مولانا نور عالم خلیل امینی:مثلِ خورشیدِ سحر فکر کی تابانی میں-نایاب حسن

(نوویں قسط)
ادیب معاشرے کا نقیب ہوتا ہے اور اس اعتبار سے اس کی تحریروں میں محض لذت اندوزی و لطف انگیزی کے عناصر ہی کافی نہیں؛بلکہ اسے اعلی نصب العین کے تحت اور مفید و مثبت پیغام رسانی کے مقصد سے قلم اٹھانا چاہیے۔ یہیں سے ادب برائے ادب کی نا افادیت اور ادب برائے زندگی کی ضرورت کی نظریاتی اساس قائم ہوتی ہے۔ قلم رانی کی قوت اور تحریر و تخلیق کی صلاحیت قدرت کی طرف سے عطا ہونے والی انمول اور بے بہا نعمت ہے،جس کا استعمال معاشرے کی حقیقی ترجمانی اور اس کے ذہن و ضمیر کی صالح تعمیر و تشکیل کے لیے ہونا چاہیے۔ دنیا کے ہر بڑے ادیب اور عظیم تخلیق کار کے پیش نظر یہی نصب العین رہا ہے،انسانیت کی خیر خواہی ادیبوں کا اولین مطمحِ نظر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ باشعور بھی ہوتے ہیں اور سب سے زیادہ حساس بھی،جہاں وہ حالات و سانحات کی گہرائیوں میں اترکر ان کے مضمرات و عواقب کا پتا منٹوں اور سکنڈوں میں لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں،وہیں ان کا دل دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہونے والی نا انصافی،ظلم و جبر ،نابرابری و استحصال،فکر کی کجی اور ذہن کے زیغ و ضلال پر کڑھتا اور ان کے خلاف آوازۂ احتجاج بلند کرنا وہ اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ فکر و نظر کی سلامتی کسی بھی ادیب و فنکار کے لیے ضروری ہے ،قلم اور ذہن کی راست روی کی ضمانت تبھی دی جاسکتی ہے،ورنہ ذہن و خیال کی لطافت و نازکی اور تصور و تفکر کی رفعت سے تعلق رکھنے والا یہ شعبہ بھی بسا اوقات افراد،گروہوں،جماعتوں اور قوموں کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے۔ مختار مسعود نے بالکل درست لکھا ہے کہ رزق ہی نہیں،بعض کتابوں سے بھی پرواز میں کوتاہی آتی ہے۔ اقبال نے لفظ و خیال کی وسعت کے ساتھ اس مفہوم کو یوں ادا کیا ہے:
کسے خبر کہ سفینے ڈبو چکی کتنے
فقیہ و صوفی و شاعر کی نا خوش اندیشی
گویا ’’ناخوش اندیشی‘‘ایک ایسا مرضِ عضال ہے کہ اگر یہ مذہب و ادب کے سرخیلوں کو لاحق ہوا،تو ان کے ساتھ ساتھ ایک پورے قبیلے،قوم اور ملت کی تباہی کا سبب بنتا ہے۔
