مولانا نور عالم خلیل امینی:اس کا اندازِ نظر اپنے زمانے سے جدا- نایاب حسن

(آٹھویں قسط)

مولانا نے عربی سوانح نگاری کے فن کو بھی نئی بلندیوں پر پہنچایا اور ہندو بیرون ہند کی نمایاں شخصیات کے سانحۂ ارتحال کے موقعوں پر ’’الداعی‘‘کے کالم’’إلی رحمۃ اللہ‘‘ میں ان کی زندگی اور کارناموں پر گراں قدر سوانحی مضامین لکھے،جونہ صرف مولانا کے حسنِ نظر اور دلکش اسلوبِ نگارش کا دل انگیز مرقع ہوتے؛بلکہ ان شخصیات کی علمی ،ادبی، عملی و ملی زندگی سے متعلق جملہ ضروری اور اہم معلومات کے حوالے سے دستاویزی نوعیت کے حامل ہوتے تھے۔ جن لوگوں پر بہت زیادہ لکھا گیا یا لکھا جاتا رہا،ان پر بھی اگر مولانا نے لکھا،تو منفرد لکھا،دلچسپ لکھا،دلنشیں لکھا،وجد آفریں لکھا اور دل آگیں لکھا۔
اس حوالے سے سلسلۂ گفتگو آگے بڑھانے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عربی زبان و ادب میں سوانح نگاری کے ماضی و حال کا سرسری جائزہ لے لیا جائے؛تاکہ اس پس منظر میں مولانا کی سوانح نگاری کے امتیازات کماحقہ روشن ہوسکیں۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ عربی زبان میں سوانح نگاری کی بنیاد اسی وقت پڑچکی تھی،جب دنیا کی کسی بھی زبان کا ادب اس صنف سے ناآشنا تھا اور اسی زمانے میں اس کے کئی گوشے اور شعبے بھی عالمِ وجود میں آگئے تھے۔ اس کی دو وجہیں تھیں:ایک تو نبی پاکﷺ کی مبارک زندگی سے بعد کی امت کو آشنا کروانے کے لیے آپ کی حیات اور تمام ترحرکات و سکنات کو حیطۂ تحریر میں لانا،جسے سیرت نگاری کا نام دیا گیا۔ دوسری یہ کہ جب پہلی صدی ہجری میں علمِ حدیث کی تدوین کا کام شروع ہوا،تو احادیث کی صحت و استناد کو جانچنے کے دیگر ذرائع کے ساتھ ایک فن’’اسماء الرجال‘‘کا وجود میں آیا ، جس میں روایانِ حدیث کے احوالِ زندگی کی روشنی میں ان کی ثقاہت و غیر ثقاہت،عادل و غیر عادل وغیرہ ہونے کے فیصلے کیے جاتے اور اسی کے مطابق ان سے مروی حدیثوں پر صحت و عدم صحت وغیرہ کا حکم لگایا جاتا۔
ابتدائی صدیوں میں ہی سوانح نگاری کا یہ فن اس قدر ترقی کرتا گیا کہ اہلِ قلم اور مصنفین نے ایسی کتابیں لکھنا شروع کیں،جن میں مخصوص طبقۂ افراد و اشخاص کے تذکرے کیے جاتے تھے،مثال کے طورپر کسی نے صرف صحابہ کا احوال لکھا،کسی نے تابعین پر لکھا،کسی نے شاعروں کو موضوع بنایا،کسی نے مفسرین کا تذکرہ لکھا،کسی نے نحویوں کے سوانح تحریر کیے،اسی طرح محدثین،قرا،فقہا،اطبا،صوفیا،فلاسفہ و حکما،قضات اور وزرا اور اربابِ سیاست و ثقافت کے مخصوص سوانح لکھے گئے۔ یہاں تک کہ خودنوشت سوانح لکھنے کا دور بھی آیا۔
