مولانا محمد ولی رحمانی:کچھ یادیں کچھ باتیں ـ مسعود جاوید

 

ہندوستانی مسلمانوں بلکہ بر صغیر کے مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ دینی درسگاہوں سے فارغ التحصیل علماء طبقہ اور عصری دانشگاہوں کے گریجویٹس دانشور طبقہ کے درمیان بہت وسیع خلیج ہے۔ اور اس کے نقصانات ملت اسلامیہ کو جھیلنا پڑتا ہے۔ ہر دو ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔ ہر دو اپنی اپنی دنیا میں محو ہوتے ہیں کبھی ایک دوسرے کے بارے میں گہرائی سے جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ دین والے ایک کنارے پر تو دنیا والے دوسرے پر جبکہ اسلام میں دین اور دنیا کی تفریق نہیں ہے۔ دنیا سے بیزاری کا مطالبہ اسلام کرتا ہے اور نہ "دین” کو پوری زندگی وقف کرنے کا۔ دنیا دین کے متعین کۓ ہوئے اصول کے مطابق حاصل کرنے اور زندگی گزارنے کا امتزاج کا نام اسلام ہے۔ پچھلے دس بارہ سالوں سے مولانا اسی مشن کو پورا کرنے میں رواں دواں تھے۔ بہت کچھ کیا اور بہت کچھ کرنا تھا لیکن افسوس۔

میں نے علماء طبقہ میں مولانا محمد ولی رحمانی صاحب کی طرح دین سے مکمل وابستگی دینی علوم کے سند یافتہ علمی شخصیت کے مالک اور دنیوی امور ، ملکی حالات اور سیاست سے باخبر شخص نہیں دیکھا۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں ؛ والد محترم منت اللہ رحمانی صاحب کی تربیت ، دینی و عصری دونوں تعلیم سے آراستہ ہونا، مسلم و غیر مسلم سیاسی و سماجی شخصیات سے مستقل رابطہ میں رہنا ایم ایل سی قانون ساز کونسل کی رکنیت ، صحافت اور اداروں کی نظامت ہیں۔
میں جب بھی ان سے ملاقات کے لیے حاضر ہوا ان کو عام عالم دین سے ہٹ کر ایک دور اندیش ملت کے لئے فکر مند قائد پایا جس کے پاس نہ صرف یہ کہ وژن تھا بلکہ اس وژن کو زمین پر اتارنے کے لئے ماسٹر پلان بھی۔ وہ کسی کی تنقید کی پرواہ کئے بغیر اپنے مشن کے لئے متفکر رہتے تھے۔ وہ اس حقیقت کو خوب سمجھتے تھے کہ مسلمانوں کی ابتر حالات کی ذمہ دار تعلیمی پسماندگی ہے۔
پچھلے سال لاک ڈاؤن سے چند روز قبل رانچی سے دو تین حضرات اۓ اس وقت مولانا نے ایک واقعہ سنایا کہ ان کے جاننے والے اعلیٰ عہدے پر فائز اور ان کی پروفیسر اہلیہ نے مولانا سے کہا کہ اپنی اولاد کو ہم نے اعلی تعلیم دلائی مگر اب جب وقت نکل گیا تو احساس ہوا کہ وہ صحیح کلمہ طیبہ اور اس کے معنی و مفہوم بھی نہیں جانتے۔ رانچی کے حضرات نے پوچھا اس کا حل کیا ہے تو مولانا نے کہا معیاری انگلش میڈیم اسکول دینیات بطور لازمی سبجیکٹ کے قائم کۓ جائیں۔ اتفاق سے یہ میرا فیورٹ سبجیکٹ ہے اس لئے پوری توجہ سے ان کی باتیں سنتا رہا۔ بنیادی باتیں ہوئیں اور ان لوگوں کے ساتھ طے ہوا کہ اس سمت میں کام کیا جاۓ۔ غالباً اسی مشن کے تحت رانچی میں امارت اسکول کی عمارت بنی اور مولانا اسی کے افتتاح کے لئے رانچی گۓ افتتاح کے بعد ہی طبیعت علیل ہوئی عالم نرسنگ ہوم فورٹیس میں ایڈمیٹ کۓ گۓ اس کے بعد پٹنہ آۓ اور ایڈمٹ ہوئے جہاں داعی اجل کو لبیک کہا۔

