مولانا نورعالم خلیل امینی کا بورڈنگ پاس ـ معصوم مرادابادی

نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر سعودی ائرلائن کا طیارہ جدہ کی اڑان بھرنے کے لیے تیار ہے۔ مسافر اپنےاپنے بورڈنگ پاس دکھاکر جہاز میں اپنی نشستیں سنبھال رہے ہیں ۔ اچانک مائک پر اعلان ہوتا ہے کہ اگر کسی کو مولانا نورعالم خلیل امینی صاحب کا بورڈنگ پاس کہیں ملا ہو تو وہ کاونٹر پر جمع کرانے کی زحمت کرے۔
مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مولانا امینی اس سفرمیں ہماری رہبری کے لئے موجود ہیں مگر اس بات پر تشویش بھی ہوئی کہ وہ بورڈنگ پاس کے بغیر طیارے میں کیسے سوار ہوں گے ۔بہرحال کچھ ہی دیر میں مسئلہ حل ہوا اور وہ دو ہفتے کے لئے حج کے مبارک سفر میں ہمارے رہبر ہوگئے۔
یہ 2012 کا قصہ ہے۔ سعودی حکومت کی دعوت پر مولانا نورعالم خلیل امینی کے علاوہ جو لوگ شریک سفر تھے ، ان میں مولانا کلیم صدیقی (پھلت) مولانا سلمان حسینی ندوی ( لکھنو ) پروفیسر سید ظل الرحمن( علی گڑھ )اور کشمیر کے محکمہ سیاحت کے ڈائریکٹر فاروق احمد شاہ سمیت کئی دیگر سرکردہ شخصیات شامل تھیں ۔
قسمت کی یاوری دیکھئے کہ مکہ مکرمہ کے ہوٹل میں مولانا نورعالم خلیل امینی ، یہ خاکسار اور فاروق احمد شاہ ایک ہی کمرے میں مقیم ہوئے۔ اس طرح مجھے مولانا امینی کو قریب سے دیکھنے اور جاننے کا موقع ملا۔ یوں بھی سفر اور حضر کسی بھی شخصیت کو سمجھنے کا بہترین وسیلہ ہیں ۔ میں نے پایا کہ مولانا ایک انتہائی متواضع اور منکسر شخصیت کے مالک ہیں ۔ عبادت وریاضت کا یہ عالم کہ جب کبھی رات میں میری آنکھ کھلتی وہ مصلے پر ہوتے۔ کبھی نماز پڑھتے ہوئے اور کبھی اللہ کے حضور میں گڑگڑاتے ہوئے۔ اکثر پوری پوری رات یونہی بسر ہوتی۔ میں نے پہلی بار کسی بندہ خدا کو یوں اپنے رب کے حضور میں گڑگراتے ہوئے دیکھا تھا ۔ ان کے اس عمل کا میرے دل پر خاص اثر ہوا۔ یہ پورے سفر میں ان کا معمول رہا۔ ہاں جب ہم لوگ کھانے کے لیے نیچے ریسٹورنٹ میں جاتے تو وہ انسولین لگانا نہیں بھولتے تھے۔ وہ شوگر کے مریض تھے اور بمبئی کے کسی ڈاکٹر سے اپنا علاج کرارہے تھے۔
ادھر کئی روز سے ان کی بیماری کے بارے میں تشویش ناک خبریں آرہی تھیں تو مجھے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے قیمتی لمحات یاد آرہے تھے ۔ آج صبح ان کے انتقال کی خبر ملی تو دل بیٹھ کر رہ گیا ۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے ایک بے بدل استاد تھے ۔ عربی زبان پر انھیں جو غیر معمولی دسترس حاصل تھی اس کی وجسے انھیں صدر جمہوریہ نے اعزاز سے نوازا تھا۔ عربی زبان پر مہارت کے سبب ہی انھیں عرب دنیا میں بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔وہ دارالعلوم دیوبند کے عربی جریدے ” الداعی” کے ایڈیٹر تھے اور برسوں سے میرے اخبار ” خبردار” کے مستقل قاری بھی تھے۔ اپنے اردو مضامین جو اکثر کسی اہم شخصیت کی موت پر خراج عقیدت کے طور پر وہ انتہائی عرق ریزی سے لکھتے تھے، مجھے اشاعت کے لیے بھیجتے تھے۔ یہ مضمون اتنے مکمل ہوتے کہ مرحوم کی پوری شخصیت ابھر آتی تھی۔ کاش کوئی بندہ خدا مولانا نورعالم خلیل امینی پر بھی ایسا ہی مضمون لکھے جو ان کی علمی، ادبی اور دینی خدمات کا بھرپور احاطہ کرتا ہو۔