اس سلسلے کی قدیم ترین تالیفات میں امام بخاری کی تاریخ(کبیر،اوسط اور صغیر) ہے ،جو تیسری صدی ہجری(دسویں صدی عیسوی) میں لکھی گئی۔ اسی عہد میں محمد بن سعد بن منیع بصری زہری(وفات:۲۰۷ھ) کی مشہور کتاب ’’الطبقات الکبری‘‘ یا ’’کتاب الطبقات الکبیر‘‘ شائع ہوئی،جسے عرفِ عام میں ’’طبقات ابن سعد‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہے۔اس میں سیرتِ پاک،صحابۂ کرام،تابعین و تبع تابعین کے مختلف طبقات کا تذکرہ ہے۔ اسی زمانے میں محمد بن سلام بن عبداللہ بن سالم الجمحی البصری(وفات: ۲۳۱ھ) کی ’’طبقات فحول الشعراء‘‘ شائع ہوئی،جس میں انھوں نے اہم شعرا کے احوال لکھے تھے۔
عربی میں سیرت کا اطلاق ابتداءاً صرف حضور ﷺ کے حالات زندگی پر ہوتا تھا اور ’’سیرت ابن ہشام‘‘ اس حوالے سےسب سے مشہور کتاب ہے،جبکہ دیگر تقریباً تمام تاریخ کی کتابوں میں حضورﷺ کی زندگی کا احوال ملتا ہے۔ خاص سیرت النبیﷺ پر بھی سیکڑوں چھوٹی بڑی کتابیں لکھی گئیں۔ تیسری صدی ہجری میں احمد بن یوسف الدایہ نے مصر میں طولونی سلطنت کے بانی کی سیرت ’’احمد بن طولون‘‘ لکھی،جو سیرت کے عنوان سے حضورﷺ کے علاوہ کسی کی سوانح پر لکھی جانے والی پہلی کتاب تھی،چوتھی صدی ہجری میں اسی نام سے ایک دوسرے مؤرخ عبداللہ البلوی نے بھی ایک کتاب لکھی۔ پانچویں صدی میں محمود غزنوی کی سوانح ’’سیرت سلطان محمود غزنوی‘‘ کے نام سے ابوالنصر العتیبی نے لکھی۔ بعد کی صدیوں میں ابن الجوزی،فخرالدین رازی اور ابن شداد وغیرہ نے بھی سیرت کے عنوان سے مختلف علمی و سیاسی شخصیات کی سوانح لکھی۔
خاص صحابہ کے احوالِ زندگی پر ابن عبدالبر کی’’الاستیعاب في معرفۃ الاصحاب‘‘ ابن اثیر کی ’’الکامل في التاریخ‘‘ اور ابن حجر عسقلانی کی’’الاصابۃ في تمییز الصحابہ‘‘مشہور و اہم ہیں۔
محدثین اور اہل علم و ادب کے حالات زندگی میں کمال الدین انباری کی ’’نزہۃ الالباء فی طبقات الادبا‘‘،یاقوت حموی کی ’’معجم الادبا‘‘،ابن خلکان کی ’’وفیات الاعیان‘‘ ،شمس الدین ذہبی کی ’’تذکرۃ الحفاظ‘‘،’’سیر أعلام النبلاء‘‘،میزان الاعتدال‘‘مشہور و متداول ہیں۔ کئی لوگوں نے ایک ایک صدی کے اَعلام کو موضوع تحریر بنایا اور باضابطہ کتابیں لکھیں۔ اس سلسلے کی اولین کتاب معروف ادیب ، امامِ نحو و لغت اور سیکڑوں کتابوں کے مصنف ابومنصور عبدالملک بن محمد بن اسماعیل ثعالبی کی ’’یتیمۃ الدہر‘‘ہے، جس میں صرف چوتھی صدی ہجری کے شعرا کا تذکرہ ہے۔ علم الدین برزانی نے ’’مختصر المأۃ السابعۃ‘‘میں ساتویں صدی کے عظما کا تذکرہ کیا،کمال الدین ادفوی مصری نے’’البدرالسافر وتحفۃ المسافر‘‘ لکھی،آٹھویں صدی ہجری میں ابن حجر عسقلانی کی ’’الدررالکامنۃ في أعیان المائۃ الثامنۃ‘‘منظر عام پر آئی، علامہ سخاوی نے ’’الضوء اللامع لأھل القرن التاسع‘‘میں نوویں صدی کے اربابِ کمال کا تذکرہ کیا،محی الدین عبدالقادر العیدروس نے’’النور السافر عن أخبار القرن العاشر‘‘ میں دسویں صدی کے اہل علم و فضل کا تذکرہ کیا، نجم الدین محمد الغزی نے بھی ’’ الكواكب السائرة بأعيان المئة العاشرة‘‘لکھی، محمد امین المحبی نے ’’خلاصة الأثر في أعيان القرن الحادي عشر‘‘میں گیارہویں صدی کے اہلِ علم کا احوال لکھا،محمد خلیل المرادی نے’’سلك الدرر في أعيان القرن الثاني عشر‘‘ میں بارہویں صدی کے اربابِ کمال کا ذکر کیا۔