مولانا حبیب الرحمن اعظمی ؒ اور سلوک و تصوف – محمد تبریز عالم حلیمی قاسمی

 

استاذ: دار العلوم حیدر آباد

مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی سابق استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند(1942-2021ء) کا نام اور مقام علمی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہے۔چنانچہ آپ کا بلند پایہ محدث ہونا،کامیاب مصنف ہونا،زمانہ شناس مدیر ہونا،لائق اعتبار محقق ہونا،مقبول وممتاز مدرس ہونا،دارالعلوم کا بہترین ترجمان ہونا،قدیم و جدید مستند کتب عربیہ جیسے علمی ذخیرے کا مالک ہونا،فنا فی المطالعہ کی صفت سے متصف ہونا،دفاعِ دین کی خاطر مناسب اور پرمغز نقدوتبصرہ پر قادر ہونا،جماعت اور جمعیت کا بےلوث خادم ہونا،اپنے ملک اور علاقے کی تاریخ کے حوالہ سے لاجواب اور کامیاب مورخ ہونا،طلبہ کے بے ہنگم ازدحام سے مستغنی ہونا،علم دوست اور علماء نواز ہونا،قدیم مآخذ اور پرانی لائبریریوں کا مسافر ہونا اوربرموقع حق گوئی کے لیے کوشاں ہونا:اہل علم وخرد اور اصحابِ فکروفن کے درمیان کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔گفتگو اگر وابستگانِ دارالعلوم دیوبند کی ہو، تو مولانا اعظمی کی مذکورہ صفات وخصوصیات کی شہرت ان کے درمیان درجہ تواتر کو پہنچ جاتی ہے۔یہ ایک طالب علم کی، طالب علمانہ تاثرات پر مبنی محض عقیدت کی عکاس تحریر نہیں ہے کہ جس میں صرف جوش اور اُبال ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے وہ خود کو شاگردی کے دائرہ احساس سے الگ نہیں کرپاتا ہے؛بلکہ یہ حقیقت اور واقعہ کی وہ ترجمانی ہے جس کی گواہی اور شہادت کے لیے مولانا اعظمیؒ کی تصنیفات اور تعلیمی وعلمی خدمات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔اسی لیے مولانا اعظمی کی وفات سے علمی دنیا ؛بالخصوص احاطہ دارالعلوم دیوبند میں ایسا خلا محسوس کیا جارہا ہے کہ مستقبل قریب میں اس کا پُر ہونا علم بیزاری کے اس دورِپُرفِتن میں بہ ظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے۔

مذکور بالا خوبیاں جن لوگوں کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں وہ لوگ بےشک باکمال اور باعثِ رشکِ جن وملک ہوتے ہیں؛لیکن ہمارے بزرگوں اور پیش رَو اکابر واسلاف کا ماننا ہے اور یہ ماننا یوں ہی نہیں ہے ؛بلکہ اس کے پسِ پشت توارث، تعامل،تسلسل اور تواتر وتجربات کی ایک بھری پُری محفوظ اور مستند تاریخ ہے جس کا انکار دن میں سورج کے انکار کے ہم معنی ہے؛وہ یہ ہے کہ انسان کی تمام خوبیوں اور کمالات میں جب تک’’احسانی صفات وکیفیات‘‘ کی آمیزش نہیں ہوگی اس وقت تک وہ کمالات وامتیازات اس پھول کی مانند ہوتے ہیں جس میں خوشبو ہی نہ ہو اور اسی لیے اس کے بغیر انسان کا فیض دیرپا اور بہت مفید نہیں ہوتا۔چنانچہ جس دن سے انسان اپنے علم وفن اور اوصاف و خصوصیات کے گلشن میں ’’احسان‘‘ کے پھول کھلانے کی کوشش کرنے لگتا ہے اسی دن سے اس کے کمالات میں نکھار،نیت میں اخلاص،عمل میں حسن،گفتگو میں تاثیر،قلب و نظر میں نور،حرکت میں برکت اور صلاحیت میں صالحیت کا ظہور ہونے لگتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے قبول عام حاصل ہوجاتا ہے،نہ صرف یہ کہ اس کی زندگی میں اس کے علم و قلم کی ضو فِشانی سے ایک جہاں فائدہ اٹھاتا ہے، بلکہ وہ اپنے پیچھے علم وعرفان کے ایسے روشن نقوش چھوڑ جاتا ہے جس کی روشنی میں ہزارہا لوگ منزل پا لیتے ہیں اور بعض دفعہ وہ سلسلہ رواں پیہم دواں رہتا ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریر میں مولانا اعظمیؒ کی کتاب زندگی کا وہ خاص ورق کھولا جائے جو باطنی اوصاف حمیدہ کی بنیاد ہے۔تاکہ اس سلسلے میں مولانا اعظمی کی رائے اور ان کے عمل سے نئی نسل کو متعارف کرایا جاسکے؛کیوں کہ یہ پہلو بھی ایک ایسی امانت ہے جو اگلوں کا حق ہے۔

