مولانا نور عالم خلیل امینی:عجم کا حسنِ طبیعت،عرب کا سوزِ دروں۔نایاب حسن

(پانچویں قسط)

عربی انشا پردازی کا سلسلہ مولانا نے ثانوی تعلیم کے زمانے میں ہی شروع کردیا تھا،جب وہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا وحید الزماں کیرانوی کے زیر تربیت آئے۔ مولانا کیرانوی نے اپنی غیر معمولی اختراعی صلاحیت،بے پناہ ذہانت اور تدریس و تربیت کے جذبۂ فراواں کی بدولت دارالعلوم دیوبند میں عربی زبان و ادب کی عمومی ترویج کے حوالے سے ستر کی دہائی میں کئی انقلابی اقدامات کیے،ان میں سے ایک طلبۂ عربی زبان و ادب کے لیے خاص انجمن ’’النادی الادبی‘‘ کا قیام بھی تھا،اسے مختصر گروپوں میں تقسیم کیا گیا،جس کے تحت ہر ہفتے تقریری پروگرام ہوتے اور ان گروپوں کے زیر اہتمام ہر ماہ عربی زبان میں دیواری پرچے(Wall Magazines) بھی شائع کیے جاتے۔ ایک دوسرا قدم انھوں نے صفِ عربی کے نام سے مدرسے کے روٹینی تعلیمی اوقات کے باہر(خارجی اوقات میں) عربی زبان و ادب کی تعلیم کے لیے اٹھایا،طلبہ کی استعداد اور اخذ و استفادے کی قوت و استطاعت کے اعتبار سے اس کے تین گروپ انھوں نے بنائے ،صفِ ابتدائی،صفِ ثانوی اور صفِ نہائی۔ صفِ ثانوی اور نہائی کو مولانا خود پڑھاتے تھے اور صفِ ابتدائی کے طلبہ کو پڑھانے کے لیے اپنے کسی لائق اور ذی استعداد شاگرد کو مقرر کردیتے ،داخلے والے سال(۶۸۔۱۹۶۷) مولانا امینی نے صفِ ابتدائی میں داخلہ لیا،اس سال اس جماعت کو پڑھانے کی ذمے داری دارالعلوم دیوبند کے موجودہ مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کی تھی،جو دارالافتا کے طالب علم بھی تھے۔ اسی سال سے مولانا نے عربی تحریر و تقریر کی باقاعدہ مشق شروع کی اور اگلے سال صفِ ثانوی میں داخل ہوئے۔ اس سال شروع میں ہی ایک دن مولانا کیرانوی نے تمام طلبہ سے کہا کہ خوش خط اور اچھی عربی میں ایک مضمون لکھ کر لائیں،مولانا امینی نے وقتِ مقررہ پر وہ مضمون ان کی خدمت میں پیش کیا،جو خود ان کے بقول خوش خط تو تھی ہی،ساتھ ہی لغت دیکھ کر خاصی ثقیل عربی میں لکھی گئی تھی،اگلے دن مولانا کیرانوی نے درس گاہ میں کہا کہ زبان و قواعد اور ہینڈ رائٹنگ کے اعتبار سے سب سے اچھی تحریر مولوی نور عالم کی ہے،مگر انھوں نے مقاماتِ حریری والی زبان لکھی ہے،نثرِ مرسل لکھنی چاہیے۔ اور انھیں دیواری میگزین’’النھضہ‘‘ کا مدیر مقرر کیا(ان کے نائب دارالعلوم دیوبند کے موجودہ استاذ و سابق ناظم تعلیمات مولانا مجیب اللہ گونڈوی بنائے گئے اور اسرۃ التحریر میں مولانا مکرم الحسینی مونگیری اور مولانا بدرالحسن قاسمی دربھنگوی بھی شامل تھے۔ یہ محض اتفاق ہے کہ ۲۰۱۰ میں تکمیلِ ادب عربی کی طالب علمی کے سال اسی ’’النھضہ‘‘کے ادارۂ تحریر میں مَیں بھی شامل تھا)۔ مولانا امینی نے یہ واقعہ اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے،اس کا تذکرہ مولانا اعجاز احمد اعظمی نے بھی اپنی خودنوشت’’حکایتِ ہستی‘‘(ص:۲۰۳) میں کیا ہے۔ مولانا امینی مذکورہ میگزین کی ادارت کے علاوہ النادی کے ناظرِ اجتماعات(نگراں) بھی رہے اور اس دوران عربی تقریر و تحریر دونوں میں خوب مشق بہم پہنچائی۔
