مولانا نور عالم خلیل امینی:مری رنگیں بیانی سے ہوا حسنِ بیاں پیدا -نایاب حسن

 

(۱۴؍ویں قسط)

عربی کے ساتھ اردو زبان میں بھی مولانا نے لکھا اور خوب لکھا۔ ابتداءاً وہ عربی میں ہی لکھا کرتے تھے اور ’’الداعی‘‘ کی ادارتی مصروفیات،مضمون نگاری اور عربی ادب کی تدریس وغیرہ سے انھیں اتنی فرصت نہ مل پاتی تھی کہ اردو میں بھی مضامین لکھیں یا اس طرف توجہ دے سکیں،مگر ۱۹۹۵ء میں اپنے محبوب استاذ مولانا وحید الزماں کیرانوی کے سانحۂ وفات کے بعد مولانا کے ذہن و دماغ پر اس کا غیر معمولی اثر ہوا اور انھوں نے اردو زبان میں ان سے وابستہ یادوں اور تاثرات کو قلم بند کرنا شروع کیا،جس نے باقاعدہ ایک کتاب کا حجم اختیار کرلیا؛چنانچہ مولانا کیرانوی کی وفات کے چند ماہ بعد(جولائی ۱۹۹۵ء میں) مولانا امینی نے اپنی ان تحریروں کا مجموعہ’’وہ کوہ کن کی بات‘‘ کے نام سے ادارۂ علم و ادب،دیوبند سے شائع کیا۔ اس ادارے کا قیام بھی اسی مناسبت سے عمل میں آیا تھا،بعد کے دنوں میں مولانا نے اپنی تمام عربی و اردو کتابیں اسی ادارے سے شائع کیں۔
اولاً تو اس کتاب کا نام ہی انھوں نے ایسا وضع کیا ،جس سے صاحبِ کتاب کی اردو ادب و انشا سے غیر معمولی دلچسپی؛بلکہ اس فن میں مہارت و لیاقت کی فراوانی کا اشارہ ملتا تھا،پھر انھوں نے اس میں جو اسلوب اختیار کیا اور جس بے ساختگی،دل انگیزی،جمال آرائی و حسن کاری کے ساتھ مولانا کیرانوی کی زندگی اور کارناموں سے پردہ اٹھایا اور ان سے منسوب اپنی یادوں کو جس والہانہ انداز میں صفحاتِ قرطاس پر اتارا،اس نے اس کتاب میں بے پناہ دلکشی پیدا کردی اور کتاب جب منظر عام پر آئی تو اسے حیرت انگیز مقبولیت حاصل ہوئی،اردو دنیا میں اس کی دھوم مچ گئی، اہلِ ذوق قارئین و ناظرین کے سامنے ایک عربی ادیب کا ایسا دلکش اور سحر انگیزاردو ورژن تھا کہ وہ عش عش کرنے لگے۔ جو لوگ مولانا کیرانوی کو جانتے تھے،ان کی ماجراپرور شخصیت کو دیکھا اور سنا تھا ، ان کی حوصلہ مندیوں اور خاراشگافیوں سے آگاہ تھے،انھوں نے تو اسے ہاتھوں ہاتھ لیا ہی،مگر اس کے علاوہ سوانحی ادب سے دلچسپی رکھنے والے ان اصحابِ ذوق نے بھی اس کتاب کو بے پناہ شوق و ذوق سے پڑھا ،جو مولانا کیرانوی کو پہلے سے بالکل نہیں جانتے تھے۔ حتی کہ ملک کے نامور اہلِ قلم،دانشوران اور مختلف سماجی و علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والے اصحابِ علم و دانش نے اس کتاب کے محاسن پر نہایت قیمتی تاثرات رقم کیے۔ اس کے نام کو سراہا ،اسلوبِ بیان کی تحسین کی اور اس کے مشمولات کے حسن و جمال کی منھ بھر بھر کے ستایش کی۔ دارالعلوم دیوبند کے مفتی اور مایۂ ناز محقق و مصنف مولانا مفتی ظفیرالدین مفتاحی نے تو دلچسپ انداز میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہاں تک لکھ دیا کہ:
’’آپ کی کتاب کا لب و لہجہ اور بے ساختگی دیکھ کر جی چاہتا ہے کہ اگر میرا کوئی ایسا شاگرد ہوتا ،تو مرجانے میں فائدہ تھا۔ جو بھی آپ کی کتاب پڑھے گا اور اہلِ دل ہوگا،تو ایسے تلمیذِ رشید کی سعادت مندی پر لازماً فخر کرے گا اور کہے گا کہ کاش ایسا ہونہار شاگرد مجھے بھی مل جاتا اور میں مرجاتا‘‘۔(وہ کوہ کن کی بات،ص:۳۶۳،طبع سوم،ادارۂ علم و ادب ،دیوبند )
