مولانا نور عالم خلیل امینی( طرزِ تدریس کے حوالے سے ایک طالب علم کے عینی مشاہدہ پر مبنی چند سطریں)-ابرار احمد اجراوی

ہم خاک میں ملنے پہ ناپید نہ ہوں گے
دنیا میں نہ ہوں گے تو کتابوں میں ملیں گے

عربی زبان اور مولانا کا تعلق عاشق و معشوق کا تھا، یک جان دو قالب والا رشتہ ، عربی زبان مولانا کے روم روم میں بسی ہوئی تھی،عربی ان کی رگوں میں خون بن کر گردش کرتی تھی،حالاں کہ وہ اردو زبان کا بھی معیاری ادبی ذوق رکھتے تھے اوربوقت ضرورت و طلب وہ راست طور پر اردو میں بھی اظہار مافی الضمیر کرتے تھے، مگر سچی بات یہ ہے کہ اس باب میں وہ ’مشرک‘ نہیں، ’ موحد ‘تھے ،اگر وہ اردو داںعجمی نہ ہوتے، تو صرف عربی میں لکھتے، وہ سوتے اٹھتے، کھاتے پیتے عربی زبان کا کلمہ ہی پڑھا کرتے تھے۔ ان کی ایک ایک نقل و حرکت، چلت پھرت، نشست و برخاست، انداز و اطوار سے عربی اور عربیت مترشح تھی، ان کے ملبوسات و مشروبات اورمعمولات و ماکولات میں ناظرین کو جو نفاست یا لطافت نظر آتی تھی، وہ سب کیا تھا، یہ ان کی پیاری عربی زبان اور اس کی تہذیب و ثقافت سے الفت و محبت کا اشاریہ تھی۔وہ عربی زبان کی متحرک تجسیم تھے اور جوش ملیح آبادی کے ایک مصرع میں تصر ف کے ساتھ کہ لیجیے کہ’ جسم ہندی میں عربی جان‘ تھی۔ دار العلوم دیوبند نے انھیں عربی زبان کی تدریس اورعربی تحریر کے لیے ہی تو طلب کیا تھا،مولانا نے بڑی محنت وجاں فشانی سے درسیات پڑھی تھیں،رت جگا کرکے درس نظامی کو ذہن نشیں کیا تھا،ان کی کتابی صلاحیت زبردست تھی، سب کچھ لوح قلب پر نقش کالحجر تھا،صرف و نحو پر انھیں ماہرانہ دسترس حاصل تھی،وہ حدیث اور فقہ کی کتاب کا بھی دوسروں سے بدرجہا کام یاب درس دے سکتے تھے، مگران کی تخلیق تو عربی کی پراگندہ زلفوں کی آراستگی کے لیے ہوئی تھی، سو اس زبان کی عظمت و حرمت کی ایک جاں نثار فوجی کی طرح انھوں نے حفاظت کی اور وفاداری بشرط استواری کے تحت انھوں نے تا حیات اسی زبان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ، عرب اور عربی ماحول و فضا سے دور رہ کر عربی زبان کے لیے ایک اجنبی ملک میں اس زبان کی اتنی خدمت کی کہ میر انیس کا یہ شعر دہرانے کو جی چاہتا ہے ؎
گھٹا فکر میں جسم مثل قلم
سراپا کو صرف زباں کردیا
رسالہ الداعی کی ادارت مولانا کے ذمہ تھی، مولانا اور الداعی لازم و ملزوم تھے، ساتھ ہی عربی زبان کی تدریس کے لیے دو پیریڈ(گھنٹے) مولانا کے لیے مخصوص تھے، وہ صبح کے اوقات میں الداعی سے متعلق کاموں کی انجام دہی میں مصروف رہتے تھے اور ظہر بعد ششم عربی کے درجے میں دیوان متنبی کا درس دیتے اور پھر معا بعد آخری پیریڈ میں تکمیل ادب عربی کے طلبہ کو مختارات پڑھاتے تھے ،بس یہی دو گھنٹے تھے، جس میں وہ گھر سے باہر نکلتے تھے، گھنٹہ ختم ہوتا تو وہ کہیں اور نہیں جاتے تھے، سر راہ کسی استاد یا شناسا سے ملاقات ہوگئی تو فبہاونعمت، ورنہ وہ اپنی اسی سبک رفتار کے ساتھ افریقی منزل قدیم میں بالائی منزل پر واقع اپنے گھر لوٹ جاتے تھے، عصر بعد طلبہ کی مختصر مجلس میں رو برو ہوتے، ادھر ادھر کی تفریحی باتیں ہوتیں اور پھر وہی عربی زبان اور قلم و قرطاس کی لیلی سے محو عشق ہوجاتے تھے۔ ان کے کمرے میں عربی دنیا کے اخبارات اور مجلات بے ترتیبی کے ساتھ بکھرے رہتے تھے، وہ اسی صحرائے عربی میں کھوئے رہتے تھے، میں جب تک دار العلوم میں رہا، ان کا کوئی معاون و مساعدنہ تھا، الداعی سے متعلق سارے کام وہ خود نمٹاتے تھے، اداریہ لکھنا ہے، الی رحمۃ اللہ(وفیات) مرتب کرنا ہے، اشراقہ کے لیے کوئی جدید موضوع تلاش کرنا ہے، نئی مطبوعات پر تبصرہ کرنا ہے، انھیں کمپوز کرانا اور ان کی دقت نظری سے پروف خوانی؛ سارے معرکے وہ تن تنہا طے کرتے تھے۔
عنوان ان کے طرز تدریس سے متعلق ہے اور میں نے یہی مناسب سمجھا کہ آج اپنی کج مج اردو میں عربی زبان کے طریقۂ تدریس کا دل فسانۂ عجائب ہی باذوق قارئین کو سنایا جائے کہ مولانا کا مطلوب و مقصود اس دیار میں قرآن و حدیث کی زبان :عربی کی تشہیر و توسیع تھا، وہ اسی زبان کے ادیب تھے،یہی استاد گرامی کا نشان امتیاز تھا اور اسی حوالے سے وہ ملک و بیرون ملک میں جانے اور پہچانے جاتے تھے اور طلبہ عربی زبان کے رموز و نکات سیکھنے کے لیے ہی ان کے ارد گرد ہالہ بنائے رہتے تھے۔ تدریس کے معاملے میں ان کی دو ادائیں مجھے بے حد پسند تھیں، ایک تو یہ کہ وہ عام مدرسین کی طرح لچھے دار ہوائی تقریر سے اجتناب کرتے تھے اور ہمارے مدارس میں تمہیدو تعارف کے نام پر ابتدائی چند ایام جو صرف کتاب ، مصنف کے احوال و آثار، متعلقہ فن وغیرہ کی تاریخ پر بے دریغ ضائع کیے جاتے ہیں، مولانا کو یہ پسند نہ تھا، ان کا مطمح نظر نفس کتاب کی تدریس ہوتا تھا اور یہ چاہتے تھے کہ اس فن یا اس کتاب کے مصنف سے متعلق باتوں کے لیے طلبہ کو خارجی مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہیے۔گرچہ وہ موقع محل کی مناسبت سے دوران درس جب بات کا رخ ادھر مڑتا تو پھر معلومات کا دہانہ بھی کھول دیتے تھے، ثانیوں میں کئی ہفت خواں طے کرادیتے تھے،مگرآپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ وہ پہلے دن ہی کتاب خوانی کی بنیاد ڈال دیتے تھے، عربی ششم کے سال جب دیوان متنبی کا درس انھوں نے دیا تو ہم لوگ اس خام خیالی میں مبتلا تھے کہ آج تو کچھ کرنا نہیں ہے، ایک دو روز ہوائی تقریر ہوگی، جب باضابطہ کتاب شروع ہوگی، تو قلم کاپی کا سہارا لیں گے، مگر یہ کیا کہ مولانا آئے اور عبارت خوانی کا فرمان جاری کردیا۔ پہلے دن ہی دو شعر کے الفاظ و مرکبات کے معانی اور اشعار کی تشریح لکھا اور سمجھاکر چلے گئے۔ دوسری بات یہ کہ مولانا ہر طالب علم سے یہ توقع رکھتے تھے، بلکہ حکم کرتے تھے کہ وہ درس گاہ میں کاپی قلم لے کر ضرور حاضر ہو، صرف بغل میں کتاب دبائے درس گاہ میں اونٹ کی طرح داخل نہ ہوجائے اور ساتھ ہی اس بات کا بھی پابند بناتے تھے کہ میری ہربات، ایک ایک شوشے اور گوشے کو ضرور نوٹ کیا جائے کہ مولانا کتاب اور مواد پر مرکوز بات ہی کرتے تھے،یہ بھی مقصود رہتا ہوگا کہ طلبہ تحریر کی اہمیت و افادیت کو سمجھیں،جو ایک پائیدار ذریعۂ اظہار ہے، گویا وہ طلبہ کو تقریر سے زیادہ تحریر کا دھنی بنانے کے قائل تھے، یوں بھی مولانا رسمی قسم کی دھواں دھار مولویانہ تقریر سے ناجائز کی حد تک چڑھتے تھے۔ دستار بندی اور اصلاح معاشرہ کے عنوان سے رات رات بھر منعقد ہونے والے مدرسی جلسوں میں جانے سے اسی لیے گریزاں رہتے تھے۔
پہلی قسط میں لکھ چکا ہوں کہ میں نے مولانا سے دیوان متنبی بھی پڑھی اور تکمیل ادب کے سال’ مختارات‘ بھی ان سے متعلق رہی۔ اب متنبی کے سال والی باتیں تو خانۂ خیال سے محو ہوچکی ہیں، اس سال والی کاپی یا کوئی یاد داشت بھی سامنے نہیں کہ اس کی ورق گردانی کروں اور اس کی بنیاد پر کچھ لکھوں، میری متنبی والی کاپی ششم ثالثہ کے میرے ہم ضلع ایک ساتھی نے لی تو پھر اس کوواپس کرنے کی نوبت نہ آئی، بغیر ڈکار لیے ہی ہضم کرگیا اور پھر یہ بھی کہ متنبی میں آج کل کی جو قطار اور مطار والی’ جدید عربی ‘چل رہی ہے، اس کے متعلق بات بھی ذرا کم کم ہوتی تھی۔ ہاں مختارات میں مولانا نے جو کچھ پڑھایا، سمجھایا اور لکھایا تھا، وہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے اور بہت سی باتیں میرے ذہن کے نہاں خانہ میں بھی گردش کر رہی ہیں اور خواہی نخواہی جملے کا روپ لینے کو بے تاب ہیں۔ سبھی اپنے تجربات و مشاہدات کی بنیاد پر لکھ رہے ہیں اور لکھیں گے کہ مولانا کے شاگردوں اور مستفیدین کا ایک ہجوم ہے، اس میدان میں پوری عمر نبوت انھوں نے صرف کی ہے،چار دہائی کے عرصہ میں کتنوں نے ان کے چشمۂ صافی سے پیاس بجھائی ہوگی، مگر میں نے جو کچھ محسوس کیا اور سیکھا، اس کی بنیاد پر بلا خوف تردید کہہ سکتا ہوں کہ وہ قواعدکی بھول بھلیاں سے زیادہ زبان پر فوکس کرتے تھے، وہ زبان کی تعلیم و تدریس کے باب میں ۸۰-۹۰ فی صد حصہ زبان کو دینے کے قائل تھے اور باقی حصہ ہی گرامر اور قواعد پر خرچ کرنے کے حامی تھے ، وہ اس عمل سے سخت ناراض ہوتے تھے کہ طالب علم عبارت کے نشیب و فراز ،جملوں کی ساخت ، اس کے بین السطوراور اس کے بطن و باطن میں غور نہ کرے، بلکہ بھانت بھانت کے صرفی نحوی قواعد کے چکر میں پڑا رہے۔ وہ طلبہ کو صرف لمبے چوڑے قواعد ازبرکرانے اور اس کی روشنی میں عربی زبان کی مشق نہ کرانے کے سخت مخالف تھے۔ وہ قواعد سے زیادہ عربی زبان سکھانے اور اس کی تحریری و تقریری تمرین پر زور دیتے تھے اور اس معاملے میں اپنے استاد مولانا وحید الزماں کیرانوی کا بارہایوںحوالہ دیتے تھے کہ مولانا کو عربی عبارت پڑھتے ہوئے کوئی تعبیر ملتی تو وہ اس کی ابتدا و انتہا، اس کے صلات اور طریقۂ استعمال پر غور کرتے تھے، فعل، فاعل اور مفاعیل اور دوسرے متعلقات کی تمیز و تفریق کرتے تھے، اس کی ہیئت کذائی پر دسیوں جملے بناتے تھے، خواہ اس لفظ یا جملے کا ترجمہ انھیں نہ آتا ہو۔ حضرت الاستاد اس حوالے سے مولانا محمد الحسنی کا بھی ذکر کرتے کہ انھوں نے عربی زبان میں مہارت بغیر قواعد پڑھے ہی حاصل کرلی، وہ جملوں میں غور کرنے اور اسی طرز پر جملے بنانے کی مشق کرتے تھے۔ایک بار اس طرح سیکھنے کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ قرآن کا ایک جملہ ہے ’’کان اللہ علیما حکیما‘‘، بس یہ یاد رکھیے کہ کان کے بعد والا اسم ہمیشہ مرفوع اور اس کی خبر ہمیشہ منصوب ہوگی۔ آنکھ بند کرکے اس پر یقین رکھیے اور اسی طرز پر جملے بنائیے۔ قواعد کا رٹا مت ماریے۔ مولانابھی دوران درس اسی پہلو پر ارتکاز تھے اور جب بھی کوئی نیا جملہ اور نئی ترکیب آتی تو مولانا اپنے مخصوص انداز میں جھوم جھوم کرکہتے، دیکھیے مولانا! کتنی شان دار تعبیر ہے، اس مفہوم کو کس طرح ادا کیا گیا ہے، بس اس کو لے اڑ یے اور اسی قسم کے دس پندرہ جملے بنائیے ، یہ تعبیر آپ کی خانہ زاد بن جائے گی اور صفحۂ دماغ سے کبھی محو نہ ہوگی۔ایک خبر میں’لم یعد‘ کی ترکیب مستعمل تھی، اب تک ہم لوگ عاد یعود لوٹنا کے معنی سے واقف تھے، مگر اسی دن پتہ چلا کہ جب یہ بصیغۂ نفی جحد بلم مستعمل ہوتو اس کا اردو میں ترجمہ ہوتا ہے’نہیں رہا‘۔ اس کو لے کر مولانا نے دھڑا دھڑ تقریبا دس جملے بنوائے،کاپی کی مدد سے لکھتا ہوں،دیکھیے:ہو لم یعد عالما(وہ عالم نہیں رہا) ہو لم یعد جاہلا(وہ جاہل نہیں رہا)دار العلوم لم تعد تحتاج الی تکثیر عدد الطلاب(دار العلوم کو طلبہ کی تعداد میں اضافہ کی ضرورت نہیں رہی)لم تعودوا تحتاجون الی تکثییف الجہد(تم لوگوں کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہی) عادت الدول العربیۃ فقیرۃ فی الروحانیات (عرب ممالک روحانیات کے معاملے میں تہی دست ہیں) عادت الہند تحتاج الی ممارسۃ العدل بین الشعب( ہندستان کو عوام کے درمیان عدل کا پیمانہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے)وغیرہ وغیرہ۔
وہ زبان کے معاملے میں ایک مجتہد کا رول ادا کرتے تھے، ہدف یہدف الی کذا، کے معنی و مطلب(کسی چیز کا قصد کرنا) سے ہم سب واقف ہوں گے، مگر اس کا استعمال مثبت معنی میں ہوگا یا منفی معنی میں، ہمیں کیا معلوم، مولانا نے’ تستہدف‘ کے لفظ کے ضمن میں بتایا کہ اس کا استعمال تو منفی معنی میں ہوتا ہے کہ فلاں نے فلاں کو نشانہ بنایا، مگر جب یہ فعل ثلاثی میں مستعمل ہوگا تو پھر یہ مثبت معنوں میں استعمال ہوگا اور اس پر اضافہ کیا کہ یہ بات کسی کتاب یا لغت میں لکھی ہوئی نہیں، بلکہ تتبع و استقرا سے معلوم ہوئی ہے۔ فعل متعدی کا ترجمہ ہمارے مدارس میں کیا اور کیسے کیا جاتا ہے، سب کو معلوم ہے، مفعول بہ پر لازما ’کو‘ کا سابقہ لایا جاتا ہے کہ فلاں نے فلاں کو مارا، مگر مولانا نے ہی ہمیں ایک دن یہ بتایا کہ فعل متعدی کا ترجمہ بسا اوقات کیا بلکہ اکثر اردو میں وجہ اور سبب سے کردیتے ہیں۔ اس سے اردو عبارت میں زور اور حسن پیدا ہوجاتا ہے۔ جیسے انبت المطر النبات(بارش کی وجہ سے پودے اُگے)اگر اس کا روایتی مدرسی ترجمہ کیا جائے کہ بارش نے پیڑ پودوں کو اگایا، تو نازک طبائع پر کتنا گراں گزرے گا۔
مولانا پہلے بآواز بلند ایک ہی عبارت( خبر) کو کئی طلبہ سے پڑھواتے، اتنا پڑھواتے کہ ہم میں سے اکثر کو وہ عبارت ازبر ہوجاتی، پھر وہ مفردات کے معانی آہستہ روی کے ساتھ کاپی میں نوٹ کراتے، اس لفظ کے دوسرے مفردات سے آگاہ کرتے، پھر اس لفظ کو جملوں میں استعمال کراتے، زبانی جملے بنواتے اور پھر اگلے روز اسی تعبیر پر مبنی جملے کاپی میں لکھ کر لانے کا حکم دیتے۔ اگلے روز وہ ان جملوں کو بلا ترتیب و بلا تعیین چیک بھی کرتے تھے اور اس کی تصحیح و ترمیم کرتے جاتے تھے۔مولانا کتاب میں وارد قواعد کی تکرارسے زیادہ اپنے مطالعاتی خزانہ سے نئے نئے قواعد اپنی سادہ ادبی زبان میں بتاتے تھے، ترجمہ کرنے کا گر سکھاتے تھے۔ چند باتیں پڑھے لکھے افراد سے معذرت کے ساتھ مشترک کرتا ہوں، جن سے میرے کان اس وقت تک نا آشنا تھے اور جنھیں جانے بغیرہم جیسوں کے لیے عربی زبان کے میدان میں تقدم و ترقی کا سراغ ملنا بہت مشکل تھا۔
۱-ایک عربی خبر کی سرخی میں فعل مضارع کا صیغہ(یعقد) آیا تو فورا مولانا نے بڑے اعتماد کے ساتھ اس کی یوں تشریح کی:سرخی مختصر ہوتی ہے، عام طور پر اس میں کچھ نہ کچھ محذوف ہوتا ہے، سرخی میں جملہ تام نہیں، ناقص ہوتا ہے، سرخی عام طور پر فعل مضارع سے لگائی جاتی ہے، مگر ترجمہ حاصل مصدر سے کیا جاتا ہے۔ جیسے اجتماع عربی کا مصدر ہے، مگر اس کا اردو میں ترجمہ میٹنگ ہوگا، جو حاصل مصدر ہے۔
۲-ہم لوگ عربی میں معرفہ اور نکرہ کی تفریق تو بآسانی کرلیتے ہیں کہ اس کے مخصوص قواعد ہیں، مگر جب اردو میں ترجمہ کرتے ہیں تو معرفہ اور نکرہ کی تمیز کرنے سے غفلت برتتے ہیں۔ مولانا کو یہ بات سخت ناگوار تھی کہ اردو میں معرفہ اور نکرہ کی صراحتا تمیز نہ کی جائے اور اسی لیے دوران درس کہتے کہ جب بھی نکرہ کا ترجمہ ہوگا تو ایک ضرور کہیں گے، جیسے ایک میٹنگ، ایک شخص وغیرہ۔ اسم معرفہ کے ترجمہ میں ایک دو کا سابقہ نہیں لگائیں گے۔
