مولانا نور عالم خلیل امینی: خُوشا لطافتِ لفظ و خُوشا نزاہتِ معنٰی-نایاب حسن

(ساتویں قسط)

موضوعات کی طرح مولانا کے اسلوبِ تحریر میں بھی تنوع تھا۔ اس کا ادراک ان لوگوں کو بخوبی ہوگا،جو انھیں مسلسل پڑھتے رہے ہوں گے۔ میرے خیال میں ان کی عربی انشا پردازی کے اسلوب پر حقیقت پسندانہ گفتگو یا اس کا درست اور منصفانہ تجزیہ یہ مانے بغیر نہیں ہوسکتا ہے؛کیوں کہ اگر صرف ’’الداعی‘‘میں ہی شائع ہونے والی ان کی تحریروں کو غور سے پڑھیں،توآپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ وہ اس کے اداریے میں جس اسلوب و لفظیات کو برتا کرتے تھے، وہ’’کلمۃ العدد‘‘والے مضمون سے مختلف ہوتا تھا۔ اداریے میں خالص صحافیانہ تجزیہ نگاری ،تہہ رسی و دروں بینی کا عنصر حاوی رہتا تھا ، اسی طرح اس میں مخصوص سیاسی واقعات کی جزئیات نگاری،اعداد و شمار کی تفصیل،خاص صورتِ حال کی حقیقی منظر کشی پر ارتکاز ہوتا تھا،معاصرعالمی عربی صحافت میں رائج طریقۂ اداریہ نویسی کے مانند ہی مولانا کے اداریے کے جملے بھی قدرے طویل ہوتے تھے۔ مثال کے طورپر اپریل ۲۰۰۹ کے اداریے کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
’’ من حين لآخر ينكشف اللثامُ عن المؤامرة الشاملة التي نَسَجَتْها خلايا الإرهاب الهندوسيّة لتنفيذ التفجيرات في أمكنة كثيرة من بلادنا الهند الغالية بتضامن ؛ بل تخطيط ؛ بل توجيه من قبل المنظمة الصهيونيّة الاستخباراتيّة "الموساد” لكي تُحَمِّلَ مسؤوليتَها الشبابَ المسلم بدهاء ومكر تُتْقِنُهما عن مران طويل ؛ حتى توجد السبيل لاعتقاله ، فتعذيبه ومحاكمته ، أو قتله عن طريق المواجهة الوهميّة بين شرطة مكافحة الإرهاب وبينه .
وظلّت هذه الألاعيب مُمَارَسَةً منذ سنوات عديدة أخيرة حتى شاء الله العليم القادر أن يكشف اللثام عن بعضها ؛ ولكن الحكومة لاتزال تبدو غير جادّة فيما يتعلق باعتقال ومؤاخذة فمعاقبة العناصر الهندوسيّة هذه التي تشكِّل "الطابورالخامس” في الإضرار بالوطن ووحدته وسلامته ، على حين إنّها تطلق دعاوی عريضة ، بكونها وطنيّة من الدرجة الأولى والرقم الأوّل ‘‘.
