مولانا نورعالم خلیل امینی:کوئی کہاں سے ہمارا جواب لائے گا! نایاب حسن

(چوتھی قسط)
عربی زبان سکھانے اور اس کے ابتدائی اصول و مبادی سے آشنا کروانے کے حوالے سے مولانا کی ایک اور تصنیف،جسے غیر معمولی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی اور اس سے سیکڑوں طالبانِ عربی زبان و ادب نے فائدہ اٹھایا،وہ’’حرفِ شیریں ‘‘ہے۔ اس کا زمانۂ تالیف وہی ہے جب آپ نے عربی سکھانے والی نصابی کتاب مفتاح العربیہ تالیف کی تھی۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن جولائی ۱۹۹۷ میں منظر عام پر آیا اور اس کی تقریب یہ ہوئی کہ مولانا نے مدرسہ شاہی مراد آباد میں طلبۂ عربی زبان و ادب کےسالانہ پروگرام کی مناسبت سے ادارے کی دعوت پر وہاں کا سفر کیا اور طلبہ کے سامنے عربی زبان سیکھنے کے بنیادی ضابطوں اور اس زبان میں دست گاہ پیدا کرنے کے اصولوں پر قدرے تفصیلی روشنی ڈالی اور بعد میں انھیں جب اپنے حافظے کی مدد سے ڈائری میں نوٹ کیا تو ایک نہایت مفید مواد تیار ہوگیا،جسے تمام طلبہ اور عربی زبان و ادب کے شائقین کے افادۂ عام کے لیے مزید تہذیب و ادارت اور ترمیم و اضافے کے ساتھ’’حرفِ شیریں‘‘کے نام سے اپنے ادارہ علم و ادب،دیوبند کے زیر اہتمام شائع کیا۔ اس کتاب کے کل صفحات سوا سو ہیں اوریہ’’دریا بہ حباب اندر‘‘ کی مصداق ہے۔ اس مختصر کتاب(جس نے خطاب کے بطن سے جنم لیا) میں مولانا نے نہ صرف عربی زبان سیکھنے،اس زبان میں لکھنے اور بولنے میں مہارت بہم پہنچانے کی تدبیروں کو نہایت خوب صورت اور زود فہم انداز میں سمجھایا ہے؛بلکہ اس کے ساتھ الفاظ کے صحیح طریقۂ املا، خصوصاً ’’ہمزہ‘‘ کی کتابت کی مختلف شکلوں کی توضیح ، رموزِ املا کی تفہیم اور انھیں کماحقہ برتنے کی تلقین کرتے ہوئے حسنِ خط یعنی خوش نویسی پر خاص زور دیا ہے اور حسنِ تحریر کے متنوع فوائد ،جبکہ بد خطی کے نقصانات پر بھی روشنی ڈا لی ہے۔
چوں کہ مولانا خود نہایت ہی خوش نویس تھے،ان کی تحریریں زبان و اسلوب یا قواعدِ تحریر کے اعتبار سے جتنی ستھری اور نکھری ہوتی تھیں،اسی قدر ان میں ظاہری رعنائی و زیبائی،قلب و نگاہ کو ٹھنڈک پہنچانے اور ذوق و وجدان کو سرور بخشنے کی خاصیت پائی جاتی تھی اور حسنِ خط کے بابرکت ثمرات و فوائد سے مولانا بخوبی بہرہ ور ہوچکے تھے؛اس لیے وہ لکھنے میں مواد کے ساتھ الفاظ کے حسنِ کتابت پر بھی خاصی توجہ دیتے تھے۔ مولانا کو مدرسہ امینیہ سے فراغت کے بعد جب شوق ہوا کہ مدینہ یونیورسٹی سے بھی اپنی علمی پیاس بجھائیں اور اس کا تذکرہ اپنے مشفق استاذ مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ(وفات: ۱۹۷۵)سے کیا اور اس سلسلے میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ(وفات:۱۹۹۹) کو سفارش کے لیے خط لکھنے کی درخواست کی،تو انھوں نے مولانا سے کہا کہ میں تو انھیں ایک خط لکھتا ہوں،مگر ایک تحریر؍درخواست آپ اپنے ہاتھ سے بھی عربی میں مولانا کے نام لکھیے،مولانا نے اہتمام سے درخواست لکھی اور مولانا محمد میاں نے اپنے اور مدرسہ امینیہ کے مہتمم مولانا حفیظ الرحمن واصف(وفات:۱۹۸۷) کے سفارشی خطوط کے ساتھ ان کی درخواست بھی مولانا علی میاں کو ڈاک سے بھیج دی۔ جب مولانا علی میاں ندوی نے ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی درخواست دیکھی تو وہ عش عش کرنے لگے اور مولانا محمد میاں کو خط لکھا،جس میں اس درخواست کی بے داغ زبان اور حسنِ خط کا خاص طورپر ذکر کیا اور مولانا کو لکھنؤ یا رائے بریلی بھیجنے کو کہا،پھر مولانا(فروری ۱۹۷۲ میں) وہاں گئے اور بوجوہ مدینہ یونیورسٹی تو نہ جاسکے،مگر مسلسل دس سال مولانا علی میاں کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا۔ اس عرصے میں مولانا امینی نے ’’السیرۃ النبویة‘‘،’’قصص النبیین‘‘ سمیت مولانا علی میاں اور ان کے والدِ گرامی مولانا حکیم سید عبدالحی حسنیؒ(وفات:۱۹۲۳) کی کئی کتابوں کی اپنے ہاتھوں سے کتابت کی،ندوہ کے جشنِ پچاسی سالہ کے موقعے پر مختصر اور معنی خیز عربی عبارتوں پر مشتمل پچاسوں تختیاں تحریر کیں،جنھیں دیکھ کر مولانا علی میاں اور نائب ناظمِ ندوہ مولانا معین اللہ ندوی(وفات:۱۹۹۹) خوب خوش ہوئے اور دعاؤں سے نوازا۔ مولانا علی میاں ندوی،مولانا امینی کے حسنِ خط اور قواعد و رموز املا وغیرہ کی رعایت کے ساتھ لکھنے سے اس قدر متاثر تھے کہ وہ خود تو اپنے تاثر و مسرت کا اظہار کرتے ہی،بسا اوقات اپنے یہاں آنے والے صاحبِ علم مہمانوں کو بھی مولانا امینی کی تحریریں دکھاتے اور خوش ہوتے۔ اس سلسلے کا ایک واقعہ مولانا امینی نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر علی محمد خسرو(وفات:۲۰۰۳) مولانا سے ملنے پہنچے،تو مولانا علی میاں ندوی نے انھیں ایک کتاب دکھائی جس کی تبییض مولانا امینی کر رہے تھے اور پوچھا کہ بتائیے یہ ہاتھ کی تحریر ہے یا چھپائی ہے؟تو انھوں نے کہا کہ :ہےتو ہاتھ کی تحریر،مگر جس نے بھی لکھا ہے کمال کا لکھا ہے۔ مولانا علی میاں نے مولانا امینی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ انھوں نے لکھا ہے،خسرو صاحب نے مولانا کی خوب تحسین و ستایش کی۔ اسی طرح مولانا ندوی نے شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی(وفات:۱۹۸۲) کی کتابوں پر لکھے گئے اپنے مقدموں کو جمع کرکے شائع کروانا چاہا،تو اس کا ٹائٹل مولانا سے لکھوایا اور اسے کئی عرب مہمانوں کو یہ کہتے ہوئے دکھایا کہ’’کتبه ھذاالغلام الذي ھو کاتب بالمعنیین‘‘ کہ یہ ٹائٹل اس نوجوان نے تیار کیا ہے،جو دونوں معنوں میں کاتب ہے۔(یعنی صاحبِ قلم بھی ہے اور خوش خطی کی دولت سے بھی مالامال ہے) ان کے علاوہ تا عمر جس نے بھی مولانا امینی کی تحریروں کو دیکھا،وہ نہ صرف ان کی ادبی و لسانی خوبیوں سے متاثر ہوا؛بلکہ ان کے ظاہری حسن و جمال اور غیر معمولی کشش و دلکشی کا بھی اسیر ہوا۔ مولانا عین جوانی کے دنوں سے ہی شکر کے موذی مرض میں مبتلا تھے اور اس مرض کی شدت نے ان کے پاؤں کے تلووں سے لے کر ہاتھ کی انگلیوں تک پر اپنے مضر اثرات مرتب کیے تھے؛چنانچہ جس زمانے میں ہم نے انھیں دیکھا ،اس زمانے میں وہ قلم کو معروف و متعارف طریقے سے پکڑنے کی بجاے تقریباً مٹھی میں لے کر لکھتے تھے،مگر پھر بھی ان کی تحریروں کا حسن ویسا ہی شفاف اور نظر افروز ہوتا تھا۔ ابھی اپریل کی ۳ ؍تاریخ کو جب امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی کا انتقال ہوا تو انھوں نے ڈھائی صفحوں کا ایک مختصر تعزیتی نوٹ لکھا تھا،جو سوشل میڈیا پر بھی بہت عام ہوا تھا،جنھوں نے اسے دیکھا ہوگا،وہ اس تحریر کی ظاہری و باطنی خوب صورتی کی گواہی دیں گے۔ مولانا کے نزدیک حسنِ تحریر اور خوش خطی کتنی اہم تھی،اس کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جس طرح مولانا نے اپنی محبوب زبان عربی سیکھنے کی ترغیب دینے کے لیے اپنے اسباق میں طلبہ کو ابھارنے اور ان کے اندر عربی زبان کے تئیں ذوق و شوق بیدار کرنے کے ساتھ اس مقصد سے باقاعدہ کتابیں لکھیں ،اسی طرح انھیں خوش خط لکھنے کی ترغیب دینے اور اچھا لکھنا سکھانے کے لیے باقاعدہ ایک کتاب’’خطِ رقعہ کیوں اور کیسے لکھیں؟‘‘ تالیف کی۔ اس کتاب میں مولانا نے بنیادی اصولِ کتابت کی توضیح کے ساتھ عربی زبان کے معروف اور رائج ترین طریقۂ تحریر’’خطِ رقعہ‘‘ کے سیکھنے کا مرحلہ وار ایک مکمل خاکہ پیش کیا ہے،ان کی اس کتاب کی رہنمائی میں سیکڑوں باذوق افراد نے حسنِ خط کی دولت حاصل کی اور اس حوالے سے اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر سرخ روئی و مقبولیت کے مقام تک پہنچے۔
خیر!بات مولانا کی کتاب ’’حرفِ شیریں‘‘کی ہورہی تھی۔ اس کتاب میں مولانا نے صرف عربی سیکھنے سکھانے کے اصول و ضوابط پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی ہے؛بلکہ اس کے حواشی میں اردو املا اور اندرونِ متن میں اردو رموزِ املا کے مختلف اہم پہلووں کو بھی اجاگر کیا ہے۔ گویا اس مختصر کتاب میں لکھنے اور بولنے کے حوالے سے عربی اور اردو دونوں زبانوں کے بنیادی اصول زیر تحریر آگئے ہیں اور کتاب کی افادیت دوچند ہوگئی ہے۔