۱۹۶۹ میں طلبۂ دارالعلوم کی اسٹرائک کے بعد بہت سے دیگر طلبہ کے ساتھ مولانا کو بھی دارالعلوم دیوبند سے علیحدہ ہونا پڑا،وہاں سے مدرسہ امینیہ دہلی آئے اور یہاں خصوصاً مدرسہ کے شیخ الحدیث اور مؤرخِ جمعیت علما مولانا سید محمد میاں دیوبندی(۱۹۰۳۔۱۹۷۵) کی شفقت آمیز و مہربان صحبت و تلمذ کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا کی عملی زندگی نے جس رخ پر سفر شروع کیا اور جس میں انھوں نے کامرانیوں کی نو بہ نو منزلیں سر کیں،اس کی تمہید گو دیوبند کے قیام میں عالمِ وجود میں آچکی تھی،مگر اس کو بال و پر یہیں مدرسہ امینیہ میں ،مولانا سید محمد میاں کی مخلصانہ ،ہمدردانہ و پدرانہ سرپرستی میں لگے،مولانا امینی کے ذاتی احوال اس وقت جیسے تھے،ایسے وقت پر مولانا محمد میاں صاحب جیسے مخلص ترین اور بے لوث استاذ کی دستیابی بلا شبہ ان کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہ تھی،یہی وجہ ہے کہ مولانا امینی تاحیات جن چند شخصیات کے بہت زیادہ ممنونِ احسان رہے اور اپنی بیشتر مجلسوں اور تحریروں میں جن کا تذکرہ احسان شناسی کے بے پایاں جذبے کے تحت کیا کرتے تھے،ان میں مولانا سید محمد میاں دیوبندی بھی تھے۔ مدرسہ امینیہ میں ڈیڑھ دو سالہ (۷۱۔۱۹۷۰) قیام کے دوران مولانا نے درسیات کی تکمیل کے ساتھ اپنے عربی و ادبی ذوق کی نشوونما پر بھی خوب توجہ دی،مدرسہ کی لائبریری کے علاوہ مولانا محمد میاں صاحب کے ذاتی مکتبے سے خاطر خواہ استفادہ کیا،وہاں بیٹھ کر جدید عربی کتابوں کا اس گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کرتے کہ نہ صرف ان کے مضامین و مشتملات کو ذہن میں اتارتے؛بلکہ ان کے مصنفین کے ذریعے مستعمل اہم الفاظ ،صلات ، ترکیبات،تعبیرات،ساختیات،حتی کہ ان میں برتے گئے رموزِ املا پر بھی خوب غور کرتے اور انھیں اپنی تحریروں میں برتنے کی کوشش کرتے۔ ان کے اس جنونِ کتب بینی و ادبی وارفتگی سے ان کے خاص استاذ کے علاوہ اس وقت مدرسہ امینیہ کے مہتمم مولانا حفیظ الرحمن واصف(۱۹۱۰۔۱۹۸۷) بھی بخوبی واقف تھے؛چنانچہ جب مدرسے میں کسی عربی ملک سے کتابوں کا ذخیرہ وہاں آتا،تو وہ مولانا امینی کو خاص طورپر اس کی اطلاع اور ان کے مطالعے کی دعوت دیتے۔ ایسا ایک واقعہ مولانا نے ’’پسِ مرگ زندہ‘‘ میں مولانا واصف کے تذکرے کے ذیل میں تحریر کیا ہے:ایک روز ان سے ان کے دفتر میں جا کے ملا تو فرمانے لگے:مولوی نور عالم صاحب! دہلی میں واقع کویت کے سفارت خانے سے بہت ساری عربی کتابیں خوب صورت خوب صورت سی آئی ہیں،اکثر نئی لکھی ہوئی ہیں،چند ایک قدیم مصنفین کی نئی چھپی ہوئی بھی ہیں، میں نے حضرت مولانا سید محمد میاں کی نشست گاہ والے کمرے کی شیشے کی الماریوں میں انھیں چنوا دیا ہے،میں تو سمجھتا ہوں کہ اللہ نے صرف تمھارے لیے بھجوادی ہیں،جدید عربی میں لکھی ہوئی کتابیں عموماً ہمارے علما پڑھتے ہیں، نہ ان کے مکمل طورپر سمجھ میں آنے کی ہیں،تمھارے لیے اجازت ہے کہ دفتر کے اوقات میں جب چاہو،وہاں آکر مطالعہ کرسکتے ہو،بالخصوص خالی گھنٹوں میں۔(ص:۱۹۵)
