مولانا نور عالم خلیل امینی کی رحلت علم و ادب کی دنیا کے لیے ناقابل تلافی خسارہ : مولانا سید ارشد مدنی

 

نئی دہلی: دارالعلوم دیوبند کے استاذعربی مولانا نورعالم امینی کے سانحہ ارتحال پر صدرجمعیۃعلماء ہند وصدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند مولانا ارشدمدنی نے اپنے گہری رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ مولانا نورعالم خلیل امینی کو عربی زبان میں ترجمہ کرنے میں جو ملکہ اللہ تعالی ٰ نے عطاء فرمایاتھا اس میں ان کی نظیر نہیں ملتی، میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بعد فی الحال اس جگہ کا پرہونا مشکل ہے، یہ خداداد صلاحیت تھی جس میں وہ اپنی نظیر آپ تھے،مولانا مدنی نے فرمایا کہ دارالعلوم دیوبند کے رسالہ عربی الداعی کے وہ روح رواں تھے جس کے مضامین اورادارئے علمی حلقوں میں پسندکئے جاتے تھے۔ مولانا مدنی نے کہاکہ مولانا نورعالم خلیل امینی مولاناوحید الزماں کیرانویؒ کے خاص شاگردوں میں سے تھی، فراغت کے بعد کچھ دنوں تک دارالعلوم ندوۃ العلماء میں کام کیا، اس کے بعد ان کو دارالعلوم دیوبند بلالیا انہوں نے تقریبا چالیس سال تک دارالعلوم دیوبند میں خدمت تدریس انجام دی وہ عربی زبان کے کامیاب استاذتھے میری دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی بال بال مغفرت فرمائے اوراپنے جواررحمت میں جگہ عطاء کرے، دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃعلماء ہند کو نعم البدل عطاء کرے پسماندگان، اعزاواقارب کو صبر جمیل سے نوازے اوران کی نگہبانی فرمائے۔
جمعیۃعلماء بہار کے صدراورمدرسہ قاسمیہ گیا کے مہتمم مولانا قاری معین الدین احمد قاسمی کی اچانک رحلت کو صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند نے زبردست حادثہ قراردیتے ہوئے کہا کہ قاری معین الدین احمد قاسمی دارالعلوم دیوبند کے فارغ اورمجازشیخ الاسلام مولانا قاری فخرالدین گیاوی ؒ کے صاحبزادے اورتربیت یافتہ تھے۔ جمعیۃعلماء سے وابستگی ان کی سرشت میں داخل تھی اپنی صلاحیت کی بناء پر انہوں نے جمعیۃمیں حصہ لیا اور عہدہ صدارت تک پہنچے وہ تین ٹرم سے جمعیۃعلماء بہارکے صدرتھے۔
مولانا مدنی نے کہ اس دس پندرہ دنوں کے اندرجمعیۃعلماء بہارکو صدروجنرل سکریٹری کی رحلت نے بڑانقصان پہنچایا ہے، ایسے زمانہ میں جبکہ اچھے افرادکا میسرہونا بڑامشکل نظرآتاہے، ان دونوں افرادکا چلاجانا بہت بڑاحادثہ ہے اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اورجماعت کو ان کا نعم البدل عطاء کرے، پسماندگان، اعزاواقارب کو صبر جمیل سے نوازے۔