ان حقائق پر ہمارے مولانا نور عالم خلیل امینی کی نظر بڑی وسیع اورعمیق تھی،سو وہ قوتِ تحریر اور دولتِ خامہ فرسائی کو نہایت انمول سمجھتے تھے،جسے وہ بہت سوچ بچار کے،غیر معمولی حزم و احتیاط اور بے انتہا غوروتدبر کے بعد خرچ کرتے۔ جہاں وہ اپنی تحریروں میں معلومات کا ذخیرہ بہم پہنچانے اور اسلوب و اندازِتحریرکو ہر ممکن بنانے سنوارنے، نکھارنے اور آراستہ کرنے پر زور دیتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ نہ صرف کہنے والے یا لکھنے والی کی بات اچھی ہونی چاہیے؛بلکہ طریقۂ تحریر و گفتار بھی دل پسند،خوش کن اور دل آگیں ہونا چاہیے،وہیں وہ قلم کار کے دل کے اجلاپن،ذہن کی شفافیت اور فکر کی سلامتی پر بھی بہت زیادہ زور دیتے تھے۔ کئی مرتبہ ان سے گفتگو کے دوران ملک و بیرونِ ملک کے مختلف بڑے ادیبوں اور اصحابِ قلم کا تذکرہ ہوتا،تو جہاں وہ پوری صفائی اور وضاحت کے ساتھ ان کے تئیں اپنی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا اظہار کرتے،وہیں اسی قدر وضاحت کے ساتھ اس کی وجہ بھی بتاتے اور کہتے کہ بیٹے!ایک ادیب یا قلم کار محض معلومات کی بہتات یا اسلوبِ بیان کی دلکشی کی وجہ سے مقبولیت اور پایندگی حاصل نہیں کر سکتا،نہ اس طرح اس کی تحریر میں زور اور اثر پیدا ہوسکتا ہے،اس کے لیے اس کا صائب الفکر والعمل ہونابھی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں مولانا کے ایک اشراقے(ط:الداعی،ستمبر-نومبر ۲۰۰۷) کا ذکر مناسب ہوگا،جس کا عنوان ہی مولانا نے’’کل کاتب قد یجوزأن یکون کاتبین أو أکثر‘‘ رکھا ہے اور اس میں یہ لکھا ہے کہ ایک ہی ادیب یا مصنف کبھی اخلاص کی دولت،قومی فکرمندی،شرو فساد سے نفرت اور حق و اصلاح کی محبت جیسے جذبات سے سرشار ہوتا ہے تو وہ دل سے لکھتا ہے اور اس کے لکھے کا اثر پر بھی دلوں پر پڑتا ہے،مگر کبھی کبھی وہ اس قسم کے جذبات سے عاری ہوتا ہے،محض اپنے پیشۂ تحریر کی انجام دہی اس کا مطمحِ نظر ہوتی ہے،تو پھر اس کی تحریروں میں جان نہیں ہوتی،وہ ادا اور خو نہیں ہوتی،جو دلوں کو اپنی جانب کھینچے،وہ جسم بلا روح ہوتی ہے،ہر قسم کی حرکت و زندگی کی رمق سے خالی ہوتی ہے اور زمینی سطح پر ایسے لکھنے والوں اور ان کی لکھی ہوئی چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آخرمیں لکھتے ہیں:
’’الكتابات الصادرة عن العقيدة يحتضنها الكاتب، وعن الرسالة يحملها الأديب، وعن الدعوة يحملها حَامِلُ القلم هي التي يجوز أن تُسَمَّى «كتابات» . أما غيرُها فهي «خرابات» أو «فسادات» أو «فتن» أو «جنون» والجنونُ فنونٌ. لو أنّ الكاتب أَدْرَكَ قيمةَ نفسه، واحْتَرَمَ قلَمه الذي يحمله، لما خَطَّ حرفًا بدون هدف، فضلاً عن أن يكتب ما يُفْسِد ويفتن، ويدعو للمجون والاستهتار، وخَلْعِ العِذَار.‘‘
