مولانا نور عالم خلیل امینی عربی و اردو کی مشترکہ لسانی روایت کے علم بردار تھے:ابرار احمد اجراوی

 

مدھوبنی:(پریس ریلیز)عالمی شہرت یافتہ اسلامی درس گاہ دار العلوم دیوبند کے استاد ، عربی ماہ نامہ الداعی کے مدیر اور صدر جمہوریہ ایوارڈ یافتہ مولانا نور عالم خلیل امینی(تاریخ ولادت: ۱۸؍دسمبر ۱۹۵۲ء جائے ولادت ہرپور بیشی مظفرپوربہار-وفات:۲؍مئی ۲۰۲۱ ء بوقت ایک بجے شب بمقام میرٹھ اتر پردیش، تدفین :دیوبند سہارن پور) کے سانحۂ ارتحال کو عربی کے ساتھ اردو زبان کا ناقابل تلافی خسارہ قرار دیتے ہوئے بی ایم کالج رہیکا مدھوبنی کے شعبۂ اردو سے وابستہ ڈاکٹر ابرار احمد اجراوی نے کہا کہ مرحوم عالمی شخصیت کے حامل تھے، انھوں نے اپنی تحریروں سے عالم عرب و عالم اسلام میں اپنی منفرد شناخت قائم کی تھی،وہ عربی زبان کے ساتھ اردوکے بھی ادیب و انشا پرداز تھے اور دونوں زبانوں میں ادیبانہ اظہار خیال پر یکساںقدرت رکھتے تھے۔ انھوں نے ندوۃ العلما لکھنؤ اور دار العلوم دیوبندجیسے عالمی سطح کے اداروں میں تقریبا نصف صدی تک عربی زبان کی تدریس کا فریضہ انجام دیا ، ۴۰ سال تک مشہور عالم عربی ماہ نامہ الداعی کی ادارت کی اور اپنے پیچھے ہزاروں ایسے نامور شاگردوں اور مستفیدین کی کھیپ تیار کی ہے جو عربی اور اردو دونوں زبانوں میں مہارت و دسترس رکھتے ہیں اور ملک و بیرون ملک میں ان دونوں زبانوں کے وسیلہ سے قوم و ملت کی بیش بہا خدمات انجام دے رہے ہیں۔ موصوف اجراوی نے کہا کہ وہ میرے قریبی اور بے حد مشفق استاد تھے ، انھوں نے نہ صرف ہمیں عربی زبان و ادب کے رموز و نکات اور عربی اردو ترجمہ نگاری کے اسرار سکھائے، بلکہ اردو زبان و ادب ، مضمون نگاری و انشا پردازی اور اردو املا کے اختلافات اور مروج طرز تحریرکے حوالے سے ایسی قیمتی باتیں سکھائیں جو اردو ادب کا ذوق رکھنے والوں کے لیے رہ نما ثابت ہوتی ہیں،انھوں نے کہاکہ دیوبند میں باصلاحیت اور ذی استعداداساتذہ کی کسی عہد میں کمی نہیں رہی ہے، ہر استاد اپنے فن اور درسیات میں جبل العلم کہلانے کا مستحق ہے، مگر اس قسم کی ادیبانہ تربیت کرنے والااور طلبہ میں ادب و انشا کا ذوق پروان چڑھانے والا دیوبند میں ان کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا مرحوم کی شخصیت میں بڑی نستعلیقیت تھی، وہ اپنی نشست و برخاست اور انداز و اطوار کے حوالے سے طلبہ و اساتذہ اور اقران و معاصرین میں آئیڈیل اور نمونہ کی حیثیت رکھتے تھے، وہ اپنے شائستہ و ادیبانہ طرز تدریس کی وجہ سے طلبہ میں بے حد مقبول تھے ، وہ بہت خوش پوشاک واقع ہوئے تھے،عمدہ قسم کی شیروانی زیب تن کرتے تھے ،جہاں اور جس مجلس میں بھی ہوتے تھے، اپنے انداز گفتگو اور ہیئت کذائی سے سبھی کو فریفتہ بنالیتے تھے ، وہ اتنے نفاست پسند اور اصول پسند تھے کہ ہر شخص ان کے انداز زندگی کی نقل کرنا چاہتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مولانا ایک بیدار مغز اور دور اندیش مفکر اور بسیار نویس صاحب قلم بھی تھے۔انھوں نے سعودی عرب، کویت، مصر، عرب امارات، قطر اور ترکی میں منعقد ہونے لی کانفرنس اور سیمیناروں میں شرکت کی اور اپنے بصیرت افروز خیالات سے سامعین پر اپنی چھاپ چھوڑی۔ عربی اور اردو دونوں زبانوں میںان کا تحریری سرمایہ ہزاروںصفحات پر مشتمل ہے، وہ اردو اور عربی میں ملک و بیرون ملک اور عربی و اسلامی ممالک کے بیش تر رسائل و جرائداور اخبارات میں مضامین اور مقالات لکھا کرتے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک و بیرون ملک میں شائع ہونے والے ان کے مضامین کی تعداد کا شمار پانچ سو سے اوپر ہے۔ انھوں نے راست طور پر اردو میں بھی لکھا اور ہزاروں صفحات کا عربی سے اردو اور اردو سے عربی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔انھوں نے تقریبا پینتیس کتابوں کا اردو سے عربی میں ترجمہ کیا ہے۔ اردو زبان میں مرحوم کی درج ذیل کتابیں علمی حلقوں میں بہت مشہور ہیں اور با ذوق افراد ان کتابوں کے طرز نگارش کے پیروکار رہے ہیں۔ وہ کوہ کن کی بات، پس مرگ زندہ، فلسطین کسی صلاح الدین کے انتظار میں، کیا اسلام پسپا ہورہا ہے؟!، عالم اسلام کے خلاف صلیبی صہیونی جنگ، حرف شیریں اور خط رقعہ کیوں اور کیسے لکھیں؟۔انھوں نے عربی میں بھی ایک درجن سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان میں سے بعض کتابیں مدارس کے نصاب میں شامل ہیں۔ انھوں نے مرحوم کے اولاد و احفاد، پسماندگان ، متعلقین، وابستگان سے تعزیت مسنونہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے رمضان المبارک کے دوسرے عشرے کے اخیر میں اس دنیا سے رخت سفر باندھا ہے، جو عند اللہ ان کی مقبولیت کی دلیل ہے اور ہمیں یہ بشارت دیتی ہے کہ اللہ تعالی اپنی پیاری عربی زبان کے بے لوث اور قابل رشک خدمت کے بدلے ان کی مغفرت فرمادے گا۔ اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، دار العلوم دیوبند کو ان کا نعم البدل عطا کرے، ان کے پسماندگان کی ہر طرح خبر گیری کرے، اور ان کے چھوڑے ہوئے کاموں کی تکمیل کی توفیق بخشے۔ آمین۔