مولانا الیاس گھمن صاحب کا شکریہ ـ مالک اشتر

مشہور مبلغ مولانا الیاس گھمن صاحب کا ایک بیان موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ حضرت نے جو کچھ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ مدرسہ کا فاسق و فاجر طالب علم بھی کالج کے انتہائی نیک طالب علم سے افضل ہے۔ ایسا اس لئے کہ کالج کا طالب علم دلیل کے سامنے لاجواب ہو جائے تو اپنا منہج ترک کر دیتا ہے جبکہ مدرسہ کا طالب علم (دلیل کے سامنے لاجواب ہوتے ہوئے بھی) اپنے مسلک سے نہیں ہٹتا اور اس کو یقین رہتا ہے کہ بھلے ہی اس کو جوابی دلیل کا علم نہ ہو لیکن اس کا جواب بہرحال موجود ہوگا۔
اس بیان پر مدرسہ والوں کا خوش اور کالج والوں کا خفا ہونا فطری تھا۔ کالج والوں نے مولانا کے بیان پر زیادہ واویلا کیا تو کچھ فرزندان مدارس اس بیان کی تاویلات کرنے میں لگ گئے۔ میری کمزور سمجھ کہتی ہے کہ مولانا نے جو کچھ کہا ہے اس پر کالج والوں کو خفا نہیں بلکہ ان کا شکر گذار ہونا چاہئے۔ یقین جانئے کہ اگر مجھے مولانا سے ملاقات کی سعادت ملی تو ان کی دست بوسی کرکے شکریہ ادا کروں گا۔ مولانا کے اس بیان کا تجزیہ کریں تو پتہ چلے گا کہ وہ کالج والوں کی تحقیر نہیں تحسین کر رہے تھے۔ کیسے؟ آئیے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مولانا کا فرمانا ہے کہ کالج کا طالب علم دلیل آ جانے پر اپنی رائے بدل لیتا ہے جبکہ مدرسہ کا طالب علم ایسا نہیں کرتا۔ مولانا کی یہ بات یوں بھی کہی جا سکتی ہے کہ کالج کے طالب علم کے لئے حقائق تک پہنچنے کی تنہا راہ دلیل ہے۔ وہ اپنے منہج کے خلاف کسی دلیل کو محض حسن ظن، تعصب یا بنے بنائے تصور کی بنیاد پر رد نہیں کر دیتا بلکہ اپنی رائے پر نظر ثانی کرنے حتیٰ کہ اس کو چھوڑ دینے تک کو تیار رہتا ہے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ دلیل کے آگے تسلیم ہو جانے کی یہ روش ہی طالب علمی کا جوہر ہے۔ کسی شخص کی علمی دیانت داری بلکہ طالب علمانہ اقدار سے سچے تعلق کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ وہ حقائق کی تلاش کے سفر پر نکلے تو خود کو اس امر کے لئے آمادہ رکھے کہ اس کے حصول علم کی کسوٹی اس کے تعصبات نہیں بلکہ استدلال ہوگا۔
اب ذرا اس بیان کو الٹ کر دیکھئے۔ مولانا کے ارشاد کو دوسرے لفظوں میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ مدرسہ کا طالب علم کیسی ہی دلیل سامنے آ جائے لیکن اپنی راہ پر صرف اس لئے ڈٹا رہتا ہے کہ اسے اپنے منہج کے بارے میں یہ حسن ظن ہے کہ اس میں (فلاں بات کی) کوئی نہ کوئی دلیل ضرور ہوگی۔ معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ایسا کہنا مدارس والوں کے بارے میں یہ گمان کرنا ہے کہ وہ علم کے سفر میں دلیل کی ڈور تھام کر آگے نہیں بڑھتے۔ آگے بڑھنے سے پہلے عرض کر دوں کہ میں ایسا نہیں مانتا اور ایسے بہت سے اہل مدارس کو جانتا ہوں جو استدلال کو خوش گمانی پر ترجیح دیتے ہیں۔
اب ذرا ایک بات اور سمجھ لیجئے۔ مولانا یا ان سے اتفاق رکھنے والے دلیل دے سکتے ہیں کہ مدرسہ کا طالب علم اپنے منہج کے خلاف آنے والی دلیل سے اس لئے مرعوب نہیں ہوتا کہ اس کو یقین ہے کہ اس کے اساتذہ کے پاس اس کی جوابی دلیل ضرور موجود ہوگی۔ گویا اس کی یہ ‘کٹھ حجتی’ بھی کسی ممکنہ دلیل پر ہی مبنی ہے۔
یہاں ایک بات سمجھنی پڑے گی کہ علم دراصل ہے کیا؟۔ اس کائنات میں حقائق کی ایسی وسیع دنیا آباد ہے کہ ساری حقیقتوں تک انسان شاید کبھی نہ پہنچ سکے۔ اپنے جاننے کی ان حدود کے باوجود ہم سب کچھ نہ کچھ علم رکھنے کے دعوے دار ہوتے ہیں۔ یہ جس کے بارے میں ہمارا دعویٰ ہے کہ ہمیں ان کا علم ہے یہ وہ حقائق ہیں جن کی صحت پر ہمارا ذہن (دلیل کی گواہی کی بنیاد پر) مطمئن ہو چکا ہے۔ معلوم ہوا کہ فرد کے علم کے احاطے میں وہی حقائق آتے ہیں جن کو ہمارے ذہن نے کسی دلیل یا دلائل کی بنیاد پر قبول کر لیا ہے۔ ہمارے علم میں جو کچھ ہے اس کے علاوہ بھی حقائق کا ایک لامحدود سمندر ہے؛ لیکن وہ ہمارے علم کا حصہ تب بنے گا جب ہماری گرہ میں اس کو قبول کرنے والی چابی یعنی دلیل موجود ہو۔ میرا علم اتنا ہی ہے جس قدر کی دلیل میرے پاس ہے باقی سب کا سب اس سے باہر ہے۔ اب یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ کسی اور کے پاس دلیل ہونے کا یقین میرے علم کی بنیاد بن جائے؟۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ مولانا کے بیان کے اس پہلو پر بحث ہو کہ کیا کسی اور کے پاس دلیل کا قیاس میرے لئے کسی امر کا استدلال بن سکتا ہے؟۔ مجھ طالب علم کا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔
مولانا نے جو کچھ کہا اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے۔ اہل مذہب کا ایک گروہ دنیاوی علوم کو کسی حد حقارت سے دیکھتا ہے اور اس کے مطابق یہ راستہ بہرحال گمراہی کے گڑھے پر جاکر ختم ہوتا ہے۔ کچھ متعدل اہل مذہب نے دنیاوی علوم کو قبول تو کیا لیکن مذہبی تشخص بنائے رکھنے کی تاکید کی۔ مولانا کا مذکورہ بیان اس معاملہ کو ایک الگ نوعیت پر لے گیا ہے۔ اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیاوی علوم کے اسکالروں کا دیندار اور متقی ہونا بھی ان کی نجات کی ضمانت نہیں ہے اس لئے کہ ان کے بہت جلد بھٹک جانے کا خطرہ بہرحال موجود ہے۔ ایک ایسی قوم جس کی جدید علوم میں نمائندگی تشویشناک حد تک کم ہے اس کے لیے یہ پیغام کتنا مفید یا مضر ہے اس کا فیصلہ ہم سب اپنی اپنی سمجھ کے مطابق کر سکتے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*