تصوف وسلوک:

علم وعرفان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کی تدریسی، تصنیفی اور سماجی خدمات اور اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بے قراری اور تڑپ کی بنیاد میں جس جذبہ کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے اسے ’’تصوف وسلوک‘‘کا جذبہ کہا جاسکتا ہے۔تاریخ ساز کارنامے وہی شخص انجام دے سکتا ہے جسے تصوف وسلوک کی چاشنی بھی ملی ہو،وہ ایک طرف جذب وحال کا ذوق آشنا ہو تو دوسری طرف شریعت وطریقت کا جامع بھی ہو۔اس دعوے کی دلیل میں بطورشہادت یہاں ایک اقتباس درج کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ، مولانا منظور نعمانی ؒ (1905- 1997ء)نے ’’ تصوف پر ابتدائی غور اور تجربہ‘‘ کےنام سے ایک مقالہ لکھا ہے جو ’’تصوف کیا ہے‘‘ نامی کتاب میں شائع ہو چکا ہے ، مولانا مرحوم نے اس مقالہ میں ایک خدا رسیدہ بزرگ کے ساتھ تصوف کے موضوع پر ہوئی باہمی گفتگو کی تفصیل لکھی ہے ، اس میں ایک جگہ لکھا ہے کہ انہوں نے یہ اشکال کیا کہ تصوف میں مشغولی کی وجہ سے دین کے دوسرے کاموں کا حرج ہوگا؟اس پر ان صاحب ارشاد بزرگ نے جو بات کہی وہ بہت اہم ہے۔ فرمايا:

مولوی صاحب ! تصوف دین کے کام چھڑانے کے لئے نہیں ہے ؛بلکہ اس سے تو دین کے کاموں میں قوت آتی ہے اور جان پڑتی ہے ؛ لیکن کیا عرض کیا جائے اللہ کی مشیت ہے ، جن کو اللہ نے دین کے کاموں کے قابل بنایا ہے وہ اب ادھر توجہ ہی نہیں کرتے، حالانکہ اگرتھوڑی سے توجہ بھی ادھر دے د یں تو دیکھیں ان کے کاموں میں کتنی قوت آتی ہے اور جان پڑتی ہے، حضرت خواجہ صاحب نے اور بعد میں حضرت مجدد صاحب ؒ ، حضرت شاہ صاحب، اور حضرت سید صاحب نے ہمارے اس ملک میں دین کے جو خدمتیں انجام دیں اور جو کچھ کر دکھایا ( جن کا سوواں اور ہزارواں حصہ بھی ہماری بڑی بڑی انجمنیں اور جماعتیں نہیں کرسک رہی ہیں ) اس میں ان کے اخلاق اور قلب کی اس طاقت کا خاص دخل تھا جو تصوف کے راستہ سے پیدا کی گئی تھی۔

( تصوف کیا ہے ، مولانا منظور نعمانی،ص: ۲۲ ناشر: ادارہ اِسلامیات لاہور ، سن اشاعت:۱۹۸۱ء)

تصوف مولانا اعظمیؒ کی نظر میں:

تصوف صدیوں سے اہل علم کے درمیان موضوعِ بحث رہا ہے ، صدیوں کے اس عملی اور نظریاتی سفر میں تصوف کو جہاں ایسے لوگوں سے بھی سابقہ پڑا جنھوں نے اس سفر کو بے سمت اور اس کے پورے کارواں کو ہی گم کردہ راہ قرار دیا ؛ چنانچہ کسی نے یہ سوال اٹھایا کہ یہ شراب خاص میکدہ اسلام کی کشید کی ہوئی ہے یاکسی باہر کے شراب خانے سے لائی گئی ہے، کبھی ستم ظریفوں نے زبان و قلم کا زور لگا کر یہ پرو پیگنڈہ بھی کیا کہ تصوف شریعت کے بالمقابل کوئی دوسری تحریک ہے ، جو کہیں کہیں شریعت سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اور اکثر جگہ شریعت سے جدا رہتی ہے ؛ لیکن دوسری طرف تصوف کو قدم قدم پر ایسے اہل دل اور روشن ضمیر افراد بھی ملے جنھوں نے اپنا سب کچھ نثار کرکےاس قافلۂ عشق ومستی میں شامل ہونا اپنی سعادت سمجھا؛ چنانچہ کسی نے دنیا کو بتایا کہ تصوف عین تعلیماتِ اسلام کا خلاصہ اور ارشادات کتاب و سنت کا عطر ہے، کسی نے کہا کہ تصوف مغز اسلام اور روح ایمان ہے یعنی تصوف اس کیفیت احسانی کے لیے مشق و تمرین کا نام ہے جس کا تذکرہ حدیث جبرئیل میں ہے اور سب کی تعبیرات کا نچوڑ یہ کہ تصوف دین کے بنیادی مقصد کے حصول کی جدو جہد کا نام ہے۔

ثانی الذکر تصوف وسلوک کی حقیقت ومعنویت مولانا اعظمیؒ کا بھی اثاثہ رہا ہے۔آپ نے اس حوالہ سے اگرچہ عظیم عرفانی سرمایہ اور تالیفی ترکہ نہیں چھوڑا ہے ؛ لیکن آپ کے قلم گہر بار سے کچھ ایسی تحریریں وجود میں آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ اکابرِ دیوبند کی طرح ہمیشہ سے تصوف کی حسنات وبركات کے قائل رہے ہیں۔مولانا اعظمیؒ نے اپنے ایک اداریہ میں لکھا ہے:

حاصل کلام یہ نکلا کہ تصوف یا احسان دل کی نگہبانی کا اصطلاحی نام ہے، حدیث جبرئیل میں ”أن تعبد الله كأنك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك“ کا جملہ اسی دل کی نگہبانی کی انتہائی بلیغ اور پیغمبرانہ تعبیر ہے،امام العرفاء سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر جملے سے احسان یا تصوف کی پوری حقیقت بیان فرمادی ہے ؛کیوں کہ راہِ تصوف کے تمام جہد و عمل، ذکر وفکر، محاسبہ و مراقبہ وغیرہ کا منشاء و مقصد یہی ہے کہ دل مشاہدہ و حضور کی متاعِ عزیز سے ہم کنار ہوجائے۔

تصوف کی مستند کتابوں مثلاً قوت القلوب از شیخ ابوطالب مکی، طبقات الصوفیہ از شیخ عبدالرحمن سلمی، حلیۃ الاولیا از ابو نعیم اصفہانی، الرسالۃ القشیریۃ از امام قشیری، کشف المحجوب ازشیخ علی بن عثمان ہجویری مدفون لاہور، تذکرة الاولیاء از شیخ فرید الدین عطار، عوارف المعارف از شیخ سہروردی، فوائد الفواد ملفوظات شیخ نظام الدین اولیاء، خیرالمجالس ملفوظات شیخ نصیرالدین چراغ دہلوی وغیرہ کے صفحے کے صفحے الٹ جائیے صرف زبانی ہی نہیں بلکہ عملاً بھی کتاب و سنت کی تلقین ملے گی،اور معتمد طور پر یہ بات واضح ہوجائے گی کہ اکابر صوفیاء کے مجاہدات، ریاضات اور مراقبات کی اساس و بنیاد قرآن وحدیث کی تعلیمات ہی ہیں، اور ان کی پاکیزہ زندگیاں اسلام کی جیتی جاگتی تصویریں تھیں۔

اداریہ کی اگلی سطروں میں صوفیاء کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

تاریخی شواہد کی بنیادپر بلا خوف تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حضرات صوفیاء ہی نے اپنی عملی جدوجہد کے ذریعہ ہر زمانے میں اسلام کے اخلاقی و روحانی نظام کو زندہ رکھا، صوفیاء سے بڑھ کر تبلیغ اور تعمیرِ سیرت کا فریضہ کسی جماعت نے انجام نہیں دیا، متکلمین، معتزلہ اور حکماء نے صرف دماغ کی آبیاری کی جب کہ صوفیاء نے دماغ کے ساتھ دل کی تربیت اوراصلاح کی اہم ترین خدمت بھی انجام دی اوریہ بات کسی بیان و تشریح کی محتاج نہیں ہے کہ اسلام میں اصلی چیز دل ہے نہ کہ دماغ اگر دل فاسد ہوجائے تو دماغ کا فاسد ہوجانا یقینی ہے، چناں چہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”ألا إن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب “ انسان کے جسم میں ایک عضو ہے اگر وہ صالح ہوجائے تو سارا جسم صالح ہوجائے اوراگر وہ فاسد ہوجائے تو سارا جسم فاسد ہوجائے، آگاہ ہوجاؤ وہ قلب ہے۔

(تصوف کی حقیقت۔ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری2007ء)

حقیقت کا اعتراف:

مولانا اعظمی کا ماننا ہے کہ اگرچہ تصوف،شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے؛لیکن مرورِ ایام کی وجہ سے اس میں خس وخاشاک کی آمیزش بھی ہوئی جس کی وجہ سے بعض کم علموں نے اس کا انکار کیا۔تاہم علماء کرام نے بروقت اس کی اصلاح بھی فرمائی ہے؛ اس لیے ان کا انکار زبردستی کی بات ہے،آپ لکھتے ہیں:

حضرات علمائے کرام نے علمی و نظری دلائل سے اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جب کہ حضرات صوفیاء نے اپنے اعمال و اخلاق اور سیرت و کردار سے اسلام کی صداقت کو مبرہن اور آشکارا کیا، اس لیے تصوف یا طریقت شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں تصوف اسلام کا عطر اور اس کی روح ہے، لیکن کوئی انسانی تحریک خواہ وہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو جب افراط و تفریط عمل و رد عمل کا بازیچہ بنتی ہے تواس کی شکل مسخ ہوئے بغیر نہیں رہتی، چناں چہ متکلمین نے اسلام کو یونانی فلسفہ کی زد سے بچانے میں بڑی قابلِ قدر خدمت انجام دی ہیں، لیکن آگے چل کر جب علم کلام کو شکوک و شبہات پیدا کرنے کا ذریعہ بنالیا گیا تو یہی علم کلام مسلمانوں میں ذہنی انتشار برپا کرنے کا سبب بن گیا، یہی حال تصوف کا بھی ہوا کہ تصوف کی ہمہ گیر مقبولیت اور ہر دلعزیزی دیکھ کر جاہل یا نقلی ارباب غرض صوفیوں کے بھیس میں اس جماعت صوفیہ صافیہ میں درآئے اور اپنی مقصد برآری کے لیے شریعت و طریقت میں تفریق کا نظریہ شائع کردیا، مجاز پرستی، قبرپرستی، نغمہ و سرود کو روحانی ترقی کا لازمی جزو بنادیا اور دنیاپرستی سے گریز کو رہبانیت کی شکل دیدی مگر ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ محققین صوفیا نے ہمیشہ ان گمراہیوں کے خلاف آواز بلند کی ہے، اور ان فاسد عناصر کو تصوف سے خارج کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے ہیں۔اس جعلی اور غیر اسلامی تصوف کی بنا پر سرے ہی سے تصوف کا انکار کردیا جائے اوراسے نوع انسانی کے لیے بمنزلہٴ افیون بتایاجائے اورالزام عائد کیا جائے کہ تصوف زندگی کے حقائق سے گریز کی تعلیم دیتا ہے اوراس نے مسلمانوں کے قوائے عمل کو مضمحل یا مردہ بنادیا ہے تو یہ سراسر ناانصافی اور اسلامی تصوف پر ظلم ہوگا۔

(ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری2007ء)

مولانا اعظمی کا دردِ دل:

مولانا اعظمی اپنی یادگار تحریر کے اخیر میں لکھتے ہیں:

بد قسمتی سے خود مسلمانوں کا ایک طبقہ جو براہ راست اسلام اوراسلامی مآثر کا مطالعہ کرنے کی بجائے مستشرقین اور عیسائی مصنّفین کے واسطہ اورانھیں کی مستعار عینک سے اسلامی علوم و معارف کو دیکھنے کا عادی ہے، اسلامی تصوف پر اسی قسم کے بیجا اور غلط اعتراضات کرتا رہتا ہے، یہ بات حق و صداقت اورانصاف و عدالت سے کس قدر بعید ہے کہ ہدفِ ملامت تو بنایا جائے اسلامی تصوف کو اور قبائح مدنظر رکھی جائیں غیراسلامی تصوف کی، اسلام کے ان نادان دوستوں نے اپنے اس رویہ سے نہ صرف علم و تحقیق کا خون کیا بلکہ لاکھوں بندگانِ خدا کو تصوف کی حسنات و برکات سے محروم کردیا۔ فالی اللّٰہ المشتکی

(ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ2، جلد: 91 ‏، محرم 1428 ہجری مطابق فروری2007ء)

مولانا اعظمی اور سلوک و تصوف:

کتب تصوف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تصوف کا مقصو د رضاء خداوندی ، اخلاق عالیہ کا حصول ، رذائل سے اجتناب دل میں یاد الہی کا رسوخ اور عبادات میں ان کی روح یعنی خشوع وخضوع کاحصول ہے۔ ان سب کےحصول کے لیے ذرائع کے درجہ میں بنیادی اور اصولی طور پر تین باتیں ضروری ہیں: (۱) بیعت و صحبت (۲) ریاضت و مجاہدہ (۳) اذکار واشغال۔

موضوع کی مناسبت اس بات کی متقاضی ہے کہ مولانا اعظمیؒ کی صوفیانہ زندگی کا جائزہ ان تینوں ذرائع کی روشنی میں پیش کیا جائے۔

بیعت وصحبت:

اللہ تعالی کا دستور اور سنت یہی ہے کہ حصول کمال کے لیے کسی صاحب کمال ہی کی صحبت ضروری ہے اور تجربہ سے یہ ثابت ہے کہ جو کچھ کسی کو حاصل ہوا ہے، اسی طریقے سے حاصل ہوا ہے ؛اس لیے بغیر کامل کی صحبت کے کوئی کچھ بن نہیں سکتا، اسی لیے حضرات صوفیاء کرام میں بیعت کا معمول رہا ہے ، بقول حضرت حکیم الامتؒ: بیعت کا حاصل احکام ( یعنی ظاہری و باطنی پر استقامت ) اور اہتمام کا معاہد ہ ہے جس کے مسنون ہونے میں کو ئی شبہ نہیں۔ ( شریعت و طریقت ص:۵۸ )

چوں کہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اپنے کسی عمل پر دوسرے کو گواہ بنا لیاجائے تواس میں قوت بڑ ھ جاتی ہے اس لیے بجا طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بیعت کا مروجہ طریقہ صحیح، بہت بافیض، بے حد مبارک اور فطرت انسانی کےعین مطابق بھی ہے۔لہذا کسی مرشدِ کامل، متبعِ سنت کے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور آئندہ اس کی رہنمائی میں دین پر چلنے کا عہد کرنا ایک ضروری امر ہے ، صحابہ کرامؓ کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ اقدس پر بیعت کرنا ثابت ہے؛اسی لیے صوفیاء کا ماننا ہے کہ جب تک کسی اللہ والے سے رابطہ نہ ہو نفس کی اصلاح نہیں ہوتی، اور دین پر چلنا مشکل ہوتا ہے؛ اس لیے کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق ضروری ہے،البتہ رسمی بیعت ضروری نہیں۔صحبت و بیعت کے بعد خلافت نہ بھی ملے اور نہ ہی اصلاحِ کاملہ ہو تب بھی بقول حضرت تھانویؒ:کم از کم اپنے عیوب پر ہی نظر ہونے لگتی ہے،یہ بھی کافی اور مفتاحِ طریق ہے؛اور اگر بیعت کی جانب رجحان نہ ہو اور دل اس پر مطمئن نہ ہو تو جہاں تک ہو سکے انسان کو،صالحین کی زیارت وصحبت سے ضرور فیضیاب ہوتے رہنا چاہیے؛کیوں کہ بقول مفتی تقی عثمانی زید مجدہ: نرے مطالعہ سے معلومات میں اضافہ تو ہوجاتا ہے؛لیکن صحیح فہم، اعتدالِ مزاج اور اصلاحِ نفس شخصیات کی صحبت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔بات طویل ہوجائے گی؛لیکن اس حوالہ سے ایک اہم اقتباس پیش کرنے پر دل مجبور ہے۔

مولانا عبد الباری ؒ فرنگی محلی (1878-1926ء)کےدادا مولانا عبد الرزاق ؒ نے اپنے سلسلۂ بیعت و ارشاد کی حفاظت کے لیے”احسن الخصائل شرح عمدۃ الوسائل” نامی کتاب لکھی ہے، جس میں بیعت و صحبت کی ضرورت کو لطیف انداز میں ثابت کیا ہے ، وہ لکھتے ہیں :