اب بات املا اور رموزِ املا کی آگئی،تو اس حوالے سے بھی مولانا کی خصوصیات کا اسی مقام پر تذکرہ مناسب ہے۔ مولانا امینی جس طرح زبان کو اس کی دوسری جملہ خوبیوں کے ساتھ برتنے،لکھنے اور بولنے پر زور دیتے تھے،اسی طرح الفاظ کے درست املا اور رموزِ املا کی بھر پور رعایت پر بھی ان کا فوکس رہتا تھا۔اس حوالے سے عربی زبان میں چوں کہ زیادہ اختلافات نہیں،نہ زیادہ پیچیدگیاں ہیں اور جدید عربی ادبا و شعرا اور صحافی حضرات اپنی تحریروں میں قواعد و رموزِ املا کی عموماً رعایت کرتے ہیں؛اس لیے اس حوالے سے مولانا کی عربی تحریروں یا دوسرے عربی اہلِ قلم کی تحریروں میں زیادہ فرق نہیں محسوس ہوتا،مگر اردو تحریروں میں بھی مولانا اسی اہتمام؛بلکہ سختی کے ساتھ املا و رموزِ املا کے قواعد کی رعایت کرتے تھے،جبکہ عموماً اردو کے عام لکھاری تو دور، نامور اور سکہ بند ادیب اور قلم کار بھی ان چیزوں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھتے؛بلکہ جو شخص اردو کا جتنا بڑا ادیب ہوتا ہے،وہ اپنے آپ کو ان اصولوں سے اتنا ہی بے نیاز سمجھتا ہے،حتی کہ وہ لوگ بھی املا اور رموزِ املا کے قواعد کی اپنی تحریروں میں پیروی نہیں کرتے،جن کا خود ان قواعد کی وضع و بنیاد گزاری میں اہم رول رہا ہے اور انھوں نے اس موضوع پر کتابیں بھی لکھ رکھی ہیں۔ مولانا امینی کی جدید اردو املا کے اصولوں پر گہری نگاہ تھی،خاص طورپر رشید حسن خاں کی ’’اردو املا‘‘(طبعِ اول:مئی ۱۹۷۴) اور ترقی اردو بورڈ کی سہ رکنی املا کمیٹی کی سفارشات پر مشتمل ’’املا نامہ‘‘(مرتبہ: گوپی چند نارنگ،طبع اول:مئی ۱۹۷۴)مولانا امینی کی نظروں سے بارہا گزر چکی تھیں اور اس سے قطعِ نظر کہ خود خان صاحب، نارنگ صاحب یا املا کمیٹی کے دیگر ارکان نے متعلقہ کتابوں کے علاوہ اپنی دیگر تصانیف میں، اپنی ہی پیش کردہ سفارشات پر کتنا اور کس حد تک عمل کیا، مولانا امینی نے ان کی پیش کردہ تجاویز کی روشنی میں ہی اپنے لیے نمونۂ املا طے کیا اور اس پر تا حیات سختی سے عمل پیرا رہے،یہی معاملہ رموزِ املا کا بھی تھا۔ سکتہ،وقفہ،ختمہ(فل سٹاپ)،سوالیہ نشان، فجائیہ؍ندائیہ،بریکٹ اور واوین وغیرہ کی علامتوں کو ان کے صحیح مقام پر،نہایت اہتمام سے استعمال کرتے تھے اور ہر لکھنے والے کے لیے اسے ضروری قرار دیتے تھے۔ ان کے نزدیک زبان کی ادبی و لسانی نزاکت و لطافت کا یہ بھی لازمی حصہ تھا کہ اسے درست املا اور رموزِ املا کی مکمل رعایت کے ساتھ لکھا جائے۔ مولانا اپنی ہر کتاب؛بلکہ چھوٹی سے چھوٹی تحریر میں بھی ان چیزوں کا خیال رکھتے تھےـ
ہاے مخلوط، ہمزہ اور ی وغیرہ کے استعمال میں مولانا خاص طورپر حساس تھے اور مذکورہ کتابوں کی سفارشات پر کاربند؛ چنانچہ وہ "ہوے "ہمیشہ بغیر ہمزے کے لکھتے تھے، ی اور ے والی ترکیبِ اضافی پر ہمزہ نہیں لگاتے تھے جیسے "تنگیِ حیات "، "کشادگیِ رزق "، ” علماے دین "،زعماے قوم ” وغیرہ، "کیے "، لیے "، "دیے "وغیرہ ہمیشہ "ی "سے لکھتے تھے، "آئندہ، پائندہ "وغیرہ کے بارے میں "املانامہ "نے ی اور ہمزہ دونوں کے استعمال کو درست قرار دیا ہے، مولانا کے نزدیک ہمزہ سے لکھنا راجح تھا، آسایش، رہایش وغیرہ جیسے الفاظ ہمیشہ "ی "سے لکھتے تھے، مرکب الفاظ ہمیشہ الگ الگ کرکے لکھتے تھے، حتی کہ "بلکہ ” کی بجاے "بل کہ ” اور "چونکہ ” کی جگہ "چوں کہ "، "کیونکہ "کی جگہ "کیوں کہ "لکھتے تھےـ ہاے ملفوظ کے استعمال میں بھی وہ قاعدے کے سخت پابند تھے؛ چنانچہ "کہ، مہ، خدشہ، گوشہ "جیسے الفاظ کے اخیر میں لٹکن (،) لگانے کا وہ خاص اہتمام کرتے تھے، ہاتھ کی کتابت میں تو ایسا کرنا آسان ہے، مگر چوں کہ ان پیج یا یونی کوڈ میں بھی ابھی ایسی سہولت موجود نہیں؛ اس لیے ان کا آپریٹر ان الفاظ کی کمپوزنگ کے دوران کاما کی علامت کو دیگر Keys کی مدد سے اس کے صحیح مقام تک پہنچاتا تھا ـ اسی طرح "چنانچہ، مگر "اس لیے، لہذا، اس وجہ سے، کیوں کہ، بلکہ "سے پہلے وہ سیمی کالن /وقفہ (؛) کا استعمال لازماً کرتے تھےـ دیگر رموزِ املا کے معاملے میں بھی وہ حد درجہ حساس تھےـ
حتی کہ وہ اپنی اردو تحریروں میں وارد ہونے والے عربی الاصل،فارسی نژاد یا ہر اس لفظ پر اعراب لگانے کا بھی اہتمام کرتے تھے،جس کے بارے میں انھیں لگتا کہ قاری اس کا غلط تلفظ کر سکتا ہے۔ ’’زیادہ‘‘ پڑھے لکھے اور پروفیشنل ادیبوں کو ان کا یہ عمل بسا اوقات غیر ضروری محسوس ہوتا ہوگا،مگر چوں کہ مولانا اپنی پہلی اور مقبول ترین اردو تصنیف ’’وہ کون کی بات ‘‘۰۰۰میں ان قارئین کی سادہ لوحی کا بڑا گمبھیر تجربہ کرچکے تھے،جنھوں نے’’کوہ‘‘ اور ’’کن‘‘ کی صحیح قرائت و تلفظ میں بڑی قلابازیاں کھائی تھیں اور مولانا تک ان کی پریشاں حالی کی روداد پہنچی تھی اور جس کی وجہ سے انھیں اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کے دیباچے میں لفظِ’’کوہ کن‘‘کے درست اعراب و تلفظ کے ساتھ اس کی اصل،اس کے مصداق اور اس کے تاریخی وواقعاتی پس منظر کے بیان میں تقریباً ساڑھے گیارہ صفحات خرچ کرنا پڑے تھے؛اسی وجہ سے انھوں نے بعد کی اپنی تمام اردو تصانیف میں ہر اس لفظ پر اعراب لگانے کا اہتمام کیا،جس کے بارے میں انھیں شبہ بھی تھا کہ قاری اسے غلط پڑھ سکتا ہے۔

(جاری)