپنے اس خیال کی توثیق و تصویب شمس العلما مولانا عبدالرحمن سابق صدر شعبہئ عربی و فارسی و اردو دہلی یونیورسٹی اور پرنسپل مدرسہ عالیہ کے ذریعے بھی یوں کرائی ہے کہ ”ان کے نزدیک پیروی سے پیروئے طرزِ مغرب مراد رکھنا یا مراد لینا تمحل ہے۔“
مولانا سعیداکبرآبادی عالم بھی تھے اور ادیب بھی، ان کاموضوع تاریخ ہویا سوانح، علمیت کے ساتھ ادبیت کی آمیزش ضرور رہتی ہے۔سوانح میں عموماً اطلاعی اسلوب یا بیانیہ انداز اختیار کیا جاتا ہے، مولانا نے بھی سوانحی تصانیف میں اسی طرز کو اختیار کیا ہے،ان کے یہاں زبان کے تخلیقی اور جمالیاتی استعمال کے ساتھ ساتھ اس کا علمی اور اطلاعاتی استعمال بھی ملتا ہے۔
مولانا کی جتنی تصانیف ہیں فہم قرآن (ندوۃ المصنّفین، دہلی 1940)، وحی الٰہی(ندوۃ المصنّفین، دہلی 1941)، عثمان ذوالنورین (ندوۃ المصنّفین، دہلی 1983)، اسلام میں غلامی کی حقیقت (ندوۃ المصنّفین، دہلی 1939)، مسلمانوں کا عروج و زوال یہ سب علمی مباحث و مسائل سے متعلق ہیں، اور اہم کتابیں ہیں جن پر ڈاکٹر عبدالوارث خان نے اپنی کتاب ’اسلامی علوم میں ندوۃ المصنّفین کی خدمات‘ (اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئی دہلی1999) میں عمدہ تبصرہ اور تعارف کرایا ہے۔اس طرح کی علمی تصنیفات میں زبان کے تخلیقی استعمال کے بجائے ترسیلی استعمال کی ضرورت پڑتی ہے۔اس لیے مولانا نے ان میں تخلیقیت کے بجائے ترسیلیت پر زیادہ زور دیا ہے اور ان کے یہاں لسانی مہارت کے ساتھ ساتھ ترسیلی مہارت بھی نظر آتی ہے، انھوں نے مروجہ لسانی شکلوں سے انحراف نہیں کیا ہے،ان کے جملوں کی نحوی ترکیب بالکل وہی ہے،جو اردو نثر کا بنیادی اسلوب ہے۔
مولانا سعیداحمد اکبرآبادی کا طرز نگارش بہت خوب ہے۔ ان کی تحریروں میں کئی اہم نثر نگاروں کے اثرات اور عناصر دیکھے جاسکتے ہیں۔ کہیں کہیں ان کا طرز تحریر مولانا ابو الکلام آزاد سے ملتا جلتا نظر آتا ہے، تو کہیں علامہ نیاز فتح پوری کے اسلوب سے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں:
”بچوں سے اتنی طویل مدت کے لیے جدا ہونے کا پہلا اتفاق تھا، اس لیے طبیعت متاثر تھی، مگر 47عیسوی میں آزادی کے صدقے میں میرے سر پرجو قیامت گذری ہے، اس نے ڈھیٹ بنادیا ہے اور اب زندگی کا کوئی حادثہ حادثہ نہیں معلوم ہوتا،پھر مولانا حالی کایہ شعر بھی یاد تھا کہ:
طبیعت کو ہوگا قلق چند روز
بہلتے بہلتے بہل جائے گی
اس کے علاوہ عربی کے یہ شعر اکثر پڑھتاتھا:
لایمنعک خفض العیش في دعۃ
نزوع نفس إلی أھل وأوطان
قلقي بکل بلاد إن حللت بھا
أھلابأھل وجیرانا بجیران
اس عبارت پر ابوالکلام آزاد کے ’غبارِ خاطر‘ کا گمان ہوتا ہے،وہی اندازِ بیاں،اردو اور عربی اشعار کاویسا ہی استعمال۔
مولوی ابوالمکارم، محمد عبدالبصیر صاحب عتیقی آزاد سیوہاروی کی وفات حسرت آیات پر اظہارِ تاسف کرتے ہوئے کتنی عمدگی سے عربی کا یہ شعر لکھا ہے:
”موت سب کو آنی ہے، کسی کو اس سے مفر نہیں، آج وہ کل ہماری باری ہے، یہاں کا شب و روز کا مشاہدہ ہے۔
من لم یمت عبطۃ یمت ھرما
للموت کاس والمرء ذائقہا
(برہان، مئی 1941)
عربی کی طرح فارسی اشعار کا بھی نہایت برمحل اور موزوں استعمال کرکے جملوں میں کتنی خوبصورتی اور قوت پیدا کردی ہے:
”آہ، اے خدا آج آنکھیں یہ کیا دیکھ رہی ہیں، اور قلب کیا محسوس کررہا ہے کہ صفاتِ کمال عزمِ ہمت، جوشِ عمل، خوداعتمادی، عقل و فہم او ر عزت نفس غیروں میں موجود ہے اور خود تیرے نام لیواؤں کا دامن ان سے تہی ہے۔ ہمارا جو قدم اٹھتا ہے غلط ہوتا ہے، جو بات ہماری زبان سے نکلتی ہے وہ محض جذبات انگیز ہوتی ہے۔ عمل سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ قومیں بن رہی ہیں اور ہم بگڑ رہے ہیں، اغیار پا رہے ہیں اور ہم کھورہے ہیں۔
اے بہ ترسا بچگاں کردہ مے ناب سبیل
نہ کنی چارہ لب خشک مسلمانے را
(نظرات، برہان، جنوری 1947)
گاندھی جی کی وفات پر لکھتے ہوئے علامہ نیاز فتح پوری کے اسلوب میں بہتے نظر آتے ہیں۔وہی ساختی متوازیت (Constructional Parallelism)جو نیاز فتح پوری کا اسلوبی امتیاز ہے۔نیاز فتح پوری کے اسلوب کے حوالے سے مرزا خلیل احمد بیگ نے نظریاتی تنقید میں بہت عمدہ بحث کی ہے اور مولانا سعید اکبرآبادی کی تحریروں میں متوازی ساختیے کی تلاش میں میں نے اسی کتاب سے رہنمائی حاصل کی ہے۔
مولانا سعید اکبرآبادی نے بھی اسی طرح متوازی ساختیے ترتیب دیے ہیں،جس سے بیان میں زور پیدا ہوگیاہے۔اس نثر میں آہنگ بھی ہے اور موسیقیت بھی: ”وادریغاکہ وہ عدم تشدد کا دیوتا جس نے سخت سے سخت اشتعال کی حالت میں بھی کبھی اپنے دشمن پر انگلی نہیں اٹھائی،امن و عافیت کاوہ منادو داعی،جس نے شدید غیظ و غضب کے موقع پر بھی اپنے مخالف کے لیے کوئی دل آزار گلہ زبان سے نہیں نکالا،وہ انسانیت کا علمبردارِ حقیقی،جو تعصب و تنگ نظری کے جذبات کی فراوانی کے عالم میں بھی ایک کوہِ استقامت اور صبر و تحمل کی چٹان بنا اپنے مقام پر کھڑا رہا،مذہب و اخلاق کا وہ پیکرِ زریں، جس نے حیوانیت و درندگی کے بحرانِ عظیم میں اپنے قدم کو ایک لمحے کے لیے جادہئ مستقیم سے متزلزل نہیں ہونے دیا اور حق و صداقت کا وہ پجاری،جو کذب و افترا اور دروغ و باطل کی بلاانگیز موجوں میں بھی صحتِ فکر و عمل اور راست کرداری و راست گفتاری کی کشتی کو طوفان زدگی سے بچانے کی کوشش کرتا رہا،آہ بصدآہ!کہ 30/جنوری1948ء کی شام کو خود اس کے ایک ہم وطن و ہم ملک نے اس کی زندگی کا چراغ گل کردیا اوراس کے نحیف و نزار جسم کو اپنی گولی کا نشانہ بناکرہندوستان کی پیشانی پر ایسا بدنما داغ لگادیا،جوکبھی مٹائے نہ مٹے گا“۔) (آہ لعل شب چراغ ہند، ماہنامہ برہان دہلی، مارچ 1948) یہاں عدم تشدد کا دیوتا امن و عافیت کا وہ مناد و داعی، مذہب و اخلاق کا وہ پیکر زریں، حق و صداقت کا وہ پجاری ساختی متوازیت کے عمدہ نمونے ہیں)
