مولانا ابن الحسن عباسی: لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے- عبید الکبیر

 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں عربی مدرسے میں دوسرے سال کا ایک طالب علم ہوا کرتا تھا۔طبیعت میں مطالعے کا جو تھوڑا بہت ذوق تھا اس کی تسکین زیادہ تر نظم کے سرمائے سے ہوتی تھی نثر پڑھنے کا اتفاق نسبتاً بہت کم ہوتا تھا۔غالب کو میں پابندی سے پڑھتا تھا اور اقبال کو بھی کافی حد تک پڑھ چکا تھا۔ ان کے علاوہ اکبر ، قتیل ،فیض ،فراز ،فراق اور پروین شاکر جیسی متعدد شخصیات کا کلام برابر میرے مطالعے میں رہتا۔انہی دنوں میرے ایک کرم فرما نے مولانا ابن الحسن عباسی کی تحریروں کا مجموعہ ‘کرنیں’ مطالعے کے لیے عنایت کی۔مولانا عباسی سے میرا یہ پہلا تعارف تھا، اورساتھ ہی اردو ادب کے نثری جہان کی جانب میلان کا نقطہ آغاز ۔مولانا کی تحریروں کے اس مجموعے کو میں نے جس دلچسپی سے پڑھا اس میں میرے شوق کو کوئی دخل نہ تھا۔دراصل ان کے اسلوب نگارش میں کشش ہی کچھ ایسی تھی جس نے پوری کتاب کے مطالعہ کو میرا اولین ہدف بنادیا۔مضامین کا تنوع، موضوعات کی رنگارنگی،مواد کی معنویت اور اسلوب کی دلکشی نے مل جل کر میرے احساسات پر جو اثرات مرتب کیے اسے دائرہ قلم میں نہیں لایاجاسکتا۔اس واقعے کو قریب بارہ برس ہو چکے ہیں مگر ان کی تحریر نے طبیعت کو جو کیف آگیں احساس عطا کیا تھا وہ ہنوز تازہ ہے۔مولانا کی وفات کا سن کر’اناللہ’ کے ساتھ دل ودماغ میں گویا وہ رِیل دوبارہ چل گئی ہے جس میں عقیدت ،محبت اور تاثر سے لبریز احساسات یکے بعد دیگرے نمودار ہورہے ہیں۔

 

مجھے مولانا کی اکثر تحریریں پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ دین ودانش، حالات حاضرہ، سیاست وریاست سبھی موضوعات پر ان کی تحریریں غایت درجہ متوازن اور بہت جامع ہوتی ہیں۔ان کے قلم میں روانی بلا کی ہے ، وہ اپنی طرز نگارش میں بالکل منفرد اور انتہائی جاذب طرح وادا کے مالک ہیں۔وہ موضوعات کے لحاظ سے اسلوب اختیار کرنے کے بجائے موضوعات کو اپنے انوکھے اسلوب کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔وہ کبھی کرکٹ جیسے دورازکار موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں تو کبھی بھارت کے شہر احمدآباد کا تاریخ کے حوالے سے جائزہ لیتے ہیں ۔ آگے چل کر وہ دورہ حدیث کے طلبہ کی خدمت میں کچھ معروضات رکھتے ہیں مگر ہر مقام پر وہ اپنے اسلوب نگارش کو کامیابی کے ساتھ قائم رکھتے ہیں۔مولانا مرحوم کو مبدی فیاض نے بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا ۔وہ علم وتحقیق،درس وتدریس اور ادب وانشاء کی بہترین صلاحیتوں سے مالامال ہونے کے ساتھ ساتھ بہت نرم خو اور معتدل مزاج تھے۔ ان کی تہہ دار شخصیت کا جمال وکمال ان کی تحریراور انداز بیان میں صاف محسوس ہوتاہے۔

 

