مولانا نور عالم خلیل امینی:شمعِ محفل کی طرح سب سے جدا،سب کا رفیق(۱)-نایاب حسن

(دسویں قسط)

مولانا کی تمام تر صحافتی و قلمی سرگرمیوں میں ایک خاص قابلِ توجہ چیز ان کی قومی ، ملی و انسانی فکر مندی تھی،جس کا دائرہ اپنے وطن ہندوستان سے لے کر تمام عالمِ اسلام کو محیط تھا،وہ بلا شبہ ایک آفاقی فکر کے حامل صحافی،ادیب و مصنف تھے،وہ واقعات و معاملات کو عام صحافیوں اور پیشہ ور لکھاریوں کی طرح محدود کینوس اور ظاہری پس منظر میں رکھ کر نہیں دیکھتے تھے؛بلکہ وہ ان کے اصل مصادر تک پہنچنے کی کوشش کرتے،ان کے دیر پا نتائج و عواقب کی نشان دہی کرتے اور اپنی باخبری و بیدار مغزی،درست معلومات تک رسائی کی بے مثال خو اور معاملے کی تہہ تک پہنچ جانے کی غیر معمولی صلاحیت کی بدولت ان کے اصل عوامل و محرکات کی بھی بر وقت نشان دہی کردیتے ۔

جہاں وہ ہندوستان کے کسی بھی خطے اور گوشے میں رونما ہونے والے کسی فرقہ وارانہ فساد یا بڑی سیاسی تبدیلی،سماجی انتشار کے کسی بڑے سانحے یا قومی تانے بانے کو نقصان پہنچانے والے کسی حادثے سے بے چین ہوجاتے اور اس پر زوردار ،بے لاگ و حقیقت افروز مضمون لکھتے اور عالمِ عربی کے سامنے ہندوستان میں،خصوصاً یہاں کے مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تمام تر جزئیات و تفصیلات پیش کرتے ہوئے عالمی برادری اور انصاف پسند انسانی طبقات کو حقیقت بینی و اخلاقی و انسانی ہمدردی کے اظہار کی دعوت دیتے،وہیں خود اسلامی دنیا کے مختلف ملکوں میں آئے دن ہونے والی عظیم الشان تبدیلیوں پر بھی مولانا کی گہری نظر رہتی تھی اور دیوبند کے چھوٹے سے قصبے میں بیٹھ کر وہ بالخصوص عرب ملکوں اور بالعموم دنیا بھر کے سیاسی احوال و واقعات،خصوصاً وہاں کے مسلمانوں کے معاملات و مسائل پر نظر رکھتے،نہ صرف نظر رکھتے؛بلکہ ان کے حوالے سے ایسی سنجیدہ تجزیاتی تحریریں لکھتے،جن کی قدر خود ان عربی ملکوں میں ہوتی اور بہت سی دفعہ ایوانِ حکومت کے سربراہ بھی مولانا کی صحافتی بصیرت اور فکری ثقابت و ثقاہت کے قائل ہوجاتے۔ مولانا حقیقی معنوں میں مفکرِ اسلام و مسلمین تھے،جن کا دل تمام عالم کے مسلمانوں؛بلکہ مظلوم و مقہور انسانوں کے لیے دھڑکتا تھا،ان کی خوشی سے خوش ہوتا اور ان کے دکھ سے دکھی ہوجاتا تھا،وہ جو سعود الصاعدی نے کہا ہے:

وأینما ذُکر اسمُ اللہ في بلد

عددتُ أرجائَہ من لُبِّ أوطاني

(دنیا کے جس خطے میں بھی اللہ کا نام لیا جاتا ہے،میں اسے خاص اپنا وطن سمجھتا ہوں)

تو ہمارے مولانا کا بھی یہی حال تھا،اپنے وطنِ اصلی سمیت روئے زمین کے ہر خطے سے،وہاں کے بندگانِ خدا کے احوال سے باخبر رہتے اور ان کے تئیں فکر مند رہتے۔ وہ ابوفراس حارث بن سعید الحمدانی التغلبی الربعی(۳۵۷۔۳۲۰ھ) کے اس شعر کا بھی مصداق تھے:

ومن مذهبي حبُّ الديارِ لأهلها
و للناسِ فیما یعشَقون مَذاھبُ

(میرا طریق ہے کہ میں کسی مکان سے اس کے مکینوں کی وجہ سے محبت کرتاہوں اور محبت میں لوگوں کی اپنی اپنی راہ ہوتی ہے)

