مولانا نورعالم خلیل امینی: نغمہ ہندی ہے تو کیا، لَے تو حجازی ہے مری ۔ نایاب حسن

(چھٹی قسط)

مولانا امینی نے اردو سے عربی میں جو مضامین اور کتابوں کے ترجمے کیے،وہ کم و کیف کے اعتبار سے بہت زیادہ ہیں، یعنی ان کی تقسیم اگر صفحات میں کریں،تو کم سے کم پانچ ہزار صفحات بنتے ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ سارے تراجم مولانا کی ذاتی رغبت و شوق کا نتیجہ ہیں، وہ کسی اردو کتاب یا علمی و تحقیقی مقالے کا مطالعہ کرتے اور انھیں محسوس ہوتا کہ اس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے،تو غایتِ شوق ومحنت سے اس کتاب کو نیا پیراہن، نئی زبان عطا کرتے۔ اس کام کے عوض انھیں کوئی مادی منفعت حاصل نہیں ہوئی،ابتدائی(قیامِ ندوہ) دور کے ترجموں کا فائدہ تو بس اتنا ہوا کہ بڑے لوگوں نے دعائیں دیں،حوصلہ افزائیاں کیں اور وہ ترجمے ان کے نام سے شائع ہوئے،دیوبند میں بھی اکابر دارالعلوم کی کتابوں کے جو ترجمے انھوں نے کیے ،ان کی طباعت کے حقوق انھوں نے دارالعلوم کو دے دیے اور وہ مکتبہ دارالعلوم کے زیر اہتمام شائع ہوئے، البتہ چند سال بعد ہی مولانا نے اپنا اشاعتی ادارہ ’’ادارۂ علم و ادب‘‘ کے نام سے شروع کیا اور وہیں سے اپنی کتابیں شائع کرنے لگے۔ چوں کہ ان کی کتابیں علمی جمال اور ادبی کمال سے آراستہ ہوتی تھیں؛اس لیے ہر نئی کتاب کے سیکڑوں نسخے اشاعت سے قبل ہی فروخت ہوجاتے تھے اور چھپنے کے ماہ دو ماہ بعد ہزار نسخوں کا پورا ایڈیشن نکل جاتا تھا ، بسا اوقات سال بھر کے عرصے میں ان کی ایک ہی کتاب کے چار پانچ ایڈیشن شائع ہوتے۔
ترجمے کی طویل اور گہری مشق و ممارست کی وجہ سے مولانا فن ترجمہ نگاری کے تمام تر اسرار و رموز پر حاوی ہوگئے تھے۔ ان کے ترجمے نہایت ہی سلیس،ٹو دی پوائنٹ ہوتے اور متن کے جملہ اغراض و مباحث کا احاطہ کرتے۔ ترجمہ نگاری کے بارے میں ان کا موقف یہ تھا کہ ترجمے میں اصل چیز مترجم الیہ زبان میں متن کی مکمل صورت گری ہے،یعنی ترجمہ نہ ایسا ہیچ پوچ ہو کہ قاری کے کچھ پلے نہ پڑے اور نہ اس میں مترجم کی مداخلت اتنی زیادہ ہو کہ متن کی روح اور مصنف کی مراد ترجمہ نگار کی بے جا فن کاری اور تخلیقی کرشمہ سازیوں کی نذر ہوجائے۔ یہ واقعہ ہے کہ ترجمہ نگاری بڑا نازک کام ہے کہ یہ صرف ایک متنی اظہار کو دوسرے متنی اظہار میں بدلنے کا عمل نہیں؛بلکہ یہ دو قوموں،دو ثقافتوں اور دو تہذیبوں کے درمیان رابطہ کاری کا عمل ہے اور اس میں تھوڑی سی بے توجہی یا فنی عدم آگاہی ترابط و ترسیل کے ہدف کو ناکام بنا دیتی ہے؛ اسی وجہ سے مولانا پہلے تو متن کو باربار پڑھتے ؛بلکہ اسے جذب کرلیتے اور جب اس کے مشمولات مکمل طورپر نقش برذہن ہوجاتے،تب اس کا ترجمہ کرتے اور اپنے ترجمے کی تہذیب، تجمیل اور حسبِ ضرورت حذف و ترمیم پر بہت زیادہ توجہ دیتے ۔ دوسروں کی کتابوں یا تحریروں کے ترجمے میں تو وہ غیر معمولی احتیاط کرتے ہی تھے،خود اپنے مضامین کا بھی جب ترجمہ کرتے تو اس میں بھی غایت درجہ احتیاط کا مظاہرہ کرتے ۔ ان کی کی کئی اردو تصانیف دراصل عربی کتابوں یا مقالات کے تراجم ہی ہیں،مثال کے طورپر ’’کیا اسلام پسپا ہورہا ہے؟‘‘ اور ’’عالمِ اسلام کے خلاف موجودہ صلیبی صہیونی جنگ‘‘ افغانستان و عراق کے خلاف امریکی ریشہ دوانیوں اور ان کی تباہی و بربادی کے وسیع تر صلیبی منصوبوں کے حوالے سے ’’الداعی‘‘کے صفحات میں لکھے گئے ان کے نہایت حقیقت افروز و بصیرت انگیز مقالات کے ترجمے ہیں،اسی طرح ’’پس مرگ زندہ‘‘بھی مرحوم شخصیات پر عربی میں لکھے گئے مضامین کے ترجموں پر مشتمل ہے،جبکہ ’’فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں‘‘،’’صحابۂ رسولﷺ اسلام کی نظر میں‘‘پہلے عربی میں لکھی گئیں اور پھر ان کے اردو ترجمے ہوئے۔ یہ ساری کتابیں،اسی طرح اردو کتابوں کے جو مولانا نے عربی ترجمے کیے،عموماً مارکیٹ میں دستیاب اور متداول ہیں۔ انھیں پڑھ کر بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا امینی کا ترجمہ فنی اصولوں پر کتنا کھرا اترتا ہے۔ ہاں! چوں کہ وہ زبان و ادب اور اسلوب و ادا کا اعلیٰ مذاق رکھنے والے ادیب تھے؛ اس لیے ترجمہ نگاری میں بھی اس قدر احتیاط برتنے کے باوجود وہ مکھی پر مکھی مارنے اور لگے بندھے اصولوں سے چپکے رہنے کو معیوب سمجھتے تھے۔ زبان و ادب کی تدریس میں بھی ان کا یہی طرزِ عمل تھا،وہ روایتی انداز میں نہ پڑھاتے تھے اور نہ اس کو گوارہ کرتے تھے؛کیوں کہ ان کا ماننا تھا کہ کتاب مرکوز تدریس یا رٹا مارنا یا محض حلِ عبارت زبان سیکھنے میں معاون نہیں ہیں،زبان سیکھنے کے لیے اجتہادی اور تجدیدی طریقے اختیار؛بلکہ ایجاد کرنے چاہئیں،یہ خو ان کے اندر ان کے بافیض استاذ مولانا وحید الزماں کیرانوی سے آئی تھی اور اسی کے زیر اثر وہ عربی زبان و ادب کی تعلیم دیتے تھے۔ یہی حال ان کا ترجمہ نگاری میں بھی تھا کہ اس فن کے بنیادی اصول کو سامنے رکھتے،مگر ترجمے کو خوب صورت،جامع،شستہ، سہل الفہم اور شیریں بنانے کے لیے اپنی طرف سے بھی نئے نئے تجربے کرتے۔ اپنے شاگردوں کی بھی اسی طرح تربیت کرتے،ان کی عملی و علمی ہر قسم کی رہنمائی کرتے؛چنانچہ ان کے فیضِ صحبت نے درجنوں ایسے ہیرے تراشے،جو آج عربی زبان و ادب اور فن ترجمہ نگاری میں غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہیں اور ایک دنیا ان سے مستفید ہورہی ہے۔
’’الداعی‘‘ کی ادارت سنبھالنے کے بعد مولانا کو ترجمے کے علاوہ براہِ راست عربی میں لکھنے کا موقع نسبتاً زیادہ ملا،اس کی ایک وجہ ادارتی ذمے داریاں تھی اور دوسری وجہ ان کا اپنا ذوقِ خامہ فرسائی تھا۔ ندوے میں تھے،تبھی سے عربی رسائل و جرائد میں چھپنے لگے تھے،مگر دیوبند آنے کے بعد ’’الداعی‘‘ان کی ادارتی،ادبی،فکری،قلمی و صحافتی جولانیوں کا مرکز و محور بن گیا،حالاں کہ ان کے فکری و ادبی مقالات ’’الدعوۃ‘‘، ’’الحرس الوطني‘‘، ’’الفیصل‘‘، ’’الجزیرۃ‘‘،’’العالم الإسلامي‘‘،’’الندوۃ‘‘ اور ’’المجتمع‘‘جیسے عالمی عربی مجلات و اخبارات میں بھی شائع ہوتے رہے،مگر’’الداعی‘‘میں انھوں نے ہر موضوع پر لکھا،قومی و بین الاقوامی سیاست ہو یا فکری و اسلامی موضوعات،خانگی و سماجی مسائل ہوں یا انسان کی انفرادی و اجتماعی مشکلات،ادبی نکتہ آفرینی ہو یا لسانی مباحث،سوانحی موضوعات ہوں یا تذکرۂ شخصیات اور اہم علمی و فکری مضامین کے عربی تراجم؛ان تمام عنوانات پر ان کا اشہبِ قلم سرپٹ دوڑتا رہا۔
عربی ادب و انشا کے حوالے سے مولانا کا قلم سیال تھا،حالاں کہ وہ کوئی بھی مضمون طبیعت کی مکمل آمادگی کے بعد ہی لکھتے،جس میں صحیح معلومات کی فراہمی،پھر زبان و اسلوب کی سطح کے جملہ اصول و ضوابط کو سو فیصد برتتے تھے،مگر چوں کہ تدریسی ذمے داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے بعد وہ اپنے آپ کو پوری طرح قلم و قرطاس کی ہم نشینی کے لیے وقف کیے رکھتے تھے؛اس لیے وہ ’’الداعی‘‘کے ہر شمارے میں عموماً تین اور کبھی کبھی چار مضامین بھی لکھا کرتے تھے،اس طرح ہزاروں صفحات تو انھوں نے صرف ’’الداعی‘‘ میں لکھے،اس کے علاوہ باقاعدہ عربی زبان میں جو کتابیں لکھیں سو الگ۔ مولانا کی اوریجنل عربی کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ دارالصحوۃ، قاہرہ،مصر سے شروع ہوا اور ۸۹۔۱۹۸۸میں وہاں سے بالترتیب ان کی چار کتابیں شائع ہوئیں۔ایک کتاب مراکش سے اشاعت پذیر ہوئی،جبکہ پانچ کتابیں دیوبند سے چھپیں۔
(جاری)