(جو تحریریں صاحبِ تحریر کے فکر و عقیدہ اور اس کے دل میں موجود صالح پیغام و دعوت کے جذبے کے نتیجے میں ظہور میں آتی ہیں،انھی کو حقیقی معنوں میں ’’تحریر‘‘کہا جاسکتا ہے۔ ان کے علاوہ جو کچھ وہ لکھتا ہے،وہ خرافات یا فتنہ و فساد اور جنون کے قبیل کی چیزیں ہیں اور جنون میں تو آدمی کیا کیا بکتا ہے۔ اگر ایک ادیب اور مصنف کو اپنی قدر و قیمت کا اندازہ ہوجائے اور وہ اپنے قلم کا احترام ملحوظ رکھے،تو وہ بے مقصد ایک حرف بھی نہیں لکھے گا،چہ جائیکہ وہ فتنہ انگیزی،عقل باختگی اور برہنگی و بے حیائی کی دعوت دینے والی تحریریں لکھے)
عام ادیب یا مصنف کے بارے میں مولانا کا یہ نظریہ تھا،تو ظاہر ہے کہ وہ خود بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہوں گے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اس اصول پر سختی سے کاربند تھے۔ جس طرح ان کی نجی زندگی لامقصدیت و لایعنییت سے پاک تھی،اسی طرح ان کی تحریری زندگی بھی بامقصد،مستقیم اور ہر قسم کی بے سمتی سے صاف تھی۔ انھوں نے جو کچھ لکھا محض حظِ نفس کے لیے یا اس لیے نہیں لکھا کہ وہ ان کا کام تھا؛بلکہ وہ وظیفۂ قلم کشی کو قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک بڑی ذمے داری سمجھتے تھے اور اس کی ادائیگی میں وہ کسی بھی قسم کی کوتاہی،کسل مندی یا لاپروائی کے متحمل نہیں ہوسکتے تھے،وہ قلم کو خدا کی امانت سمجھتے تھے اور اس کے ضـیاع کو کسی بھی حال میں گوارہ نہیں کر سکتے تھے،خود بھی اسی موقف پر قائم تھے اور اپنے قارئین،مشورے کے طالب مصنفین اور قلم و قرطاس سے وابستگی رکھنے والے تلامذہ کو اسی کی تلقین بھی کرتے تھے۔ ایک دوسرے مضمون’’ما ھي الکتابۃ؟‘‘(تحریر کیا ہے؟، ط:الداعی،اپریل ۲۰۱۰) میں لکھتے ہیں:
’’الكتابةُ كالخطابة نعمة إلهيّة لا تُقَدَّر بثمن؛ فالممسك بالقلم لممارسة الكتابة يتصدّى للانتفاع بهذه النعمة العظمى، فلا بدّ أن يقدّرها حقَّ قدرها، حتى لا يُسْلَبَها؛ لأن النعمة المهدورة المضاعة غير المشكورة، كثيرًا ما تُسْلَب صاحبَها. ومِنْ شكرِها وتقديرِها أن تُسْتَخْدم لنفع الخلق وإسداء الخير للإنسان خير الخلق، وهذا النفعُ لا يتحقّق إلاّ إذا مُوْرِسَتْ إيجابيّةً بِنَائِيَّةً من زرع الخلق النبيل، ورسم معالم الخير، والانتصار للحقّ، والدلالة على سبيل الهدى، والوقوف بجانب المظلوم، والأخذ على يد الظالم، وتعرية المجرمين، والتوصّل إلى الحقيقة، والبحث عن مصدر الشرّ أو الخير في مجال من المجالات، حتى يتجنب المجتمعُ الإنسانيُّ جانبَ الشرّ، ويختار جانبَ الخير.