سو وہ اپنے ہم مذہبوں کی وجہ سے ان کے ملکوں سے بھی محبت کرتے اور تحریر و بیان میں اس کا برملا اظہار بھی کیا کرتے۔

۱۹۸۲میں ’’الداعی‘‘ کی ادارت سنبھالنے کے بعد ہی مولانا نے اس کے اداریے اور دیگر کالموں میں ملکی و عالمی سیاسی احوال و مسائل پر مسلسل لکھنا شروع کیا؛چنانچہ آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش مختلف النوع مشکلات ان کے مطالعے و مشاہدے میں رہے،جن پر مولانا وقتا فوقتاً بصیرت افروز و فکر انگیز مقالات لکھتے رہے،بطور خاص فرقہ وارانہ فسادات کے مسئلے پر مولانا نے اعداد و شمار اور زمینی حقائق کی روشنی میں خوب لکھا اور عالم عربی و اسلامی ، تمام عالمی برادری اور حق و انصاف و انسانیت کی حفاظت کی بانگ بلند کرنے والے سبھی اداروں کو ہندوستانی جمہوریت کے تضادات اور فرقہ وارانہ کشمکش سے روشناس کرواتے رہے۔ درجنوں ایسے تجزیاتی مضامین لکھے،جن میں ہندوستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی حقیقت،تاریخ،اسباب و وجوہات اور ان کے پس پردہ کام کرنے والے سیاسی و غیر سماجی عناصر کو طشت ازبام کیا،آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کی اجتماعی و انفرادی زندگی کو درپیش خطرات سے باخبر کرتے رہے اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تدبیریں بھی بتائیں ۔ اس سلسلے میں ’’الداعی‘‘کے ادارتی کالموں میں مولانا کے مضامین،جو’’ما وراء الاضطرابات الطائفیۃ في الھند‘‘،’’الجیل الھندوکي الجدید لا یری للمسلم الھندي حق البقاء في الھند‘‘،’’محنۃ المسلمین في الھند‘‘،’’استمرار الاضطراب الطائفي‘‘،’’نحو دراسۃ لأسباب الاضطراب الطائفیۃ‘‘ جیسے عناوین کے تحت آئے،ان میں مولانا نے اسی اور اس کے بعد کی دہائیوں میں بہار،یوپی،مہاراشٹر،حیدرآباد،آسام،گجرات اور ملک کے دیگر خطوں میں رونما ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی جزئیات اور ان کے اسباب و نتائج پر تفصیلی گفتگو کی ۔ یہ مضامین ہمیں پچھلے چالیس سال کے دوران ہندوستان میں فرقہ واریت کے پھیلاؤ اور عروج کے اسباب و عوامل کی گہری تفہیم فراہم کرتے ہیں۔ مولانا نے فرقہ وارانہ ذہنیت کے پنپنے اور سماجی ہم آہنگی کو پراگندہ کرنے والے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک مضمون میں واضح انداز میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے تئیں نفرت کی نفسیات یا انھیں غیر ملکی باور کرنا اور وطن کے تئیں ان کی وفاداری کو مشکوک سمجھنا نہ تو خود اس ملک کے ہندووں کے لیے مفید ہے اور نہ مجموعی طورپر اس ملک کے لیے مفید ہے،جب تک اس قسم کی ذہنیت باقی ہے،فی الجملہ ملک ہی کا نقصان ہوگا؛کیوں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے اٹھائے جانے والے کسی بھی قدم سے صرف مسلمانوں کو ہی نقصان نہیں ہوتا،اوروں کو بھی ہوتا ہے،بھلے ہی کمیت و کیفیت کا فرق ہو۔ راحت اندوری کا زبان زد خاص و عام شعر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

مولانا نے ستمبر ۱۹۸۳ کے اداریے میں ایک حتمی بات لکھی اور اڑتیس سال بعد آج بھی ان کی یہ بات حرف بہ حرف درست ہے اور ہندو-مسلم خلیج کو پاٹنے میں سب سے مؤثر ہے؛بلکہ اسے مانے اور تسلیم کیے بغیر فرقہ وارانہ مسئلے کا حل نکل ہی نہیں سکتا،نہ پہلے،نہ اب اور نہ مستقبل قریب و بعید میں :

