مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی کے ترجمۂ قرآن کی تقریبِ رونمائی

 

پٹنہ:(پریس ریلیز) مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی کا ترجمہ قرآن پاک تسہیل القرآن کی تقریب رونمائی آج مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی،پٹنہ میں منعقد ہوئی،مولانا مشہود احمد قادری ندوی پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی نے صدارتی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا،جن کی مادری زبان عربی نہیں ہے ان تک قرآن کے مطالب اور مفاہیم کو پہنچانے کے لیے ہر دور میں ترجمہ وتفسیر کا کام انجام دیا گیا ہے، وہ آدمی خوش نصیب ہے جن کو قرآن کی خدمت کی توفیق ملتی ہے، طبقہ صوفیہ و مشائخ کے یہاں شاہ عبدالقادر کا ترجمہ بہت مقبول ہے، مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی صاحب کا ترجمہ آسان اور شگفتہ ہے،اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اور اسے ملت کے لیے نفع بخش بنائے،مولانا انیس الرحمن قاسمی نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل بہار نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآن کریم کا ترجمہ کسی زبان میں بھی کما حقہ ادا نہیں کیا جا سکتا ہے،عربی زبان کا دامن نہایت وسیع ہے،قرآن کا ترجمہ وتفسیر بیان کرنے کے لیے پندرہ علوم کا جاننا ضروری ہے، ترجمہ کا فن نازک بھی ہے اور پیچیدہ بھی قرآن کے ترجمہ میں بہت احتیاط سے کام کرنے کی ضرورت ہے،مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی صاحب نے قرآن پاک کا عمدہ ترجمہ کیا ہے، تر جمہ دراصل ترجمانی ہے،اس موقع پر مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا ارادہ تھا کہ میں ریٹائر کے بعد ترجمہ قرآن کا کام کرونگا، ترجمہ کا کام تقریباً پانچ سالوں میں مکمل ہوا، اللہ کے کلام کا ترجمہ کوئی نہیں کر سکتا میں نے بھی ترجمانی کی کوشش کی ہے، کافی محنت اور غور فکر کے بعد میں نے یہ کام انجام دیا ہے،ترجمہ میں اپنی جانب سے کچھ نہیں کیا ہے بلکہ مطالعہ اور تحقیق کی روشنی میں جو مناسب ترجمہ ہو سکتا ہے وہ کیا ہے، یہ ترجمہ زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کے لیے نہیں ہے بلکہ میں نے اسے عام فہم زبان واسلوب میں عام لوگوں کے لیے کیا ہے، مفتی ثناء الہدی قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن پاک کا ترجمہ کرنا بہت مشکل کام ہے اور ترجمہ اسی وقت ٹھیک ہوگا جب صحت کے ساتھ پڑھنا آتا ہو، اس لئے قرآن پاک کو صحت کے ساتھ پڑھنا بہت ضروری ہے،انہوں نے کہا کہ بہار میں بھی متعدد لوگوں نے ترجمہ وتفسیر کا کام کیا ہے اس پر نوجوانوں کو تحقیقی کام کر نے کی ضرورت ہے،مولانا طارق شفیق ندوی نے کہا کہ پوری دنیا میں قرآن پاک پر توجہ دی گئی ہے،بے شمار زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوا ہے، اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ اس سے فائدہ اٹھانا آسان ہو جائے، انہوں تسہیل القرآن کی اشاعت پر مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی کو مبارکباد پیش کیا،سینئر صحافی ڈاکٹر ریحان غنی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ قرآن کے اردو میں بے شمار ترجمے ہوئے ہیں، میں نے اردو سے ہی قرآن کو سمجھا ہے،اس میں بے شمار فائدے ہیں، یہ عالم انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ ہے،مولانا قاسمی نے قرآن کا خوبصورت تر جمہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے، امتیاز احمد کریمی ممبر بہار پبلک سروس کمیشن نے کہا کہ ترجمہ قرآن کا کام وہی شخص انجام دے سکتا ہے جو اردو اور عربی میں مہارت رکھتا ہو، ایک ایک آیت میں اتنی وسعت اور گہرائی ہے کہ آپ غور کریں تو معانی اور مفاہیم کی ایک دنیا آباد ہوتی چلی جائے گی، مولانا محمد عالم قاسمی جنرل سیکرٹری آل انڈیا ملی کونسل بہار نے کہا کہ ہر پچاس سال کے بعد اردو کا لب و لہجہ بدل جاتا ہے، قرآن کے ترجمہ میں بھی اس کا خیال رکھا جانا چاہیے، ہر مترجم مفہوم پیش کرتا ہے،مولانا ابوالکلام قاسمی شمسی کا ترجمہ بہت مناسب اور عصری اسلوب میں ہے، ڈاکٹر اسلم جاوداں نے کہا کہ مولانا ابوالکلام قاسمی کا ترجمہ صاف اور ششستہ ہے، مولانا صدر عالم ندوی نے کہا کہ مولانا کے ترجمہ کی خاص بات یہ ہے کہ ترجمہ گنجلک نہیں ہے، پڑھتے ہوئے بے ترتیبی اور بے ربطی کا احساس نہیں ہوتا ہے،پروگرام کی نظامت مولانا ڈاکٹر نورالسلام ندوی نے کی انہوں نے کہا کہ اردو کے نثری اسالیب تبدیل ہوتے رہے ہیں جس کا اثر قرآن پاک کے ترجمہ پر بھی ہوا ہے، سب سے پہلے قرآن کا ترجمہ مولانا شاہ رفیع الدین نے نے کیا لیکن وہ ترجمہ لفظی تھا جس کے سبب مفاہیم تک رسائی آسان نہ تھی، ان کے بعد ان کے بھائی مولانا شاہ عبد القادر نے قرآن کا آسان اور شگفتہ ترجمہ کیا، مترجمین حضرات نے ہر زمانے میں ضرورت اور حالات کے مطابق قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے، مولانا ابوالکلام قاسمی کا یہ کارنامہ بہت عظیم ہے، پروگرام کا آغاز مولانا قاری شمیم اختر ندوی کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا، اس موقع پر مولانا قمر عالم ندوی،مولانا آفتاب عالم، مولانا اسلم، مولانا وصی احمد قاسمی،ثناءاللہ دوگھروی، ذاکر حسین و غیر موجود تھے،مولانا انیس الرحمن قاسمی کی دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا،