خوش فکر اہل زبان وقلم حضرت مولانانورعالم خلیل امینی ـ محمدساجدکُھجناوری

استاذجامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ

عالمِ انسانیت کو پاؤں تلے روندنے والے کروناوائرس کے بارے میں ڈبلیو ایچ او کا تازہ بیانیہ گرچہ تسلی آمیز ہے لیکن پھر سے کئی ممالک میں اس کے پاؤں پسارنے یا تیسری لہر کی متوقع آمد سے عالمی منظرنامہ پر تشویش کا ماحول فطری بات ہے، کرونا وبا کا یہ عالمی کھیل آسمانی ہے یا زمینی وہ رب قدیر ہی بہتر جانتا ہے جس کے دستِ تصرف وعلمِ یقینی سے کائنات کی ادنی شے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اس موذی وبا نے اقتصاد ومعیشت اور سیاست و سماج کے دھارے ہی نہیں بدلے بلکہ انسانی بستیوں پر بھی جو شب خون مارا ہے، وہ ہماری بے ثبات زندگی کے لیے تازیانۂ عبرت ہے، دیکھتے ہی دیکھتے کیسے کیسے چمکتے دمکتے چہرے آنکھوں سے اوجھل ہوگئے، ان میں انسانیت کا دم بھرنے والے بھی تھے اور نفرت کے سوداگر بھی، اپنے حقیقی رب سے لو لگانے والے بھی تھے اور متھرا وکاشی کا گن گانے والے بدعقیدہ لوگ بھی، میدانِ علم و دانش کے راہی بھی ان میں تھے اور قلم و کتاب کے بے تکان مسافر بھی، اب موت اچھے اور برے لوگوں میں فرق بھی کرے تو کیوں کرے کہ فاطرِ کائنات کے حکم سے عدول اس کا شیوہ ہے نہ اختیار، اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا ہے:

کتنی مشکل زندگی ہے کس قدر آساں ہے موت
گلشن ہستی میں مانندنسیم ارزاں ہے موت

افسوس صد افسوس کہ اس کرونائی عہد میں ہم سب کے مخدوم ومحترم استاذ الأساتذہ عربی زبان وادب کے عبقری معلم، قلم وکتاب کے عاشق، دو درجن سے زائد اہم عربی و اردو کتابوں کے نیک نام مصنف، مدیر ماہ نامہ الداعی و استاذ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا نور عالم خلیل الأمینی بھی طویل علالت کے بعد بیس رمضان المبارک ۱۴۴۲ھجری مطابق تین مئی دو ہزار اکیس میلادی دوشنبہ کو کاروانِ رفتگاں میں شامل ہوگئے۔ انا للہ واناالیہ راجعون، ان للہ مااخذولہ مااعطی وکل شیئ عندہ بأجل مسمی۔

داغ فراق صحبت شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی تھی، سو وہ بھی خموش ہے

اسی روز شام کو احاطہ مولسری میں حضرۃ الأستاذ مولانا سید ارشد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے ایک جم غفیر کی موجودگی میں آپ کی نمازجنازہ پڑھائی جس کے بعد مزارِ قاسمی میں آپ کو منوں مٹی کے نیچے راحت کی نیند سلا دیا گیا،سقی اللہ ثراہ وجعل الجنۃ مثواہ۔

حضرت مولانا نور عالم امینی کی رحلت کسی خاندان، محدود جماعت یا ایک طبقہ کا معمولی نقصان نہیں ہے جس پر چند آنسوؤں کا ٹپکنا سامان تسلی فراہم کرنے والا ہو، درحقیقت وہ تو ایسے سالارقافلہ تھے جن کا قلمی سرمایہ عالم اسلامی کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے اور صیہونیت زدہ ماحول میں دلیل راہ فراہم کرنے میں شاہ کلید بن سکتا ہے، مولاناامینی کی نظر اس حوالہ سے بڑی آفاقی تھی، وہ عالمِ عرب پر نگاہ رکھنے کے ساتھ مغربی قیادت کی دسیسہ کاریوں کا نقاب الٹنے میں فرزانگی سے کام لیتے تھے، مشرقِ وسطی کے تناظر میں ان کی تحریریں دیکھئے جس دردمندی عالی حوصلگی اور راست معلومات بہم پہنچانے کے لیے انہوں نے مسجدِ اقصیٰ کی بازیابی کے لیے اپنا خونِ جگر صرف کیا ہے اور بار بار امتِ مسلمہ کے ضمیر پر اپنے قلم سے دستک دینے کی کوشش کی ہے، اس سے آپ کی مؤمنانہ شان اور جذبۂ دروں کی عکاسی ہوتی ہے، ’’فلسطین کسی صلاح الدین ایوبی کے انتظار میں‘‘ نامی کتاب قبلۂ اوّل سے آپ کے والہانہ لگاؤ اور غاصب اسرائیلیوں سے دو بدو ہونے کی داستانِ حمیت وغیرت ہی تو ہے۔ وہ دارالعلوم دیوبند کے عربی صحافتی ترجمان ’’الداعی“ کے صفحات پر عالم اسلام کو درپیش تحدیات ومسائل کا راست بینی سے تحلیل وتجزیہ پیش فرماتے رہتے تھے جبکہ ضروری مضامین کو اردو کے قالب میں ڈھال کر بہت سے اخبارات و رسائل میں اشاعت کے لیے بھیجتے، ان شذرات کے مطالعہ سے مولانا امینی کا فکری منطقہ مزید روشن ہوکر سامنے آتا۔

