مولانا ابن الحسن عباسی:تم بہر حال کتابوں میں پڑھو گے مجھ کو-عین الحق امینی قاسمی

پڑوسی ملک سے تعلق رکھنے والے قلم و قرطاس کے دھنی انسانوں میں ایک معتبر نام مولانا ابن الحسن عباسی مرحوم کا بھی خوبیوں کے ساتھ لیا جا سکتا ہے ،جنہوں نے ایک طرح سے اپنے فکر وفن ،علم وادب اور طرز نگارش کے ذریعے دونوں ملکوں میں یکساں طور پر دھوم مچا کر ،بلکہ دیوانہ بنا کر ارباب علمم ودانش کو رکھ چھوڑا ہے ،ایسا کم ہوا کہ کوئی شخصیت انڈو پاک میں برابر کی مقبولیت پائی ہو ۔ فقیہ زماں، شیخ مفتی محمد تقی عثمانی حفظہ اللہ کی شہرت ومقبولیت کے بہت سے دیگر اسباب ہیں ، جو صرف ان کے ساتھ ہی خاص ہیں ،مگر پاکستان میں مقبولیت اور اعتماد حاصل کرنے کے ساتھ بھارت میں بھی اہل علم کے درمیان مقبول ہوجا نا، ہمارے مولانا ابن الحسن عباسی صاحب رحمہ اللہ کے لئے نیک فالی ہی کہا جا سکتا ہے۔

ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنی ذات کو جس حد تک چھپاتےتھے ،ان کے علمی وادبی کمالات ،انہیں اس سے کہیں زیادہ آشکار اکرتے رہتے تھے ،وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر نہ دقیانوسی کو پسند کرتے تھے اور نا ہی عصری چمک ودمک یا عیش وعشرت میں مقصد کو ہاتھ سے چھوٹنے دینے کے روادارتھے،وہ ایک معتدل ،سنجیدہ ،فہیم و ذکی اوروقت کے قدرداں ہونے کے علاؤہ اکابر و اسلاف کی پکی یادگار ، حسن اخلاق وسیرت میں اخلاف کے لئے بہترین اسوہ تھے ،اللہ نے ان کے وقت اور علم وفہم میں بڑی برکت دی تھی ،کم وقت میں انہوں نے انجمنی سطح پربڑے بڑے علمی کام کئے ، خود کو کبھی فارغ ،نہ سمجھا نہ رکھا ،یہ ان کی کامیابی کی بڑی وجہ تھی ،حالاں کہ بعض مرتبہ وہ ایسی آزمائشوں میں بھی گھرے کہ ہم جیسا یقینا تنہائی اختیار کرلیتا ،مگر انہوں نے ہرطرح کے مقابلے کے ساتھ اپنا علمی وقلمی سفر برابر جاری رکھا ۔

"خیر جلیس فی الزمان کتاب” کا مقولہ خوب سنا ہے ،مگر عباسی صاحب مرحوم کو پڑھ کر یقین ہوگیا کہ سچ مچ کتاب ایک بہترین ساتھی ہے ،قلم وقرطاس کی اسی دوستی نے مولانا کو سرحد پار متعارف کرایا اور دنیا انہیں جان سکی کہ:

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

ان کی ترتیب دی ہوئی کتاب ” یادگار زمانہ شخصیات کا احوال مطالعہ "ابھی میرے ہاتھ نہیں لگی ہے ، میرے دوست جناب مولانا نوشاد زبیر ملک صاحب نوادہ ، ڈاک کے ذریعے مجھ تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ،اس لئے وہ کتاب ابھی راستے میں ہے ،مگر اس کتاب کے تعلق سے اتنا کچھ سنا ہے کہ مولانا مرحوم کی علمی محنت کے تصور سے ششدر ہوں ،یعنی آج کے دور میں بیٹھ کر کچھ لکھ لینا آسان ہے ،مگر سرحدی کھائیوں اور مختلف طبیعتوں کو سرکر کے نزاکتوں اور مشغولیتوں سے بھرپور شخصیات سے کچھ لکھوالینا آج بھی بہت آسان نہیں ہے ،لکھنے والوں کے لئے بعض مرتبہ واقعی سامنے کئی طرح کی رکاوٹیں ہوتی ہیں ،مگر یہ بھی سچ ہے کہ یہ رکاوٹیں سب کے ساتھ نہیں ہوتیں ،پھر بھی ٹال مٹول کا جو مزاج اور روایت ہے وہ کہاں ختم ہونے والی ہے ،ایسے میں مرحوم کی اس صلاحیت و قابلیت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ” وہ لکھنا بھی جانتے تھے اور لکھوانا بھی "۔ مذکورہ کتاب کے لئے انہوں نے مختلف زبانوں سے وابستہ افراد سے ان کا ذاتی مطالعہ ،تجربہ ،مشاہدہ اور پیغام کے طور پر تحریریں لکھوائیں اور اس زبان کے ماہرین سے اس کا اردو میں ترجمہ کرا کرکتاب میں شامل کیا ہے ،تقریبا ساڑھے آٹھ سو صفحے پر مشتمل ان کی یہ کتاب "علم ومطالعے کا گنج گراں مایہ "ہے جو رہتی دنیا تک مولانا مرحوم کے تعلق سے خود انہیں اور ان جیسوں کو” یادگار زمانہ شخصیات” جان کر ہماری نسلیں کتابوں میں پڑھتی رہیں گی اور زبان حال سے مولانا ابن الحسن عباسی مرحوم کی یہ آواز سنتی رہے گی کہ:

جسم تو جسم ہے خاک میں مل جاتا ہے

تم بہر حال کتابوں میں پڑھو گے مجھ کو