ممتاز دانش ور و صاحبِ طرز نثر نگار سید حامد نے لکھا کہ آپ کے طرزِ تحریر پر مولانا ابوالکلام آزاد کے طرز کی چھاپ ہے،جبکہ معروف ناقد پروفیسر ابوالکلام قاسمی نے مولانا کے نام اپنے خط میں تحریر کیا کہ ’’آپ کی کتاب نے مجھے متاثر ہی نہیں،مرعوب بھی کیا ہے۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ‘‘۔ ان کے علاوہ متعدد اہلِ علم و فن سمیت ہفت روزہ ’’نئی دنیا‘‘،دہلی،ہفت روزہ ’’بلٹز‘‘ ممبئی،روزنامہ’’قومی آواز‘‘دہلی،ہفت روزہ ’’عالمی سہارا‘‘ دہلی اور دسیوں دگر رسائل و جرائد نے اس کتاب پر نہایت وقیع تبصرے کیے۔
یہیں سے عربی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی مولانا کے منفرد طرزِ نگارش کی دھاک جمی اور ان کے قارئین و مداحین کا حلقہ عربی دانوں سے نکل کر اصحابِ ذوق اردو قارئین تک وسیع ہوگیا۔ اس کے بعد مولانا نے وقتاً فوقتاً اردو میں مضامین لکھنے کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا اور کبھی اوریجنل اردو تحریریں لکھیں تو کبھی عربی تحریروں کا اردو ترجمہ اخبارات و رسائل میں شائع ہوتا رہا۔
اردو میں خاص طورپر خاکہ نگاری کے حوالے سے مولانا کا طرزِ نگارش خاصا دلکش و سحر انگیز تھا،چوں کہ وہ عموماً انھی شخصیات پر قلم اٹھایا کرتے تھے،جنھیں براہِ راست دیکھا،برتا اور قریب سے جن کی علمی و عملی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا ہو،سو جب ایسی کسی شخصیت پر لکھتے تو اس کی حقیقی وصف نگاری و تصویر کشی کرتے، اس کے اوصاف و خصائص، اخلاق و اطوار، طرزِ زندگی اور جملہ اہم پہلووں کو اپنے منفرد انداز میں اجالتے ؛ چنانچہ پڑھنے والے کو ایسا محسوس ہوتا کہ متعلقہ شخصیت اپنی جملہ خصوصیات کے ساتھ نگاہوں کے سامنے چل پھر رہی ہے۔اس حوالے سے ’’وہ کوہ کن کی بات‘‘ کے بعد مئی ۲۰۱۰ ء میں ’’پس مرگ زندہ‘‘ اور بعد ازوفات جون ۲۰۲۱ ء میں ’’رفتگانِ نارفتہ‘‘ شائع ہوئیں،اول الذکر میں ۳۶؍شخصیات کا تذکرہ ہے،جبکہ ثانی الذکر میں ۲۴؍ شخصیات پر مولانا کے مضامین جمع کیے گئے ہیں۔ بیشتر مضامین اولاً ان شخصیات کی وفات کے فوراً بعد ’’الداعی‘‘ میں لکھے گئے،پھر مولانا نے ان کی ترجمانی کی یا ان کی روشنی میں اردو مضمون لکھا،جبکہ ان کتابوں میں شامل کئی مضامین خالصتاً اردو میں ہی لکھے گئے۔ ’’پس مرگ زندہ‘‘ کے چند ایک مضامین بعض شاگردوں سے بھی ترجمہ کروائے،البتہ انھیں غیر معمولی ایڈٹنگ اور اپنے ذوق و معیار پر ڈھالنے کے بعد مترجمین کے ناموں کے ساتھ شاملِ کتاب کیا۔
مولانا متعلقہ شخصیات کے خاکوں میں اپنی یادوں کا رنگ بھر کے انھیں مزید شوخ،رنگین اور دلنشین بنادیا کرتے تھے۔وہ ایسے ہر مضمون کا آغاز کسی معنی خیز شعر کے ذریعے کرتے اور اندرونِ مضمون بھی قدیم و جدید شاعروں کے ایسے بر محل اشعار نقل کرتے کہ باذوق قاری یوں محسوس کرتا کہ یہ شعر اسی موقعے کے لیے کہا گیا ہے اور شاعر نے اسی سچویشن یا شخصیت کو سامنے رکھ کر یہ شعر کہا ہے۔ دراصل مولانا کا شعری ذوق نہایت بالیدہ و شاداب تھا،اسی وجہ سے سیکڑوں عمدہ اشعار ان کے ذہن میں محفوظ تھے ،جوحسبِ ضرورت زیر قلم آتے اور مولانا انھیں مضمون میں نگینے کے مانند جڑدیتے ۔ اپنی تحریروں میں انھوں نے جن شاعروں کے اشعار استعمال کیے ،ان کے ناموں پر ایک نظر ڈال لینے سے بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کا اردو کا ادبی و شعری ذوق کیسا متنوع اور اعلیٰ و نفیس تھا۔ انھوں نے اپنے سوانحی مضامین میں اقبال اور غالب کے اشعار تو جگہ جگہ نقل کیے ہی ہیں، کہ ان سے مولانا کو خاص ذہنی مناسبت تھی اور ان کی شاعری کا گہرا مطالعہ کر رکھا تھا ،مگر ان کے علاوہ میر تقی میر، نظیر اکبرآبادی، داغ، سودا، حیدر علی آتش، منشی امیر اللہ تسلیم لکھنوی، مرزا ہادی رسوا، شاد عظیم آبادی،حالی، بہادر شاہ ظفر، ثاقب لکھنوی،اصغر گونڈوی، اسماعیل میرٹھی ،فراق، جگر مرادآبادی ،حسن محسن دربھنگوی،صوفی غلام مصطفی تبسم ،فیض احمد فیض،وحشت کلکتوی،مجاز لکھنوی، حفیظ میرٹھی،اکبر الہ آبادی،حفیظ جالندھری،احمد فراز،جلیل مانکپوری،مرتضی برلاس،انور صابری،عبیداللہ علیم، ماہر القادری،اختر سعید خاں ،تلوک چند محروم،جوش ملیح آبادی،سکندر علی وجد،پروین شاکر،اداجعفری،گلزار دہلوی،سیماب اکبرآبادی،راج نرائن راز،مست کلکتوی،کیفی اعظمی، احمد ندیم قاسمی،نشور واحدی ،بشیر بدر، کلیم عاجز،محمود رامپوری، ملک زادہ منظور احمد،راحت اندوری اور ملک زادہ جاوید کے اشعار بھی مختلف موقعوں پر نقل کیے ہیں،ظاہر ہے کہ یہ فہرست ان کے ادبی و شعری مطالعے کی وسعت پر دال ہے۔
پھر وہ صرف شعر ہی نہ لکھتے؛بلکہ بریکٹ میں شاعر کا اصل نام اور تخلص یا مشہور نام بھی اہتمام سے لکھتے اور اس کا سالِ پیدایش ووفات بھی درج کرتے۔ پچھلی دونوں کتابوں میں تو کم کم،البتہ اپنی تیسری سوانحی کتاب’’رفتگانِ نارفتہ‘‘ میں اس کا خاص اہتمام کیا ہے؛چنانچہ مثال کے طورپر اگر وہ جگر مراد آبادی کا کوئی شعر نقل کرتے ہیں،تو شعر کے نیچے بریکٹ میں ان کا نام اس طرح لکھتے ہیں’’علی سکندر معروف بہ جگر مرادآبادی ۱۹۶۰-۱۸۹۰‘‘ ، اس طرح قاری کی معلومات میں دلچسپ اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح چوں کہ وہ ایسا مضمون عموماً کسی شخصیت کی وفات کے فوراً بعد تحریر کیا کرتے تھے؛اس لیے اس میں اس کی تاریخ پیدایش ہجری و عیسوی کے علاوہ وفات کا صحیح وقت بھی درج کرنے کا اہتمام کرتے؛بلکہ عموماً مضمون کی چند سطری تمہید میں وفات کی خبر ملنے کا احوال ضرور درج کرتے ۔ ان کی تحریروں میں اگر کسی بڑے اور اہم تاریخی واقعے یا سانحے کا تذکرہ آتا،تو اس کی بھی تاریخ مع وقتِ وقوع درج کرنے کا اہتمام کرتے ۔ خاکہ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ شخصیت کی سوانحی جھلکیاں بھی ضرور تحریر کرتے ، جس میں زیر تذکرہ شخصیت کی پیدایش سے لے کر وفات تک کے اہم واقعات،حصول یابیوں اور اس کے آل اولاد کی جملہ تفصیلات و معلومات درج ہوتیں ۔ ان سارے اہتمامات کی وجہ سے مولانا کا ہر سوانحی مضمون غیر معمولی قدر و قیمت کا حامل بن جاتا،انھوں نے خود اپنے بقول کم و بیش تین سو شخصیات پر لکھا اور سچ یہ ہے کہ بہت ہی خوب،منفرد،جامع و دلنشیں لکھا، ان میں سے بہت سے لوگ تو ایسے تھے کہ ان پر مولانا کے علاوہ بھی درجنوں لوگوں نے لکھا ہوگا اور ان پر کئی کتابیں بھی لکھی گئی ہوں گی،مگر اس کے باوجود جو مولانا امینی نے لکھا ،وہ اسلوب و ادا کی جودت و حلاوت،معلومات کے استناد و فراوانی اور لفظیات و تراکیب کی دلکشی و شیرینی کے اعتبار سے انفرادی شان کا حامل ہے۔ مثال کے طورپر اپنے محبوب استاذ مولانا سید محمد میاں پر لکھے گئے مضمون کی شروعات انھوں نے اس طرح کی ہے:
’’نحیف الجثہ،دراز قد،سرخ و سفید رنگ،بڑی بڑی آنکھیں جو نیم باز رہتی تھیں،کشادہ پیشانی،گھنیری بھنویں،کھڑا ستواں ناک،کتابی چہرہ،ہاتھ میں چھڑی،پاؤں میں سادے جوتے ،جو عموماً علما و صلحا استعمال کرتے ہیں،بدن پر معمولی سوتی کپڑے کا کرتا پاجاما،عموماً کھدر کے کپڑے کا۔ گفتگو میں ٹھہراؤ،عالمانہ وقار اور شریفانہ شرمیلاپن۔ شخصیت کی ہیئتِ کذائی سے ہر دیکھنے والے کو نہ صرف ضعیف الجسم؛بلکہ ضعیف الارادہ ہونے کا احساس ہوتا؛لیکن انھیں ذرا بھی برتنے والے کو فوراً ہی ان کے غیر معمولی آہنی ارادے والے ہونے کا یقین ہوجاتا۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں کاغذات سے بھرا پرس یا برہنہ کاغذات ہوتے،کبھی خالی نہ بیٹھتے ،یا تو مطالعہ کرتے یا لکھتے رہتے،مطالعہ و تحریر ان کے لازمی اوصاف تھے۔ چہرے سے مترشح بردباری،مکمل خاکساری،ہر رویے سے ابلتی ہوئی شرافت و مروت کے باوجود ایسا رعب کہ ان کی خواہش؛بلکہ’’تمنا‘‘ کے باوجود یہ راقم ان سے بے تکلف ہوسکا،نہ کھل کے بات کر سکا،ہاں مراسلت میں اپنی کسی ضرورت کا کوئی پہلو قدرے بے تکلفی سے ان کے سامنے پیش کرپاتا تھا؛لیکن اس میں بھی یہ خوف ہمیشہ دامن گیر رہتا کہ اردو زبان کے کسی لب لہجے میں ذرا سی غلطی ہوئی کہ وہ ضرور روک ٹوک کریں گے۔ ان کی صورت سے شب بیداری،زہد و اتقا،عفاف و قناعت اور صلاح و تقویٰ کے اثرات از خود ہویدا ہوتے تھے‘‘۔(پس مرگ زندہ،ص:۳۸-۳۷)
اور عصر حاضر کے ممتاز فقیہ،دانش ور و مفکر مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی رحلت کو مسلمانوں کا عظیم خسارہ قرار دیتے ہوئے ان کے اوصاف و اطوار کاکیسا جمال انگیز نقشہ کھینچا ہے،ملاحظہ فرمائیے:
’’ ان کی آنکھوں کی ذہانت،چہرے کی متانت،ہونٹوں پر کھیلتی ہوئی مسکراہٹ،ان کے تمام رویہ ہاے حیات کی شرافت،ان کی علمی بے پناہی، فقہ و قضا میں اجتہاد کے درجے کی ان کی صلاحیت،قائدانہ لیاقت،مفکرانہ سوز و گداز،ملت کے لیے تڑپنے پھڑکنے کی ان کی ادائیں،عالمی سطح پر امت کی مظلومیت،ٹھوس اور مؤثر قیادت کے خلا کے احساس کی وجہ سے ان کے غم و الم کی نہ ختم ہونے والی کیفیت اور سب سے بڑھ کر علم و مطالعے کے سمندر کی تہوں میں ان کی غواصی،ان کے علمی و فکری سوچ کے کارخانے میں ڈھلنے والے آب دار موتی،تہذیب و تمدن کے نئے نئے قافلوں کی چاپ کو اولین وقت میں محسوس کرلینے