حضرت مولانا کی شخصیت فی الجملہ ہشت پہل تھی، واقعی وہ حسنات کا خوب صورت گلدستہ تھے جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی، جب وہ مسندِ تدریس پر متمکن ہوتے تو ایک کامل استاذ اوردلوں کو مسخر کرنے والے شفیق رہنما لگتے، مولانا سے براہِ راست پڑھنے والے ہمارے بعض ذہین ساتھیوں کا بیان ہے کہ استاذِ محترم کتاب نہیں، فن پڑھاتے تھے۔ ان کی عقابی نگاہیں درس گاہ کے ہر طالب علم کو چوکنا بلکہ اپنے سے مربوط رکھتیں، کیا مجال کہ بے پرواہ طالب علم بھی آنکھ مچولی کا حوصلہ کر پاتا، درست عبارت پڑھنے اور سننے پر فوکس رہتا، عبارت میں در آئے اسما افعال اور صلات وغیرہ کی خوب چھان پھٹک ہوتی، صرف ونحو کے قواعد، جملوں کے الٹ پھیر اور تعبیرات کی وسعت و جمالیات اور محلِ استعمال پر سیر حاصل گفتگو ہوتی، مضمون کی تفہیم وتشریح بھی ایسی کہ بات ہر کسی کے پلے پڑ جائے، طلبہ کی نفسیات کا بھی پورا ادراک رہتا، جلال وجمال کی مشترکہ ادائیں مخاطبین پر سایہ فگن، جس سے حضرۃ الاستاذ کی عظمت کا احساس ہروقت تازہ رہتا۔ سچ پوچھیئے تو ان کمالات نے مولانا امینی کو محبوبیت کا لباس پہنا رکھا تھا، اسی لیے کچھ پانے والے حقیقی طلبہ انھیں ٹوٹ کر چاہتے تھے اور آپ کے نخروں کو شوق سے جھیلتے، آپ سن انیس سو بیاسی عیسوی میں بحیثیت استاذ عربی دارالعلوم دیوبند وارد ہوئے اور پہلے دن سے دارالعلوم میں عربی زبان وتکلم کے اس ماحول کو پروان چڑھانے کے لیے کوشاں رہے جو آپ کے مربی استاذ حضرت مولانا وحیدالزماں قاسمی کیرانوی نے شب و روز کی جان توڑ محنت سے بنایا تھا، خود مولانا امینی بھی حضرت مولانا کیرانوی کے دست گرفتہ اور ان کے خوابوں کی تعبیر تھے، ’’وہ کوہ کن کی بات‘‘ نامی کتاب لکھ کر حضرت مولانا امینی نے اپنے استاذ مذکور کو شاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے اور احسان شناسی کا فریضہ بھی نبھایا ہے۔