علمی لحاظ سے وہ ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ تفسیر وحدیث ،فقہ وکلام، لغت وبیان، شاعری اور ادب سبھی چیزوں پر ان کو قابل رشک دست رس حاصل تھی۔اردو اور عربی دونوں مآخذ پر وہ یکساں عبور رکھتے تھے۔ان کے جملوں کی ساخت ، زبان کی سلاست، لہجے کی دلکشی اور الفاظ کی رعنائی میں غضب کی تاثیر موجود ہے۔ان کے اسلوب میں گویا کوثر وتسنیم کا ذائقہ در آتا تھا۔نو بہ نو مسائل پر ان کے انشائیے پر مغز، دلچسپ اوربصیرت آمیز ہوتے تھے۔انھوں نے بہت کچھ لکھا اور بعض معرکۃ الآراء پرچوں کی ادارت بھی کی۔ ان کا قلم جس موضوع کو چھو جاتا اس کے جمال کی دوشیزگی نکھر آتی۔ وہ بڑے علم دوست اور وسیع المطالعہ آدمی تھے ۔علم اور ارباب علم کے احوال سے دنیا کو واقف کرانے میں ان کی خدمات بہت نمایاں ہیں۔ ان کی کتابیں خصوصاً متاعِ وقت اور کاروانِ علم، کتابوں کی درسگاہ میں ، اور النخیل کا مطالعہ نمبر شائقین علم کے لیے ایک سدا بہار تحفہ ہیں۔لوح وقلم کی پرورش کا جو سلیقہ اور جذبہ مرحوم میں تھا اور جس کی عمر بھر انھوں نے آبیاری کی اس کی مثال بہت مشکل سے ملے گی۔ان کی علمی میراث کی اہمیت اور افادیت ایک ایسے دور میں مزید بڑھ جاتی ہے جہاں انسان اور کتاب کا رشتہ کمزور ہوتا جارہا ہے ۔عباسی صاحب مرحوم کتاب اور قاری کے رشتہ کو بہت مضبوط کردیتے ہیں ۔ ان کے قدر شناسوں کے مابین اس حقیقت کا اعتراف کیا جارہا ہے اور کیا جاتا رہےگا۔ قافلہ علم کے کتنے ہی نوواردین ایسے ہوں گے جن کے لیے مرحوم کا قلم ذوق آفریں ثابت ہوا۔ مجھے ذاتی طور پر بھی اس کا تجربہ ہے اوراس حوالے سے ایک خوشگوار یاد میرے حافظہ میں اب بھی تازہ ہے۔قصہ یہ ہے کہ دیوبند کے زمانہ قیام میں ایک صاحب کے ہمراہ کچھ کتابوں کی خریداری کے لیے بازار جانے کا اتفاق ہوا۔ کتابوں کی خریداری کے دوران میں نے ضمناً عباسی صاحب کی کرنیں کا تذکرہ کیااوراس کتاب کی کسی قدر تعریف بھی کی، مگر وہ صاحب کتاب خریدنے پہ آمادہ نہ ہوئے ۔ جب ہم لوگ کتب خانے سے لوٹ آئے تو پھر انھوں نے واپس جاکر بادل ناخواستہ کرنیں خرید لی۔ کچھ عرصہ بعد مجھے انھوں نے فون پر بتایا کہ کرنیں پڑھ کر وہ بہت محظوظ ہوئے نیز مارکٹ میں عباسی صاحب کی جتنی بھی کتابیں دستیاب ہوں وہ انھیں پہلی فرصت میں بھجوادی جائیں۔اردو کی زبوں حالی کے دور میں ایسی شخصیت کا ہونا اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے۔اس خرابے میں کون سدا رہنے کے لیے آتا ہے ۔اللہ غریق رحمت کرے ،مولانا کی وفات سے علمی دنیا جس کرب سے دوچار ہوئی ہے اس کی تلافی کوئی آسان کام نہیں۔لکھنے والے بہت ہیں ،جولکھتے رہے ہیں اور لکھتے رہیں گے مگر عباسی صاحب جیسے یگانۂ روزگار کہاں ملیں گے جن کا حسن ان کے حسن بیاں تک نمایاں ہو۔