آیت: ’’إنا عرضنا الأمانة على السماوات والأرض والجبال فأبين أن يحملنها وأشفقن منها وحملها الإنسان‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے اللہ کی قدرت کاملہ پر اعتماد کرتےہوئے ’’امانت‘‘ کو اٹھایا، اسی لیے اسے تمام عالم پر فضیلت حاصل ہوئی ، لیکن تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ اس امانت کی ادائیگی میں موانع اور عوائق پیش آتے ہیں ؛ کیونکہ ’’ امانت‘‘ ایک عشق ہے اور عشق بہت سے امتحانوں کا باعث ہے ؛چنانچہ نفس و شیطان ہمیشہ اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لے تیار رہتے ہیں ؛ پس انسان کے لیے ایک ایسا رفیق ضروری ہے جس کی رفاقت میں منزل تک رسائی ہو سکے؛ اس لیے کسی اسرار طریقت کے مالک یعنی شیخ کامل کے ہاتھ پر بیعت کرنی چاہئے؛ بلاشبہ اس تعلیم اور امداد سے ادائے امانت کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

(احسن الخصائل ص: ۱۰ ؍اشاعت العلوم ،لکھنؤ)

بلاشبہ بیعت وصحبت کی مذکورہ تفصیلات مولانا اعظمی کے سامنے رہی ہوں گی ؛کیوں کہ ہر موضوع پر آپ کا مطالعہ اور معلومات وسیع تھی،اس لیے ہم بلاتردد یہ بات لکھ سکتے ہیں کہ آپ اس کے فواید،برکات اور افادیت سے خوب واقف تھے جیسا کہ اس موضوع پر آپ کی تحریر شاہد ہے، جس کا تذکرہ اوپر آ چکا ہے۔ویسے تو آپ کے ذاتی ذخیرہ کتب میں تصوف کے موضوع پر اہم اور بنیادی کتابیں موجود تھیں ؛ لیکن آپ نے اپنی بیعت وخلافت کے تعلق سے کوئی تحریری سرمایہ نہیں چھوڑا ہے،اس کی بڑی وجہ اِخفا اور تستُر ہو سکتی ہے؛چنانچہ ایسے بہتیرے بزرگ ہیں جو بیعت وصحبت کو محض اپنی اصلاح کا ذریعہ بناتے ہیں اور اپنی صوفیانہ زندگی پر گمنامی کا پردہ ڈال دیتے ہیں۔ہاں کبھی کبھی قدرت اور مصلحت کی ہوائیں اس پردے کو ہٹا دیتی ہیں جس کی وجہ سے دنیا ان کی زندگی کے اس خاص گوشے سے کچھ نہ کچھ واقف ہوجاتی ہے۔مولانا اعظمی کا شمار بھی انہی بزرگوں میں کیا جانا چاہیے۔ممکن ہے آپ کی ذاتی ڈائری میں اس کی کچھ تفصیل لکھی ہو؛ لیکن باوجود بہت کوشش کے راقم الحروف کو وہاں تک رسائی نہ مل سکی؛ البتہ مولانا اعظمی کی زندگی کو قریب سے دیکھنے اور ان کی خدمت میں رہ چکے افراد نے جو تفصیل مہیا کرائی ہے اسی کی روشنی میں مندرجہ ذیل باتیں نذر قارئین کی جاتی ہیں۔

مشہور بزرگ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی نور اللہ مرقدہ(1898- 1983ء) کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے،تاہم اتنا لکھنا ضروری ہے کہ شیخ الحدیث مولانا محمد زكريا کاندھلوی، اكابر علمائے ديوبند ميں سے تھے۔ مولانامحمد یحیی کاندھلوی کے بیٹے، مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے بھتیجے اور مولانامحمد یوسف کاندھلوی کے چچا زاد بھائی ہیں۔تمام علوم اسلامیہ کے ساتھ سلوک وتصوف میں ایک نمایاں مقام کے مالک تھے۔ قطب وقت مولانا رشید احمد گنگوہی کے نامور خلیفہ حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری(1852- 1927ء)تصوف میں آپ کے شیخ تھے اور آپ انہی سے مرید اور ان کےخلیفہ تھے۔ان بزرگوں کا فیض تھا کہ مولانا زکریا ؒ اپنے وقت کے ایک جلیل القدر محدث،مربی، اور مرشد روحانی بن گئے۔آپ کا فیض بہت عام ہوا ہے۔

مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ، شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحبؒ کے عقیدت کیش اور فیض یافتہ تھے؛چنانچہ مولانا اعظمی نے پہلے پہل انہی سے اصلاحی تعلق قائم کیا اور قافلہ عشق ومستی میں شامل ہوکر راہِ سلوک کے مسافر بن گئے،آپ کو اپنے روحانی شیخ و معالج سے بہت محبت تھی؛چنانچہ حضرت شیخ کا جب ذکر ہوتا تو عقیدت ومحبت کے جذبات ابھر کر سامنے آجاتے تھے؛ مولانا اعظمی نے اس زمانے کی اپنی کئی تحریروں میں شیخ الحدیث مولانا زکریا ؒ کو ’’سیدنا ومرشدنا‘‘ لکھا ہے، اسی طرح ’’تذکرہ علمائے اعظم گڑھ‘‘ میں حضرت پھولپوری رحمہ اللہ کے ذکر میں حضرت شیخ الحدیث صاحب کو ’’سیدنا ومرشدنا‘‘ لکھا ہے۔

دارالعلوم دیوبند کے سابق شیخ ثانی مولانا عبد الحق اعظمی صاحب (1928-2016ء) کے انتقال کے بعد دارالعلوم دیوبند میں دارالحدیث تحتانی میں ایک تعزیتی جلسہ ہوا تھا، اس میں مولانا حبیب الرحمن اعظمیؒ نے بیان کیا تھا کہ میں اور مولانا یعنی شیخ صاحب ایک ساتھ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی نور اللہ مرقدہ سے بیعت ہوئے اور ہم لوگ ساتھ ہی رمضان المبارک کے مہینہ میں حضرت شیخ الحدیث صاحب کے یہاں جایا کرتے تھے۔شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادے اور خانقاہ خلیلیہ کے سجادہ نشیں مولانا طلحہ کاندھلوی(1941-2019ء) کے یہاں گاہے بگاہے تشریف لے جانے کا معمول تھا۔مولانا اعظمی کا سن ولادت 1942ء ہے جب کہ آپ کے روحانی شیخ کی تاریخ وفات 1983ء ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ مولانا اعظمی اپنے شیخ کی خدمت میں بغرض بیعت ایسے وقت حاضر ہو گئے تھے جبکہ آپ نوعمر یا جواں عمر تھے،ایسی عمر کی بیعت وصحبت اصلاح احوال کے حوالہ سے بہت مفید اور بہت موثر ہوتی ہے،اور آدمی بہت پکا ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر آپ خلعت خلافت سے بھی نوازے گئے۔جس کی تقریب یہ ہوئی کہ حضرت شیخ الحدیث کی وفات کے بعد جب فدائے ملت مولانا سید اسعد مدنیؒ (1928-2006ء)کو آپ کے معمولات اور تسبیحات کے بارے میں معلوم ہوا تو مولانا مدنی نے کہاآپ توخلافت کے مستحق ہیں؛چنانچہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ(1879-1957ء)کے خلیفہ مولانا محمود صاحب سہارن پوریؒ نے آپ کو خلافت عطا فرمائی۔

مولانا اعظمی ؒ اور ریاضت و مجاہدہ:

چوں کہ عشق اور امانت جس کا ذکر ماقبل میں آچکا ہے بہت سے امتحانوں کا باعث ہے ، تصوف کےمقاصد کے حصول کی راہ میں بہت سے موانع پیش آتے ہیں ، ان موانع اور رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کچھ تدبیروں کی ضرورت پڑتی ہے ، شریعت نے ان تد بیروں کو کسی خاص شکل میں متعین نہیں کیا ہے ،اس لیے اہل تصوف کے یہاں تلاش مرشد اور بیعت و صحبت کےبعد دوسرا اہم اور ضروری کام ریاضت اور مجاہدۂ نفس ہے،یہ ریاضت ومجاہدہ نہ عبادت ہے اور نہ مقصود، اگر کسی کو بغیر مجاہدہ مقصود تصوف حاصل ہوجائے تو اسے اس کی کچھ ضرورت نہیں ؛چنانچہ صحابہ کرام ؓکو حضور ﷺ کے فیض صحبت سے مجاہدہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی ، آج بھی اگر کسی کی استعداد عالی ہویا مرشد قوی اور ماحول پر نور ہو تو زیادہ مجاہد ہ اور رریاضت کی ضرورت نہیں پڑتی۔مولانا اعظمیؒ نے چوں کہ جوانی ہی میں خود کو اس بھٹی میں تپنے کے لیے آمادہ کرلیا تھا؛اس لیے آپ معمولات کے راستے ریاضت ومجاہدہ کے لیے تیار تھے؛چنانچہ یہی ریاضت اور معمولات کی پابندی ’’خلافت‘‘ کا ذریعہ بنی،آپ کے ایک خادم خاص کے بقول: فجر کی اذان سے نماز فجر کی جماعت تک پھر بعد نماز دوران تفریح ناشتہ تک تسبیح پڑھنے کا معمول تھا،نیز رات میں سوتے وقت کچھ دعائیں اور تسبیح پڑھا کرتے تھے اور نیند آنے تک یہ عمل جاری رہتا تھا۔

