Home ستاروں کےدرمیاں مولانا مسعود عالم ندوی : ایک مایہ ناز عربی ادیب اور انشا پرداز-نقی احمد ندوی

مولانا مسعود عالم ندوی : ایک مایہ ناز عربی ادیب اور انشا پرداز-نقی احمد ندوی

by قندیل

 

مولانا مسعود عالم ندوی ہندوستان کے ان چند مایہ ناز عربی ادیبوں اور انشاء پردازوں میں سے ہیں جنھوں نے ہندوستانی علم وادب اور تحریکات کو عالم عربی میں تعارف کرانے میں بہت اہم رول ادا کیا ۔

مولانا مسعود عالم ندوی بہار میں ۱۱ فروری ۱۹۱۰ کو پیدا ہوئے ، ابتدائی اور متوسط تعلیم بہار کے مدارس میں حاصل کی، پھر دارالعلوم ندوہ العلماء سے ۱۹۲۹ میں عالمیت کی سند لی، پھر اس کے بعد دوسال تک ندوہ ہی میں مدرس کی حیثیت سے کام کیا۔ اور عربی اد ب کی تعلیم وتدریس میں مشغول رہے۔ اس کے بعد بہار واپس آگئے جہاں تعلیمی خدمت انجام دینا شروع کیا۔ ۱۹۳۲ میں جب علامہ سید سلیمان ندوی اور شیخ تقی الدین ہلالی نے ندوہ سے ایک عربی میگزین نکالنے کا منصوبہ بنایا تو اسکی ادارت کے لیے ان کی نظر مولانا مسعود عالم ندوی پر پڑی ، چنانچہ مولانا بہا ر سے ندوہ تشریف لائے اور الضیاء عربی میگزین کی ادارت سنبھالی اور ساتھ ہی تدریسی خدمت بھی انجام دینے لگے ۔ مگر ندوہ کی انتظامیہ سے کچھ اختلافات کے باعث ندوہ چھوڑ کر بجنور چلئے گئے ،پھر علامہ سید سلیمان ندوی کے اصرار پر پھرندوہ آگئے۔ اس کے مختصر عرصہ بعد پھر بہار چلے گئے جہاں خدابخش لائبریری میں کام کیا۔

مولانا مسعود عالم ندوی گرچہ مسلک کے اعتبار سے اہل حدیث تھے، مگر ہمیشہ اہل حدیث حضرات کی جماعتی عصیبت کے شاکی رہے۔ آپ گرچہ جماعت اسلامی کے فکری اور دینی مزاج سے ندوہ کے زمانہ قیام ہی سے ہم آہنگ تھے، مگر خدا بخش لائبریری کی ملازمت کے دوران جب ۴۱ء میں جماعت اسلامی کی تشکیل ہوئی تو اس کے بعد علامہ مودودی کے ایک خط نے انھیں جماعت اسلامی میں شامل ہونے پر آمادہ کیا اور انھوں نے جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کرلی۔ چنانچہ جماعت اسلامی نے آپ کو صوبہ بہار کی جماعت کا امیر بنادیا۔ صوبہ بہار میں جماعت کی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور ۴۴ء میں پٹنہ سے پنچاب منتقل ہوگئے جہاں جماعت اسلامی کے عربی نشرواشاعت کے شعبے کے انچارچ مقرر ہوئے۔ وہاں جماعت اسلامی کے لٹریچر کو عربی زبان میں منقل کرنے کی گرانقدر ذمہ داری سنبھالی اور اس دوران جماعت کو عرب ممالک میں متعارف کرانے میں ایک زبردست کردار ادا کیا۔

قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے علامہ مودودی اور جماعت اسلامی کے ارکان کو مختلٖف الزامات کے تحت گرفتا ر کرنا شروع کیا تو مولانا مسعود عالم ندوی بھی ۱۹۵۳ کے مارچ میں گرفتا ر کرلئے گئے، تقریبا چار ماہ جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے رہنے کے بعد جب آپ رہا ہوئے، تو آپ کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی، بیماریوں نے آپ کو مزید ضعیف اور کمزور بنادیا، چناچہ ۱۷ مارچ کی صبح ہندوستان کا یہ یگانہ روزگار عربی زبان کا ادیب اور انشاء پرداز اور دعوت اسلامی کایہ عظیم سپاہی ہمیشہ ہمیش کے لیئے اس دنیا کو چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ مولانا مسعود عالم ندوی کی تدفین اپنے استاذ گرامی علامہ سید سلیمان ندوی کا پاس ہی عمل میں آئی۔

علامہ مودودی نے مولانا مسعود عالم ندوی کی وفات پر لکھا کہ اس کے سوا کیا لکھوں کہ اس کے بعد اپنا ایک بازو ٹوٹا ہو ا محسوس کرتا ہوں بلکہ شاید جسم کا بازو ٹوٹنے کی بھی اتنی کلیف نہ ہوتی جتنی روح کے اس بازو کے ٹوٹ جانے سے محسوس ہورہی ہے۔

ماہر القادری نے لکھا :ہندوستان اور پاکستان میں جہاں تک عربی انشاٗ پردازی کا تعلق ہے دو تین آدمی مشکل ہی سے ان کے ٹکر کے نکلیں گے۔ وہ عربی ادب کے بلاشبہ شکیب ارسلان تھے۔

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے لکھا : مولانا مسعود عالم ندوی کی وفات علمی ، ادبی اور دینی حیثیت سے ایک بڑا خسارہ ہے ، بلاشبہ ایک بڑا صاحب قلم اور اس برصغیر ہندوپاکستان کا سب سے بڑا عربی کا انشاء پرداز اٹھ گیا۔

مولانا عبد الماجد دریابادی نے لکھا:آہ کہ ندوہ کا ایک لائق ترین فرزند، دعوت اسلامی کا مرد مجاہد ، ملک وملت کا دردمند، دین کا داعی، اسلام کا سپاہی ، دینی غیرت واسلامی حمیت کا پیکر، اردو اور عربی کا ایک بلندپایہ انشاٗ پرداز وباکمال صحافی ، اخلاص وعمل کا نمونہ، سنت رسول کا شیدائی مسعود عالم ندوی ۱۶ مارچ کی شب یکایک ہم سے جدا ہوگئے۔

جہاں تک مولانا مسعود عالم ندوی کی علمی اور ادبی خدمات کا تعلق ہے تو آپ کی عربی کتابیں عربی ادب کا شاہکا رہیں۔ آپ کی مشہور کتابیں عربی زبان میںہیں ۔ تاثیر الاسلام فی الشعر العربی ، تاریخ الدعوہ الاسلامیہ فی الہند، حاضر مسلمی الہند وغابرہم وغیرہ۔ اردو میں شیخ محمد بن عبد الوہاب ایک مظلوم داعی ومصلح ، اشتراکیت اور اسلام ، ہندوستان کی پہلی اسلامی تحریک اور مولانا عبید اللہ سندھی اور انکے افکاروخیالات پر ایک نظر وغیرہ۔ہندوستان وپاکستان کی علمی ادبی اور دینی تاریخ مولانا مسعود عالم ندوی کی عظیم الشان خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

You may also like

Leave a Comment