مولانا نذر الحفیظ ندوی کے سانحۂ ارتحال پر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی میں ورچوئل تعزیتی نشست کا انعقاد

نئی دہلی:مشہور عالم دین مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہری ، عمیدکلیۃ اللغۃ العربیۃ وآدابہا دار العلوم ندوۃ العلماء کے سانحۂ ارتحال پر شعبۂ عربی دہلی یونیورسٹی میں شعبہ کے سابق صدر پروفیسرمحمد نعمان خان کی صدارت میں ورچوئل تعزیتی نشست کا اہتمام کیاگیا، نشست کی نظامت شعبہ کے صدر پروفیسر نعیم الحسن اثری نے کی ۔ پروفیسر محمد نعمان خان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ مولانا نذر الحفیظ نہایت خلیق اور ملنسار تھے،ان کو اردو وعربی پر یکساں عبور حاصل تھا، ان کی تصانیف قابل قدر ہیں ، انھوں نے علی میاں ندوی اور مولانامحمد رابع حسنی کے دل میں خاص جگہ بنائی تھی ،یہی وجہ ہے کہ مولانا تادم زیست ندوہ کے ہی ہوکر رہے، مولانا ایک بار ہمارے شعبہ (شعبہ عربی ڈی یو) میں بھی تشریف لائے تھے اور اپنے خطاب سے مستفید فرمایاتھا۔ اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت کاملہ فرماکر ان کے درجات کو بلند فرمائے۔شعبہ کے سینئر استاذ پروفیسر حسنین اختر نے کہاکہ مولانا نذر الحفیظ ایک جید الاستعداد عالم دین ہونے کے ساتھ صاحب قرطاس وقلم تھے ،ان کا قلم رواںدواں تھا، انھوں نے اپنی تصانیف سے اہل علم ودانش کو نفع پہنچایا۔ان کی رحلت یقینا علمی وادبی خسارہ ہے۔صدرشعبہ پروفیسر نعیم الحسن اثری نے کہاکہ مولانا نذر الحفیظ ندوی نے علم وادب میں اپنی انفرادی شناخت بنائی ،وہ نہایت خاموشی سے درس وتدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف میں مشغول رہے۔ان کے اشہب قلم سے عربی واردو کی کئی قابل قدر تصانیف منظر عام پر آئیں ،جن سے طلبہ واساتذہ نے یکساں طور پراستفادہ کیا۔اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور ندوۃ العلما کو نعم البدل عطا فرمائے۔شعبہ کے استاذ ڈاکٹر مجیب اختر نے کہاکہ مولاناسے میں نے بلاغت پڑھی ،ان کاانداز تدریس بہت دلچسپ تھا، طلبہ واساتذہ کے درمیان انھیں مقبولیت ومحبوبیت حاصل تھی ، انھوں نے عین شمس یونیورسٹی قاہرہ سے بی ایڈ کیا اور جامع ازہر سے پی ایچ ڈی کی ،ان کی شہرہ آفاق تصنیف ’مغربی میڈیا اور اس کے اثرات‘ کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، یہ استاذ محترم کے لیے توشۂ آخرت ہے۔شعبہ کے استاذ ڈاکٹر محمد اکرم نے کہاکہ مولانا کی زندگی سلف کا نمونہ تھی،انھوں نے نہایت سادگی سے علمی وادبی خدمات میں خود منہمک رکھا۔اس موقع پر شعبہ کے دیگر اساتذہ ڈاکٹر اصغر محمود، گیسٹ اساتذہ ڈاکٹر جسیم الدین ، مفتی آصف اقبال بھی موجود تھے۔دعائیہ کلمات کے ساتھ تعزیتی نشست اختتام پذیر ہوئی۔