مولانا رئیس الشاکری: اب نہ پائے گا زمانہ کبھی ان کی تمثیل ـ عبدالمالک بلند شہری

 

تسبیح کی لڑی ٹوٹ گئی ہے اور انمول موتیوں کے بکھرنے کا سلسلہ جاری ہے ایک کے بعد ایک صدمہ،تسلسل کے ساتھ یہ حوادث اور تواتر کے ساتھ ہونے والے یہ سانحے ہم کیسے برداشت کرسکیں گے..الہی توہی رحم فرماـ

ابھی مولانا امینی کی وفات سے پورے طور پر سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ انہی جیسی ایک دوسری نستعلیق شخصیت دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی عالیشان لائبریری شبلی کے ذمہ دار اور ایک مایہ ناز و مستند شاعر مولانا رئیس الشاکری ندوی بھی ہمیں افسردہ و غمگین چھوڑ کر اپنے رب کے حضور انعامات پانے پہنچ گئےـانا للہ وانا الیہ راجعون

مولانا رئیس الشاکری صاحب ردولی کے قدوسی خانوادہ کے ممتاز ترین فرد اور خاندانی روایات کے ساتھ ندوی تہذیب و ثقافت کا حسین سنگم تھے.ان کے والد مولانا منظور اردو و فارسی کے بہترین عالم تھےـ شاکری صاحب نے ابتدائی تعلیم مدرسہ و خانقاہ ابواحمدیہ علی آباد بارہ بنکی میں حاصل کی اعلی تعلیم کے لیے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ تشریف لائے اور سند فراغت حاصل کی.. آپ کے اساتذہ ذیشان میں مولانا سید رابع حسنی ندوی زید مجدہم ،مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی مدظلہ اور مولانا ڈاکٹر تقی الدین اعظمی دامت برکاتہم سمیت متعدد اصحاب علم و فضل شامل ہیں….شاکری صاحب کا زمانہ طالب علمی ہی سے شعر و شاعری کی طرف رجحان تھاـ اس سلسلہ میں مولانا شاکر ناطقی کانپوری اور مولانا ماہر القادری سے شرف تلمذ حاصل تھا. اول الذکر سے مثالی تعلق ہی کی بناء پر شاکری آپ کے نام کا جزء لاینفک بن گیا تھاـ ان باکمال شعراء و ادباء کے فیضان صحبت سے آپ کا ادبی ذوق بہت نکھر گیا تھاـ آپ کی زبان بڑی صاف ستھری اور پاکیزہ تھی ـ بولتے تھے تو منھ سے پھول جھڑتے تھے، لکھتے تھے تو موتی رولتے تھے. آپ کی وضع قطع بھی عالمانہ اور باوقار تھی..جب بھی انھیں دیکھا شیروانی اور کشتی نما ندوی ٹوپی میں دیکھا.. چہرہ پر مخصوص مسکراہٹ لیے ہمہ دم محبتیں نچھاور کرنے کے لیے تیار.ـ

اس عاجز کو ندوہ کے دوران قیام آپ کی بے پناہ شفقتیں اور بے پایاں عنایات حاصل ہوئیں.. ذاتی روزنامچہ کے مطابق ١٠ فروری ٢٠١٧ کو پہلی دفعہ باضابطہ تعارف و تعلق ہوا جو وفات سے ایک برس قبل تک باقی رہا پھر حالات کی ستم انگیزی نے ہمارے درمیان جسمانی دوری بڑھادی ـ مرحوم کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ وہ جب بھی ملتے تو اس قدر اپنائیت سے ملتے کہ دل ان کی محبت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا..مجھے ان کی مجلس میں علمی فوائد کے ساتھ ساتھ ان کی ایک خاص انداز سے بنائی ہوئی پودھینی کی چٹنی اب تک یاد آتی ہےـ

ایک دفعہ کا واقعہ اور یاد آگیاـ لائبریری سے نکالی ہوئی ایک کتاب گم ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ان کی مدد کی ضرورت پڑی تھی. انھوں نے اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کام میں خاص طور پر مدد فرمائی تھی اگر کی عنایت نہ ہوتی تو شاید بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا….اس طرح کے نہ جانے کتنے چھوٹے بڑے واقعات اور اہم و غیر اہم باتیں ذہن کی اسکرین پر نمایاں ہیں……. جن سے ان کی طلبا پر عنایات، خردوں کی راحت رسانی کا جذبہ اور حتی المقدور ان کی اعانت کی خو ظاہر ہوتی ہےـ

وہ اردو و فارسی کے ماہر تھے اور انھیں نظم و نثر دونوں میں مہارت حاصل تھی ـ غزل گوئی سمیت متعدد اصناف ادب میں طبع آزمائی کی لیکن نعتیہ شاعری کے حوالہ سے شہرت پائی ـ رباعی اور قطعات جیسی اصناف میں بھی بہترین ذخیرہ چھوڑا… محمد جب آئے، القاء، حرا اور پایاب ان کی نعتیہ و غزلیہ شاعری کے مجموعے ہیں جو اہل علم و ادب کے ہاں پسندیدگی کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں ـ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا عشق دیدنی تھاـ میں نے ایک دفعہ ان کا ایک شعر لکھا ہوا دیکھا جو اپنی سادگی اور برجستہ گوئی کی وجہ سے سیدھا میرے ذہن میں پیوست ہوگیاـ

اگر کوثر کی خواہش ہے تو ساقی سے جڑے رہنا

کہ ساری قدر کھودیتے ہیں ساغر بے سبو ہوکر

.. اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے کوثر و تسنیم کی خواہش میں ہمیشہ ساقی سے رشتہ استوار رکھا اور کبھی بھی ساغر بے سبو نہ ہوئے…. ان کی طویل ترین ایمانی اور حسنات سے بھری پری زندگی کو اور رمضان المبارک جیسے مقدس و بابرکات مہینہ کی موت کو دیکھتے ہوئے عاجز کو یقین کامل ہے کہ آخرت ان کے لیے دنیا سے بہتر ثابت ہوگی ـ

خدا ان کی مغفرت فرمائے، سیئات کو حسنات سے مبدل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان و قرابت داروں کو صبر جمیل عطا فرمائےـ