۱۹۷۲کے سرِ آغاز میں مولانا دارالعلوم ندوۃ العلما،لکھنؤ منتقل ہوئے،وہاں تدریس اور مطالعۂ کتب کے علاوہ مولانا علی میاں ندوی کی صحبتوں سے خاص طورپر مستفید ہوئے اور عربی انشا پردازی و ترجمہ نگاری کا باضابطہ سلسلہ یہیں سے شروع کیا۔ ’’البعث الاسلامی‘‘ میں ان کے مضامین اور اردو سے عربی تراجم شائع ہونے لگے۔ ۱۹۷۵ میں ندوہ نے اپنا پچاسی سالہ جشن منایا،تو اس موقعے سے مولانا نے ندوے کے تعارف پر مشتمل دسیوں مقالات اور کتابچوں کا اردو سے عربی ترجمہ کیا۔ ندوے میں قیام کا زمانہ چوں کہ عملی زندگی کا دورِآغاز تھا؛ اس لیے مولانا نے پوری تندہی،جاں فشانی اور جدوجہد اپنی شخصیت کی علمی و ادبی تعمیر میں صرف کی،جہاں مولانا علی میاں ندوی،مولانا محمد الحسنی اور دیگر بڑے لوگوں فیض بخشیوں سے متمتع ہوتے رہے،وہیں اپنے قلم میں تاب و تب اور توانائی پیدا کرنے کی بھی خوب کوششیں کیں۔ اس دوران انھوں نے مولانا علی میاں ندوی کی کتابوں’’پاکستانیوں سے صاف صاف باتیں‘‘،’’عصر حاضر میں دین کی تعبیر و تشریح‘‘ ،’’مولانا محمد الیاس اور ان کی دینی دعوت‘‘،’’(أحادیث صریحۃ في باکستان،التفسیر السیاسی للإسلام،مولانامحمد إلیاس ودعوتہ الدینیۃ، اکتوبر ۱۹۸۶ میں دیوبند میں منعقدہ پہلی عالمی ختم نبوت کانفرنس میں کی گئی مولانا علی میاں ندوی کی تقریر کا ترجمہ) مولانا امین احسن اصلاحی کی کتاب ’’دعوتِ دین اور اس کا طریقۂ کار‘‘ (الدعوۃ الدینیۃ وأسلوبھا الأمثل، مولانا سعید الرحمن اعظمی کے اشتراک سے) پروفیسر خور شید احمد کی کتاب ’’اشتراکیت اور اسلام‘‘( الاشتراکیۃ والإسلام، بہ اشتراک مولانا سعید الرحمن اعظمی) مولانا منظورنعمانی کی ’’ایرانی انقلاب،امام خمینی اور شیعیت‘‘،’’شیخ محمد بن عبد الوہاب کے خلاف پروپیگنڈہ اور ہندوستان کے علمائے حق پر اس کے اثرات‘‘ (الثورۃ الإسلامیۃ في إیران،دعايات مكثفة ضد الشيخ محمد بن عبد الوهاب،بعد میں ’’الداعی‘‘ میں ان کے متعدد فکری و دعوتی مضامین کے بھی ترجمے وقتا فوقتاً شائع کیے)،مولانا محمد میاں کی کتاب’’سیاسی و اقتصادی مسائل اور اسلامی تعلیمات و ارشادات‘‘ کے معتدبہ حصے اور مولانا تقی عثمانی کی ’’عیسائیت کیا ہے؟‘‘ اور ’’حضرت امیر معاویہ اور تاریخی حقائق‘‘ (ماھي المسیحیۃ، سیدنا معاویۃ في ضوء الوثائق والحقائق التاریخیۃ) کے ترجمے کیے۔ اس کے علاوہ درجنوں اوریجنل عربی مضامین لکھے اور مولانا علی میاں کی مختلف کتابوں کی تبییض اور پروف ریڈنگ کی۔