(وقتاً فوقتاً ہندو دہشت گروہوں کے ذریعے ہمارے وطن عزیز کے مختلف حصوں میں بم بلاسٹ کی سازش سے پردہ اٹھتا رہتا ہے، جسے یہ لوگ صہیونی سراغ رساں ایجنسی’’موساد‘‘کی ملی بھگت؛بلکہ اس کی منصوبہ بندی و رہنمائی میں انجام دیتے ہیں اور اس کا الزام نہایت عیاری و مکاری اور طویل تجرباتی مہارت سے کام لیتے ہوئے مسلم نوجوانوں پر لگادیتے ہیں؛تاکہ ان کی گرفتاری، تعذیب، مقدمات میں پھنسانے یا اے ٹی ایس کے پولیس اہل کاروں اور ان کے درمیان فرضی مڈبھیڑ کی آڑ میں ان کے قتل کی راہ نکالی جائے۔
یہ کھیل پچھلے کئی سالوں سے چل رہا تھا،حتی کہ خدا کا کرنا ہوا کہ ایسی بعض سازشوں سے پردے اٹھ گئے،مگر حکومت اب بھی ان ہندو عناصر کی گرفتاری اور انھیں سزا دینے کے تئیں سردمہری کا مظاہرہ کررہی ہے،جو اس ملک ،اس کی وحدت و سلامتی کے تئیں ففتھ کالمی رول ادا کر رہے ہیں،جبکہ اسے دعویٰ ہے کہ وہ اول نمبر کی محبِ وطن حکومت ہے)
اس کے برخلاف ’’کلمۃ العدد‘‘ والے مضمون میں عموماً علمی سنجیدگی، متانت،رصانت اور گمبھیرتا جھلکتی تھی۔ اس کے جملوں کی ساخت میں سادہ بیانی و بے تکلفی کا عنصر غالب رہتا تھا۔ وہ عموماً اس کالم میں علمی،سماجی یا سیاسی موضوع پر طویل الذیل اور مبسوط مضمون لکھا کرتے تھے،’’الفکر الإسلامي‘‘ میں وقتاً فوقتاً تحقیقی مقالات لکھتے اور اس کا انداز بھی یہی ہوتا،سنجیدہ و متین۔ مئی-جون ۲۰۱۶ کے شمارے میں کلمۃ العدد کے مضمون میں مسلمانوں کی پسماندگی اور زوال کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’عندما كان المسلمون ملازمين للدين وأحكامه، منصهرين في بوتقة السنة النبوية، كانوا منصورين بالرعب، وكانت خزائنُ الأرض تنثال عليهم، وكانت رقاب الأعداء الجبابرة تخضع لهم، وكانت أبواب العلم والتكنولوجيا مفتوحة على مصراعيها عليهم، وكانوا يمتلكون أَزِمَّةَ التقدم في كل مجال من مجالات الحياة، وكانوا مدفوعين بالطموح والذكاء والنشاط والقوة والانتعاش والهمة البعيدة التي لاتقاس بأيّ كم أو كيف؛ لأن الله أراد لهم كلَّ نوع من الخير الذي كان يأتيهم يُجَرِّر أذياله إليهم.‘‘
(جب مسلمان دین اور اس کے احکام پر عمل پیرا تھے،سنتِ نبوی کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے،توانھیں خدائی رعب و داب حاصل تھا،دنیا بھر کے خزانے ان کے قبضہ و تصرف میں تھے،بڑے بڑے طاقت ور دشمنوں کی گردنیں ان کے سامنے جھکی ہوئی تھیں،علم و ٹکنالوجی کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوئے تھے،تمام تر شعبۂ حیات میں انھیں سربلندی اور عروج حاصل تھا،وہ بے پناہ جوش و جذبہ،ذہانت و نشاط،طاقت و آمادگیِ طبع اور بلند ہمتی سے سرشار تھے؛کیوں کہ اللہ نے ان کے لیے ہر قسم کا خیر مقدر کر رکھا تھا،جو کشاں کشاں ان تک پہنچتا تھا)
