مولانا نور عالم خلیل امینی کی زندگی کے احوال پر ایک نظر۔ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز استاذ، عربی واردو زبان وادب کے ماہر، دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والی عربی میگزین (الداعی) کے ایڈیٹر، عربی واردو زبان میں بیسیوں معیاری کتابوں کے مصنف اور ندوۃ العلماء لکھنؤ کے سابق استاذ حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی ”ابواسامہ“ تقریباً 70 سال کی عمر میں 3 مئی بروز پیر 20 ویں روزے کو تقریباً 1 بجے رات داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ موصوف تقریباً 40 سال سے ایشیا کی عظیم اسلامی درسگاہ ”دارالعلوم دیوبند“ میں علمی خدمات انجام دے رہے تھے۔ استاذ محترم کی دوپہر ایک بجے دارالعلوم دیوبند میں نماز جنازہ کے بعد دارالعلوم دیوبند کے قبرستان قاسمی میں تدفین عمل میں آئی۔ حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی۔ مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی عربی زبان وادب سے متعلق صلاحیتوں کا اعتراف نہ صرف بر صغیر کے ہر مکتب فکر نے کیا ہے، بلکہ عرب ممالک کے علمی حلقوں میں بھی آپ کی عربی کتابوں وتحریروں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اُن کے انتقال پر جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا آسان نہیں ہے، لیکن پھر بھی بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ دارالعلوم دیوبند اور امت مسلمہ کو موصوف کا بہترین بدل عطا فرمائے۔ آمین۔
مولانا کا شخصی تعارف: مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی ولادت مظفر پور (بہار)میں یکم ربیع الثانی 1372 مطابق 18 دسمبر 1952 کو ایک غریب گھرانے میں ہوئی تھی۔ جب آپ کی عمر صرف تین ماہ کی تھی تو آپ کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ اُس وقت مولانا کی ماں صرف 19 سال کی تھیں۔ والدہ محترمہ کی دوسری شادی رشتہ داری میں ہی ہوگئی تھی مگر دوسرے والد کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس طرح آپ کی والدہ کم عمری ہی میں دو مرتبہ بیوہ ہوگئیں۔ اس سے قبل پردادا کی موجودگی میں دادا کا بھی انتقال ہوگیا تھا۔ غرضیکہ انتہائی مفلسی کی حالت میں آپ کا ابتدائی دور رہا ہے۔ موصوف نے کئی مرتبہ مجھ کو بتایا تھا کہ طالب علمی دور میں ان کے پاس تکیہ تک نہیں تھا۔ استاذ محترم اینٹ پر کپڑا لپیٹ کر تکیہ کااستعمال فرماتے تھے۔ ابتدائی تعلیم بہار میں ہی حاصل کرکے دارالعلوم مئو اور اس کے بعد دارالعلوم دیوبند میں دیگر تعلیمی مراحل مکمل کئے۔ اُس زمانہ میں حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ کی سرپرستی میں دہلی کے مدرسہ امینیہ نے کافی شہرت حاصل کی تھی، چنانچہ استاذ محترم نے دارالعلوم دیوبند کے بعد 1970 میں مدرسہ امینیہ سے تعلیم مکمل کی۔ آپ کے نام کے ساتھ ”امینی“ مدرسہ امینیہ ہی کی طرف نسبت ہے۔
اساتذہ: آپ نے رائے پور کے مکتب، مدرسہ امدادیہ دربھنگہ، دارالعلوم مئو، دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ امینیہ دہلی کے تمام اساتذہ کی ہمیشہ قدر کی، البتہ دو اساتذہ کی سرپرستی نے آپ کو عالمی پیمانہ کا استاذ بنانے میں خصوصی کردار ادا کیا، ایک حضرت مولانا وحید الزمان کیرانویؒ اور دوسرے حضرت مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ۔ حضرت مولانا وحید الزمانؒ کا آخری زمانہ ہم نے بھی دیکھا ہے کہ اُس عبقری شخص کو اللہ تعالیٰ نے جہاں بے شمار خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازا تھا وہیں اُن کی یہ خاص خوبی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ وہ اپنے طلبہ کو اپنے سے زیادہ قابل بنانے کی ہر ممکن کوشش فرماتے تھے، چنانچہ حضرت مولانا وحید الزمان کیرانویؒ کے دنیا میں پھیلے ہوئے ہزاروں طلبہ اس کی واضح دلیل ہے۔
تدریسی خدمات: حضرت مولانا ابوالحسن ندویؒ کی سرپرستی میں ندوۃ العلماء لکھنؤ میں آپ نے 1972 سے 1982 تک تقریباً دس سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1982 سے مسلسل دارالعلوم دیوبند میں عربی زبان وادب کی عظیم خدمات انجام دے رہے تھے۔ آپ کے ہزار وں نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ دنیا کے مشرق ومغرب میں قرآن وحدیث کی خدمات میں مصروف ہیں۔ میں بھی مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کا ایک شاگرد ہوں۔ دارالعلوم دیوبند میں طالب علمی کے زمانہ میں آپ کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہوں۔