’’ولیتأکد إخواننا الھندوس أن المسلمین لن یغادروا وطنھم وأنھم مواطنون أصلیون مثلھم ولا یقل جھادھم و بلاؤھم في سبیل الوطن وتحریرہ،ثم بنائہ و تنمیتہ و إثرائہ،عن اجتھادھم ،ولذا فلا بد أن یغیروا إطار التفکیر الذي اتخذوہ و لیوسعوا الأفق في شأن إخوانھم المسلمین ولتکن صدورھم رحبۃ،وإذا لم یغیروا أسلوب تفکیرھم فإن طبیعۃ اللیالي والأیام سترغمھم علی ذلک؛لأن الأیام دول وھم بھذاالموقف السلبي الذي اتخذوہ نحوالمسلمین سوف لا ینفعون الوطن بشيء،وإنما یضیعون الطاقات والکفاءات،وتکون النتائج مزیدا من الخسائر، الأمر الذي یکون سببا في تخلف البلاد،وسوء سمعتھا۔ وذلک شيء یدرکہ العقلاء وأولوالجدیۃ والرؤیۃ من الإخوان الھندوس؛ولکنھم قلیلون بالنسبۃ إلی المتطرفین العاطفیین الذین یدعون أنھم وطنینو حقا،وھم في الواقع أعداء الوطن‘‘۔

(ہمارے ہندو بھائیوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مسلمان اس ملک کو ہرگز نہیں چھوڑنے والے،انھی کی طرح وہ بھی یہاں کے اصلی باشندے ہیں،اس ملک کو بنانے،سنوارنے،اسے آزاد کروانے اور اس کی تعمیر و ترقی میں انھی کی طرح مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں،محنت و مشقت برداشت کی ہے؛اس لیے انھیں اپنا طرزِ فکر بدلنا چاہیے،مسلمانوں کے حوالے سے اپنے ذہن میں وسعت اور دل میں کشادگی پیدا کرنی چاہیے اور اگر انھوں نے اپنی سوچ نہیں بدلی،تو شب و روز کے حالات وواقعات انھیں ایسا کرنے پر مجبور کریں گے؛کیوں کہ حالات ہمیشہ یکساں نہیں رہتے۔ مسلمانوں کے تعلق سے منفی سوچ رکھ کر وہ ملک کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاسکتے؛بلکہ وہ اپنی توانائی اور صلاحیتیں ضائع کررہے ہیں،جس کے نتائج مزید نقصان دہ ثابت ہوں گے اور یہ چیز ملک کی پسماندگی و بدنامی کا ذریعہ بنے گی۔ اس حقیقت کا ادراک ہندو برادرانِ وطن میں سے اصحابِ عقل و اصحابِ رائے لوگوں کو ہے،مگر ان کی تعداد کم ہے،ان کے مقابلے میں انتہا پسند،جذباتی ہندووں کی تعداد زیادہ ہے،جو صرف اپنے آپ کو محبِ وطن سمجھتے ہیں؛حالاں کہ فی الحقیقت وہ وطن دشمن ہیں)

نوے کی دہائی میں ہونے والی خلیجی جنگ پر بھی مولانا نے جم کر اور بے خوف ہوکر لکھا اور جس موقف کو وہ درست سمجھتے تھے،اس کے اظہار میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا۔ اس جنگ میں مولانا کی صحافتی و فکری بصیرت کویت کے حق میں تھی ،انھوں نے عراق کے حملے اور کویت پر قبضے کو ناجائز قرار دیا اور اس پورے کھیل میں امریکی کردار پر بھی بے لاگ تبصرے کیے۔ جب کویت سات ماہ بعد عراقی قبضے سے نجات حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا،تو کویتی حکومت نے ۱۹۔۲۱؍جنوری ۱۹۹۲کو عراق کی جیلوں میں بند کویتی شہریوں کی رہائی کے لیے مذاکرہ اور غور و خوض کے مقصد سے ایک عالمی کانفرنس منعقد کی،اس میں مولانا امینی کو بھی بطور عربی صحافی و مبصر مدعو کیا گیا۔

