مولانامحمد قاسم مظفرپوری ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک

امیر شریعت مولانامحمد ولی رحمانی سمیت ملک کے موقر علماے کرام اور سیاسی وسماجی شخصیات کا اظہار تعزیت

مظفرپور(عبدالخالق قاسمی) ملک کے مشہور و مقبول عالم دین،سیکڑوں مدارس و مکاتب کے سرپرست حضرت مولانا قاسم مظفرپوری قاضی شریعت دارالقضاء امات شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ و بانی مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور مظفرپور آج بروز منگل بعد نماز ظہر مظفرپور زکریا کالونی میں ہزاروں عقیدت مندوں کی موجودگی میں سپرد خاک کیے گئےـ نماز جنازہ وقت مقررہ کے مطابق مظفرپور زکریا کالونی میں پڑھی گئی اور مولانا اشتیاق مظفرپوری نے پڑھائی،مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور کے اساتذہ،حضرت علیہ الرحمہ کے چھوٹے بھائی حافظ ناظم رحمانی,مولانا منت اللہ رحمانی،فضل اللہ ندوی،ممتاز قاسمی سمیت مختلف سیاسی سماجی اور ملی رہنماؤں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں بہار کے مختلف اضلاع سے لوگوں نے شرکت کی ـ اس موقعے پر حضرت امیر شریعت مولانا ولی رحمانی نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک ممتاز عالم و فقیہ سے محروم ہوگیاـ ایک طویل عرصے تک انہوں نے دین اور علم کی خدمت انجام دی،امارت شرعیہ کے پلیٹ فارم سےمنصب قضا کو زینت بخشی،امارت شرعیہ اپنے سب سے محترم قاضی اور علمی شخصیت سے محروم ہوگیاـ حضرت علیہ الرحمہ کے بھتیجا مشہور و معروف عالم دین،درجنوں کتاب کے مصنف مولانا رحمت اللہ ندوی مدنی نے اپنے چچا کے انتقال کو ذاتی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ چچا بہترین معلم و مربی کے ساتھ ایک اچھے رجال ساز تھے.آپ نے اپنی 80 سالہ زندگی میں بے شمار شاگرد پیدا کئے جو ان کے لئے صدقہ جاریہ ہیں، آپ کو اللہ نے اپنے پاس بلا لیا مگر آپ کا نام قیامت تک زندہ رہےگا،آپ نے جو علمی اثاثہ چھوڑا ہے اللہ ہمیں اس کی حفاظت کرنے والا بنائے آمین ـ دارالعلوم وقف دیوبند کے استاد حدیث حضرت مولانا اسلام قاسمی نے اظہار تعزیت میں حضرت کے انتقال کو ایک علمی عظیم خسارہ قرار دیا۔ مولانا ابوالکلام شمسی قاسمی نے گہرے صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا قاسم مظفرپوری شمالی بہار کے ممتاز علما میں سے تھے،وہ ہمیشہ قضا کے عہدہ پر فائز رہے اور قاضی کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہےـ مولانا بہار ہی نہیں بلکہ ملک کے بڑے عالم تھے،زمانۂ طالب علمی سے ممتاز اور اپنی خدمات کی وجہ سے نہایت مقبول رہےـ اس موقعے پر امارت شرعیہ کے نائب ناظم مولانا سہراب ندوی نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مولانا کی وفات کو امت مسلمہ کا بڑا خسارہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قحط الرجال کے اس دور میں مولانا کا رخصت ہوجانا امت مسلمہ کے لئے ایک عظیم حادثہ ہے، انہوں نے مولانا کے نواسہ مولانا تقی احمد قاسمی،ان کے بھائی حافظ ناظم رحمانی کو اس مصیبت کی گھڑی میں تسلی دی ـ مفتی ثناءاللہ الہدی قاسمی ناظم امارت شرعیہ نے بھی اظہار تعزیت کرکے لواحقین کو صبر کی تلقین کی اور حضرت کی مغفرت کے لئے عوام الناس سے دعا کی اپیل کی ـ اس موقعے پر انہوں نے مولانا تقی احمد قاسمی، مولانا اسرار مظاہری,مولانا کلیم اللہ قاسمی، مولانا اکرام ،محمد عمران،محمد سلطان حضرت کے پوتا محمد حمزہ کو مخاطب کرتے ہوئےکہا کہ آپ لوگوں نے حضرت قاضی صاحب کی خدمت میں کسی طرح کو کوئی کسر نہیں چھوڑی اور بڑے اخلاص کے ساتھ ان کی خدمت کی اللہ بہتر بدلہ عطا کرے۔ مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنے تعزیتی بیان میں فرمایا کہ مولانا بڑے عالم دین تھے،علم وعمل، تقوی و پرہیزگاری، عاجزی و انکساری میں اسلاف کی روایتوں کی زندہ مثال تھے،نیز وہ اچھے مقررومصنف اور استاذ بھی تھے، وہ متنوع اوصاف وکمالات کے مالک تھے،ان کا مطالعہ بڑا وسیع تھا،انہوں نے اپنے علم وعمل سے بہتوں کو فیض پہنچایا،اللہ رب العزت انہیں غریق رحمت کرے اورپسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین ـ
دیگر تعزیت کرنے والوں میں حضرت مولانا قاری شبیر صاحب ناظم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ، مولانا صفی الرحمن صاحب قاسمی، مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ، مفتی ثناءاللہ قاسمی،استاد حدیث جامعہ اسلامیہ قاسمیہ دارالعلوم بالاساتھ،مولانا حسین احمد قاسمی استاد حدیث دارلعلوم بالاساتھ سمیت پورے بہار کے مختلف گوشوں کے مدارس و مکاتب کے ذمے داران و اساتذۂ کرام شامل ہیں ـ