مولانا نذر الحفیظ ندوی ؒ کا اچانک وصال ناقابل یقین :مولانا احمد ولی فیصل رحمانی

مونگیر : دارالعلوم ندوۃ العلماء کے مئوقر استاذ اور شعبہ عربی زبان کے سربراہ حضرت مولانا نذر الحفیظ ندوی ازہریؒ کے انتقال پرمولانا احمد ولی فیصل رحمانی، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی، مونگیرنے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا کے انتقال کو دارالعلوم ندوۃ العلماء ہی نہیں بلکہ علمی وادبی دنیا کا بڑانقصان بتایا ہے۔حضرت مولانااحمدولی فیصل رحمانی نے کہا کہ یکے بعد دیگرے ندوۃ العلماء کے لیے سانحے پیش آئے ہیں۔خصوصاََ مرشد الامت حضرت مولانا رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم ناظم ندوۃ العلماء کے لیے صبر آزما وقت ہے۔مولانا نذر الحفیظ ؒ کااچانک وصال ناقابل یقین اورطلبہ عزیز اور ان کے شاگردوں کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی قبرکو نور سے بھر دے اور ان کے نیک اعمال کوقبول فرمائے، آمین۔ محترم سجادہ نشیں نے کہاکہ مولانا نذر الحفیظ تجربہ کار اور مقبول ترین استاذ تھے۔انھوں نے ندوۃ العلماء کے علاوہ عالم اسلام کی عظیم یونیورسیٹی جامعہ ازہر مصرسے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔وہ ممتاز صاحب قلم تھے،کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔حضرت مولانا ابو الحسن علی ندویؒ کی مسلم پرسنل لا بورڈ سے متعلق تحریر و تقریر کے مجموعہ  جہد مسلسل کے مرتب تھے نیز پندرہ روزہ تعمیر حیات کے مدیر بھی رہے۔علم وقلم کافیضان دور تک پہونچایا۔آپؒ خانقاہ رحمانی کے قدرداں تھے۔دادا بزرگوار امیر شریعت رابع حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ سے عقیدت رکھتے۔والد بزرگوار حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ سے گہراتعلق تھا۔خانقاہ رحمانی متعدد بار آمد ہوئی۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے مونگیر اجلاس میں بھی خانقاہ تشریف لائے اور امیرشریعت سابعؒ کی تحریکات کے ہمیشہ مؤید رہے۔ حضرت مولانا نذر الحفیظ ندویؒ کے انتقال پر ان کی مغفرت، آنے والے تمام مراحل میں آسانی اور درجات میں بلندی کے لیے خاص دعاؤں کا اہتمام کیاگیا۔