غالباً ٢٠٠٨ کا واقعہ ہے خلیج سے آیا ہوا تھا ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا معلوم ہوا اصلاح معاشرہ کے اجلاس رانچی میں مہمان خصوصی ہوں گے میں بھی پہنچا بہت اعلی پیمانے کا انتظام تھا لائٹ سے جلسہ گاہ اور اس کے اطراف جگمگا رہے تھے اور بغیر خلل ساؤنڈ سسٹم کی آواز ہر طرف گونج رہی تھی شہر میں بجلی کے کھمبوں میں لاؤڈ اسپیکر آویزاں کۓ گۓ تھے۔ پنڈال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا بعد نماز عشاء پروگرام شروع ہوا۔ تقریباً دس بجے رات مولانا اسٹیج پر تشریف لائے اور اپنی بات شروع کرنے سے پہلے پوچھا کہ اجلاس کے منتظمین کون لوگ ہیں ان میں سے ذمہ دار حضرات سامنے آئیں۔ دو تین لوگ اسٹیج پر آۓ انہوں نے کہا کہ روشنی کا زبردست نظم ہے اس کا کنکشن کس کے گھر کے میٹر سے ہے۔ وہ لوگ ہکا بکا ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور بالآخر انہوں نے کہا سامنے پول سے لیا ہے مولانا نے کہا یعنی چوری کی بجلی سے آپ اصلاح معاشرہ کے موضوع پر ہم سے تقریر کرانا چاہتے ہیں۔ میں ایسے جلسے کو مخاطب نہیں کروں گا۔ انہوں نے پوچھا کہ پروگرام کب تک چلے گا لوگوں نے کہا بارہ یا ایک بجے تک۔۔۔ مولانا نے کہا کہ راستے میں میں نے لاؤڈ اسپیکر لگے دیکھا ہے ان غیر مسلموں کو ایک بجے تک اذیت دے کر آپ اصلاح معاشرہ کریں گے یا برادران وطن کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر ؟ منتظمین نے کہا غیر مسلم بھی اپنے تہواروں اور یگ میں ایسا ہی کرتے ہیں تو مولانا نے کہا کہ اللہ نے خیر امت بنا کر آپ کو بھیجا ہے اسلام کے نمونے آپ ہیں وہ نہیں اس لئے نہ صرف یہ کہ آپ اپنے کۓ کا گناہ گار ہیں بلکہ غیروں کے سامنے غلط نمونہ پیش کرنے اور جو اسلام میں حرام ہے اسے کر کے حلال کا تاثر دینے کے بھی مجرم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کا مکان مکمل ہی نہیں ہوتا جب تک کہ وہ سڑک کنارے میونسپل کا کچھ حصہ اپنے مکان میں شامل نہ کرے۔ اپنی زمین پر مکان بنائیں گے اور میونسپل کی زمین پر پلیٹ فارم اور ریمپ ۔ اتنی باتیں کہ کر بغیر تقریر کۓ وہ چلے گئے۔
صبح ملاقات ہوئی تو اوقاف کی جائیداد کو مسلم کمیونٹی کے لئے مفید بنانے کے لئے حکومت اور اپوزیشن کے لیڈروں سے بات چیت کا ذکر کر رہے تھے۔ انہوں نے اس سے متعلق متعدد دستاویزات کا بھی ذکر کیا۔ چونکہ ان کی شخصیت اتنی ہمہ جہت تھی کہ جب جب ملاقات ہوئی کچھ نئی باتیں سننے کو ملیں۔
(جاری)