مولانا نور عالم خلیل امینی کی سیرت وشخصیت کے کئی پہلوؤں پر ایجابی گفتگو ہوسکتی ہے، سرِ دست ہم نے آپ کی زبان وقلم کا اجمالی سا تذکرہ چھیڑا تھا کوئی شبہ نہیں کہ وہ ادیبِ عصر، مفکرِ زماں اور صاحبِ اسلوب اہل قلم صحافی تھے، انہوں نے کئی موضوعات پر لکھا ہے اور دیدہ ریزی سے لکھا ہے، دین و ملت کے نازک مسائل ہوں یا مسلمانوں کے انفرادی اور اجتماعی احوال، خواص سے گفتگو ہو یا عوامی پلیٹ فارم پر کہی جانے والی بات، مولانا کی تحریروں میں سب کچھ ملتا ہے۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے، وافی شافی اور تفصیل سے لکھا ہے۔ فکر و عقیدہ کے ابواب تک انہوں نے دردمندی سے لکھا ہے، مثال کے طور پر حضرات صحابہ رضی اللہ عنھم سے کچھ لوگوں کے دل شکستہ یا بیزار ہوتے ہیں جو یقیناً بدبختی کی علامت ہے، مولانا نے ’’صحابۂ، رسول اسلام کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے کتاب لکھ کر بیمار دلوں کو شفا کا علاج فراہم کیا ہے جس سے آپ کے فکر ونظر کی طہارت کا پتہ چلتا ہے۔
مولانا کے کار ہائے نمایاں میں اعلام وشخصیات پر لکھے خاکوں کا تذکرہ ہمیشہ تازہ رہے گا، ’’رفتگان نارفتہ‘‘ تو غالباً ابھی اشاعت کی منتظر ہے لیکن ’’پس مرگ زندہ“ کو بار ہا دیکھنے کا اتفاق ہواہے، حضرت مولانا کی جن مشاہیر شخصیات سے رسم و راہ رہی ہے یا ان کو دیکھا اور برتا ہے، ان کے تذکرہ و سوانح اور نقوشِ زندگی کو تحریر کے قالب میں کچھ اس طرح ڈھالا ہے کہ واقعی وہ پس مرگ بھی جاوید ہوگئے ہیں۔

مولانانورعالم امینی رحمہ اللہ کانام اسی وقت کانوں میں پڑا جب 1999 عیسوی میں پہلی مرتبہ دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لینے کے بعد اس کی پرکیف فضاؤں میں سانس لینے کے مواقع میسر آئے، درسِ نظامی کے پہلے ہی سال نصاب میں داخل آپ کی کتاب ’’مفتاح العربیہ (اوّل /دوم )‘‘ متعلقہ استاذ نے بہت شوق سے پڑھائی اور مولانا امینی کے فکروفن کا بارہا تذکرہ کرکے ان کی محبت کا جام سا پلا دیا، دارالعلوم کے دس سالہ قیام میں انھیں قریب و بعید سے ضرور دیکھا مگر باضابطہ ملاقات کی کوئی تقریب نہ ہوسکی جس میں میری غفلت اور کم آمیزی ہی دخیل رہی۔ فراغت کے بعد جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں تقرر ہوا اور ماہ نامہ صدائے حق کے ادارتی صفحات لکھنے کی نوبت آئی تو یہیں سے مولانا امینی کی توجہ بھی حاصل ہوئی، چنانچہ گنگوہ میں کچھ تدریسی زمانہ گزرنے کے بعد آپ سے ملاقات ہوئی تو نام سنتے ہی بہت خوش ہوئے اور بے تکلفی کے ساتھ جامعہ اشرف العلوم رشیدی اور ذمے داران مدرسہ بالخصوص اس کے بانی حضرت مولانا قاری شریف احمدگنگوہی علیہ الرحمہ کا اچھے انداز میں تذکرہ فرمایا اور بتایا کہ میں حضرۃ الاستاذ مولانا کیرانوی کے ساتھ کئی مرتبہ وہاں جا چکا ہوں اور یہ کہ قاری صاحب مرحوم خالص تعلیم وتربیت کا ستھرا ذوق رکھنے والے باہمت انسان تھے، حضرت مولانا امینی نے پس مرگ زندہ میں بھی قاری صاحب کا تعزیتی شذرہ لکھتے ہوئے ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے، ادھر قریب کی ملاقاتوں میں آپ کی شفقتوں کا احساس ماسوا ہونے لگا تھا اور مولانا بھی جامعہ اشرف العلوم میں اپنی آمد چاہتے تھے جس کے لیے ناظم اعلیٰ حضرت مولانامفتی خالدسیف اللہ گنگوہی نے درخواست بھی گزار رکھی تھی مگر لاک ڈاؤن کا سلسلہ کچھ اس طرح بڑھا کہ آپ کی تشریف آوری ممکن نہ ہوسکی، وکان امراللہ قدرا مقدورا۔ اب مولاناامینی کی یادیں اور باتیں ہی باقی رہ گئی ہیں، رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ۔