یادِ رفتگاں: مولانا نذر الحفیظ ازہری قدس سرہ ـ عبدالمالک بلند شہری

پت جھڑکا کا موسم عروج پر ہے، چمنستانِ علم و ادب کے شگفتہ پھولوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ جاری ہے -گزشتہ کل چمن ندوہ کا ایک اور شاداب اور معطر پھول بھی نذر خزاں ہوگیا – مولانا نذر الحفیظ ازہری کی ناگہانی رحلت نے دینی و علمی حلقوں کو غم و اندوہ میں مبتلا کردیاـ ان کی رحلت واقعی ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے – وہ ندوی تہذیب و ثقافت کا حسین سنگم اور مولانا علی میاں نور اللہ مرقدہ کی تربیت کا بہترین ثمرہ تھےـ

مولانا نذر الحفیظ ململ مدھوبنی سے وطنی نسبت رکھتے تھے _ آپ کی ولادت 1939 میں ہوئی – ابتدائی تعلیم پرتاب گڑھ کے مدرسہ کافیۃ العلوم میں حاصل کی جہاں آپ کے والد نامور شاعر مولانا قاری عبدالحفیظ حافظ مرحوم(وفات ١٩٩٢) مدرس و ذمہ دار تھے – آپ کے والد ایک خدارسیدہ بزرگ اور عاشق قرآن تھے -نقشبندی سلسلہ کے صاحب حال بزرگ حضرت مولانا محمد احمد پرتابگڑھی قدس سرہ(١٨٩٩-١٩٩١) کے پروردہ و خلیفہ تھے -انھوں نے ابتدا میں وہیں تعلیم حاصل کی اعلی تعلیم کے لیے دانش کدہ شبلی دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں داخل ہوئے اور ١٩٦٢ ء میں سند فراغت حاصل کی – بعدہ دو سال فضیلت کے درجہ میں زیر تعلیم رہے – اس مدت مدید میں آپ نے متعدد اساتذہ فن سے خاطرہ خواہ استفادہ کیا – خلیفہ شیخ الاسلام شیخ التفسیر مولانا اویس نگرامی ندوی قدس سرہ( وفات ١٩٧٦)، خلیفہ مصلح الامت مولانا اسحق سندیلوی (١٩٩٤)،فقیہ ندوہ مولانا مفتی ظہور اعظمی ندوی قدس سرہ (١٩٢٧-٢٠١٦) وغیرہ آپ کے اساتذہ میں ہیں – مولانا ابوالحسن علی ندوی سے آپ کا خصوصی تعلق تھا -ان ہی کی نگرانی و رہنمائی میں اپنی زندگی کا اکثر حصہ گزارا –

عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے تدریس کے مقدس پیشہ سے وابستہ ہوئے اور چند برس کے استثناء کے ساتھ پوری زندگی اسی شغل میں گزاری اور نسلوں کی تربیت کا گراں قدر فریضہ انجام دیا _آپ کی تدریس کے دو دور ہیں – ایک فراغت کے معا بعد جو آٹھ دس برس کو محیط ہے – اس کا آغاز بارہ بنکی کے جامعۃ الرشاد سے ہوا – پھر آپ ندوہ میں عربی زبان و ادب کے مبتدی استاذ ہوئے اور صرف و نحو اور انشاء و بلاغت کی کتابیں پڑھائیں -آپ کو تحصیل علم کا بہت شوق تھا اور ہمیشہ خوب سے خوب تر کی جستجو رہتی اور منزل سے بڑھ کر منزل کی تلاش میں سرگرداں رہتے – اسی ذوق بادیہ پیمائی نے آپ کو مزید تحصیل کمال کے نیک مقصد کے تحت قاہرہ پہنچایا.. آپ نے وہاں کے قیام کے دوران بی ایڈ اور ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی وہاں سے مراجعت کے بعد پھر دوبارہ ندوۃ العلماء میں تدریسی سلسلہ کا آغاز کیا جس کا سلسلہ وفات تک جاری رہا – آپ نے کم و بیش تیس چالیس برس ندوہ میں تدریسی فرائض انجام دیئے آپ کے ممتاز ترین تلامذہ میں مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی مدظلہ (ولادت ١٩٥٥) ، مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی مدظلہ(١٩٦٤) ، مولانا فیصل بھٹکلی مدظلہ اور مولانا مفتی مسعود عزیزی مدظلہ (١٩٧٤) سمیت کئی ایک حضرات قابل ذکر ہیں –