مولانا نے اپنی تحریروں میں عطفی مرکبات و ترادفات کا بھی بہت ہی خوب صورت استعمال کیا ہے، جس سے ان کے بیان میں حسن پیدا ہوگیا ہے، ایک جگہ لکھتے ہیں:”کفروشرک کے مضبوط قلعے،مفتوح و سرنگوں ہوکر حق و صداقت کا پرچم اڑانے لگے“۔یہاں کفر و شرک، مفتوح و سرنگوں اور حق و صداقت مرکباتِ عطفی (Conjuctive Compound)ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں یہ جملے بھی ملاحظہ فرمائیں:
”آہ وہ ہندوستانِ جنت نشان، جو کل تک اتفاق و رواداری کا سرسبز و شاداب چمن تھا، آج سرتا سر خارستانِ عداوت و منافرت بنا ہوا ہے۔“ (نظرات، برہان، جون 1948)
یہاں اتفاق و رواداری، عداوت و منافقت، عطفی مرکبات ہیں۔
اسی طرح انھوں نے اپنی تحریروں میں تجنیسِ صوتی کا بھی خوب صورت استعمال کیاہے۔ایک جگہ لکھتے ہیں: ”قرآن مجید میں ترغیب و ترہیب سے متعلق جوباتیں بیان کی گئی ہیں“۔اس جملے میں ترغیب و ترہیب کا استعمال کیاگیا ہے،اس میں صوتی حسن اور موسیقیت ہے کہ ایک ہی آواز سے دونوں مرکب اجزاکا آغاز و اختتام ہوا ہے۔اسی طرح ان کی بیشتر تحریروں میں عطفی مرکبات اور کبھی کبھی مختلف المعانی متضادمرکبات کا بھی استعمال ملتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کے پاس الفاظ کا بیش بہاذخیرہ تھااور ان لفظوں کے موزوں استعمال کا ہنر بھی۔
مولانا اکبرآبادی نے اپنے لہجے کو پرزور بنانے کے لیے بھی مترادفات کا استعمال کیاہے۔زبان کے ساتھ ان کا تفاعل بہت مربوط اور مضبوط ہے، اس طرح دیکھاجائے،تو مولانا نے مختلف اسالیب کااستعمال کیا ہے۔ ان کی نثر تعمیری اظہار کی ایک خوب صورت شکل ہے۔ان کے بعض تحقیقی و علمی موضوعات میں بھی چاشنی اور د ل نشینی ہے،اظہار کا حسن او ربیان کی لطافت ہے۔
ان کا ہر جملہ نپاتلاہے،کہیں بھی اکھڑا ہوا یا ناہموار لفظ نہیں ملتا،مولانا شبلی نعمانی کی طرح انتخابِ الفاظ اور جملوں کی ساخت میں حسن تناسب کا خیال رکھا ہے۔ شگفتگیِ بیان کے ساتھ مولانا نے ادائے مطلب پر خاص طورپر توجہ مرکوز کی ہے،مگر کہیں کہیں ان کی نثر اثقل نہ سہی،عسیرالفہم ضرورہوگئی ہے۔یہاں ان پر عربی و فارسی پس منظرکا زیادہ اثر نظر آتاہے اور اس طرح کی تحریروں میں وہ علماکے دوش بدوش نظر آتے ہیں۔ یہاں ان کی نثر اتنی سادہ نہیں رہ جاتی کہ ہر کسی کی سمجھ میں آسکے۔ایک جگہ لکھتے ہیں:”ان کی تمام اخلاقی وروحانی برتریوں اور بزرگیوں کا دارومدار صرف ایک کتابِ مبین کے تعامل پر ہے“۔اور دوسری جگہ لکھتے ہیں:”اس کا مدلولِ مطابقی اور مدلولِ التزامی کیاہے؟“۔یہاں تعامل،مدلولِ مطابقی اور التزامی ایسے الفاظ ہیں،جو ہر کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتے۔
مولانا کی تحریر میں کہیں کہیں ادبیت سے زیادہ علمیت حاوی ہوگئی ہے۔ شاید موقع و محل کی مناسبت سے ان کا طرزِ تحریر بالکل بدل جاتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ مخاطب کے اعتبار سے بھی ان کا طرزِ تخاطب تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ قاری محمد طیب پر لکھتے ہوئے یوں گوہر فشانی کرتے ہیں:
”وادریغا! دودمانِ قاسمی کا لعلِ شب چراغ گل ہوگیا،چمن زار دارالعلوم دیوبند کا گلِ سرسبد مرگ کی بادِصرصر سے نذرِخزاں ہوگیا،بزمِ علم ووقار کی شمع ِ فروزاں بجھ گئی،حسنِ بیان و خطابت کے ایوان میں زلزلہ آگیا، مسندِ وعظ و مصطبہئ ارشاد و ہدایت بے رونق ہوگئے“۔
مولانا سعید احمد اکبرآبادی کا ایک طرزِ تحریر تو یہ ہے،دوسری طرف جب سفرنامہ لکھتے ہیں،توان کی تحریر میں حددرجہ شگفتگی اور روانی نظر آتی ہے۔دیارِ غرب کے مشاہدات و تاثرات کے عنوان سے جو انھوں نے سفرنامہ لکھاہے،اس کی زبان بالکل الگ ہے،اس میں انھوں نے صنفی لوازمہ کا خاص طورپر خیال رکھاہے اور اپنے مخاطب کا بھی کہ وہ سفر نامہ صرف خواص کے لیے نہیں؛ بلکہ عوام کے لیے بھی ہے۔اس باب میں ان کا رویہ میر تقی میر سے مختلف تھا،جنھوں نے کہاتھا:
شعرمیرے ہیں گوخواص پسند
پر مجھے گفتگو عوام سے ہے
مولانانے اپنی تحریر میں عوام و خواص دونوں کا خیال رکھاہے۔ذرا سفرنامہ کا یہ اقتباس دیکھیے، یہ محسوس ہی نہیں ہوگا کہ کسی عظیم مفکر اور دانشور عالمِ دین نے لکھاہوگا،اس میں ان کے ذہن اور زبان دونوں کی شگفتگی نظر آئے گی:
”جہازمیں دل جوئی اور تسکینِ خاطر کے بظاہر تمام اسباب موجود ہوتے ہیں،عمدہ فضا اور صاف ستھرا ماحول،لطیف کھانے،مفرح اور مسکن مشروبات،خاطر تواضع اور خدمت کے لیے نک سک سے درست ایئر ہوسٹس کہ اگر آپ کے چہرے پر ذرا بھی تنغص اور اضمحلال و علالت کے آثار ملیں،توہمہ تن التفات ہوکر آپ سے پوچھے گی:آپ کی طبیعت تو اچھی ہے؟“۔
مولانا اکبرآبادی کا اسلوب کہیں سلیس سادہ،کہیں سلیس رنگین،کہیں شگفتگی،توکہیں کہیں ذرا سی ثقالت بھی لیے ہوئے ہے، شوکتِ الفاظ بھی ہے اور توازن بھی اور بے ساختگی و سادگی بھی، مگران کی شخصیت کی طرح ان کی تحریر میں نہ الجھاؤ ہے،نہ ژولیدگی،نہ ہی پیچیدگی۔ ان کی ذہنی ساخت سے ان کی لسانی ساخت کا بہت گہرا رشتہ ہے۔ جس طرح ان کے خیال میں تابندگی ہے،اسی طرح اظہار میں بھی توانائی ہے۔مولانا کی تحریر میں تاثیر و قوت بھی ہے اور یہ قوت بغیر ریاضت کے نصیب نہیں ہوتی۔ مولانا سعید احمد اکبرآبادی ریاضت کی بہت سی منزلوں سے گزرے،تب انھیں شبلی کاسازورِ بیان میسر ہوااور داغ کا سا وہ طرزِ گفتار و حسنِ بیان، جس کے بارے میں خود داغ معجزبیاں کاکہنا تھا:
داغ کے ہی دم سے تھا لطفِ سخن
خوش بیانی کا مزاجاتا رہا

Mob.: 9891726444
Email: haqqanialqasmi@gmail.com

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)