مولانا ابن الحسن عباسی :شمعِ روشن بجھ گئی – حافظ محمد عمر نظام آبادی

 

متعلم ادارہ أشرف العلوم حیدرآباد

 

عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے

زمیں کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبیں نہیں ہے

تری جدائی سے مرنے والے! وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے

مگر تری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے!

آہ ! اس خبرِ روح فرسا اور اطلاعِ آتش فشاں نے ہزاروں تشنگانِ علم و ادب و متلاشیانِ راہِ حق میں بے چینی و بے کلی کی سی کیفیت پیدا کر دی کہ 14 دسمبر 2020ء مطابق 27, ربیع الثانی 1442ھ کو ایک مایہ ناز قلم کار ، کہنہ مشق نثر نگار ، دنیائے قرطاس و قلم کے شہسوار ، صاحب طرز ادیب حضرت مولانا ابن الحسن عباسی رحمۃ اللہ علیہ اس دارِ فانی سے عالمِ جاودانی کی طرف کوچ کر گئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون

مولانا موصوف بیک وقت بہترین انشا پرداز ،شگفتہ تحریر لکھنے والے ادیب ، بہترین مدرس ، پراثر واعظ ، ماہنامہ "النخیل ” کے ناظم و مدیر اور درجنوں علمی وادبی کتابوں کے مصنف و مؤلف بھی تھے۔

اردو زبان کی خوش قسمتی ہے کہ ہر دور میں اس کی آبیاری کرنے والے، اس کو دل سے لگانے والے، اور اس کی زلفیں سنوارنے والے موجود رہے ہیں، انہی میں سے دور حاضر کے نامور ادیب حضرت مولانا ابن الحسن عباسی صاحب بھی تھے، مولانا موصوف کی تحریر اثر انگیز واقعات سے پر اور علمی لطائف و باریکیوں سے معمور ہوا کرتی تھی ، مولانا اپنی علمی خدمات اور تحریری کارناموں کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ممتاز شناخت رکھتے تھے ، مولانا نے بہت ہی کم عرصے میں ایک با اصول ممتاز ترین صحافی و بہترین محرر ہونے کا لوہا منوالیا ، اس لیے کہ آپ کی تحریر میں بلا کی کشش اور جاذبیت ہوا کرتی تھی ، قاری بغیر کسی اکتاہٹ اور سستی کے مطالعہ کرتا چلاجاتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پڑھنے والا ان کے ساحرانہ اسلوب اور دل نشین طرزِ ادا سے مسحور ہوچکا ہے ؛ کیوں کہ آپ کی تحریروں میں مضامین کا تنوع ، موضوعات کی رنگارنگی ،جملوں کی ساخت میں غضب کی تاثیر پائی جاتی ہے ، ان کے اسلوب میں گویا کوثر وتسنیم کا ذائقہ ہوتا ہے ، نو بہ نو مسائل پر ان کے مضامین پر مغز ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ اوربصیرت آمیز بھی ہوتے ہیں ۔

آپ کے منفرد اسلوب کا ایک رنگ یہ بھی ہے کہ آپ فارسی اور اردو کے اشعار اور مصرعوں کا استعمال ایسا برمحل کرتے ہیں کہ یہ استعمال سر تا سر آمد محسوس ہوتا ہے، اس سے اگر ایک طرف ان کی نثر کی گہری معنویت اور ایک خاص سرور کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ، تو دوسری طرف شعر یا مصرع خود افق نثر پر ایک تابندہ ستارے کی طرح جگمگا اٹھتا ہے ۔ نیز مولانا کے قلم سے جو تحریریں معرضِ وجود میں آئیں وہ نہ صرف علمی و تاریخی نکتہ طرازیوں کا اعلی نمونہ ہیں؛ بلکہ وہ اسرارورموز کے حسین شہ پارے بھی ہیں ، دراصل مولانا کی تحریریں عالمانہ، ادیبانہ اور محققانہ بحث و تحقیق کا شاہکار ، محنت و جانفشانی ، اور کدوکاوش کا نتیجہ ہیں ، آپ کا تحریری سرمایہ وافر و متنوع ہونے کے باوجود جدت و ابتکار سے خالی نہیں ، مختصر یہ کہ غالب کے صریر خامہ ونوائے سروش کا نمونہ ہے ۔

مختصر تعارف اور آپ کی تصانیف :

واضح رہے کہ آپ کا اصل نام : مسعود عباسی ابن مخدوم عباسی ہے، قلمی نام : ابن الحسن عباسی

آپ کی ولادت باسعادت1972ء میں ہوئی ، 1993ءمیں دارالعلوم کراچی سے فارغ ہوئے ، فراغت کے معاًبعد سے 2010ءتک جامعہ فاروقیہ کراچی میں تدریسی خدمات انجام دے کر ہزاروں تشنگان علوم و فنون کو اپنے علمی و ادبی کمالات و ملکات سے فیضیاب و سیراب کیا ، پھر 2010ء سے تا دم زیست جامعہ ترات الاسلام کراچی کےشیخ الحدیث بانی ومہتمم رہے ۔

تاہم آپ کے قلم سے اب تک ایک درجن کے قریب تصنیفات منظر عام پر آچکی ہیں ، جن میں درس نظامی سے متعلق دو شرحیں بھی ہیں۔