البتہ’’اشراقۃ‘‘ میں مولانا کا اسلوبِ تحریر دلکشی کی معراج پر ہوتا تھا،یہ کالم وہ خالص ادبی ریاضت اور اپنے مَن میں ڈوب کر لکھتے تھے،اس کالم کے ذریعے انھوں نے نہ صرف قارئین کو اپنے بیش بہا تجربات ، مشاہدات و مطالعات پر مبنی اسباق و نصائح سے بہرہ ور کیا؛بلکہ اس کے ذریعے عربی زبان و ادب کی بے شمار خوش رنگ و دل آگیں تعبیرات بھی عالمِ وجود میں آئیں،جن سے عربی زبان و ادب کے طلبا و علما کی ایک بڑی تعداد مستفیض ہوتی رہی۔ مثال کے طورپر جولائی -اگست ۲۰۱۰ کے شمارے میں ’’بین الکلام والسکوت‘‘(بولنا اور چپ رہنا) کے عنوان سے تحریر کردہ ’’اشراقہ‘‘کی ابتدائی سطریں ملاحظہ فرمائیے، کیسی سلاست ہے ان میں اور کیا معنویت ہے،زبان میں کیسی چاشنی ہے اور طرزِ ادا میں کیسی شوخی ہے:
’’إن كان الكلام من فضة فالسكوت من ذهب، كلامٌ حكيم في اللغة العربيّة، تَنَاقَله علماؤها، وعَمِل به حكماؤها عَبْرَ العصور، وأعرض عنه السفهاءُ الذين فُطِرُوا على الثرثرة والإكثار من الكلام. من نضج عقلُه قلّ كلامُه، ومن فجّ مخُّه كثر حديثُه. ما رأيتُ رجلاً يُكْثِر من الحديث، إلاّ أيقنتُ أنّه جاهلٌ بالمعاني، فارغ من الحكمة والتعقّل، حافلٌ بالسفاهة والغباء، لا يعرف المخرجَ من المدخل. ويُكْرَهُ ذلك كثيرًا إذا كان صاحبُه من المسنّين؛ حيث إن السنين لم تُعَلِّمه أنَّ السكوت أفضل من الكلام، وأنّ الاستماعَ أثمن من التحدّث.‘‘
(بولنا اگر چاندی جیسا ہے،تو چپ رہنا سونے جیسا ہے،یہ عربی زبان کا ایک قولِ حکیمانہ ہے،جس پر زمانے سے اہلِ علم و دانش عمل کرتے آئے ہیں اور وہی لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں،جنھیں بے فائدہ و بے محابا بک بک کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ پختہ عقل انسان کم بولتا ہے،جبکہ کچے دماغ والا زیادہ بولتا ہے۔ میں نے جب بھی کسی کثیر الکلام شخص کو دیکھا،تو مجھے یقین ہوگیا کہ اسے لفظوں کے معانی کا ادراک نہیں اور وہ عقل و خرد سے عاری،حماقت سے مملو اوربات شروع کرنے کے بعد اسے ختم کرنے کے فن سے ناواقف ہے۔ اگر عمردراز انسان کے اندر یہ عادت پائی جائے،تو اور بھی ناپسندیدہ ہوتی ہے، کہ زندگی کے سالہاسال گزارنے کے باوجود اسے پتا ہی نہ چل پایا کہ خاموشی طولِ کلام سے بہتر اور سننا بولنے سے زیادہ قیمتی عمل ہے!)
مولانا کے اسلوبِ نگارش کے اس تنوع میں ہی ان کا ادبی و فنی امتیاز پوشیدہ ہے۔ انھیں یہ بات بخوبی پتا ہوتی تھی کہ کس موضوع کی تحریر کس ذہنی سطح کے قارئین پڑھتے ہیں،سو وہ زبان اور اسلوب کے حوالے سے اس کا خاص خیال رکھتے تھے۔ البتہ ان کی تحریروں کی ایک دوسری خاصیت ہر قسم کی نگارشات میں بہ تمام و کمال پائی جاتی تھی اور وہ تھی مستند اور صحیح معلومات کی فراوانی۔ کسی بھی موضوع پر لکھنے سے قبل مولانا جس طرح اس کے لیے تیاری کرتے تھے،وہ ہم جیسے طالب علموں کے لیے ہی نہیں،بڑے بڑے ادیبوں ، مصنفوں اور صحافیوں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔ وہ اگر کسی تازہ سیاسی موضوع پر لکھتے تو اس سے متعلق معلومات تمام ذرائع مثلاً اخبارات،جانکار افراد اور دیگر وسائل کے ذریعے حاصل کرتے۔ اخبار مولانا پابندی سے دیکھا کرتے تھے اور دورانِ مطالعہ انھیں اپنے کام کی جو خبریں ملتیں ،انھیں پنسل یا قلم سے نشان زد کرکے اپنے پاس محفوظ کرلیتے۔ کتابوں کا مطالعہ کرتے،تو اہم معلومات کو نوٹ کرتے جاتے۔ وہ ڈائری لکھنے کے عادی تھے اور اس میں اپنے شب و روز کے احوال کے علاوہ دورانِ مطالعہ و مشاہدہ نظر آنے والی باتیں بھی درج کرتے۔ کسی علمی موضوع پر لکھتے،تو اس سے متعلق دسیوں کتابوں کو کھنگالتے اور اس کے تمام اطراف و جوانب پر تمام ضروری معلومات حاصل کرلینے کے بعد لکھتے،ان کی نظر عربی ادب کے قدیم و جدید ادوار اور ان کے شعرا و ادبا کی نثری و شعری خدمات پر تھی،سوان پر بھی انھوں نے سیر حاصل تحریریں لکھی ہیں اور ان کے کاموں کا وقتاً فوقتاً تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ ان کی ایک خوبی تحریروں میں جدید قدیم عربی شعرا کے اشعار کا برمحل استعمال بھی تھا۔ وہ حسبِ موقع انھیں اپنی تحریروں میں موتی کی طرح ٹانکتے چلے جاتے تھے۔ ہندوستان میں بہت ہی گنے چنے ایسے عربی ادیب و انشا پرداز ہوئے ہیں،جن کی نثر میں وہ جاذبیت،علمیت،افادیت اور قدر و قیمت کے عناصر ہوتے ہیں،جو ہمیں عربی الاصل ادیبوں کے یہاں نظر آتے ہیں،اس حوالے سے برصغیر(ہندوپاک و بنگلہ دیش) کی سطح پر پچھلی کئی صدیوں میں ایک نام مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی کا ہے، جن کی عربیت و ادبی بلند قامتی کا قائل عربی زبان کا بڑے سے بڑا عالم و ادیب تھا اور جنھوں نے ایک دنیا پر اپنی فکری سربرآوردگی اور داعیانہ شخصیت کی گہری چھاپ چھوڑی۔ دورِ حاضر میں اگر ہندوستان سے ایسے عربی ادیبوں اور صاحبِ قلم علماے عربی زبان و ادب کی فہرست سازی کی جائے،تو بلا شبہ چند بہت ہی چیدہ و ستودہ لوگوں میں مولانا نور عالم خلیل امینی کا نام شامل ہوگا۔ انھوں نے عربی زبان میں لکھا ہی نہیں؛بلکہ اسے جِیا، اپنی سانسوں میں بسایا اور رگ و ریشے میں اتارا۔ اس زبان سے انھیں والہانہ محبت تھی؛چنانچہ وہ خود تو اس زبان میں ڈوب کر لکھتے ہی تھے،ساتھ ہی اگر اچھی اور معیاری عربی پڑھنے یا سننے کو ملتی،تو جھوم اٹھتے،کلاسوں میں جب کوئی طالبِ علم خالص عربی لہجے میں عبارت خوانی کرتا،تو مولانا مارے خوشی کے اچھل پڑتے اور ’’جمیل،جمیل‘‘کے تحسینی و تشجیعی کلمات سے اس طالب علم کی منفرد انداز میں حوصلہ افزائی کرتے،وہ دورانِ درس مختلف معاصر و اکابر عربی ادبا و نثرنگاروں کے طرزِ نگارش پر دلنشیں تبصرے کرتے،خود اپنے قلمی تجربات شیئر کرتے اور معیاری نثر لکھنے کی ترغیب دیتے۔ ہمیں پہلی بار مولانا کی کتابی و خطابی صحبتوں میں ہی پتا چلا کہ لفظوں کی اپنی دلچسپ و ہمہ رنگ دنیا ، ان کا اپنا مزاج ہوتا ہے اور ایک ہی معنی میں استعمال ہونے والے مختلف الفاظ قاری یا سامع کے ذہن و دل پر اپنی ظاہری و معنوی ساخت و ہیئت کے اختلاف کی وجہ سے مختلف قسم کے اثرات ڈالتے ہیں۔ وہ ہمیں لفظوں کو تحریر یا گفتگو میں برتنے کا طریقہ ہی نہیں؛بلکہ ان کا ذائقہ کشید کرنے کا سلیقہ بھی سکھاتے تھے۔

(جاری)