مولانا محمد قاسم مظفرپوری کی پوری زندگی اکتسابِ علم میں گزری:قاری شبیراحمد

مولانا قاسم مظفرپوری وسیع النظر اور کشادہ دل عالم تھے:مولانا دبیر قاسمی

مدرسہ جامعہ اصلاحیہ نسیم آباد، پاکٹولہ، سیتامڑھی میں تعزیتی نشست

 

سیتامرھی:(عبدالخالق قاسمی) ہندوستان کے مایہ ناز عالم دین اور فقیہ مولانامحمد قاسم مظفرپوری کے انتقال سے علمی حلقہ سوگوار ہے۔ان کے شاگردوں اور عقیدت رکھنے والوں کی جانب سے مسلسل تعزیتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لاک ڈاؤن اور کورونا کی وبا کے دورمیں بھی مختلف مدارس و مکاتب اور فلاحی تنظیموں ،اداروں میں مولانا کی یاد میں تعزیتی مجلسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اسی ضمن میں آج مدرسہ جامعہ اصلاحیہ نسیم آباد پاکٹولہ میں مشہورعالم دین مولانا قاری شبیر احمد، ناظم مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ کی صدارت اور مولانا اسرار احمد مظاہری کی نظامت میں تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقعے پر متھلانچل کے موقر علماے کرام نے شرکت کی اور مولانا کی حیات و خدمات پر  اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ قاری شبیر احمد نے حضرت کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ نے مولانا محمد قاسم مظفرپوری کو علمی میدان میں انفرادی صلاحیتوں سے نوازا تھا،آپ شمالی بہار کے یکتا ہیرا تھے، جس کی روشنی سے پورا ملک فیضیاب ہورہا تھا،آپ نے پوری زندگی اکتساب علم میں گزار دی،آپ کے تلامذہ ملک و بیرون ملک میں بکھرے ہوئے ہیں اور اعلی مقام پر فائز ہیں،انہی میں آپ کے برادر زادہ مولانا رحمت اللہ ندوی مدنی ہیں،جن کی تربیت میں مولانا مرحوم کا اہم کردار رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مولانا قاسم مظفرپوری ایسے عالم دین تھے جو شہرت و ناموری کے جذبے سے یکسر پاک رہے،جس طرف گئے پورے کے پورے حلقہ کو فیضیاب کردیا۔ مولانا دبیر احمد قاسمی نے تعزیتی بیان میں کہا کہ حضرت مولانا قاسم مظفرپوری مدارس و مکاتب کے تعلق سے ہمیشہ فکرمندی کا اظہار کرتے تھے،آج ملت اسلامیہ ایک عظیم مخلص ملی و علمی قائد سے محروم ہوگئی۔ ملت کے تئیں آپ کی ہمدردی ضرب المثل تھی۔ معھدالطیبات کے ناظم مولانا آفتاب غازی قاسمی نے اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا کے انتقال کو عظیم علمی خسارہ قرار دیااور کہا کہ مولانا قاسم مظفرپوری کے اندر خورد نوازی کا جذبہ تھا، آپ چھوٹے ادارے کی بہت فکر کرتے تھے،انہوں نے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی بات نقل کرتے ہوئے کہا کہ حضرت علیہ الرحمہ ہر بات میں نصوص پیش کرتے اور اپنی ہر بات کو قرآنی دلائل سے پیش کرتے تھے۔ مولانا محمودالحسن گرولوی نے کہا کہ حضرت اس علاقہ کے لئے ہی نہیں بلکہ اس ملک کے لئے بڑی نعمت تھے۔ حضرت مولانا نسبت کا بڑا خیال رکھتے تھے،آخرت کی ایسی فکر تھی کہ ہمیشہ خاتمہ بالخیر کی دعا کرتے تھے۔ مولانا نورالعین ندوی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ حضرت کا مشن تھا کہ ہر گاؤں محلہ میں دینی ادارے قائم کئے جائیں، حضرت علیہ الرحمہ بجھتے ہوئے چراغ کو جلانے کی کوشش کرتے تھے۔ مولانا کے نواسہ مولانا تقی احمد قاسمی نے کہا کہ ہم سے  ایک سرپرست اور گھر کا بڑا رخصت ہوگیا، نانا جان ایک صاحب الرائے انسان تھے،آپ کا انتقال ہندوستانی مسلمانوں کا بڑا نقصان ہے۔ مولانا عبدالخالق قاسمی استاد مدرسہ طیبہ منت نگر مادھوپور نے گہرے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے مولانا کے انتقال کو ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت قاضی صاحب نے بلا اختلاف مسلک و مشرب مسلمانوں کے اتحاد پر زور دیا۔ مولانا محمود الحسن گرولوی کی دعا پر تعزیتی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ آخر میں حافظ منظر عالم ناظم مدرسہ اصلاحیہ نسیم آباد پاکٹولہ سیتامڑھی نے تمام مہمانان کرام کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقعے پر حافظ منت اللہ رحمانی،مولانا فضل اللہ ندوی،قاری بلال مظاہری،اسعد الزماں،محمد اعظم،مختارعالم،محمد خورشید،مشتاق عالم،محمد خرم،خالد سیف اللہ،محمد ریحان،محمد فرحان اور محمد فیضان سمیت بہت سے سرکردہ افراد موجود تھے۔