علمی خدمات: تقریباً 40 سال دارالعلوم دیوبند کی مشہور عربی میگزین (رسالہ) میں آپ کے شائع شدہ ہزاروں مضامین عرب وعجم میں بڑے ذوق وشوق سے پڑھے جاتے تھے۔ اس عربی میگزین کے ذریعہ موصوف نے عالم عرب میں دارالعلوم دیوبند کی پہچان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ جولائی 2013 میں سعودی حکومت کی طرف سے بلائے گئے دارالعلوم دیوبند کے اہم وفد میں حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی صاحب اور حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب کے ہمراہ مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب بھی تھے۔ اُس وقت عربوں میں مولانا کی مقبولیت کا کامل یقین ہوا تھا، میں اُس وقت ریاض میں ہی مقیم تھا۔ عربی رسالوں اور اخباروں میں آپ کے مضامین کثرت سے شائع ہوتے رہتے تھے۔
عربی تصانیف: آپ کی متعدد کتابیں عربی زبان میں شائع ہوئیں۔ مفتاح العربیہ (دو حصے) یہ کتاب برصغیر کے بے شمار مدرسوں کے نصاب میں داخل ہے۔ فلسطین فی انتظار صلاح الدین، المسلمون فی الہند، الصحابہ ومکانتهم فی الاسلام، مجتمعاتنا المعاصرہ والطریق الی الاسلام، الدعوۃ الاسلامیہ بین الامس والیوم، متی تکون الکتابات مؤثرہ؟ تعلموا العربیہ فانها من دینکم اور العالم الهندی الفرید الشیخ المقری محمد طیب۔
اردو تصانیف: موصوف کی عربی کتابوں کے ساتھ اردو کتابوں کو بھی بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:وہ کوہ کُن کی کتاب (مولانا وحید الزمان کیرانویؒ کی سوانح حیات)، فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں، پسِ مَرگِ زندہ (932 صفحات پر مشتمل یہ ضخیم کتاب گویا زبان وادب کے گل بوٹوں سے لہلہاتا ہوا چمنستان ہے۔ اس کتاب میں عصر حاضر کے 38 علماء کرام کے تذکرے موجود ہیں)، اس کتاب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو املا نویسی اور اس کے نشیب وفراز پر آپ کی گہری نگاہ تھی۔ حرف شیرین، موجودہ صلیبی صہیونی جنگ، صحابہ رسول اسلام کی نظر میں، کیا اسلام پسپا ہورہا ہے؟، خطہ رقعہ کیوں اور کیسے سیکھیں؟ اور رفتگان نارفتہ (زیر طباعت)۔

تراجم: استاذ محترم نے تقریباً 25 کتابوں کا اردو سے عربی ترجمہ کیا ہے، جن میں بعض اہم نام یہ ہیں:
عصر حاضر میں دین کی تفہیم وتشریح (مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ) التفسیر السیاسی للاسلام فی مرآۃ کتابات الاستاذ ابی العلا مودودی والشہید سید قطب۔
پاکستانیوں سے صاف صاف باتیں (مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ) احادیث صریحہ فی باکستان۔
مولانا الیاس اور ان کی دینی دعوت (مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ) الداعیہ الکبیر الشیخ محمد الیاس۔
حضرت امیر معاویہ اور تاریخی حقائق (مفتی محمدتقی عثمانی) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فی ضوء الوثائق الاسلامیہ۔
علماء دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج (حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ) علماء دیوبند واتجاهم الدینی ومزاجهم المذہبی۔
من الظلمات الی النور (کرشن لال) ماساۃ شاب اعتنق الاسلام۔
ہندوستان کی تعلیمی حالت انگریزی سامراج سے پہلے اور اس کی آمد کے بعد (مولانا حسین احمد مدنیؒ) الحالۃ التعلیمیہ فی الهند فیما قبل عہد الاستعمار الانجلیزی وفیا بعدہ۔
ایرانی انقلاب امام خمینی اور شیعیت (مولانا منظور احمد نعمانیؒ) الثورۃ الاسلامیہ فی ضوء الاسلام۔
بر صغیر میں شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی کے خلا ف پروپیگنڈے کے علماء حق پر اثرات (مولانا منظور احمد نعمانیؒ) دعایات مکثفہ ضد الشیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی۔
دعوت اسلامی۔ مسائل ومشکلات (مولانا امین احسن اصلاحی) الدعوۃ الاسلامیہ قضایا ومشکلات۔
مقالات حکمت ومجادلات معدلت (حکیم الاسلام مولانا اشرف علی تھانویؒ) لآلی منثورہ فی التعبرات الحکیمہ عن قضایا الدین والاخلاق والاجتماع۔
اشتراکیت اور اسلام (ڈاکٹر خورشید احمد) الاشتراکیہ والاسلام۔(مولانا سعید الرحمن ندوی کے ساتھ)
حضرت مدنیؒ کے مختلف مضامین کا عربی ترجمہ۔
اعزاز: عربی زبان کی بے لوث خدمات کے پیش آنجناب کو نظر صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے 2017 میں ”صدارتی سرٹیفیکیٹ آف آنر (Presidential Certificate of Honour) سے نوازا گیا۔ آسام یونیورسٹی میں مولانا نور عالم خلیل امینی کی تحریروں میں فلسطین فی انتظار صلاح الدین کے خصوصی حوالہ کے ساتھ سماجی وسیاسی پہلوؤں کے عنوان پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ پیش کیا گیا۔
مولانا نور عالم خلیل امینی صاحب کی عربی کتابیں وتحریریں جہاں عرب وعجم میں مقبول ہوئیں وہیں موصوف کی اردو کتابیں بھی عوام وخواص میں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھی اورپڑھی جاتی ہیں۔ غرضیکہ بیک وقت عربی ادب وزبان کی مہارت کے ساتھ اردو زبان وادب سے آپ کا گہرا تعلق تھا۔