۳-طلبہ کے سامنے کوئی نامانوس ترکیب آتی، تو نہ صرف مولانا اس کی اچھل کر تشریح کرتے، بلکہ دوسری نئی مثالیں دے کراس کو سمجھاتے اور اس کو ذہن نشیں کراتے، ہم لوگ عموما عدد معدود والی بحث میں غچاکھاجاتے ہیں، عربی عبارت درست ہو تو اردوترجمہ میں ذہن دغا دے جاتا ہے، عبارت میں موصوف صفت پر مبنی ایک ترکیب آئی’’الوزراء الاربعۃ‘‘ (چاروں وزیر) تو مولانا نے اس پر تفریع کرتے ہوئے کہا کہ اگر چاروں وزیر کے بجائے ہمیں’چار وزیر‘کہنا ہو تو ترکیب اضافی: اربعۃ وزراء استعمال کریں گے اور اگر پہلا دوسرا وزیر کا مفہوم عربی میں ادا کرنا ہو تو الوزیر الاول اور الوزیر الثانی عربی بنائیں گے۔ پھر انھوں نے وزیر کے بجائے اس ترکیبی فرق کو ایک دوسرے عربی لفظ ’’الکتاب الثامن‘‘(آٹھویں کتاب)’’ثمانیۃ کتب‘‘(آٹھ کتاب) اور ’’الکتب الثمانیۃ(آٹھوں کتاب) کے ذریعے ذہن نشیں کرایا۔یہ بظاہر معمولی بات ہے، مگر جب اس کی گہرائی میں اتریے، تو اس فرق کا معنی و مطلب سمجھ میں آجائے گا اور فاش غلطی کرنے سے ایک نوسکھیا عربی داں محفوظ رہ سکتا ہے۔
۴-ہم نے نحو کی کتابوں اور لغت میں اب تک بس یہ پڑھا تھا کہ ’ل‘ کا ترجمہ کے لیے، ’من‘ کا ترجمہ سے اور ’فی‘ کا ترجمہ میں اور اندر ہوتا ہے۔ مختارات کے درس میں ان میں سے کوئی ایک لفظ آیا تو مولانا نے ہمیں متنبہ کیا، وہ تو نباض مدرس تھے۔ ہنسے اور بولے کہ اب تک آپ ان الفاظ کے جو ترجمے پڑھ کر آئے ہیں، انھیں بھول جائیے، پھر گویا ہوئے کہ ان تینوں کا استعمال اضافت کے لیے بھی ہوتا ہے۔ پھر اس میں پوشیدہ نکتہ کی تشریح کرتے ہوئے گویا ہوئے کہ چوں کہ کسی اسم کی کسی اسم کی طرف اضافت کرنے کی وجہ سے وہ معرفہ بن جاتا ہے ،حالاں کہ ہمیں اس کو نکرہ ہی رکھنا ہے، ایسے وقت میں ان الفاظ کے ذریعے اضافت کرتے ہیں، مطلب لفظا اضافت تو نہیں ہوتی، مگر معنا وہ مضاف اور مضاف الیہ بن جاتا ہے اوراردو ترجمہ بھی ان تینوں حروف کا’کا‘، ’کے‘، ’کی‘ ہوتا ہے ۔
۵-ہمارے کان اب تک صرف ترکیب اضافی یعنی مضاف مضاف الیہ سے مانوس تھے،جس کا ترجمہ وہی کا، کے ، کی سے کرتے ہیں،مگر مولانا تو ادیب مجتہدتھے، دوران درس ایک ترکیب آئی، مجلۃ النہار، تو فرمایا کہ اس قسم کی اضافت کو اضافت بیانی کہتے ہیں، یعنی مضاف ہی مضاف الیہ کی تشریح و توضیح کررہا ہے، مطلب لفظ صحیفہ نے ہی ہمیں یہ خبر دی کہ ’النہار‘ کسی اور چیز کا نہیں، ایک اخبار کا نام ہے۔ جیسے مجلۃ الداعی کہ یہ بھی اضافت بیانی ہے، لفظ مجلہ، الداعی کی تشریح کر رہا ہے۔
۶-کتاب کے اخباری تراشوں میں جگہ جگہ سماحۃ الشیخ، معالی الوزیر وغیرہ تعریفی و توصیفی الفاظ مستعمل ہوئے ہیں، ہمیں بڑا کنفیوژن تھا کہ اس کا طریقۂ استعمال کیا ہے۔ مولانا نے چٹکی میں یہ مسئلہ حل کردیااور بتایا کہ عزت و مدح والے الفاظ کی یا تو ممدوح کے نام یا لقب کی طرف اضافت کردی جائے، یا دوسری صورت یہ ہے کہ اس عزت والے والے لفظ کو ایک دوسرے لفظ صاحب کا مضاف الیہ بنادیا جائے۔ جیسے معالی الوزیر، سمو الوزیر، فضیلۃ الشیخ، صاحب الفخامۃ، صاحب السعادۃ الدکتور، صاحب الفضیلۃ وغیرہ۔جمع اور بہت سے کے معنی کے لیے اصحاب مستعمل ہوگا۔ جیسے اصحاب الفضیلۃ الاساتذہ، اصحاب المعالی الوزراء، اصحاب السعادۃ وغیرہ۔
۷-ابن کے لفظ سے بلا تخصیص ہم سب کا سابقہ پڑتا ہے، خواہ عربی کا طالب علم ہو یا اردو کا،مگر عربی میں یہ کیسے استعمال ہوگا، اس پر کیا اعراب آئے گا اور اس کا ہمزہ کب ساقط ہوگا؟مبتدیوں کے لیے ہی نہیں، منتہیوں کے لیے بھی ایک معمہ ہے۔ مولانا نے یہ مشکل اس طرح ایک دن حل کی۔ کہا:ابنؔ ماقبل کی صفت بنتا ہے اور اپنے مابعد کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ جب یہ دونوں کے درمیان آتا ہے، تو اس کا ہمزہ ساقط ہوجاتا ہے۔
۸- ہم عربی زبان و ادب کے میدان میں بالکل نو وارد تھے، زبان و بیان کے نکات و اسرار سے ناواقف ، معرفہ اور نکرہ تک کی تمیزتک سے نابلد۔ ہمیں اب تک کسی استاد نے یہ نہیں بتایا تھا کہ اسم معرفہ کے بعد جملہ آئے تو وہ ترکیب میں کیا واقع ہوگا اور اسم نکرہ کے بعد آئے تو کیا بنے گا۔ ایک دن کوئی ترکیب اس قسم کی آئی تو مولانا نے پورے اعتماد کے ساتھ ہمیں بتایا:اسم معرفہ کے بغل میں اگر جملہ آئے تو وہ حال بنے گا اور اگر اسم نکرہ کے بعد جملہ ہو تو وہ صفت بنے گا، کیوں کہ جملہ نکرہ ہوتا ہے۔
۹-چھوٹے چھوٹے مفردات امس، غدا وغیرہ جو اکثر عربی اردو جملے میں مستعمل ہوتے ہیں، تعریب یا تارید کرتے ہوئے انھیں کہاں رکھا جائے، ہم جیسے ضعیف الاستعداد طلبہ کے لیے بڑا گمبھیر مسئلہ تھا۔ایک درس میں ان میں سے کوئی لفظ عبارت میں آیا تو مولانا نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا:چھوٹے چھوٹے الفاظ جیسے امس غدا وغیرہ کا ترجمہ پہلے ہی کرلیا جاتا ہے، عربی سے اردو اور اردو سے عربی دونوں صورتوں میںترجمہ کرتے ہوئے یہ ترکیب اپنائی جائے۔
۱۰-ہم نے نحو کی پہلی کتاب میں ہی’ جمیع‘کا لفظ اور اس کا استعمال پڑھا تھا، قال جمیع الرجال اور قالت جمیع النساء، اچھی طرح ذہن پر نقش تھا،مگر یہ شاید بھول گیا تھا کہ کب اس کا استعمال مذکر ہوگا اور کب مؤنث؟ ایک خبر میں یہ لفظ آیا تو مولانا کی زبان سے یہ تشریحی کلمات نکلے:جمیع ایسا لفظ ہے جو اپنے مضاف الیہ سے طاقت و توانائی لیتا ہے، یعنی اگر اس کا مضاف الیہ مؤنث ہو تو فعل مؤنث آئے گا اور اگر مضاف الیہ مذکر ہے تو فعل مؤنث آئے گا۔ ساری گتھی ایک جملے میں سلجھادی اور ہمیشہ کے لیے لفظ جمیع کا یہ استعمال لوح دل پر نقش ہوگیا۔(تلک عشرۃ کاملۃ)
یہ باتیں ان کے انداز تدریس کی صرف ایک جھلک ہیں، ورنہ یہ ایک بحر بیکراں ہے، جس کے لیے سفینہ چاہیے ، اتنی باتیں صرف آپ بیتی سمجھ کر لکھ دی ہیں اور قدرے تصرف کے ساتھ یہ بھی کہ:
یہ بوجھ کیا اٹھائے کوئی دوسرا قلم
تیری، زبان، تیری کہانی، میرا قلم