ندوے میں قیام کے دوران مولانا امینی ،مولانا علی میاں ندوی کی علمی و ادبی بلند قامتی،خاندانی شرافت،مربیانہ اسلوب اور اخلاص و مروت سے بے پناہ متاثر تھے اور ان سے زیادہ سے زیادہ فیض اٹھانے کی کوشش کرتے، وہیں ایک دوسری شخصیت مولانا محمد الحسنی کی تھی،جو مولانا کو بہت زیادہ اپیل کرتی تھی۔ مولانا نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے :’’ان کی طرزِ نگارش سے میں بہت زیادہ متاثر تھا، میں نے انھیں بہت پڑھا اور بہت پیا اور جذب کیا‘‘۔ یہ واقعہ ہے کہ مولانا محمد الحسنی کی تحریروں میں غیر معمولی جوش،دینی غیرت و حمیت اور لسانی و ادبی شکوہ پایا جاتا تھا،ان کے مضامین عالمِ عربی میں خاص ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے اور قارئین پر خاصا اثر چھوڑتے تھے،وہ جواں مرگ ہوئے اور محض چوالیس سال کی عمر میں وفات پائی،اگر قدرے دراز زندگی ملتی تو ان کی عربی دانی،انشا پردازی اور مفکرانہ شان کے عجیب ہی جلوے دنیا والوں کے سامنے آتے۔ ندوہ کے عربی و اردو رسالوں(’’البعث الاسلامی‘‘ اور ’’تعمیرِ حیات‘‘) نے نکلتے ہی جو قومی و بین الاقوامی شہرت و پذیرائی حاصل کی،اس میں بلا شبہ دیگر عوامل کے ساتھ مولانا محمد الحسنی کی ذاتی ادبی،صحافتی و فکری ہنرمندیوں اور امتیازات کا دخل تھا۔ ان کے عربی مضامین کا پہلا مجموعہ ’’الاسلام الممتحن‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور اس کے لیے انھیں مولانا امینی نے ہی آمادہ کیا اور مولانا حسنی کی ہدایت پر مضامین کا انتخاب بھی انھوں نے ہی کیا تھا،۲۵۶صفحات پر مشتمل یہ کتاب جب۱۹۷۷ میں پہلی بار چھپ کر منظر عام پر آئی،تو اسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اب تک عالمِ عربی و عجمی سے اس کے سیکڑوں ایڈیشن شائع ہوچکے اور ہوتے رہتے ہیں۔
۱۹۸۲ میں مولانا امینی دارالعلوم دیوبند منتقل ہوئے اور یہاں عربی زبان و ادب کی تدریس کے ساتھ ماہنامہ ’’الداعی‘‘عربی کی ادارت ان کے سپرد ہوئی۔ یہ رسالہ اس وقت نوعمر تھا،چند سال پہلے ہی نکلنا شروع ہوا تھا کہ اسے انتظامی اتھل پتھل اور ادارتی عملے کی تبدیلی کا سانحہ جھیلنا پڑا، مولانا امینی نے اسے سنبھالتے ہی اس کی ظاہری و باطنی تحسین و تجمیل پر غیر معمولی محنت کی،رات دن ایک کرکے اسے سجاتے سنوارتے،اس کے لیے معیاری مضامین خود بھی لکھتے اور دوسرے اہلِ قلم سے حاصل کرتے،اسے تیار کرنے اور چھپوانے میں اپنی لسانی و ادارتی مہارتوں کے ساتھ حسنِ طبیعت و نفاستِ ذوق سے بھی خاطر خواہ کام لیتے؛ چنانچہ بہت جلد اس کا معیار و اعتبار عالمی عربی صحافت کے ہم پلہ ہوگیا۔ اس میں مولانا کے عموماً تین مقالات شائع ہوتے،ایک تو اداریہ’’کلمۃ المحرر‘‘کے عنوان سے،دوسرا خاص مضمون’’کلمۃ العدد‘‘کے مرکزی کالم کے تحت،تیسرا’’اشراقہ‘‘کے کالم کے تحت۔ اگر قریبی عرصے میں کسی ایسی علمی،دینی،ادبی یا فکری شخصیت کی وفات ہوتی،جس سے مولانا کو ذہنی انسیت رہی ہو،تو ’’إلی رحمۃ اللہ‘‘ کے کالم کے تحت اس شخصیت کی زندگی اور خدمات پر ایک بھر پور مضمون ہوتا۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ شخصیات و سوانح کے حوالے سے مولانا کی ۹۳۲صفحات پر مشتمل ضخیم اور مقبول و مشہور کتاب’’پسِ مرگ زندہ‘‘ کے بیشتر مضامین پہلے عربی میں ہی لکھے گئے،بعد میں مولانا نے ان کا اردو ترجمہ کیا،یہی حال ان کی زیر طبع کتاب’’رفتگانِ نارفتہ‘‘ اور ’’خاکی مگر افلاکی‘‘کے مسودے کا بھی ہے۔ براہِ راست اردو میں مولانا کی سوانحی کتاب’’وہ کوہ کن کی بات‘‘ ہے،جو انھوں نے اپنے استاذِ گرامی مولانا وحیدالزماں کیرانوی کی یاد میں لکھی تھی اور وہیں سے عربی زبان کے ساتھ ساتھ اردو ادب و انشا میں بھی مولانا کی انفرادیت کے جوہر اہلِ نظر پر کھلے تھے۔
دارالعلوم دیوبند اور ماہنامہ ’’الداعی‘‘ سے وابستگی کے بعد بھی مولانا نے اردو سے عربی ترجمہ نگاری کا سلسلہ جاری رکھا؛بلکہ اسے تیز تر کردیا اور اس کے لیے انھوں نے اکابر دارالعلوم دیوبند حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی،شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور حکیم الاسلام قاری محمد طیب جیسی شخصیات کی تحریروں کا انتخاب کیا۔ مولانا امینی کی علمی بنیادیں دارالعلوم دیوبند اور اس کے اساتذہ و اکابر سے وابستہ تھیں اور خود اپنے مشاہدات و تجربات کی روشنی میں بھی انھیں برصغیر کے اس عظیم ادارے کی خوبیوں،کمالات و امتیازات کا بھرپور ادراک تھا؛اس لیے اس ادارے کی محبت ان کے رگب و ریشے میں پیوست تھی،حالاں کہ وہ اس کے نظام کی بعض خامیوں پر انگشت نمائی میں بھی کوئی باک محسوس نہ کرتے،مگر بہ طور ایک تاریخی و تحریکی ادارہ اور اپنی مادرِ علمی کے اس کی محبت سے مولانا کی روح تک سرشار تھی،جب دارالعلوم دیوبند کے خصائص و اوصاف پر ان کا قلم رواں ہوتا یا ان کی زبان گل افشانی کرتی،تو منظر دیدنی ہوتا،مولانا جذبات کی گہرائیوں میں اتر کر بولتے اور صفحۂ قرطاس پر دل نکال کر رکھ دیتے،اسی جذبے اور تاثر کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے بغیر کسی صلہ و ستایش کی تمنا کے مولانا تھانوی کی مقالاتِ حکمت،اسلام اور عقلیات(لآلي منثورة في التعبیرات الحکیمة عن قضایا الدین والأخلاق والاجتماع،الإسلام والعقلانیۃ)،مولانا مدنی کے مختلف مضامین کا ترجمہ(بحوث في الدعوة والفکر الإسلامي،الحالة التعلیمیة في الھند فیما قبل عھد الاستعمار الإنجلیزي وفیما بعدہ)،قاری محمد طیب کی معروف و متداول اور فکرِ دیوبند کی تفہیم میں غیر معمولی اہمیت کی حامل کتاب علماے دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج (علماء دیوبند واتجاھم الدیني ومزاجھم المذھبي) کے ترجمے کیے۔ قاری محمد طیب صاحب کے تئیں مولانا کے دل میں ایک خاص قسم کا جذبۂ احترام و تکریم پایا جاتا تھا،ان کے حکیمانہ اطوار،خطیبانہ یکہ تازیوں ،خاندانی و نسبی شرافت و وجاہت،علمی و فکری سربرآوردگی اور نصف صدی تک بطور مہتمم دارالعلوم ان کی بے شمار حصولیابیوں سے مولانا امینی بہت متاثر تھے؛چنانچہ مولانا نے عربی زبان میں ان کی سوانح’’العالم الھندي الفرید الشیخ المقرئ محمد طیب رحمہ اللہ‘‘ کے نام سے تحریر کی اور اسے اپنے اشاعتی ادارے (ادارۂ علم و ادب،دیوبند) سے ۲۰۰۱ میں شائع کیا ۔
(جاری)