إنّ الحامل للقلم ليخطّ به ما يُفْسِد الإنسانَ، ويُشَوِّه أخلاقَه، ويُقَبِّح سيرتَه وسلوكه؛ أو ليخطّ به ما لايعني الإنسانَ في دنياه أو أخراه، وإنما تضيّع قراءتُه وقتَه، وتشغله عن واجباته ومسؤولياته، وتلهيه عما يجب أن يقوم به نحوَ نفسه ومجتمعه، ودينه ووطنه، وتُحَوِّله فردًا مُهْمِلاً لايبالي بشيء، ويعيش الحياة متحررًا من جميع المشاعر الإنسانيّة، كالحيوان لايهمّه إلاّ ما يشبع بطنه ومقتضياته البهيميّة.. إنّه يجب أن يُوْقَفَ عن الكتابة ويُزَجّ به إلى السجن، أو يُحْبَس في بيته؛ حتى يعيش حياته دون أن يتضرّر به أفراد المجتمع الإنسانيّ .‘‘
(قوتِ تقریر کی طرح قوتِ تحریر بھی ایک انمول نعمت ہے؛پس جس شخص کے ہاتھ میں قلم ہے وہ دراصل اس نعمتِ عظمی سے مستفید ہونے جارہا ہے؛لہذا اس کے لیے ضروری ہے کہ کماحقہ اس نعمت کی قدر کرے؛تاکہ یہ نعمت اس سے چھن نہ جائے؛کیوں جس نعمت کی قدر نہ کی جائے،اس پر شکر نہ ادا کیا جائے،تو اکثر و بیشتر وہ چھین لی جاتی ہے۔ اس نعمت(قلم) کا شکر اور اس کی قدرشناسی یہ ہے کہ اسے لوگوں کی نفع رسانی اور انسانوں میں خیر پھیلانے کے لیے استعمال کیا جائے اور یہ فائدہ تبھی حاصل ہوسکتا ہے،جب قوتِ تحریر کا استعمال مثبت اور تعمیری انداز میں ،معاشرے میں اعلیٰ اخلاق کی تلقین،مظاہرِ خیر کی اشاعت،حق کی حمایت،راہِ ہدایت کی طرف رہنمائی،مظلوموں کی حمایت،ظالموں کے مؤاخذے،مجرموں کی نشان دہی،حقیقت تک پہنچنے کی کوشش اور خیر یا شر کے سرچشمے کے انکشاف کے لیے کیا جائے؛تاکہ لوگ برائی سے بچ کر خیر کی جانب متوجہ ہوں۔
اس کے برخلاف وہ لکھاری جو اپنے قلم سے فساد پھیلاتا ہے،لوگوں کو بد اخلاقی پر ابھارتا ہے،انھیں لا مقصدیت اور بے کاری کی طرف مائل کرتا ہے ،جسے پڑھ کر لوگ اپنا وقت ضائع کرتے اور اپنی ذاتی،معاشرتی،مذہبی و قومی ذمے داریوں سے غافل اور لاپروا ہوجاتے ہیں،ہر قسم کے انسانی جذبات سے آزادہوکر جانور کی طرح زندگی گزارنے لگتے ہیں،جسے اپنا پیٹ بھرنے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔۔۔۔ تو ایسے ادیب یا مصنف کے لکھنے پر پابندی لگادینی چاہیے،اسے پابندِ سلاسل یا گھر میں نظر بند کردینا چاہیے؛تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی ایسے گزارے کہ معاشرۂ انسانی اس کی ضرر رسانیوں سے محفوظ رہ سکے)
ان کا عقیدہ تھا کہ لفظ کو لکھنے سے پہلے اسے تولنا چاہیے،وہ فکر ہی نہیں،حروف کی تطہیر و تنظیف کے بھی قائل تھے،ان کا ماننا تھا کہ جس طرح ایک شریف و کریم النفس کسی بھی حال میں انسان اپنے دامنِ عز و وقار پر داغ نہیں لگنے دیتا،اسی طرح ایک حساس ادیب،تخلیق کار اور مصنف کو چاہیے کہ وہ اپنے قلم کو بے داغ رکھنے کا ہر ممکن جتن کرے ؛یہی وجہ ہے کہ ان کے لکھے ہوئے ہزارہا صفحات میں سے کوئی بھی صفحہ مقصدیت و افادیت سے خالی نہیں ہے۔ ان کی ہر سطر سے علم کی گیرائی،فکرکی بلندی،ملی و قومی ہمدردی،انسانی خیر خواہی،عالمِ اسلام کے تئیں غیر معمولی فکرمندی،دنیا بھر کے اہلِ علم و ادب و فکر کے تئیں محبت کا وفور اور دل و نگاہ کی سرور بخش روشنی جھلکتی ہے۔
(جاری)