اسی دہائی کے آخر میں افغانستان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر بھی مولانا کی گہری نظر تھی،جب افغان قوم سویت یونین سے بر سرپیکار تھی۔ اس کے بعد طالبان کا ظہور ہوا،کچھ دن طالبان کی حکومت رہی اور اس دوران افغانستان میں کئی اہم سیاسی و سماجی واقعات رونما ہوئے جن کے اثرات عالمی سطح پرمرتب ہوئے،پھر نائن الیون کا کھڑاگ رچا گیا اور اس کے بعد امریکہ کی بدولت پوری دنیا کی نگاہ افغانستان پر مرکوز ہوگئی؛کیوں کہ  نائن الیون حملے کا الزام اسامہ بن لادن پر تھا اور اسامہ کے افغانستان میں ہونے کا شبہ تھا،سو اس ایک شخص کی تلاش میں امریکہ نے اپنی تمام سیاسی،دفاعی و استخباراتی قوتیں استعمال کیں اور ایک کمزور و ناتواں ملک کی اینٹ سے اینٹ بجاکر رکھ دی،طالبان جو پہلے سے دنیا کے بڑے حصے کی نگاہوں میں کھٹک رہے تھے،اسامہ کو پناہ دینے کے بہانے انھیں تہہ تیغ کرنے کا ’’معقول‘‘بہانہ ہاتھ آیا، پھر طالبان کی حکومت بھی گئی اور پورے افغانستان کا تیاپانچہ کردیا گیا۔ مولانا نے ان تمام حالات پر گہری نظر رکھی اور’’الداعی‘‘کے صفحات میں مسلسل نہایت بصیرت افروز اور فکر انگیز مقالات لکھے،جن میں امریکی سازشوں،اس کے صلیبی و صہیونی عزائم کا گہرا تجزیہ کیا ، ساتھ ہی عالمِ اسلام کی غیرت کو للکارا،خصوصاً مسلم حکمرانوں کی بے ضمیری و ایمان فروشی پر کھل کر لکھا اور نہتے و بے قصور انسانوں کی خوں ریزی و قتل و غارت گری میں شریک تمام بین الاقوامی عناصر کو طشت ازبام کیا۔ مولانا نے حالات کے گہرے جائزے اور حقائق و دلائل کی روشنی میں اولِ دن سے امریکہ کی نام نہاد’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘کو فراڈ قرار دیا اور خود سابق امریکی صدر بش کے بیان اور امریکی حکام کی حرکات و عمل کی روشنی میں بتایا کہ یہ دراصل نئے دورکی صلیبی جنگ ہے،جس کا مقصد دنیا بھر،خصوصاً مشرقِ وسطی کے مسلمانوں کو نفسیاتی،معاشی و سیاسی طورپر اپاہج،مفلوج و بے مایہ بنانا ہے۔ آج بیس سال گزرنے کے بعد دنیا،خصوصاً مشرقِ وسطی کا جو منظرنامہ ہے اس میں مولانا کے نظریے کی صداقت کا عکس بہ تمام و کمال دیکھا جاسکتا ہے۔

مولانا نے اسی زمانے میں دوٹوک انداز میں لکھا تھا کہ افغانستان یا طالبان کے خلاف امریکی کارروائی محض اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل اور مسلمانانِ عالم پر بے جا دھونس جمانے کے لیے کی گئی ہے اور یہ اس کا قدیم رویہ ہے جو حیرت انگیز نہیں ہے،البتہ حیرت انگیز عالمِ اسلام کا رویہ ہے کہ چھپن مسلم حکمرانی والے ملکوں میں سے کسی کے بھی منہ میں زبان نہ تھی جو بولتا کہ محض شک و شبہ کی وجہ سے کیسے کسی ملک کو تاخت و تاراج کیا جاسکتا ہے،حتی کہ ۱۰؍کتوبر ۲۰۰۱ کو قطر کے دارالسلطنت دوحہ میں تمام مسلم ملکوں کے وزراے خارجہ کی افغانستان پر امریکی حملوں کی شروعات کے محض تین دن بعد کانفرنس ہوئی،جس میں امریکہ کی اس غیر انسانی؛بلکہ شیطانی حرکت کے خلاف ایک حرفِ مذمت تک استعمال نہیں کیا گیا؛بلکہ کھلی بے غیرتی اور دیوثیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی موقف کی تائید و حمایت کی گئی ۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ بیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد وہ تمام مسلم ممالک اب بھی اپنی روایتی بے حسی، ضمیر فروشی اور مظلوم کے مقابلے میں ظالم کی حمایت و تائید کے موقف پر قائم ہیں،جبکہ اسی قطر میں امریکہ بہادر طالبان کو افغانستان میں ایک سیاسی فریق مان کر قیامِ امن کے لیے مذاکرات کی مجلسیں لگوا رہا ہے،بیس سال تک افغان قوم کی جرأت و ہمت و قوتِ مدافعت کو آزمانے کے بعد بالآخر گوروں کی فوج پا بہ رکاب ہے اور ایک بار پھر افغانستان میں طالبان کی آمد آمد ہے،جس پر ابھی سے طرح طرح کے تبصرے اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ آنے والے دنوں میں’’دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہےکیا؟!‘‘۔

 

(جاری)