مولانا نور عالم امینی: ایک روشن چراغ جو بجھ گیا۔ عبد المتین منیری

 

آخر وہی ہوا جس کا دھڑکا چند روز سے لگا رہتا تھا، آج ۲۱ رمضان المبارک علی الصبح خبر آئی کہ موت وزیست کی کشمکش میں آخر زندگی ہار گئی، نبض کی سانسیں ٹوٹ گئیں اور مولانا نور عالم امینی صاحب اپنے خالق حقییقی سے جاملے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

مولانا کا دارالعلوم دیوبند کے عربی ترجمان الداعی کے مدیر، عربی کے ایہ مایہ ناز اور مقبول استاد کے حیثیت سے بڑا نام تھا، ایک ایسے وقت جبکہ ملت کے لئے اہم اور ضروری اہل قلم اور شخصیات بڑی تیزی سے رخصت ہورہے ہیں، اور کورونا کا قہر نہ عامی نہ خواص اپنے جکڑ میں بلا امتیاز ہر ایک کو لیتا جارہا ہے، جہاں ماتم کرتے آنکھیں سوکھ گئی ہیں، مولانا کی رحلت ملت کا ایک عظیم سانحہ ہے۔

مولانا نے ۱۹۵۲ء میں اس دنیا میں آنکھیں کھولیں تھی،دارالعلوم دیوبند میں داخلہ کے بعد ۱۹۶۷ء میں عربی ادب کی تعلیم کے لئے آپ مولانا وحید الزماں کیرانوی رحمۃ اللہ علیہ حلقہ تلمذ میں آگئے، ۱۹۶۹ء کی اسٹرائیک کے بعد آپ نے مجبورا مدرسہ امینیہ دہلی میں داخلہ لیا، یہاں آپ کو مولانا سید محمد میاں دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی سرپرستی ملی، اور ۱۹۷۱ء میں یہاں سے فراغت کے بعد مولانا سید محمد میاں رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کی علمی صلاحیت، اور ہونہاری اور ذوق کو دیکھتے ہوئے حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمۃ اللہ کو بذریعہ خط سفارش کی کہ انہیں ندوۃ العلماء میں لے لیں، اور آپ کی بحیثیت مدرس یہاں پر تقرری ہوگئی، یہاں آپ کو حضرت مولانا علی میاںؒ کی سرپرستی ملی، ساتھ ہی ساتھ مولانا محمد الحسنی رحمۃ اللہ مدیر البعث الاسلامی جیسے اہل قلم کی رفاقت مل گئی، اور آپ کی صلاحیتوں کو چار چاند لگنے کے مواقع مل گئے،حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتابوں کی تبییض اور تصحیح املا میں آپ کا تعاون لینا شروع کیا، قصص النببین (۵) جیسی کتابوں کی تبییض میں آپ شریک رہے۔

دارالعلوم دیوبند کے تعلیمی ماحول میں آپ نے خوش خطی سیکھ لی تھی، جس کا ندوے میں خوب استعمال ہوا، یہاں کے پندرہ روزہ الرائد سے وابستگی کے بعد آپ نے اس میں اپنی خوش خطی کے تابناک نقوش چھوڑے۔ آپ نے حضرت مولانا کی کئی ایک اردو کتابوں اور مضامین کا عربی ترجمہ بھی کیا، جو کافی مقبول ہوا۔ حضرت مولانا اور مولانا محمد الحسنی علیہ الرحمۃ کی صحبت اور ندوے کے ماحول میں آپ کو عالم اسلام کے حالات واقعات میں گہری دلچسپی پیدا ہوئی، یہ دلچسپی آئندہ دنوں میں آپ کی تحریروں کی شناخت بن گئی۔

۱۹۷۷ء کے بعد آپ ندوے سے نکل کر جامعہ کاشف العلوم اورنگ آباد منتقل ہوئے، جہاں آپ کو سعودیہ سے مبعوث کی حیثیت سے تقرری حاصل ہوئی، یہاں تک کہ ۱۹۸۳ میں موقر عربی رسالہ الداعی دیوبند کی ادارت کا قرعہ فال آپ کے نام نکلا۔

دارالعلوم میں آپ نے مجلہ الداعی کی ادارت کے ساتھ عربی ادب کی تدریس کی ذمہ داری نبھائی۔جو آخر عمر تک خوش اسلوبی سے نبھائی،سنہ ۱۹۹۰ء میں مولانا وحید الزمان کیرانوی رحمۃ اللہ کی دارالعلوم سے سبکدوشی کے بعد آپ عربی ادب وصحافت میں عملا آپ کے جانشین سمجھے گئے۔

مولانا کی رحلت پر جو مضامین آرہے ہیں ان سے محسوس ہوتا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ کو آپ سے بہت انس تھا، اور حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتھم کے تعزیتی تاثرات سے محسوس ہوتا ہے کہ مولانا ایک طرح سے آپ کے ابتدائی شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں، اور ان حضرات کے دلوں میں آپ کا بڑا احترام پایا جاتا تھا۔

آج سے کوئی دس بارہ سال قبل جب دیوبند حاضری ہوئی تھی، تو مولانا نور عالم صاحب کے دولت کدہ پر بھی حاضری ہوئی تھی، اس وقت مولانا شوگر کے ایک بڑے حملے سے شفایاب ہورہے تھے، اوراپنے گھر ہی پررہتے تھے، مولانا کی تحریروں سے ہماری دلچسپی آپ کے ندوے کے ابتدائی دنوں سے تھی، ان کی باتوں سے محسوس ہوا کہ ان کی الداعی اوردیگر عربی تحریروں کا جتنا تعارف باہر ہے، اندرونی طور پر ان سے واقفیت اور دلچسپی بہت محدود ہے۔ بہت ممکن ہے یہ ان کے اس وقت کے تاثرات ہوں۔ اوربعد میں ان کا یہ تاثر زائل ہوگیا ہو۔ لیکن جس کثرت سے آپ کی دو اردو کتابوں (وہ کوہ کن کی بات) اور (پس مرگ زندہ) کا تذکرہ ہوتا ہے اس سے ہمیں مشہور محقق مشفق خواجہ کی یاد آتی ہے، جو اردو کے جانے مانے ادیب ومحقق تھے، لیکن ان کا ایک غیر سنجیدہ کالم( سخن در سخن۔ خامہ بگوش کے قلم سے) ان کی شہرت اور شناخت کا باعث بنا۔

اس کے علاوہ بھی ایک بات ذہن میں کلبلاتی رہتی ہے کہ ہمارے دینی مدارس اور جامعات میں عموما اپنے اساتذہ ومشایخ کے لئے تعریفی کلمات میں مبالغہ کی حد تک سخاوت پائی جاتی ہے، لیکن جب ان کے علوم سے استفادہ کی بات آتی ہے، تو معاملہ صفر نکلتا ہے، حالانکہ یہ مصنف اور مفکر اپنی تعریف سے زیادہ ان کے کام کو اپنے لئے ذخیرہ آخرت بنانے کے خواہشمند ہوتے ہیں، کیونکہ یہی ان کے لئے توشہ آخرت بن سکتا ہے، اب کی تصانیف کو نہ پڑھا جائے، ان کی تعمیری فکر کو آگے نہ بڑھا جائے، صرف ان کی تعریفوں کے پل باندھے جائیں ،تو اس سے انہیں کہاں فائدہ پہنچنے والا ہے؟۔ افسوس کہ آج یہی نکتہ ان لوگوں نے فراموش کردیا ہے ،جنہیں اس کا سب سے زیادہ فہم ہونا چاہئے تھا۔

مولانا نیک ساعتوں میں اپنے رب کی طرف لوٹ گئے، ہمیں بھی اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، اللہ ان کے درجات بلند کرے۔