مصلح الامت حضرت شاہ وصی اللہ صاحب ؒ الہ آبادی(وفات:1967ء)کاارشادہے کہ تہجدنہ پڑھنے والاکامل دیندارنہیں ہوسکتا؛کیوں کہ حدیث ِپاک میں تہجدکوصالحین کاشعاربتایاگیا ہے ،لہٰذاکامل دیندارہونے کے لیے اس شعارکااختیارکرنا بھی شرط ہے ، یہ نماز ویسے تو تمام مسلمانوں کے لیے سنت موکدہ ہے؛لیکن اس سنت کا اہتمام جس قدر صوفیاء کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے اتنا کہیں اور نہیں دکھائی دیتا۔کہا جاتا ہے کہ تہجدسے محرومی کی حقیقت تودرحقیقت آخرت میں ظاہرہوگی؛ لیکن دنیامیں تہجدگذاروں کے دوسروں کی بہ نسبت کامیاب ہونے کامشاہدہ عام ہے۔

عطارؔہورومیؔ ہورازیؔ ہوغزالیؔ ہو کچھ ہاتھ نہیں آتابے آہِ سحرگاہی

مولانا اعظمی کا رشتہ چوں کہ ایک دبستان معرفت سے تھا ؛اس لیے نماز تہجد آپ کی زندگی کا اٹوٹ حصہ تھی،مولانا اعظمی کی خدمت میں رہنے والے بتاتے ہیں کہ مولانا اعظمی کی زندگی میں تہجد کی پابندی قابل رشک تھی، دیوبند کی سخت سردی ہو یا گرمی کی مختصر رات اس میں کبھی تخلف نہیں ہوتا تھا،تہجد میں جتنا قرآن پڑھ سکتے تھے اتنا پڑھتے، پھر اذان فجر تک اللہ کے حضور رو روکر دعا میں مشغول رہتے تھے۔

مولانا اعظمی اور اشغال:

’’شغل‘‘ بھی اہل تصوف کا اصطلاحی لفظ ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ دل کی توجہ کو کسی ایک نقطہ پر مرکوز کرنے کے لیے کوئی عمل کیا جائے؛ تاکہ قلب ہمہ وقت اللہ تعالی کی جانب متوجہ رہے، اسی مقصود کے پیش نظر اہل تصوف اور اس فن کے ماہرین کبھی ذکر کا جہر اً حکم دیتے ہیں، کبھی اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت بتاتے ہیں ، کبھی ذکر کی تعداد متعین کرتے ہیں، کبھی ضربیں لگواتےہیں، کبھی کلمہ اور کبھی اسم ذات رٹاتے ہیں وغیرہ، مولانا اعظمی ؒ یقینا اس مرحلہ سے بھی گذرے ہوں گے؛کیوں کہ خلافت یوں ہی نہیں ملا کرتی،اس سلسلے میں اگرچہ زیادہ تفصیل نہیں مل سکی ؛لیکن ریاضت ومجاہدہ کے ذیل میں جو باتیں لکھی گئی ہیں بطور مثال وہ بھی کافی ہیں۔

نوٹ: مذکورہ تحریر کی ترتیب اور تیاری میں مولانا اعظمی کی تحریروں کے علاوہ بطور خاص مفتی راشد صاحب اعظمی استاذ گرامی دارالعلوم دیوبند، مولانا فضیل صاحب دار العلوم دیوبند خادم خاص مولانا اعظمی، مفتی عبید اللہ شمیم صاحب اعظمی، مولانا اعظمی کے پوتے مولانا عفان اعظمی ، اور مولانا اعظمی کے خادم خاص مولانا اظفر اعظمی مقیم حال: جامعہ ازہر، مصر کے بیانات سے استفادہ کیا گیا ہے۔