عبدالرزاق البیطار نے ’’حلية البشر في تاريخ القرن الثالث عشر‘‘ میں تیرہویں صدی کے علما و فضلا پر لکھا۔ عبدالحی الحسنی نے ہندوستان کے اہل علم و فضل کا تذکرہ’’نزہۃ الخواطر‘‘کے نام سے آٹھ جلدوں میں لکھا۔ سال بہ سال سوانح لکھنے کا چلن بھی عربی زبان میں بہت پہلے شروع ہوا،اس سلسلے کی قدیم ترین کتاب محمد ابن شاکر کی ’’عیون التاریخ‘‘ ہے،ابن الجوزی نے ’’المنتظم‘‘میں ،ابن کثیر نے’’البدایہ والنھایہ‘‘میں اور ابن العماد حنبلی نے’’شذرات الذہب‘‘ میں یہی اسلوب اختیار کیا ہے۔اسی طرح کسی خاص فن کے ماہرین سے مختص سوانح لکھنے کا رواج بھی عربی زبان میں ایک زمانے سے ہے اور اس حوالے سے بھی آپ کو عربی میں درجنوں کتابیں ملیں گی۔
جدید عربی ادب میں شیخ علی طنطاوی،عباس محمود عقاد،محمد حسین ہیکل،طہ حسین،احمد امین،شیخ ابوزہرہ،عبدالحلیم الجندی،عبدالفتاح عبدالمقصود،امین الخولی وغیرہ سوانح نگاری کے حوالے سے معروف و متعارف نام ہیں۔
مولانا نور عالم خلیل امینی نے ۱۹۸۲ میں الداعی کی ادارت کے سنبھالنے کے بعد سے لے کر ۳ مئی ۲۰۲۱ کو وفات پانے تک کے دورانیے میں کم و بیش تین سو شخصیات پر سوانحی و تاثراتی مضامین تحریر کیے۔ ان میں برصغیر کے اہلِ علم و فکر و سیاست کے علاوہ عالمِ عربی و اسلامی کے بہت سے حکمران،سیاست دان،ادبا،دعات اور علما و فضلا بھی شامل تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ ایسی کسی بھی شخصیت کا انتقال ہوتا، جس کا علم و ادب و سیاست و سماج کے حوالے سے نمایاں کردار رہا ہو اور وہ مولانا کے ذوق و شعور کو کلیتا یا کسی بھی حد تک اپیل کرتی ہو،تو مولانا اس کی وفات کےفوراً بعد اس کے تعلق سے ایک بھرپور تاثراتی مضمون لکھتے۔ اگر مولانا کی کبھی اس سے ملاقات ہوئی ہو،تو پھر ان کی تحریر کا رنگ اور بھی شوخ اور مزے دار ہوجاتا۔ شخصیات کی اوصاف نگاری یا ان کے خصائص و شمائل کی منظر کشی میں مولانا کو خصوصی مہارت حاصل تھی اور اس میں غیر معمولی بصیرت ،دقت نظری اور ژرف نگاہی کا ثبوت دیتے۔ اپنی ہر تحریر میں تو وہ معلومات کے وفور اور صحت پر توجہ دیتے ہی تھے،مگر شخصیات پر لکھتے وقت اس حوالے سے مزید دیدہ ریزی کا مظاہرہ کرتے۔ کوشش کرتے کہ متعلقہ شخصیت پر وہ تمام اہم اور ضروری معلومات زیرِ قلم آجائیں،جو ہر قاری یا آیندہ ان پر لکھنے والے کے لیے نہایت مفید ثابت ہوں؛چنانچہ وہ مرحومین کی تاریخ پیدایش و وفات سے لے کر علمی و عملی زندگی کے ہر گوشے کو صحتِ معلومات کے ساتھ درج کرنے کا اہتمام کرتے،سنی سنائی باتوں اور خبروں پر اعتماد کرنے کی بجاے تمام تر تگ و دو کرکے براہِ راست ان کے ورثا اور حقیقی و صلبی اخلاف سے تمام تفصیلات معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔ مضمون کے آخر میں متعلقہ شخصیت کی پیدایش سے وفات تک کی اہم اور مرکزی معلومات اور حصولیابیوں کی تفصیلات علیحدہ درج کرنے کا اہتمام کرتے۔ سوانح نگاری میں اس جدید و مفید روایت کی طرح مولانا نے ڈالی۔ ان کا کمال یا اختصاص یہ بھی تھا کہ عموماً ’’الداعی‘‘ کے چار پانچ اور کبھی ان سے زائد یا کم صفحات میں تحریر کردہ ان کے سوانحی مضمون کو پڑھ کر متعلقہ شخصیت کی ایک ایسی تصویر نگاہوں کے سامنے پھر جاتی ،جس میں وہ اپنی تمام تر حرکات و سکنات اور علمی و عملی سرگرمیوں سمیت متحرک نظر آتی ۔
جن شخصیات پر انھوں نے لکھا،ان میں ہندوستان کے اکابر اساتذہ و متعلقین و منتسبین کے علاوہ عالم عربی و اسلامی کے سربراہانِ حکومت، علما، ادبا،شعرا،مبلغین و دعات ؛سب شامل تھے۔ خود ہندوستان کی ہی سطح پر دیکھیں تو مولانا نے ’’الداعی‘‘ کے ذریعے نہ صرف دارالعلوم دیوبند،ندوہ،مظاہرعلوم اور دیگر مختلف اداروں اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے درجنوں اکابر علماے ہند کو عرب دنیا میں متعارف اور ان کی خدمات سے عربی حلقوں کو روشناس کروایا؛ بلکہ کئی ہندوستانی مسلم سیاست کے بڑے نام مثلاً سلیمان سیٹھ،غلام محمود بنات والا،صلاح الدین اویسی وغیرہ پر بھی ان کی وفات کے بعد تاثراتی مضامین تحریر کیے۔ مولانا چوں کہ عربی زبان کے جید عالم و ادیب تھے اور معاصر عربی ادب کے تمام رنگوں سے واقف و آگاہ؛اس لیے دنیا بھر کے عرب ادبا،شعرا اور اہلِ فکر و قلم کے احوال اور سرگرمیوں پر نظر رکھتے،ان میں سے بہتوں سے ذاتی تعلق بھی تھا،سو جب ان خادمانِ ادب و قلم میں سے کسی کی رحلت کا سانحہ پیش آتا ،تو مولانا ان پر بھی لکھتے اور انھیں خراجِ تحسین پیش کرتے۔ مثال کے طورپر جامعۃ الامام محمد بن سعود، ریاض کے پروفیسر،سیکڑوں علمی و فکری کتابوں کے مصنف ڈاکٹر عبدالحلیم عویس مصری سے مولانا کے گہرے روابط تھے،سو ان کی وفات پر ’’الداعی‘‘میں سیر حاصل مضمون لکھا،ان کے علاوہ عرب علما،ادبا و شعرا میں عبدالعزیز بن عبداللہ الخویطر، سعودی ادیب عبداللہ نور، عالمِ عربی کے مشہور اخبار’’الشرق الاوسط‘‘ کے بانی ہشام علی حافظ، شاعر و ادیب عبداللہ بن حمد القرعاوی، شیخ محمد احمد باشمیل، ادیب و مصنف عبدالعزیز بن عبدالمحسن التویجری السعودی،شیخ عبدالعزیز بن عبدالرحمن المسند السعودی، محدث و فقیہ عبدالقادر ارناؤوط، ڈاکٹر بکر بن عبداللہ ابوزید السعودی،ممتاز فلسطینی شاعر محمود درویش،اردنی شاعر یوسف العظم، معروف مصری ادیب و ناول نگار نجیب محفوظ،عبداللہ بن عبدالرحمن الجفری،امام مسجد حرام شیخ محمد بن عبداللہ السبیل وغیرہ جیسی شخصیات بھی مولانا کے زیر قلم آئیں۔ عالم اسلام کی دعوتی تحریکوں اور شخصیات سے بھی مولانا کی گہری واقفیت اور ان کے تئیں قلبی ہمدردی تھی،سو جب کسی ایسی شخصیت کا انتقال ہوتا،جو شعبۂ دعوت و تبلیغ میں نمایاں و ممتاز رہی ہو،تو اس کی حیات و خدمات کو اجاگر کرنا بھی مولانا اپنی قلمی و دینی ذمے داری سمجھتے؛چنانچہ متعدد ہندی دعات و مبلغین پر لکھنے کے ساتھ شیخ احمد دیدات،زینب الغزالی اور مریم جمیلہ وغیرہ پر بھی مولانا نے سیر حاصل اور چشم کشا مضامین تحریر کیے۔
عربی کے ساتھ اردوزبان و ادب سے مولانا کی دلچسپی قدیم و عمیق تھی اور اردو ادیبوں،شاعروں اور دانشوروں کو بھی مسلسل پڑھتے اور ان کی خدمات پر نظر رکھتے،ان میں سے کئیوں سے مولانا بہ وجوہ متاثر بھی رہے،سو جب ان میں سے کسی کا انتقال ہوتا،تو مولانا ان پر بھی جان دار و طرح دار تاثراتی مضمون لکھتے،اس ضمن میں معروف محقق و مدون رشید حسن خاں، اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر و صاحبِ اسلوب مصنف سید حامد،ممتاز دانشور اور مؤرخ و مصنف رفیق زکریا،اردو کے ممتاز استاذ اور تنقید نگار پروفیسر عبدالمغنی، محقق و ناقد خواجہ نثار احمد فاروقی،باکمال شاعر و افسانہ نگار احمد ندیم قاسمی،مشہور شاعر حفیظ بنارسی، معروف صحافی انورعلی دہلوی،دل گداختہ کے شاعر و نثار کلیم احمد عاجز وغیرہ پر مولانا کی تحریریں نہایت عمدہ ،معلومات افزا،دلکش و شاندار تھیں۔ اردو حلقوں میں یہ سارے نام نہایت معروف و متعارف ہیں اور اردو میں ان پر خوب لکھا گیا اور لکھا جارہا ہے،مگر عربی میں ان پر مولانا کے علاوہ شاید ہی کسی نے لکھا ہوگا۔ سوانحی سلسلے کی آخری تحریر مولانا نے اپنی بیماری اور وفات سے دو ہفتے قبل امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی پر لکھی تھی، جو ’’الداعی‘‘ کے پانچ صفحات پر مشتمل ہے، جون-جولائی ۲۰۲۱ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے اور ان کی زندگی کی جملہ علمی،ملی،سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مختصراً احاطہ کرتی ہے۔ تقریباً نصف صدی کے عرصے میں دنیا بھر کی تین سو سے زائد علمی، فکری، سیاسی،سماجی،ادبی،دعوتی و اصلاحی شخصیات پر تحریر کردہ تمام مضامین کو نظرِ ثانی اور ضروری ایڈٹنگ کے بعد کتابی صورت میں شائع کرنے کا منصوبہ مولانا کے زیرِ غور تھا،نام’’في موکب الخالدین‘‘تجویز کیا تھا،مگر اسے عملی جامہ پہنانے سے پہلے خود قافلۂ رفتگاں میں شامل ہوگئے۔ امید ہے مولانا کے پسماندگان اور باتوفیق صاحبزادگان اس اہم ترین منصوبے کی تکمیل کی تدبیر کریں گے۔
(جاری)