کی ان کی قوتِ ادراک کا امتیاز،اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی داخلی و خارجی سازشوں کے تانے بانے کو سرعت کے ساتھ باور کرلینے کی ان کی غیر معمولی خوبی،علما کی صف میں عربی،اردو کے علاوہ انگریزی زبان پر عبور کے تعلق سے ان کی فوقیت اور اسلامی مسائل کے حوالے سے جدید و قدیم اور مخالف و موافق دونوں طبقوں کے تمام شکوک و شبہات کو زبان کی حلاوت،فکر کے بانکپن،ذہانت کی گود میں پلی ہوئی سوچ اور عالمانہ فراست کی انفرادیت کے ذریعے یکسر زائل کردینے کی ان کی خداداد لیاقت کو نہیں معلوم کہ حقیقی قحط الرجال کے دور میں ملت کب تک روتی رہے گی‘‘۔(ص:۵۸۸)
اپنے محبوب ترین استاذ مولانا وحیدالزماں کیرانوی پر جو کتاب لکھی ہے،اس کی سطر سطر عشقِ فراواں و فروزاں سے روشن ہے،ایک اقتباس آپ بھی پڑھیے اور سر دھنیے:
’’تقریباً سات دہائیوں تک ان کا ستارۂ اقبال بر صغیر کے افق پر جگمگاتا رہا اور اپنی زندگی کی کم و بیش چار دہائیوں تک اسلامی مدرسوں اور جامعات کے منہاجِ تعلیم و تربیت کے حوالے سے وہ عصریت و جدیدیت اور روایت پسندی و جدت کاری کی کش مکش سے،ہوش مندانہ طورپر نمٹنے کے لیے خردمندانہ انقلاب و اقدام کے نقیب بنے رہے۔عربی زبان کی تعلیم و ترویج کے لیے انھوں نے جو آسان،سود مند اور زود اثر نسخہ مرتب اور نافذ کیا،اس کی مثال شاید ہی پیش کی جاسکے۔انھوں نے اپنے منفرد،دل نشیں اور مؤثر طریقۂ کار کے ذریعے اس خصوص میں جتنا فائدہ پہنچایا اور جس طرح اس کے لیے زبان و قلم اور صلاحیتوں سے کام لیا،وہ بھی اپنی نظیر آپ ہے۔
مولانا بہ یک وقت عالم،لغوی،انشا پرداز،مصنف،مقرر،خوش نویس،مدرس،مفکر،انجینئر،مدبر اور منتظم؛سبھی کچھ تھے۔ انھوں نے ایک سے زائد میدانوں میں اپنی عبقریت کی دھوم مچادی اور چھٹی اور دسویں دہائی کے درمیان کی ہندی نسلِ نو پر عمومی تربیت،عربی زبان کی محبت کی دلوں میں آبیاری اور جوانوں کی عقل و فکر کی تہذیب کے سلسلے میں ایسا گہرا اور وسیع تر اثر چھوڑا،جو میرے علم کے مطابق کسی معاصر معلم کے حصے میں نہیں آیا‘‘۔(وہ کون کن کی بات،ص:۶۴-۶۳،طبع سوم،ادارہ علم و ادب،دیوبند)
مولانا کے سوانحی مضامین کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ان میں اگر ضمناً کسی دوسرے شخص کا تذکرہ آگیا ہے،تو حاشیے میں مختصراً اس کے حالاتِ زندگی بھی بیان کیے ہیں،اس طرح انھوں نے ’’وہ کوہ کن کی بات ‘‘ میں اَسّی ،’’پسِ مرگ زندہ‘‘ میں دَس اور ’’رفتگانِ نارفتہ‘‘ میں چودہ اکابر و معاصرین ، دوستوں، رفقاے درس اور شناساؤں کے شاندار خاکے کھینچے ہیں ۔ مولانا عملی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی علمی و قلمی زندگی میں بھی خاصے سیرچشم اور کشادہ دل واقع ہوئے تھے،سو ان لوگوں کا زبانی یا تحریری ذکر کرکے خوش ہوتے ،جو کبھی بھی ان کی زندگی کا حصہ رہے ،جنھوں نے کسی موڑ پر ان کےساتھ احسان کیا،جو طالبِ علمی یا عملی زندگی کے کسی مرحلے میں رہنما ثابت ہوئے یا جن کے علم و عمل کا جمال اور فکر و دانش کا کمال انھیں اپیل کرتا تھا ۔
(جاری)