حق تعالیٰ شانہ نے آپ کو تصنیف و تالیف کا بھی عمدہ ذوق دیا تھا – اردو و عربی دونوں میں لکھتے اور بے تکلف لکھتے – آپ کے خامہ معجز رقم سے نکل کر منظر عام پر آنے والے مقالات و مضامین کی تعداد بے شمار ہے -آپ کی حسنات میں کئی ایک تصانیف بھی شامل ہیں – الزمخشری کاتبا و شاعرا آپ کی عمدہ اور تحقیقی و ادبی محاسن سے پر کتاب ہے ـ آپ کی معرکہ آرا تصنیف مغربی میڈیا اور اس کے اثرات ہے – اسی کتاب نے آپ کو ایک ممتاز صحافی اور نمایاں تجزیہ نگار کی شناخت عطا کی – اس کے علاوہ ابوالحسن کاتبا و مفکرا بھی آپ کی نمایاں کاوش ہےـ

راقم سطور نے ندوہ کی اپنی چار سالہ تعلیمی مدت میں انھیں بارہا دیکھا – کبھی محاضرات دیتے ہوئے،کبھی مسجد ندوہ میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے اور انھیں ان کا مقام و مرتبہ یاد دلاتے ہوئے، گاہے مہمان خانہ میں میر کاروں سے علمی سوالات کرتے ہوئے، گاہے مسجد ندوہ میں تلاوت قرآن کرتے ہوئے، کبھی احاطہ ندوہ میں ٹہلتے ہوئے غرض درجوں دفعہ ان کی زیارت سے آنکھوں کو سکون بہم پہنچایا اور کئی مرتبہ ان سے بہ راہ راست فیض یاب ہونے کا شرف حاصل ہوا – اگرچہ بدقسمتی کی بنا پر ان سے باقاعدہ شرف تلمذ تو نہ حاصل ہوسکا جس کا اب تک ملال ہے لیکن ان کے فکری خطبات اور علمی محاضرات سے حتی المقدور استفادہ کا موقع ملا –

ذہن میں اب بھی اس مبارک محفل کی دلچسپ یادیں موجود ہیں جو عہد حاضر کے ممتاز اسکالر اور انگلینڈ میں ترجمان ندوہ مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی مدظلہ العالی کی ندوۃ العلماء آمد کی مناسبت سے رواق ابوالحسن میں سجی تھی – اس میں مولانا نذر الحفیظ ازہری نے اپنے اس شاگرد رشید کا بلند الفاظ کے ساتھ تعارف کرایا تھا جس سے شاگرد کی خوش نصیبی اور کمالات علم سے آراستگی کے ساتھ ساتھ خود استاذ محترم کی خردنوازی، چھوٹوں کی قدر اور حوصلہ افزائی کی خو بھی مترشح ہوتی ہے – اسی طرح پروفیسر انیس چشتی قدس سرہ کی کتاب مولانا علی میاں ندوی کے رسم اجراء کے موقع پر بھی مولانا ازہری نے بہترین بیان کیا تھا اور مولانا علی میاں کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے تھے-وہ بھی عجیب منظر تھا – مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی (١٩٣١-٢٠١٩)، مولانا نذر الحفیظ ازہری اور پروفیسر انیس چشتی نور اللہ مرقدھم کے مشاہدات و تاثرات سن کر دل میں مولانا علی میاں کی قدر اور بڑھ گئی تھی – اس موقع پر ہر سہ حضرات نے مولانا علی میاں کی شخصیت کے ان گوشوں سے پردہ ہٹایا تھا جو اب تک عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے –

ندوہ کے دوران قیام راقم سطور کو جس بات کا شدت سے قلق تھا وہ مولانا علی میاں ندوی کی زیارت سے محرومی اور ان کے عہد مسعود میں میخانہ ندوہ سے عدم سیرابی کا ہے – کاروان ندوہ سے عاجز کی وابستگی کے وقت مولانا علی میاں کی وفات کو پندرہ برس سے زائد ہوچکے تھے _ ندوہ کا چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ علی میاں کے نام سے معطر تھا -مسجد، مہمان خانہ، اروقہ غرض ہر جگہ کے بام و در علی میاں کے زمزموں سے گونج رہے تھے – ندوہ کے اکثر و بیشتر بلکہ تمام تر اساتذہ ہی مولانا علی میاں کے بہ راہ راست تلامذہ اور متعلقین میں تھے اور ہر گفتگو و تذکرہ اور درس میں ان کا نام بہ کثرت لیتے تھے – اس وقت یہ محرومی دل کو وہ ٹھیس پہنچاتی تھی کہ ناقابل بیان ہے – اس ناکارہ کو اپنے اکابر و مشائخ میں مولانا علی میاں سے سب سے زیادہ تعلق ہے – اس کی متعدد وجوہات ہیں -سب سے بڑی اور بنیادی وجہ یہی ہے کہ ان کے اندر جامعیت کمال کی تھی – زبان و ادب میں کامل دستگاہ، عربی و اردو میں قابل رشک حد تک مہارت اور حالات حاضرہ سے واقفیت، عوام اور برادران وطن سے مخلصانہ تعلق اور دعوتی مزاج اور داعیانہ ذہن، تحزب و گروہ بندی سے کوسوں دور، بے ضرر اور اخلاق حمیدہ سے متصف، اکابر اہل اللہ اور اصحاب طریقت کے منظور نظر غرض ان کی شخصیت کی مختلف جہتیں ہیں جو سب کی سب قابل ذکر ہیں – علی میاں تصوف و طریقت کے ممتاز ترین مقام پر بھی فائز تھے -بانی تبلیغی جماعت حضرت مولانا الیاس کاندھلوی نور اللہ مرقدہ(١٨٨٣-١٩٤٤) ،شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ(١٨٧٦-١٩٥٧) ،شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری قدس سرہ (١٨٩٦-١٩٦٢) ، قطب الرشاد حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری نور اللہ مرقدہ(١٨٧٤-١٩٦٢) ،مصلح الامت مولانا شاہ وصی اللہ الہ آبادی علیہ الرحمہ (١٨٩٥-١٩٦٧) ،مولانا شاہ یعقوب مجددی بھوپالی علیہ الرحمہ(١٨٨٦-١٩٧٠) ،شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلوی نور اللہ مرقدہ (١٨٩٨-1٩٨٢) اور حضرت مولانا احمد پرتابگڑھی نور اللہ مرقدہ (١٨٩٩-١٩٩١) ایسے پایہ کے اہل اللہ کے علوم و معارف کے امین اور ان کی خصوصیات و کمالات کے تن تنہا جامع تھے – واقعی وہ لوگ جو مولانا علی میاں کی مجالس میں شریک ہوئے ہیں اور ان سے بہ راہ راست فیض یاب ہوئے ہیں ان کی سعادت مندی و نصیبہ وری کے کیا کہنے – زیارت سے محرومی کا قلق تو ہے لیکن دل کی تسلی کے لیے اتنا بھی کافی ہے کہ کم سے کم ان کے سفر و حضر کے خادم، ان کے علوم و معارف کے جامع،ان کے سچے پکے جانشین میرکاروان نمونہ اسلاف حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی زید مجدہم (ولادت ١٩٢٩) کی صحبت و خدمت کا شرف تو کسی قدر حاصل رہا ہے یہ بھی کوئی معمولی نعمت نہیں ہے آنے والی نسلیں ان لوگوں پر یقینا فخر کریں گی جنہوں نے میر کاروان کو دیکھا اور ان سے کسب فیض کیا _مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی زید مجدہم کو مولانا علی میاں سے وہی نسبت ہے جو مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری کو حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری قدس سرہ (١٨٥٣-١٩١٩) سے اور مولانا روم کو اپنے مرشد شمس تبریز سے تھی-تصوف کی اصطلاح میں دیکھا جائے تو یقینا مولانا رابع حسنی مدظلہ کو علی میاں سے نسبت اتحادی حاصل ہے اور تومن شدی کا معاملہ ہے – خیر یہ حکایت اتنی لذیذ ہے کہ اس کی طوالت شاید ہی ختم ہو ـ

مولانا نذر الحفیظ ازہری زبان و ادب کے خادم تو تھے ہی ساتھ میں عشق و معرفت کے میدان کے بھی آدمی تھے -انھیں اوائل عمری ہی سے اہل اللہ و مشائخ کرام کی دعائیں لینے کا شرف حاصل رہا تھا – وہ شیخین کریمین کے پیارے مستشرد اور تصوف و سلوک کے سالک بھی تھے -علمائے ندوہ کی خاصیت یہ رہی ہے کہ انھوں نے ہر دور میں علم و ادب اور قلم و کتاب کے ساتھ مضبوط رابطہ رکھنے کے ساتھ ساتھ تسبیح و سبحہ سے بھی تعلق رکھا ہے -علمائے ندوہ نے زبان و ادب، انشا و بلاغت،حدیث و فقہ کے سمندروں میں غواصی کے ساتھ ساتھ معرفت و للہیت اور عشق و باطنی دولت کے مزہ بھی لوٹے ہیں -خشک دین داری اور لقوہ شدہ تقوی سے کوسوں دور ہونے کے ساتھ ساتھ جذبات میں نہ بہنے والے اور وسیع الظرفی کا ہمہ وقت خیال کرنے والے ندوی علماء صحیح معنی میں چشتی و نقشبندی خصوصیات کے جامع ہوئے ہیں -بانی ندوہ مولانا محمد علی مونگیری، علامہ سلیمان ندوی، علامہ حیدر حسن خان ٹونکوی، مولانا عمران خان ازہری، مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی سے لے کر مولانا نذر الحفیظ ازہری تک ان ندوی علماء کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے زبان و ادب اور علم و فن کے سمندر میں غواصی کے ساتھ ساتھ معرفت و رہبانیت کے مقامات بھی طے کئے اور باقاعدہ اہل اللہ سے مخلصانہ ربط قائم کرکے اپنے دل کی دنیا آباد کی –