آپ کی تصانیف یہ ہیں :

(١)متاعِ وقت اور کاروانِ علم (٢) کرنیں (٣) داستاں کہتے کہتے (٤) کتابوں کی درسگاہ میں (٥) التجاٸے مسافر (٦) مدارس: ماضی حال مستقبل (٧) کچھ دیر غیرمقلدین کے ساتھ (٨) وفاق المدارس: ساٹھ سالہ تاریخ (٩) درسِ مقامات حریری (١٠) توضیح الدراسہ شرح حماسہ وغیرہ ۔

ان میں سے چند کتابوں کی تفصیل یہ ہے :

(١)متاعِ وقت اور کاروانِ علم : جس میں مولانا نے وقت کی اہمیت اور ہماری جانب سے پائی جانے والی غفلت کو نہایت ہی خوش اسلوبی سے بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے : "وقت” انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ اور غنیمت کبریٰ بھی ہے، آج جس کی قدر ناشناسی اور اس کے تعلق سے غفلت امت میں عام ہے، اور جس کی طرف امت کو توجہ دلانا خصوصا موجودہ دورمیں ایک بہت ضروری امرہے۔ ورنہ تاریخ ایسے لوگوں کی داستانوں سے بھری پڑی ہے جووقت کی ناقدری کرتے رہے اور پھر وقت نے ان کو عبرت کا تازیانہ بنادیا ، یہی وجہ ہے کہ وقت کی قدرو منزلت کو سامنے رکھتے ہوئے امام شافعیؒ صوفیا کے اس قول کو بڑا پسند کیا کرتے تھے، ” الوقت سيف ان لم تقطعه يقطعك ” اور سیدنا علی فرمایا کر تے تھے، "الايام صحائف أعماركم فخلدوها بصالح أعمالکم ” اور سب سے بڑھ کر خود رب العالمین نے قرآن مجید میں وقت کی گراں قدری کا تذکرہ کرتے ہوئے متعدد بار اس کی قسمیں اٹھائیں ، جس سےاس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وقت کی اہمیت اور افادیت کوسامنے رکھتے ہوئے مولانا موصوف نے موضوع کی اہمیت کا اندازہ کرتے ہوئے اس ضرورت کو آسان، سلیس، نہایت عام فہم اور دلچسپ پیرائے میں پورا کرکے علمائے امت کی جانب سے اس قرض کو چکا دیا۔

(٢)کتابوں کی درس‌ گاہ میں : جو ہزاروں صفحات کے مطالعہ سے منتخب دلچسپ اور عبرت‌انگیز واقعات و عبارات، علمی لطائف و نکات، سبق‌آموز قصے، بصیرت‌افروز معلومات کامجموعہ اور ایک ایسی کتاب ہے جس کا مطالعہ آنکھوں میں آنسو بھی لاتا ہے اور ہونٹوں پر تبسم بھی، جو بہترین رفیق حضر بھی ہے اور خوش‌ گوار رفیق سفر بھی ‌۔

(٣) درس مقامات:عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے، اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے اقطاعِ عالم میں موجودہیں ، عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی فریضہ وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام خدا تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے ، اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے، اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ، ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطورِ خاص اہتمام کیا ، جس کا ایک نمونہ درس نظامی کی معروف کتاب مقامات حریری بھی ہے۔ "درسِ مقامات”اسی مقامات حریری کے دس مقاموں کی جدید شرح ہے جو مولانا ابن الحسن عباسی کی مقبول کاوش ہے، یہ کتاب عربی زبان وادب سیکھنے کے حوالے سے نہایت مفید ہے ،جو متعدد دینی مدارس اور سکولوں وکالجوں میں داخل نصاب ہے۔

(٤)” داستاں کہتے کہتے " نامی کتاب اور دیگر کتابیں آپ کے مختلف اور گراں قدر مضامین کا مجموعہ اور متنوع مقالات کا حسین گلدستہ ہیں۔ بہر کیف آپ کی نثر میں خطیبانہ بلند آہنگی اور علمی شان اپنے ہزار جلوؤں کے ساتھ بکھری پڑی ہے ، اس لیے کہ آپ کا اسلوبِ نگارش بہت ہی نرالا اور شاندار اور ادبیت سے لبریز ہے ۔

الغرض مولانا نے بہت ہی قلیل عرصے میں قلمی دنیا میں اپنا ایسا لوہا منوایا ، جو کسی دیدہ ور سے مخفی نہیں اور جاتے جاتے اپنے پیچھے اپنی علمی خدمات اور تحریری کارناموں کا وہ ناقابلِ فراموش ذخیرہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے چھوڑ گئے جس سے فی الحال استفادہ جاری وساری ہے اور آئندہ بھی شائقینِ علم و مطالعہ اس سے سیراب و فیضیاب ہوتے رہیں گے ۔ لیکن اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ اچانک مولانا کے انتقال کی خبر روح فرسا نے بے چینی و بے قراری پیدا کردی ہے ، اللہ تعالیٰ مولانا کی مغفرت فرمائیں اور انہیں خدمات کا بہترین بدلہ عطا فرمائیں۔ مولانا نے اپنی خدمات کے ذریعے یہ بتادیا کہ:

بھلا سکیں گے نہ اہلِ زماں صدیوں تک

مری وفا،مرے عشق و جنوں کے افسانے