بعض لوگوں کی نظر میں مولانا ازہری کا امتیاز خاص عربی میں مہارت اور صحافت کے رموز و اسرار سے واقفیت ہے – جب کہ عاجز کے نزدیک ان کا اصل جوہر علم و عشق کی جامعیت ہے – انھوں نے اپنے عہد کے ممتاز ترین مشائخ سے کسب فیض کیا تھا اور ان کی مجالس میں نیازمندانہ طور پر حاضری دی تھی – مولانا احمد پرتابگڑھی نور اللہ مرقدہ کی تو آپ پر والد گرامی کی وجہ سے خاص نظر تھی – ان کے علاوہ مولانا قاری صدیق باندوی قدس سرہ (١٩٢٣-١٩٩٧) ،محی السنہ مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ (١٩٢٠-٢٠٠٥)اور شیخ الحدیث مولانا یونس جونپوری نور اللہ مرقدہ(١٩٣٧-٢٠١٨) سے بھی آپ کے تعلقات تھے – شیخ یونس قدس سرہ کے ہاں آپ کی بہت قدر تھی – جب بھی ملاقات کے لیے جاتے تو وہ بڑی آؤ بھگت کرتے اور مہمان نوازی اور راحت رسانی میں خوب فراوانی کرتےـ

ان کو حضرت مولانا علی میاں سے عشق کی حد تک تعلق تھا – ان کی شخصیت کے کمالات سے بہ خوبی آگاہ اور ان کے سچے قدر داں تھے – انھوں نے سفر و حضر میں ان کی صحبت سے فائدہ اٹھایا تھا اور بہ راہ راست اور ان کی تصنیفات و تالیفات سے خوب حظ حاصل کیا تھا-ان کو مولانا علی میاں کی تصنیفات کی عبارتیں خوب ازبر تھیں-اپنے خطبات و تصنیفات میں وہ حضرت مولانا، حضرت مولانا کے ذریعہ مولانا علی میاں کا خوب تذکرہ کرتے اور کام و دہن کی لذت سے شادکام ہوتے -انھوں نے مولانا کی بعض تصانیف ان سے بہ راہ راست بھی پڑھی تھیں – اسی طرح ان کا میر کاروان، میخانہ ندوہ کے موجودہ ساقی مولانا سید رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم سے بھی بڑا ہی مثالی تعلق تھا – وہ مجالس ندوہ کے حاضر باش تھے – شیخین کریمین کی علمی مجسلوں میں شریک ہوتے اور طلبہ عظام کی نیابت کرتے ہوئے مختلف علمی و مذہبی سوالات کرتے اور طلبہ کو استفادہ کا موقع عنایت فرماتے – مجالس حسنہ میں شامل اکثر ملفوظات آپ ہی کی طلب و دریافت پر معرض وجود میں آئے تھے – آپ نے ان مجالس کی ترتیب و تہذیب کا کام کیا اور ابھی مجالس علم و عرفان کے نام سے علیحدہ مجموعہ شائع کیا جو مولانا علی میاں کے افادات کا وقیع مجموعہ ہے -چونکہ وہ عرصہ سے حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی زید مجدہم کی مجالس میں بھی شریک ہورہے تھے اسی لیے ہم ایسے ہزاروں وابستگان ندوہ کو ان سے امید تھی کہ وہ مجالس رابع کا ذخیرہ بھی منظر عام پر لاکر قدر دانوں کی طرف سے شکریہ کے مستحق بنیں گے مگر افسوس
ہزاروں خواہش ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے –

ان کی رحلت سے زبان و ادب کی دنیا کا بڑا خسارہ ہوا ہے خدا ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور تلامذہ و متعلقین کو ان کی طرح عقل وعشق کا پاسبان بنائے:

جو بادہ کش تھے پرانے اب اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی